مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں
Related Nazm
ا سے سے محبت جھیلیں کیا ہیں ا سے کی آنکھیں عمدہ کیا ہے ا سے کا چہرہ خوشبو کیا ہے ا سے کی سانسیں خوشیاں کیا ہیں ا سے کا ہونا تو غم کیا ہے ا سے سے جدائی ساون کیا ہے ا سے کا رونا سر گرا کیا ہے ا سے کی اداسی گرمی کیا ہے ا سے کا غصہ اور بہاریں ا سے کا ہنسنا میٹھا کیا ہے ا سے کی باتیں کڑوا کیا ہے مری باتیں کیا پڑھنا ہے ا سے کا لکھا کیا سننا ہے ا سے کی غزلیں لب کی خواہش ا سے کا ماتھا زخم کی خواہش ا سے کا چھونا دنیا کیا ہے اک جنگل ہے اور جاناں کیا ہوں پیڑ سمجھ لو اور حقیقت کیا ہے اک راہی ہے کیا سوچا ہے ا سے سے محبت کیا کرتے ہوں ا سے سے محبت زار پیشہ ا سے سے محبت ا سے کے علاوہ ا سے سے محبت ا سے سے محبت
Varun Anand
475 likes
''चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ'' चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ जो लफ़्ज़ कहूँ वो हो जाए बस अश्क कहूँ तो एक आँसू तेरे गोरे गाल को धो जाए मैं आ लिक्खूँ तू आ जाए मैं बैठ लिक्खूँ तू आ बैठे मेरे शाने पर सर रक्खे तू मैं नींद कहूँ तू सो जाए मैं काग़ज़ पर तेरे होंठ लिक्खूँ तेरे होंठों पर मुस्कान आए मैं दिल लिक्खूँ तू दिल था में मैं गुम लिक्खूँ वो खो जाए तेरे हाथ बनाऊँ पेंसिल से फिर हाथ पे तेरे हाथ रखूँ कुछ उल्टा सीधा फ़र्ज़ करूँँ कुछ सीधा उल्टा हो जाए मैं आह लिखूँ तू हाए करे बेचैन लिखूँ बेचैन हो तू फिर बेचैन का बे काटूँ तुझे चैन ज़रा सा हो जाए अभी ऐन लिखूँ तू सोचे मुझे फिर शीन लिखूँ तेरी नींद उड़े जब क़ाफ़ लिखूँ तुझे कुछ कुछ हो मैं इश्क़ लिखूँ तुझे हो जाए
Amir Ameer
295 likes
میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
یاد ہے پہلے روز کہا تھا یاد ہے پہلے روز کہا تھا پھروں نہ کہنا غلطی دل کی پیار سمجھ کے کرنا لڑکی پیار نبھانا ہوتا ہے پھروں پار لگانا ہوتا ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا ساتھ چلو تو پورے سفر تک مر جانے کی اگلی خبر تک سمجھو یار خدا تک ہوگا سارا پیار وفا تک ہوگا پھروں یہ بندھن توڑ نہ جانا چھوڑ گئے تو پھروں نہ آنا چھوڑ دیا جو تیرا نہیں ہے چلا گیا جو میرا نہیں ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا یا تو ٹوٹ کے پیار نہ کرنا یا پھروں پیٹھ پہ وار نہ کرنا جب نادانی ہو جاتی ہے نئی کہانی ہو جاتی ہے نئی کہانی لکھ لاوں گا اگلے روز میں بک جاؤں گا تیرے گل جب کھیل جائیں گے مجھ کو پیسے مل جائیں گے یاد ہے پہلے روز کہا تھا بچھڑ گئے تو موج اڑانا واپس میرے پاس نہ آنا جب کوئی جا کر واپس آئے روئے تڑپے یا پچھتائے میں پھروں اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں گم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوں
Khalil Ur Rehman Qamar
191 likes
حال دل میری دلربا جاناں خوبصورت ہوں صورت سے نہیں سیرت سے مجھے تمہاری سیرت سے محبت ہے اسیلیے سیرت کا جانتا ہوں شرم دہشت پریشانی جنہیں سخن وروں کویوں نے عشق کی لذت بتایا ہے فیلحال یہ میرے درمیان آ رہے ہیں بہرحال میری چاہتیں تمہارے نفس ہے وہ ہے وہ دھڑکتی ہیں زندہ رہتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تمہیں دیکھا ہے دیکھتے ہوئے مجھے چاہتے ہوئے مجھے سوچتے ہوئے اور میرے لیے پریشان ہوتے ہوئے ویسے چاہت ہوں تو کہنا لازمی ہوتا ہے ضروری ہوتا ہے لیکن عشق کی ان میں ہے وہ ہے وہ لفظ خاموش رہتے ہیں اور نگاہیں بات کر لیتی ہیں مجھے پتا ہے ایک دن جاناں میری نگاہوں سے بات کر لوگی پوچھ لوگی اور تمہیں جواب ملےگا ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی چاہتا ہوں خوب چاہتا ہوں ویسے ہے وہ ہے وہ بھی اپنے جاؤں گا اپنی غزلوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت خوب لکھتا ہوں حالانکہ اپناپن یہ ہے کہ ہے وہ ہے وہ بھی کہنے ہے وہ ہے وہ خوف تقاضا ہوں ویسے برا نہ ماننا کہ ہے وہ ہے وہ نے جاناں سے کبھی اظہار نہیں کیا سوچ لینا کہ تھی
Rakesh Mahadiuree
25 likes
More from Tehzeeb Hafi
کتنا عرصہ لگا نا امی گرا کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئے ایک بفری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئے نا خداوں ہے وہ ہے وہ اب پیچھے کتنے بچے ہیں روشنی اور اندھیرے کی تفریق ہے وہ ہے وہ کتنے لوگوں نے آنکھیں گنوا دیں کتنی صدیاں سفر ہے وہ ہے وہ گزاری م گر آج پھروں ا سے جگہ ہیں ج ہاں سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ماوں نے رخصت کیا تھا اپنے سب سے بڑے خواب کو اپنی آنکھوں کے آگے اجڑتے ہوئے دیکھنے سے برا کچھ نہیں ہے تیری قربت ہے وہ ہے وہ یا تجھ سے دوری پہ جتنی گزاری تیری چوڑیوں کی قسم زندگی دائروں کے سوا کچھ نہیں ہے کہنیوں سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا منا ڈھانپ کر کھانسنے کو بڑوں نے کہا تھا تو ہم ان پہ ہنستے تھے اور سوچتے تھے کہ ان کو ٹشو پیپروں کی مہک سے الرجی ہے لیکن ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ پتا ہی نہیں تھا کہ ان پہ حقیقت آفات ٹوٹی ہیں جن کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک ص گرا بعد پھروں سامنا ہے وبا کے دنوں ہے وہ ہے وہ کسے ہوش رہتا ہے ک سے ہاتھ کو کھڑکیاں ہے کسے تھامنا ہے اک ریاضی کے استاد نے اپنے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پرکار لے کر یہ
Tehzeeb Hafi
21 likes
مجھے بے حد ہے کے ہے وہ ہے وہ بھی شامل ہوں تیری زلفوں کی زائرینوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو اماوَ سے کی کالی راتوں کا رزق بننے سے بچ گئے مجھے قسم ہے ادا سے راتوں ہے وہ ہے وہ ڈسنے والے یتیم سانپوں کی زہر آلود زندگی کی تری چھوئے جسم بستر مرگ پر پڑے ہیں تری لبوں کی خفيف جنبش سے زلزلوں نے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کا زیور اتار پھینکا تیری درخشاں ہتھیلیوں پر بدلتے موسم کے ذائقوں سے پتا چلا ہے کے ا سے تعلق کی سر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر خیزہ بے حد دیر تک رہےگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں کے ہے وہ ہے وہ نے ممنوع جھونپڑیوں سے ہوں کے ایسے بے حد سے بابوں کی سیر کی ہے ج ہاں سے تو روکتی بے حد تھی یہ ہاتھ جن کو تری بدن کی چمک نے برسوں نڈھال رکھا حرام ہے کے ان ہوں نے شاخوں سے پھول گرفت ہوں یا کسی بھی پیڑ کے لچکدار حسن دلآویز سے کسی بھی موسم کا فل اتارا ہوں اور ا گر ایسا ہوں بھی جاتا تو پھروں بھی تیری شریشت ہے وہ ہے وہ انتقام کب ہے ابھی محبت کی صبح روشن ہے شام کب ہے یہ دل کے شیشے پر پڑھنے لگیں والی ملال کی دھول صاف کر دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے چھپ کر ا گر کسی سے ملا تو مجھے
Tehzeeb Hafi
25 likes
مقرر کیا ہے صبح روشن تھی اور گرمیوں کے تھکا دینے والے دنوں میں ساری دنیا سے آزاد ہم مچھلیوں کی طرح میلی نہروں میں گوٹے لگاتے اپنے چہرے پہ کیچڑ لگا کر ڈراتے تھے ایک دوسرے کو کنارو پہ بیٹھے ہوئے ہم نے جو عہد ایک دوسرے سے لیے تھے اس کے دھندلے سے نقشے آج بھی میرے دل پر کہیں نقش ہیں خدا روز سورج کو تیار کر کے ہماری طرف بھیجتا تھا اور ہم سایہ کفر میں ایک دوجے کے چہرے کی تابندگی کی دعا مانگتے تھے اس کا چہرہ کبھی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو سکا اس کا چہرہ اگر میری آنکھوں سے ہٹتا تو میں کائنات میں پھیلے ہوئے ان مظاہر کی تفہیم نظموں میں کرتا کہ جس پر بزید نے یہ بیمار جن کو خود اپنی تمناؤں کی آتماوں نے اتنا ڈرایا کے انکو ہوس کے قفس میں محبت کی کرنوں نے چھونے کی کوشش بھی کی تو یہ اس سے پرے ہو گئے ان کے بس میں نہیں کہ یہ محسوس کرتے اک محبت بھرے ہاتھ کا لمس جس سے انکار کر کر کے ان کے بدن خوردری ہو گئے ایک دن جو خدا اور محبت کی اک قسط کو اگلے دن پر نہیں ٹال سکتے خدا اور محبت پہ رائزنی کرتے تھکتے نہیں اور اس پر بھی یہ چاہتے ہیں کہ میں ان کی مرضی کی نظمیں کہوں جن<
Tehzeeb Hafi
26 likes
صبحیں روشن تھی اور گرمیوں کی تھکا دینے والے دنوں میں ساری دنیا سے آزاد ہم مچھلیوں کی طرح میلی نہروں میں گوٹے لگاتے اپنے چہروں سے کیچڑ دیکھیں گے ڈراتے تھے ایک دوسرے کو کناروں پر بیٹھے ہوئے ہم نے جو عہد ایک دوسرے سے لیے تھے اس کے دھندلے سے نقشے آج بھی میرے دل پر کہیں نقش ہے خدا روز سورج کو تیار کر کے ہماری طرف بھیجتا تھا اور ہم سایہ کفر میں اک دوجے کے چہرے کی تابندگی کی دعا مانگتے تھے اس کا چہرہ کبھی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو سکا اس کا چہرہ اگر میری آنکھوں سے ہٹتا تو میں کائناتوں میں پھیلے ہوئے ان مظاہر کی تفہیم نظموں میں کرتا کہ جس پر بزید ہے یہ بیمار جن کو خود اپنی تمناؤں کی آتماوں نے اتنا ڈرایا کہ انکو ہوس کے قفس میں محبت کی کرنوں نے چھونے کی کوشش بھی کی تو یہ اس سے پرے ہو گئے ان کے بس میں نہیں کہ یہ محسوس کرتے ایک محبت بھرے ہاتھ کا لمس جن سے انکار کر کر کے ان کے بدن خوردورے ہو گئے ایک دن جو خدا اور محبت کی ایک قسط کو اگلے دن پر نہیں ٹال سکتے خدا اور محبت پر رائے زنی کرتے تھکتے نہیں اور اس پر بھی یہ چاہتے ہیں کہ میں ان کی مرضی کی نظمی
Tehzeeb Hafi
18 likes
ہے وہ ہے وہ سپنوں ہے وہ ہے وہ آکسیجن پلانٹ انسٹال کر رہا ہوں اور ہر مرنے والے کے ساتھ مر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے لفظوں کے ذریعے تمہیں سانسوں کے سلنڈر بھیجوں گا جو تمہیں ا سے جنگ ہے وہ ہے وہ ہارنے نہیں دیں گے اور تمہاری دیکھ بھال کرنے والوں کے ہاتھوں کو کانپنے نہیں دیں گے آکسیجن اسٹاک ختم ہونے کی خبریں گردش بھی کریں تو کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے لیے اپنی نظموں سے وینٹیلیٹر بناؤں گا اسپتالوں کے بستر بھر بھی جائیں کچھ لوگ جاناں سے بچھڑ بھی جائیں تو حوصلہ مت شفت کیونکہ رات چاہے جتنی مرضی کالی ہوں گزر جانے کے لیے ہوتی ہے رنگ اتر جانے کے لیے ہوتے ہیں اور زخم بھر جانے کے ہوتے ہیں
Tehzeeb Hafi
46 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.
Similar Moods
More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's nazm.







