ghazalKuch Alfaaz

وہی چت ون کی خوں خواری جو آگے تھی سو اب بھی ہے تری آنکھوں کی بیماری جو آگے تھی سو اب بھی ہے وہی نشو و نما سبزہ ہے گور غریباں پر ہوا چرخ زنگاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے تعلق ہے وہی تا حال ان زلفوں کے سودے سے سلاسل کی گرفتاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے وہی سر کا پٹکنا ہے وہی رونا ہے دن بھر کا وہی راتوں کی بیداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے رواج عشق کے آئیں وہی ہیں کشور دل میں رہ و رسم وفا جاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے وہی جی کا جلانا ہے پکانا ہے وہی دل کا وہ اس کی گرم بازاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے نیاز خادمانہ ہے وہی فضل الہی سے بتوں کی خیرو جو آگے تھی سو اب بھی ہے فراق یار میں جس طرح سے مرتا تھا مرتا ہوں وہ روح و تن کی بے زاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے وہی سودا کاکل کا ہے عالم جو کہ سابق تھا یہ شب بیمار پر بھاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے جنوں کی گرم جوشی ہے وہی دیوانوں سے اپنی وہی داغوں کی گل کاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے وہی بازار گرمی ہے محبت کی ہنوز آتش وہ یوسف کی خریداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

Related Ghazal

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

بات ایسی ہے ایسا تھا پہلے درد ہونے پہ روتا تھا پہلے چنو چاہے حقیقت کھیلا کرتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کا کھلونا تھا پہلے تجھ پہ کتنا بھروسا کرتا تھا خود پہ کتنا بھروسا تھا پہلے آخری راستے پہ چلنے کو پیر ا سے نے اٹھایا تھا پہلے اب تو تصویر تک نہیں بنتی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو پیکر بناتا تھا پہلے روشنی آئی جب جلا کوئی سب کی آنکھوں پہ پردہ تھا پہلے گنتی پیچھے سے کی گئی ورنا میرا نمبر تو پہلا تھا پہلے

Himanshi babra KATIB

45 likes

جو بھی عزت کے ڈر سے ڈر جائے مت کرے عشق اپنے گھر جائے بات آ جائے جب دعاؤں پر ا سے سے بہتر ہے بندہ مر جائے تھوڑی سی اور دیر سامنے رہ مری آنکھوں کا پیٹ بھر جائے المہیمین کے گھر بھی خطرے ہیں جائے بھی تو کوئی کدھر جائے ہاں عقیدہ ا گر لگ قید رکھے پھروں تو انسان کچھ بھی کر جائے قیامت کی یہ آخری حد ہے مری اولاد آپ پر جائے ا سے کے چہرے پر آج اداسی تھی ہاں یہ افکار علوی مر جائے

Afkar Alvi

38 likes

یہ پیار تیری بھول ہے قبول ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنگ ہوں تو پھول ہے قبول ہے دغا بھی دوں گا پیار ہے وہ ہے وہ کبھی کبھی کہ یہ میرا اصول ہے قبول ہے تجھے ج ہاں عزیز ہے تو چھوڑ جا مجھے یہ اجازت فضول ہے قبول ہے تو روٹھے گی تو ہے وہ ہے وہ مناؤںگا نہیں جو رول ہے حقیقت رول ہے قبول ہے لپٹ اے شاخے گل م گر یہ سوچ کر میرا بدن ببول ہے قبول ہے یہی ہے گر تری رضا تو بول پھروں قبول ہے قبول ہے قبول ہے

Varun Anand

42 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

More from Haidar Ali Aatish

عطر فروش تری ہر رنگ ہے وہ ہے وہ اے یار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے یوسف تھا ا گر تو تو خریدار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے بے داد کی محفل ہے وہ ہے وہ سزا وار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے تقصیر کسی کی ہوں گنہگار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے وعدہ تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے لب بام آنے کا ہونا سائے کی طرح سے پ سے دیوار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے کنگھی تری زلفوں کی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر تھی مقرر آئی لگ دکھاتے تجھے ہر بار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے نعمت تھی تری حسن کی حصے ہے وہ ہے وہ ہمارے تو کان ملاحت تھا خریدار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے سودا زدہ زلفوں کا لگ تھا اپنے سوا ایک آزاد دو عالم تھا گرفتار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے تو اور ہم اے دوست تھے یک جان دو قالب تھا غیر سوا اپنے جو تھا یار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے بیمار محبت تھا سوا اپنے لگ کوئی اک مستحق شربت دیدار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے بے اپنے بہلتی تھی طبیعت لگ کسی سے دل سوز ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے تری غم خوار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھے اک جنبش مژگاں سے نور صفا آتا تھا ہ ہے وہ ہے و

Haidar Ali Aatish

0 likes

صورت سے ا سے کی بہتر صورت نہیں ہے کوئی دیدار یار سی بھی دولت نہیں ہے کوئی آنکھوں کو کھول ا گر تو دیدار کا ہے بھوکا چودہ طبق سے باہر نعمت نہیں ہے کوئی ثابت تری دہن کو کیا منطقی کریںگے ایسی دلیل ایسی حجت نہیں ہے کوئی یہ کیا سمجھ کے کڑوے ہوتے ہیں آپ ہم سے پی جائےگا کسی کو شربت نہیں ہے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کبھی تو تشریف لاؤ بولے معذور رکھیے سمے فرصت نہیں ہے کوئی ہم کیا کہی کسی سے کیا ہے طریق اپنا مذہب نہیں ہے کوئی ملت نہیں ہے کوئی دل لے کے جان کے بھی سائل جو ہوں تو حاضر حاضر جو کچھ ہے ا سے ہے وہ ہے وہ حجت نہیں ہے کوئی ہم شاعروں کا حلقہ حلقہ ہے عارفوں کا نا آشنا معنی صورت نہیں ہے کوئی دیوانوں سے ہے اپنے یہ قول ا سے پری کا خاکی و آتشیں سے نسبت نہیں ہے کوئی ہزدا ہزار عالم دم بھر رہا ہے تیرا تجھ کو لگ چاہے ایسی خلقت نہیں ہے کوئی نازاں لگ حسن پر ہوں مہمان ہے چار دن کا ب اعتبار ایسی دولت نہیں ہے کوئی جاں سے عزیز دل کو رکھتا ہوں آدمی ہوں کیوںکر ک ہوں ہے وہ ہے وہ مجھ کو حسرت نہ

Haidar Ali Aatish

0 likes

زندے وہی ہیں جو کہ ہیں جاناں پر مرے ہوئے باقی جو ہیں سو قبر ہے وہ ہے وہ اکھاڑیں گے بھرے ہوئے فاحش قلزم ہستی ہے وہ ہے وہ آئی ہیں مثل حباب اپنا خواب بھرے ہوئے اللہ رے صفا تن نازنین یار اندھیرا ہیں کوٹ کوٹ کے گویا بھرے ہوئے دو دن سے پاؤں جو نہیں دبواے یار نے بیٹھے ہیں ہاتھ ہاتھ کے اوپر دھرے ہوئے ان ابروؤں کے حلقہ ہے وہ ہے وہ حقیقت انکھڑیاں نہیں دو طاق پر ہیں دو گل نرگ سے دھرے ہوئے بعد فنا بھی آوےگی عشق دل مجھ مست کو لگ نیند بے خشت خم لحد ہے وہ ہے وہ سرہانے دھرے ہوئے نکلیں جو خوشی نبھے گی آنکھوں سے کیا غضب پیدا ہوئے ہیں طفل ہزاروں مرے ہوئے لکھے گئے بیاضوں ہے وہ ہے وہ اشعار انتخاب رائج کلچر رہے وہی کہ جو سکے کھرے ہوئے الٹا صفوں کو تیغ نے ابرو یار کی تیر مزہ سے درہم و برہم پرے ہوئے آتش خدا نے چاہا تو دریا عشق ہے وہ ہے وہ ہے وہ کودے جو اب کی ہم تو ورے سے پرے ہوئے

Haidar Ali Aatish

0 likes

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے چھوؤں گا آتے ہیں درمیان کیسے کیسے زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا بدلتا ہے رنگ آ سماں کیسے کیسے تمہارے شہیدوں ہے وہ ہے وہ داخل ہوئے ہیں گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے بہار آئی ہے نہشے ہے وہ ہے وہ جھومتے ہیں مریدان پیر مغاں کیسے کیسے غضب کیا چھوٹا روح سے جامہ تن لوٹے راہ ہے وہ ہے وہ کارواں کیسے کیسے تب ہجر کی کاہشوں نے کیے ہیں جدا پوست سے استخواں کیسے کیسے لگ مڑ کر بھی بے درد قاتل نے دیکھا بے حیائی رہے نیم جاں کیسے کیسے لگ گور سکندر لگ ہے قبر دارا مٹے نامیوں کے نشان کیسے کیسے بہار گلستاں کی ہے آمد آمد خوشی پھرتے ہیں باغباں کیسے کیسے برق نے تیری ہمارے مسیحا توانا کیے نا توان کیسے کیسے دل و دیدہ اہل عالم ہے وہ ہے وہ گھر ہے تمہارے لیے ہیں مکان کیسے کیسے غم و غصہ و رنج و اندوہ و ہیرماں ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے تری کلک قدرت کے قربان آنکھیں د کھائے ہیں خوش رو جواں کیسے کیسے کرے ج سے دودمان شکر نعمت حقیقت کم ہے مزے لوٹتی ہے زبان

Haidar Ali Aatish

0 likes

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو برو کرتے ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے پیامبر لگ میسر ہوا تو خوب ہوا زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے ہمیشہ رنگ زما لگ بدلتا رہتا ہے سفید رنگ ہیں آخر سیاہ مو کرتے لٹاتے شب فراق کو مختلف ہے وہ ہے وہ ہم تلائی ساغر مے نقرئی سبو کرتے ہمیشہ ہے وہ ہے وہ نے گریباں کو چاک چاک کیا تمام عمر رفو گر رہے رفو کرتے جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالم ہم نوا ہونے کی آزاد آرزو کرتے بیاض گردن جاناں کو صبح کہتے جو ہم ستارہ سحری تکمہ گلو کرتے یہ کعبہ سے نہیں بے وجہ نسبت رکھ یار یہ بے سبب نہیں اکھاڑیں گے کو قبلہ رو کرتے سکھاتے نالہ شب گیر کو در اندازی غم فراق کا ا سے چرخ کو عدو کرتے حقیقت جان جاں نہیں آتا تو موت ہی آتی دل و ج گر کو ک ہاں تک بھلا لہو کرتے لگ پوچھ عالم برگشتہ طلائی آتش برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے

Haidar Ali Aatish

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Haidar Ali Aatish.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Haidar Ali Aatish's ghazal.