ghazalKuch Alfaaz

یہ شوخیاں یہ جوانی ک ہاں سے لائیں ہم تمہارے حسن کا ثانی ک ہاں سے لائیں ہم محبتیں حقیقت پرانی ک ہاں سے لائیں ہم رکی ن گرا ہے وہ ہے وہ روانی ک ہاں سے لائیں ہم ہماری آنکھ ہے پیوسٹ ایک صحرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب ایسی آنکھ ہے وہ ہے وہ پانی ک ہاں سے لائیں ہم ہر ایک لفظ کے معنی تلاشتے ہوں جاناں ہر ایک لفظ کا معنی ک ہاں سے لائیں ہم چلو بتا دیں زمانے کو اپنے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ روز جھوٹی کہانی ک ہاں سے لائیں ہم

Varun Anand13 Likes

Related Ghazal

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Zubair Ali Tabish

80 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

Vikram Gaur Vairagi

70 likes

More from Varun Anand

کہی لگ ایسا ہوں اپنا نظیر و کھا جائے اڑائے سے پھول بچائیں بہار کھا جائے ہمارے جیسا ک ہاں دل کسی کا ہوگا بھلا جو درد پالے رکھے اور قرار کھا جائے پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ حقیقت قی سے نہیں ہاں جو مار کھا جائے اسی کا داخلہ ا سے دشت ہے وہ ہے وہ کروں اب سے جو دل پامال پی سکے اپنا غمدیدہ کھا جائے بے حد قرار ہے تھوڑی سی بے قراری دے کہی لگ ایسا ہوں مجھ کو قرار کھا جائے غضب سفی لگ ہے یہ سمے کا سفی لگ بھی جو اپنی گود ہے وہ ہے وہ بیٹھا سوار کھا جائے

Varun Anand

21 likes

یوں اپنی پیا سے کی خود ہی کہانی لکھ رہے تھے ہم سلگتی ریت پہ انگلی سے پانی لکھ رہے تھے ہم میاں ب سے موت ہی سچ ہے و ہاں یہ لکھ گیا تو کوئی ج ہاں پر زندگانی زندگانی لکھ رہے تھے ہم ملے تجھ سے تو دنیا کو سہانی لکھ دیا ہم نے وگر لگ کب سے ا سے کو بے معنی لکھ رہے تھے ہم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ گر پڑی کل رات حقیقت دیوار رو رو کر کہ ج سے پہ اپنے ماضی کی کہانی لکھ رہے تھے ہم

Varun Anand

27 likes

کہی لگ ایسا ہوں اپنا نظیر و کھا جائے اڑائے سے پھول بچائیں بہار کھا جائے ہمارے جیسا ک ہاں دل کسی کا ہوگا بھلا جو درد پالے رکھے اور قرار کھا جائے پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ حقیقت قی سے نہیں ہاں جو مار کھا جائے اسی کا داخلہ ا سے دشت ہے وہ ہے وہ کروں اب سے جو دل پامال پی سکے اپنا غمدیدہ کھا جائے بے حد قرار ہے تھوڑی سی بے قراری دے کہی لگ ایسا ہوں مجھ کو قرار کھا جائے غضب سفی لگ ہے یہ سمے کا سفی لگ بھی جو اپنی گود ہے وہ ہے وہ بیٹھا سوار کھا جائے

Varun Anand

11 likes

اسی لیے تو مسافر تو سوگوار نہیں کہ تو نے بندھو دیکھے ہیں پر غبار نہیں نہیں یہ بات نہیں ہے کہ تجھ سے پیار نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کروں کہ مجھے خود کا اعتبار نہیں لگا ہوں ہاتھ جو تری تو اب سنبھال مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک بار ہی ملتا ہوں بار بار نہیں مجھے کریدنے والو ہے وہ ہے وہ ایک صحرا ہوں کہ مجھ سے ریت ہی نکلےگی آبشار نہیں غموں سے رشتہ بنا دوستی نبھا ان سے دکھوں کو پال مری جان ان کو مار نہیں مری قبول پہ ا سے نے قبول کہ تو دیا پر ایک بار کہا ا سے نے تین بار نہیں ج ہاں تو بچھڑا و ہاں گیت بج رہا تھا یہی مری نصیب ہے وہ ہے وہ اے دوست تیرا پیار نہیں

Varun Anand

20 likes

جلوے تجھے دکھائیں گے ب سے انتظار کر ہم کون ہیں بتائیں گے ب سے انتظار کر جی بھر کے ہم کو خون کے آنسو رولا تو آج کل ہم تجھے ر لائیں گے ب سے انتظار کر جب تک سے کام چلے گا چ لائیں گے پھروں تیغ بھی اٹھائیںگے ب سے انتظار کر خاموش ہیں تو گونگا سمجھ بیٹھا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم شور بھی مچائیںگے ب سے انتظار کر مسند پہ تجھ کو ہم نے بٹھایا ہے یہ لگ بھول ہم ہی تجھے اٹھائیںگے ب سے انتظار کر

Varun Anand

24 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Varun Anand.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Varun Anand's ghazal.