nazmKuch Alfaaz

आह-ओ-फ़ुग़ाँ - किसी से बिछड़ने का मातम मनाने का मौका मिलेगा तभी तो ये शाइ'र ग़ज़ल कह सकेगा वगरना मुझे क्या बदन ही बदन हैं यहाँ शे'र पढ़ दूँ वहाँ वाह सुन लूँ इधर साथ छोड़ूँ उधर हाथ थामूँ पुरानी ग़ज़ल में नए शे'र जोड़ूँ कहीं दिल लगा लूँ कहीं दिल को तोड़ूँ मुझे क्या मुझे तो जिए जाना है बस मुहब्बत मुहब्बत किए जाना है बस मगर मेरे लोगों ज़रा ये तो सोचो मुहब्बत की मारी ये नस्लें तुम्हारी बिछड़ने के दुख से निकल भी सकेंगी अगर लड़खड़ाईं सँभल भी सकेंगी भला किस के लिक्खे ग़ज़ल पढ़ के इनको लगेगा कि आह-ओ-फ़ुग़ाँ और भी है

Related Nazm

بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س

Tahir Faraz

54 likes

مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو جب بھی سینے ہے وہ ہے وہ جھولتا لاکٹ الٹا ہوں جائے تو ہے وہ ہے وہ ہاتھوں سے سیدھا کرتا رہوں اس کا کو جب بھی آویزہ الجھ بالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسکرا کے بس اتنا سا کہ دو آہ چبھتا ہے یہ الگ کر دو جب غرارے ہے وہ ہے وہ پاؤں قبلہ حاجات جائے یا دوپٹہ کسی کواڑ سے اٹکے اک نظر دیکھ لو تو کافی ہے پلیز کہ دو تو اچھا ہے لیکن مسکرانے کی شرط پکی ہے مسکراہٹ معاوضہ ہے میرا مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو

Gulzar

68 likes

سنو شا گرا مبارک ہوں سنو شا گرا مبارک ہوں دلہن تو بن چکی ہوں اب بتا بھی دو کہ سننے کو حقیقت خوش خبری ہے وہ ہے وہ آؤں اب کسی دن چھوڑ جائے گی تری بیٹے کو کوئی جب کسی عاشق کی ماں کا دکھ سمجھ پائے تو شاید تب اسے انصاف کہتے ہیں اسی سے بھاگتے ہیں سب اسی کو پوجتا ہوں ہے وہ ہے وہ اسی سے کانپتے ہیں رب م گر تب تک مناسب ہے تڑپ کو بولنا کرتب سنو شا گرا مبارک ہوں دلہن تو بن چکی ہوں اب

Anant Gupta

26 likes

چلو بچپن اگاتے ہیں چلو بھلی عادت بناتے ہیں چلو خود کو سکھاتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں تجربے زرد سے لگنے لگے ہیں کوور ان پر چڑھاتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں چلو سینچیں حقیقت بیتا کل چھیڑی سے چلو کھیلیں وہی سب کھیل کل کے چلو ان گرمیوں کی قلفیوں کو پھروں مناتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں کے چٹکی ایک لے کر مسکراہٹ کی ملاتے ہیں سمے کی آنچ پر یادوں کی ہانڈی پھروں چڑھاتے ہیں ملاتے ہیں حقیقت اک چھوٹا سا چمچ بچپنے کا چلو مل کر کے پھروں سے حقیقت ہی نادانی پکاتے ہیں سنہرا ایک اور سکہ صبح کی دھوپ کا چھلکا چلو شیشے کے ٹکڑے سے اسے گھر بھر گھماتے ہیں یا حقیقت چھوٹا سا سابن کا غبارہ پھونک سے ہلکا انگوٹھے اور انگلی کو ملا کر پھروں پھلاتے ہیں یا ڈبے سے چرا کر گڑ کے لڈو جیب ہے وہ ہے وہ رکھ کر یاروں کو دکھا کر کھاکے سب کو پھروں جلاتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں کسی کے د سے کے گنتے ہی کہی کونے ہے وہ ہے وہ چھپ کر کے کبھی چپکے سے ا سے کی پیٹھ پر دھپہ جماتے ہیں چلو بچپن اگاتے ہیں

Saurabh Mehta 'Alfaaz'

11 likes

اداسی عبارت جو اداسی نے لکھی ہے بدن ا سے کا غزل سا ریشمی ہے کسی کی پا سے آتی آہٹوں سے اداسی اور گہری ہوں چلی ہے چھری اچھل پڑتی ہیں لہریں چاند تک جب سمندر کی اداسی ٹوٹتی ہے اداسی کے پرندوں جاناں ک ہاں ہوں مری تنہائی جاناں کو ڈھونڈتی ہے مری گھر کی گھنی تاری کیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اداسی بالب سی جلتی رہی ہے اداسی اوڑھے حقیقت بوڑھی حویلی لگ جانے ک سے کا رستہ دیکھتی ہے اداسی صبح کا معصوم جھرنا اداسی شام کی بہتی ن گرا ہے

Sandeep Thakur

21 likes

More from Gaurav Singh

نئے بر سے کے پہلے پہلے ہم نے ابکی سوچ رکھا ہے نئے بر سے کے پہلے پہلے اپنے دل کا لاش کہی پر دفنا دیں گے یا پھروں اس کا کو سمجھا دیں گے جاہل اپنی حد ہے وہ ہے وہ رہ کر عشق کیا کر صحیح غلط سب دیکھ لیا کر ورنا پیاری ا سے دنیا کے لوگ بے حد بےغیرت ہیں تجھ کو قدم قدم پہ توڑیں گے برباد کریںگے یہ تجھ کو پھروں تو تنہا ی ہاں و ہاں بھٹکے گا عمر تمام دھک دھک دھڑکے گا ا سے سے بہتر نئے سال سے عشق وشق کے پاگل پن سے دور رہیں گے کام کریںگے ہم نے ابکی سوچ رکھا ہے نئے بر سے ہے وہ ہے وہ نام کریںگے

Gaurav Singh

1 likes

عورت دنیا کیا ہے اک عورت ہے پھروں یہ دھرتی گود ہے ا سے کی چاند ستارے تم ا سے کے ساتھی آسمان پھروں گھر ہوں شاید بارش کیا ہے ا سے کے آنسو پت جھڑ کیا ہے ا سے کے دکھ ہیں جھیلیں کیا ہیں دل ہے شاید پانی کیا ہے ا سے کی مامتا فصلیں پودھے اولادیں ہیں پھول پرندے یہ بھی شاید تیز ہوائیں بہنیں ہوںگی ہم سب کیا ہیں برا سمے ہیں برا سمے ہیں ٹل جائیں گے پھروں یہ عورت بچ جائے گی

Gaurav Singh

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Gaurav Singh.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Gaurav Singh's nazm.