nazmKuch Alfaaz

حقیقت سمے مری جان بے حد دور نہیں ہے جب درد سے رک جائیں گی سب آب و زیست کی راہیں اور حد سے گزر جائےگا اندوہ نہانی تھک جائیں گی ترسی ہوئی ناکام نگاہیں چھن جائیں گے مجھ سے مری آنسو مری آہیں چھن جائے گی مجھ سے مری بے کار جوانی شاید مری الفت کو بے حد یاد کروںگی اپنے دل معصوم کو ناشاد کروںگی آوگی مری گور پہ جاناں خوشی بہانے نو خیز بہاروں کے حسین پھول چڑھانے شاید مری تربت کو بھی ٹھکرا کے چلوںگی شاید مری بے سود وفاؤں پہ ہنسوگی ا سے وضع کرم کا بھی تمہیں پا سے لگ ہوگا لیکن دل ناکام کو احسا سے لگ ہوگا القصہ معال غم الفت پہ ہنسو جاناں یا خوشی بہاتی رہو پڑنا کروں جاناں ماضی پہ ندامت ہوں تمہیں یا کہ مسرت خاموش پڑا سوئے گا واماندہ الفت

Related Nazm

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک

Ali Zaryoun

70 likes

مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں

Tehzeeb Hafi

161 likes

More from Faiz Ahmad Faiz

یاد دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ اے جان ج ہاں لرزاں ہیں تیری آواز کے سائے تری ہونٹوں کے سراب دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ دوری کے خ سے و خاک تلے کھیل رہے ہیں تری پہلو کے سمن اور گلاب اٹھ رہی ہے کہی قربت سے تری سان سے کی آنچ اپنی خوشبو ہے وہ ہے وہ سلگتی ہوئی شاہد و ساقی شاہد و ساقی دور پیام عشق پار چمکتی ہوئی ہوئی اللہ ری اللہ ری گر رہی ہے تری دلدار نظر کی شبنم ا سے دودمان پیار سے اے جان ج ہاں رکھا ہے دل کے رخسار پہ ا سے سمے تری یاد نے ہاتھ یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبح فراق ڈھل گیا تو ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات

Faiz Ahmad Faiz

3 likes

سچ ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو آپ کے شکوے بجا لگ تھے بے شک ستم جناب کے سب دوستا لگ تھے ہاں جو کہوں بھی آپ نے کی قائدے سے کی ہاں ہم ہی کاربند اصول وفا لگ تھے آئی تو یوں کہ چنو ہمیشہ تھے مہرباں بھولے تو یوں کہ چنو کبھی آشنا لگ تھے کیوں داد غم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے طلب کی برا کیا ہم سے ج ہاں ہے وہ ہے وہ کشتی غم اور کیا لگ تھے گر فکر زخم کی تو اعتباری وار ہیں کہ ہم کیوں محوہ مدح خوبی تیغ ادا لگ تھے ہر چارا گر کو چارگری سے گریز تھا ور لگ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو دکھ تھے بے حد لا دوا لگ تھے لب پر ہے تلخی مے ایام ور لگ فیض ہم تلخی کلام پہ مائل ذرا لگ تھے

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

مجھے موجزوں پہ یقین نہیں م گر آرزو ہے کہ جب قضا مجھے بزم دہر سے لے چلے تو پھروں ایک بار یہ اذن دے کہ لحد سے لوٹ کے آ سکون تری در پہ آ کے صدا کروں تجھے غم گسار کی ہوں طلب تو تری حضور ہے وہ ہے وہ آ ر ہوں یہ لگ ہوں تو سو رہ عدم ہے وہ ہے وہ پھروں ایک بار روا لگ ہوں

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

حقیقت ج سے کی دید ہے وہ ہے وہ لاکھوں مسرتیں پن ہاں حقیقت حسن ج سے کی تمنا ہے وہ ہے وہ جنتیں پن ہاں ہزار فتنے تہ پا لگ ناز خاک نشیں ہر اک نگاہ خمار شباب سے درماندہ شباب ج سے سے تخیّل پہ بجلیاں برسیں نظیر و ج سے کی رفاقت کو شوخیاں ترسیں ادا لغزش پا پر قیامتیں قرباں بیاض رکھ پہ سحر کی سباحتیں قرباں سیاہ زلفوں ہے وہ ہے وہ وارفتہ نکہتوں کا ہجوم طویل راتوں کی خوابیدہ راحتوں کا ہجوم حقیقت آنکھ ج سے کے بناو بچیں خالق اتراے زبان شیر کو تعریف کرتے شرم آئی حقیقت ہونٹ فیض سے جن کے بہار لالہ فروش مکیں و کوثر و تسنیم و سلسبیل ب دوش گداز جسم قباء ج سے پہ سج کے ناز کرے دراز قد جسے سرو سہي نماز کرے غرض حقیقت حسن جو محتاج وصف و نام نہیں حقیقت حسن ج سے کا تصور بشر کا کام نہیں کسی زمانے ہے وہ ہے وہ ا سے رہ گزر سے گزرا تھا بصد غرور و تجمل ادھر سے گزرا تھا اور اب یہ راہ گزر بھی ہے دل فریب و حسین ہے ا سے کی خاک ہے وہ ہے وہ کیف شراب و شیر جلوے ہوا ہے وہ ہے وہ شوخی رفتار کی ادائیں ہیں فضا ہے وہ ہے وہ نرمی گفتار کی صدائیں ہیں غرض حقیقت حسن

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

آج کی رات ساز درد لگ چھیڑ دکھ سے بھرپور دن تمام ہوئے اور کل کی خبر کسے معلوم دوش و فردا کی مٹ چکی ہیں حدود ہوں لگ ہوں اب سحر کسے معلوم زندگی بریدش انفا سے لیکن آج کی رات از گراّت ہے ممکن آج کی رات آج کی رات ساز درد لگ چھیڑ اب لگ دوہرا فسا لگ ہا الم اپنی قسمت پہ سوگوار لگ ہوں فکر فردا اتار دے دل سے عمر رفتہ پہ خوشی بار لگ ہوں عہد غم کی حکایتیں مت پوچھ ہوں چکیں سب شکایتیں مت پوچھ آج کی رات ساز درد لگ چھیڑ

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's nazm.