زندے وہی ہیں جو کہ ہیں جاناں پر مرے ہوئے باقی جو ہیں سو قبر ہے وہ ہے وہ اکھاڑیں گے بھرے ہوئے فاحش قلزم ہستی ہے وہ ہے وہ آئی ہیں مثل حباب اپنا خواب بھرے ہوئے اللہ رے صفا تن نازنین یار اندھیرا ہیں کوٹ کوٹ کے گویا بھرے ہوئے دو دن سے پاؤں جو نہیں دبواے یار نے بیٹھے ہیں ہاتھ ہاتھ کے اوپر دھرے ہوئے ان ابروؤں کے حلقہ ہے وہ ہے وہ حقیقت انکھڑیاں نہیں دو طاق پر ہیں دو گل نرگ سے دھرے ہوئے بعد فنا بھی آوےگی عشق دل مجھ مست کو لگ نیند بے خشت خم لحد ہے وہ ہے وہ سرہانے دھرے ہوئے نکلیں جو خوشی نبھے گی آنکھوں سے کیا غضب پیدا ہوئے ہیں طفل ہزاروں مرے ہوئے لکھے گئے بیاضوں ہے وہ ہے وہ اشعار انتخاب رائج کلچر رہے وہی کہ جو سکے کھرے ہوئے الٹا صفوں کو تیغ نے ابرو یار کی تیر مزہ سے درہم و برہم پرے ہوئے آتش خدا نے چاہا تو دریا عشق ہے وہ ہے وہ ہے وہ کودے جو اب کی ہم تو ورے سے پرے ہوئے
Related Ghazal
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو
Fazil Jamili
73 likes
More from Haidar Ali Aatish
وہی چت ون کی خوں خواری جو آگے تھی سو اب بھی ہے تری آنکھوں کی بیماری جو آگے تھی سو اب بھی ہے وہی نشو و نما سبزہ ہے گور غریباں پر ہوا چرخ زنگاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے تعلق ہے وہی تا حال ان زلفوں کے سودے سے سلاسل کی گرفتاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے وہی سر کا پٹکنا ہے وہی رونا ہے دن بھر کا وہی راتوں کی بیداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے رواج عشق کے آئیں وہی ہیں کشور دل میں رہ و رسم وفا جاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے وہی جی کا جلانا ہے پکانا ہے وہی دل کا وہ اس کی گرم بازاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے نیاز خادمانہ ہے وہی فضل الہی سے بتوں کی خیرو جو آگے تھی سو اب بھی ہے فراق یار میں جس طرح سے مرتا تھا مرتا ہوں وہ روح و تن کی بے زاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے وہی سودا کاکل کا ہے عالم جو کہ سابق تھا یہ شب بیمار پر بھاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے جنوں کی گرم جوشی ہے وہی دیوانوں سے اپنی وہی داغوں کی گل کاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے وہی بازار گرمی ہے محبت کی ہنوز آتش وہ یوسف کی خریداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
Haidar Ali Aatish
0 likes
عطر فروش تری ہر رنگ ہے وہ ہے وہ اے یار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے یوسف تھا ا گر تو تو خریدار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے بے داد کی محفل ہے وہ ہے وہ سزا وار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے تقصیر کسی کی ہوں گنہگار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے وعدہ تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے لب بام آنے کا ہونا سائے کی طرح سے پ سے دیوار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے کنگھی تری زلفوں کی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر تھی مقرر آئی لگ دکھاتے تجھے ہر بار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے نعمت تھی تری حسن کی حصے ہے وہ ہے وہ ہمارے تو کان ملاحت تھا خریدار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے سودا زدہ زلفوں کا لگ تھا اپنے سوا ایک آزاد دو عالم تھا گرفتار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے تو اور ہم اے دوست تھے یک جان دو قالب تھا غیر سوا اپنے جو تھا یار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے بیمار محبت تھا سوا اپنے لگ کوئی اک مستحق شربت دیدار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے بے اپنے بہلتی تھی طبیعت لگ کسی سے دل سوز ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے تری غم خوار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے اک جنبش مژگاں سے نور صفا آتا تھا ہ ہے وہ ہے و
Haidar Ali Aatish
0 likes
صورت سے ا سے کی بہتر صورت نہیں ہے کوئی دیدار یار سی بھی دولت نہیں ہے کوئی آنکھوں کو کھول ا گر تو دیدار کا ہے بھوکا چودہ طبق سے باہر نعمت نہیں ہے کوئی ثابت تری دہن کو کیا منطقی کریںگے ایسی دلیل ایسی حجت نہیں ہے کوئی یہ کیا سمجھ کے کڑوے ہوتے ہیں آپ ہم سے پی جائےگا کسی کو شربت نہیں ہے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کبھی تو تشریف لاؤ بولے معذور رکھیے سمے فرصت نہیں ہے کوئی ہم کیا کہی کسی سے کیا ہے طریق اپنا مذہب نہیں ہے کوئی ملت نہیں ہے کوئی دل لے کے جان کے بھی سائل جو ہوں تو حاضر حاضر جو کچھ ہے ا سے ہے وہ ہے وہ حجت نہیں ہے کوئی ہم شاعروں کا حلقہ حلقہ ہے عارفوں کا نا آشنا معنی صورت نہیں ہے کوئی دیوانوں سے ہے اپنے یہ قول ا سے پری کا خاکی و آتشیں سے نسبت نہیں ہے کوئی ہزدا ہزار عالم دم بھر رہا ہے تیرا تجھ کو لگ چاہے ایسی خلقت نہیں ہے کوئی نازاں لگ حسن پر ہوں مہمان ہے چار دن کا ب اعتبار ایسی دولت نہیں ہے کوئی جاں سے عزیز دل کو رکھتا ہوں آدمی ہوں کیوںکر ک ہوں ہے وہ ہے وہ مجھ کو حسرت نہ
Haidar Ali Aatish
0 likes
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو برو کرتے ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے پیامبر لگ میسر ہوا تو خوب ہوا زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے ہمیشہ رنگ زما لگ بدلتا رہتا ہے سفید رنگ ہیں آخر سیاہ مو کرتے لٹاتے شب فراق کو مختلف ہے وہ ہے وہ ہم تلائی ساغر مے نقرئی سبو کرتے ہمیشہ ہے وہ ہے وہ نے گریباں کو چاک چاک کیا تمام عمر رفو گر رہے رفو کرتے جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالم ہم نوا ہونے کی آزاد آرزو کرتے بیاض گردن جاناں کو صبح کہتے جو ہم ستارہ سحری تکمہ گلو کرتے یہ کعبہ سے نہیں بے وجہ نسبت رکھ یار یہ بے سبب نہیں اکھاڑیں گے کو قبلہ رو کرتے سکھاتے نالہ شب گیر کو در اندازی غم فراق کا ا سے چرخ کو عدو کرتے حقیقت جان جاں نہیں آتا تو موت ہی آتی دل و ج گر کو ک ہاں تک بھلا لہو کرتے لگ پوچھ عالم برگشتہ طلائی آتش برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے
Haidar Ali Aatish
0 likes
دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے چھوؤں گا آتے ہیں درمیان کیسے کیسے زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا بدلتا ہے رنگ آ سماں کیسے کیسے تمہارے شہیدوں ہے وہ ہے وہ داخل ہوئے ہیں گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے بہار آئی ہے نہشے ہے وہ ہے وہ جھومتے ہیں مریدان پیر مغاں کیسے کیسے غضب کیا چھوٹا روح سے جامہ تن لوٹے راہ ہے وہ ہے وہ کارواں کیسے کیسے تب ہجر کی کاہشوں نے کیے ہیں جدا پوست سے استخواں کیسے کیسے لگ مڑ کر بھی بے درد قاتل نے دیکھا بے حیائی رہے نیم جاں کیسے کیسے لگ گور سکندر لگ ہے قبر دارا مٹے نامیوں کے نشان کیسے کیسے بہار گلستاں کی ہے آمد آمد خوشی پھرتے ہیں باغباں کیسے کیسے برق نے تیری ہمارے مسیحا توانا کیے نا توان کیسے کیسے دل و دیدہ اہل عالم ہے وہ ہے وہ گھر ہے تمہارے لیے ہیں مکان کیسے کیسے غم و غصہ و رنج و اندوہ و ہیرماں ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے تری کلک قدرت کے قربان آنکھیں د کھائے ہیں خوش رو جواں کیسے کیسے کرے ج سے دودمان شکر نعمت حقیقت کم ہے مزے لوٹتی ہے زبان
Haidar Ali Aatish
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Haidar Ali Aatish.
Similar Moods
More moods that pair well with Haidar Ali Aatish's ghazal.







