مرہم کے نہیں ہیں یہ طرف دار نمک کے نکلے ہیں مری زخم طلبگار نمک کے آیا کوئی سیلاب کہانی ہے وہ ہے وہ اچانک اور گھل گئے پانی ہے وہ ہے وہ حقیقت کردار نمک کے دونوں ہی کناروں پہ تھی بیماروں کی مجلس اس کا کا پار تھے میٹھے کے تو اس کا پار نمک کے اس کا کا نے ہی دیے زخم یہ گردن پہ ہماری پھروں اس کا نے ہی پہنائے ہمیں ہار نمک کے کہتی تھی غزل مجھ کو ہے مرہم کی ضرورت اور دیتے رہے سب اسے اشعار نمک کے جس سمت ملا کرتی تھیں زخموں کی دوائیں سنتے ہیں کہ اب ہیں وہاں بازار نمک کے
Related Ghazal
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں
Ali Zaryoun
158 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے
Khumar Barabankvi
95 likes
More from Varun Anand
کہی لگ ایسا ہوں اپنا نظیر و کھا جائے اڑائے سے پھول بچائیں بہار کھا جائے ہمارے جیسا ک ہاں دل کسی کا ہوگا بھلا جو درد پالے رکھے اور قرار کھا جائے پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ حقیقت قی سے نہیں ہاں جو مار کھا جائے اسی کا داخلہ ا سے دشت ہے وہ ہے وہ کروں اب سے جو دل پامال پی سکے اپنا غمدیدہ کھا جائے بے حد قرار ہے تھوڑی سی بے قراری دے کہی لگ ایسا ہوں مجھ کو قرار کھا جائے غضب سفی لگ ہے یہ سمے کا سفی لگ بھی جو اپنی گود ہے وہ ہے وہ بیٹھا سوار کھا جائے
Varun Anand
11 likes
تری چہرے کی رونق کھا رہا ہے یہ کس کا غم تجھے تڑپا رہا ہے ہمارا دل پامال تو پورا رہا تھا ہمارا پھل م گر فیکا رہا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کا ساتواں ہوں عشق تو کیا حقیقت میرا کون سا پہلا رہا ہے ترا دکھ ہے تو کیا ہیں روز کے دکھ نئے پودوں کو برگد کھا رہا ہے چیزیں ہے وہ ہے وہ مزہ بھی تھا سزا بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب خوش ہوں تو حقیقت پچھتا رہا ہے ہمارے در میاں الفت نہیں ہے ہمارے بیچ سمجھوتا رہا ہے عجائب گھر ہے وہ ہے وہ رکھی جائیں گی سب حقیقت ج سے ج سے چیز کو چھوتا رہا ہے کھڑی ہے شام پھروں باہیں پسارے کوئی بھولا سحر کا آ رہا ہے
Varun Anand
17 likes
سخی کے پاؤں ہے وہ ہے وہ مہن گرا لگی ہے مؤی کے پاؤں ہے وہ ہے وہ مہن گرا لگی ہے اداسی ساتھ چلتی ہے ہمارے خوشی کے پاؤں ہے وہ ہے وہ مہن گرا لگی ہے سبھی کہنے کو مری ہم قدم ہیں سبھی کے پاؤں ہے وہ ہے وہ مہن گرا لگی ہے حقیقت ج سے کے ساتھ گھر سے بھاگنا تھا اسی کے پاؤں ہے وہ ہے وہ مہن گرا لگی ہے سمندر سے کہو خود آئی ملنے ن گرا کے پاؤں ہے وہ ہے وہ مہن گرا لگی ہے کسی کے پاؤں بھیگے ہیں لہو سے کسی کے پاؤں ہے وہ ہے وہ مہن گرا لگی ہے
Varun Anand
26 likes
وفا خلوص مدد دیکھ بھال بھول گئے اب ایسے لفظوں کا سب استعمال بھول گئے منانا روٹھنا ہجر و وصال بھول گئے سبھی محبتوں کا استعمال بھول گئے نظر کے سامنے حقیقت با غصہ کیا آیا ہم اپنے حصے کے سارے غصہ بھول گئے قف سے ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو جی آخرش پرندوں کا ج ہاں سے آئی تھے حقیقت ڈال وال بھول گئے فتور پھروں سے چڑھا ہے نئی محبت کا جناب پچھلی محبت کا حال بھول گئے پھروں ا سے نے سوچ سمجھ کر اک ایسی چال چلی کہ ج سے کو دیکھ کے سب اپنی چال بھول گئے دیے جلانے تھے پر دل جلا دیے ہم نے ہم اپنے فن کا صحیح استعمال بھول گئے
Varun Anand
9 likes
یہ شوخیاں یہ جوانی ک ہاں سے لائیں ہم تمہارے حسن کا ثانی ک ہاں سے لائیں ہم محبتیں حقیقت پرانی ک ہاں سے لائیں ہم رکی ن گرا ہے وہ ہے وہ روانی ک ہاں سے لائیں ہم ہماری آنکھ ہے پیوسٹ ایک صحرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب ایسی آنکھ ہے وہ ہے وہ پانی ک ہاں سے لائیں ہم ہر ایک لفظ کے معنی تلاشتے ہوں جاناں ہر ایک لفظ کا معنی ک ہاں سے لائیں ہم چلو بتا دیں زمانے کو اپنے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ روز جھوٹی کہانی ک ہاں سے لائیں ہم
Varun Anand
13 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Varun Anand.
Similar Moods
More moods that pair well with Varun Anand's ghazal.







