zindagi se yahi gila hai mujhe tu bahut der se mila hai mujhe tu mohabbat se koi chaal to chal haar jaane ka hausla hai mujhe dil dhadakta nahin tapakta hai kal jo khvahish thi aabla hai mujhe ham-safar chahiye hujum nahin ik musafir bhi qafila hai mujhe kohkan ho ki qais ho ki 'faraz' sab men ik shakhs hi mila hai mujhe zindagi se yahi gila hai mujhe tu bahut der se mila hai mujhe tu mohabbat se koi chaal to chal haar jaane ka hausla hai mujhe dil dhadakta nahin tapakta hai kal jo khwahish thi aabla hai mujhe ham-safar chahiye hujum nahin ek musafir bhi qafila hai mujhe kohkan ho ki qais ho ki 'faraaz' sab mein ek shakhs hi mila hai mujhe
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
More from Ahmad Faraz
کروں لگ یاد م گر ک سے طرح بھلاؤں اسے غزل بہانا کروں اور گنگناؤں اسے حقیقت بچھاؤ بچھاؤ ہے شاخ گلاب کی مانند ہے وہ ہے وہ ہے وہ زخم زخم ہوں پھروں بھی گلے لگاؤں اسے یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے بات کروں اب ک ہاں سے لاؤں اسے م گر حقیقت زود فراموش زود رنج بھی ہے کہ روٹھ جائے ا گر یاد کچھ دلاؤں اسے وہی جو دولت دل ہے وہی جو راحت جاں تمہاری بات پہ اے ناصحوں گنواؤں اسے جو ہم سفر سر منزل بچھڑ رہا ہے فراز غضب نہیں ہے ا گر یاد بھی لگ آؤں اسے
Ahmad Faraz
3 likes
کیوں طبیعت کہی ٹھہرتی نہیں دوستی تو ادا سے کرتی نہیں ہم ہمیشہ کے سیر چشم صحیح تجھ کو دیکھیں تو آنکھ بھرتی نہیں شب ہجراں بھی روز بد کی طرح کٹ تو جاتی ہے پر گزرتی نہیں یہ محبت ہے سن زمانے سن اتنی آسانیاں سے مرتی نہیں ج سے طرح جاناں گزارتے ہوں فراز زندگی ا سے طرح گزرتی نہیں
Ahmad Faraz
6 likes
دل بدن کا شریک حال ک ہاں ہجر پھروں ہجر ہے وصال ک ہاں عشق ہے نام انتہاؤں کا ا سے سمندر ہے وہ ہے وہ اعتدال ک ہاں ایسا نشاط و زہر ہے وہ ہے وہ بھی لگ تھا اے غم دل تری مثال ک ہاں ہم کو بھی اپنی پائمالی کا ہے م گر ا سے دودمان ملال کہا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نئی دوستی کے موڑ پہ تھا آ گیا تو ہے ترا خیال کہا دل کہ خوش فہم تھا سو ہے ور لگ تری ملنے کا احتمال ک ہاں وصل و ہجران ہیں اور دنیاہیں ان زمانوں ہے وہ ہے وہ ماہ و سال ک ہاں تجھ کو دیکھا تو لوگ حیران ہیں آ گیا تو شہر ہے وہ ہے وہ غزال ک ہاں تجھ پہ لکھی تو سج گئی ہے غزل آ ملا خواب سے خیال ک ہاں اب تو شہ مات ہوں رہی ہے فراز اب بچاؤ کی کوئی چال ک ہاں
Ahmad Faraz
1 likes
عجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھا خبر نہیں ہے کہ سورج کدھر سے نکلا تھا یہ کون پھروں سے انہی راستوں میں چھوڑ گیا ابھی ابھی تو عذاب سفر سے نکلا تھا یہ تیر دل میں مگر بے سبب نہیں اترا کوئی تو حرف لب چارہ گر سے نکلا تھا یہ اب جو آگ بنا شہر شہر پھیلا ہے یہی دھواں مری دیوار و در سے نکلا تھا میں رات ٹوٹ کے رویا تو چین سے سویا کہ دل کا زہر مری چشم تر سے نکلا تھا یہ اب جو سر ہیں خمیدہ کلاہ کی خاطر یہ عیب بھی تو ہم اہل ہنر سے نکلا تھا وہ قیس اب جسے مجنوں پکارتے ہیں فراز تیری طرح کوئی دیوانہ گھر سے نکلا تھا
Ahmad Faraz
3 likes
جو غیر تھے حقیقت اسی بات پر ہمارے ہوئے کہ ہم سے دوست بہت بے خبر ہمارے ہوئے کسے خبر حقیقت محبت تھی یا رقابت تھی بہت سے لوگ تجھے دیکھ کر ہمارے ہوئے اب اک ہجوم شکستہ دلان ہے ساتھ اپنے جنہیں کوئی نہ ملا ہم سفر ہمارے ہوئے کسی نے غم تو کسی نے مزاج غم بخشش سب اپنی اپنی جگہ چارہ گر ہمارے ہوئے بجھا کے طاق کی شمعیں نہ دیکھ تاروں کو اسی جنوں ہے وہ ہے وہ تو برباد گھر ہمارے ہوئے حقیقت اعتماد کہاں سے فراز لائیں گے کسی کو چھوڑ کے حقیقت اب اگر ہمارے ہوئے
Ahmad Faraz
9 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Faraz.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Faraz's ghazal.







