ghazalKuch Alfaaz

وفا خلوص مدد دیکھ بھال بھول گئے اب ایسے لفظوں کا سب استعمال بھول گئے منانا روٹھنا ہجر و وصال بھول گئے سبھی محبتوں کا استعمال بھول گئے نظر کے سامنے حقیقت با غصہ کیا آیا ہم اپنے حصے کے سارے غصہ بھول گئے قف سے ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو جی آخرش پرندوں کا ج ہاں سے آئی تھے حقیقت ڈال وال بھول گئے فتور پھروں سے چڑھا ہے نئی محبت کا جناب پچھلی محبت کا حال بھول گئے پھروں ا سے نے سوچ سمجھ کر اک ایسی چال چلی کہ ج سے کو دیکھ کے سب اپنی چال بھول گئے دیے جلانے تھے پر دل جلا دیے ہم نے ہم اپنے فن کا صحیح استعمال بھول گئے

Related Ghazal

سر جھکاؤگے تو پتھر دیوتا ہوں جائےگا اتنا مت چاہو اسے حقیقت بےوفا ہوں جائےگا ہم بھی دریا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا ہنر معلوم ہے ج سے طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوں جائےگا کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہ دیا تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہوں جائےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خدا کا نام لے کر پی رہا ہوں دوستو زہر بھی ا سے ہے وہ ہے وہ ا گر ہوگا دوا ہوں جائےگا سب اسی کے ہیں ہوا خوشبو زمین و آ سماں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج ہاں بھی جاؤں گا ا سے کو پتا ہوں جائےگا

Bashir Badr

43 likes

ہے وہ ہے وہ نے چاہا تو نہیں تھا کہ کبھی ایسا ہوں لیکن اب ٹھان چکے ہوں تو چلو اچھا ہوں جاناں سے ناراض تو ہے وہ ہے وہ اور کسی بات پہ ہوں جاناں م گر اور کسی خیال و خواب سے شرمندہ ہوں اب کہی جا کے یہ معلوم ہوا ہے مجھ کو ٹھیک رہ جاتا ہے جو بے وجہ تری جیسا ہوں ایسے حالات ہے وہ ہے وہ ہوں بھی کوئی حسا سے تو کیا اور بے ح سے بھی ا گر ہوں تو کوئی کتنا ہوں تاکہ تو سمجھے کہ مردوں کے بھی دکھ ہوتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چاہا بھی یہی تھا کہ تیرا بیٹا ہوں

Jawwad Sheikh

50 likes

کہی اکیلے ہے وہ ہے وہ مل کر جھنجھوڑ دوں گا اسے ج ہاں ج ہاں سے حقیقت ٹوٹا ہے جوڑ دوں گا اسے مجھے حقیقت چھوڑ گیا تو یہ غصہ ہے ا سے کا ارادہ ہے وہ ہے وہ نے کیا تھا کہ چھوڑ دوں گا اسے بدن چرا کے حقیقت چلتا ہے مجھ سے شیشہ بدن اسے یہ ڈر ہے کہ ہے وہ ہے وہ توڑ پھوڑ دوں گا اسے پسینے بانٹتا پھرتا ہے ہر طرف سورج کبھی جو ہاتھ لگا تو نچوڑ دوں گا اسے مزہ چکھا کے ہی مانا ہوں ہے وہ ہے وہ بھی دنیا کو سمجھ رہی تھی کہ ایسے ہی چھوڑ دوں گا اسے

Rahat Indori

32 likes

مجھ ایسے بے وجہ سے رشتہ نہیں نکال سکا حقیقت اپنے حسن کا صدقہ نہیں نکال سکا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مل رہا تھا اسے بعد ایک مدت کے سو ا سے سے کوئی بھی رشتہ نہیں نکال سکا تری لیے تو مجھے زندگی بھی کم تھی م گر مری لیے تو تو لمحہ نہیں نکال سکا تو دیکھ پائی نہیں مجھ کو ختم ہوتے ہوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری آنکھ کا کچرا نہیں نکال سکا اک ایسی بات کا غصہ ہے مری لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت بات جس کا ہے وہ ہے وہ غصہ نہیں نکال سکا

Vikram Gaur Vairagi

33 likes

پہلے مفت ہے وہ ہے وہ پیا سے بٹےگی بعد ہے وہ ہے وہ اک اک بوند بکےگی کتنے حسین ہوں ماشا اللہ جاناں پہ محبت خوب جچےگی ظالم ب سے اتنا بتلا دے کیا رونے کی چھوٹ ملےگی آج تو پتھر باندھ لیا ہے لیکن کل پھروں بھوک لگےگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی پاگل تو بھی پاگل ہم دونوں کی خوب جمےگی یار نے پانی پھیر دیا ہے خاک ہماری خاک اڑےگی دنیا کو ایسے بھولوںگا دنیا مجھ کو یاد کرے گی

Zubair Ali Tabish

30 likes

More from Varun Anand

کہی لگ ایسا ہوں اپنا نظیر و کھا جائے اڑائے سے پھول بچائیں بہار کھا جائے ہمارے جیسا ک ہاں دل کسی کا ہوگا بھلا جو درد پالے رکھے اور قرار کھا جائے پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ حقیقت قی سے نہیں ہاں جو مار کھا جائے اسی کا داخلہ ا سے دشت ہے وہ ہے وہ کروں اب سے جو دل پامال پی سکے اپنا غمدیدہ کھا جائے بے حد قرار ہے تھوڑی سی بے قراری دے کہی لگ ایسا ہوں مجھ کو قرار کھا جائے غضب سفی لگ ہے یہ سمے کا سفی لگ بھی جو اپنی گود ہے وہ ہے وہ بیٹھا سوار کھا جائے

Varun Anand

11 likes

مرہم کے نہیں ہیں یہ طرف دار نمک کے نکلے ہیں مری زخم طلبگار نمک کے آیا کوئی سیلاب کہانی ہے وہ ہے وہ اچانک اور گھل گئے پانی ہے وہ ہے وہ حقیقت کردار نمک کے دونوں ہی کناروں پہ تھی بیماروں کی مجلس اس کا کا پار تھے میٹھے کے تو اس کا پار نمک کے اس کا کا نے ہی دیے زخم یہ گردن پہ ہماری پھروں اس کا نے ہی پہنائے ہمیں ہار نمک کے کہتی تھی غزل مجھ کو ہے مرہم کی ضرورت اور دیتے رہے سب اسے اشعار نمک کے جس سمت ملا کرتی تھیں زخموں کی دوائیں سنتے ہیں کہ اب ہیں وہاں بازار نمک کے

Varun Anand

9 likes

کاش کہ ہے وہ ہے وہ بھی ہوتا پتھر گر تھا ان کو پیارا پتھر لوگوں کی تو بات کریں کیا تیرا دل بھی نکلا پتھر ہم دونوں ہے وہ ہے وہ بنتی کیسے ایک تھا شیشہ دوجا پتھر شیشہ تو کمزور بڑا تھا پھروں بھی کیسے ٹوٹا پتھر سب کے حصے ہیرے اندھیرا مری حصے آیا پتھر پار سے تھا حقیقت جاناں نے جانا سب نے ج سے کو سمجھا پتھر کل تک پھول تھے جن ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان ہاتھوں ہے وہ ہے وہ آج تھا پتھر

Varun Anand

21 likes

خود اپنے خون ہے وہ ہے وہ پہلے نہایا جاتا ہے نظیر و خود نہیں بنتا بنایا جاتا ہے کبھی کبھی جو پرندے بھی لگ سنا کر دیں تو حال دل کا شجر کو سنایا جاتا ہے ہماری پیا سے کو زنجیر باندھی جاتی ہے تمہارے واسطے دریا بہایا جاتا ہے نوازتا ہے حقیقت جب بھی عزیزوں کو اپنے تو سب سے بعد ہے وہ ہے وہ ہم کو بلایا جاتا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تلاش کے دیتے ہیں راستہ سب کو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو بعد ہے وہ ہے وہ راستہ دکھایا جاتا ہے

Varun Anand

9 likes

یہ شوخیاں یہ جوانی ک ہاں سے لائیں ہم تمہارے حسن کا ثانی ک ہاں سے لائیں ہم محبتیں حقیقت پرانی ک ہاں سے لائیں ہم رکی ن گرا ہے وہ ہے وہ روانی ک ہاں سے لائیں ہم ہماری آنکھ ہے پیوسٹ ایک صحرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب ایسی آنکھ ہے وہ ہے وہ پانی ک ہاں سے لائیں ہم ہر ایک لفظ کے معنی تلاشتے ہوں جاناں ہر ایک لفظ کا معنی ک ہاں سے لائیں ہم چلو بتا دیں زمانے کو اپنے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ روز جھوٹی کہانی ک ہاں سے لائیں ہم

Varun Anand

13 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Varun Anand.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Varun Anand's ghazal.