مجھے بے حد ہے کے ہے وہ ہے وہ بھی شامل ہوں تیری زلفوں کی زائرینوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو اماوَ سے کی کالی راتوں کا رزق بننے سے بچ گئے مجھے قسم ہے ادا سے راتوں ہے وہ ہے وہ ڈسنے والے یتیم سانپوں کی زہر آلود زندگی کی تری چھوئے جسم بستر مرگ پر پڑے ہیں تری لبوں کی خفيف جنبش سے زلزلوں نے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کا زیور اتار پھینکا تیری درخشاں ہتھیلیوں پر بدلتے موسم کے ذائقوں سے پتا چلا ہے کے ا سے تعلق کی سر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر خیزہ بے حد دیر تک رہےگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں کے ہے وہ ہے وہ نے ممنوع جھونپڑیوں سے ہوں کے ایسے بے حد سے بابوں کی سیر کی ہے ج ہاں سے تو روکتی بے حد تھی یہ ہاتھ جن کو تری بدن کی چمک نے برسوں نڈھال رکھا حرام ہے کے ان ہوں نے شاخوں سے پھول گرفت ہوں یا کسی بھی پیڑ کے لچکدار حسن دلآویز سے کسی بھی موسم کا فل اتارا ہوں اور ا گر ایسا ہوں بھی جاتا تو پھروں بھی تیری شریشت ہے وہ ہے وہ انتقام کب ہے ابھی محبت کی صبح روشن ہے شام کب ہے یہ دل کے شیشے پر پڑھنے لگیں والی ملال کی دھول صاف کر دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے چھپ کر ا گر کسی سے ملا تو مجھے
Related Nazm
ا سے کی خوشیاں ساری جھیلیں سوکھ گئی ہیں ا سے کی آنکھیں سوکھ گئی ہیں پیڑوں پر پنچھی بھی چپ ہیں اس کا کا کو کوئی دکھ ہے شاید رستے سونے سونے ہیں سب ا سے نے ٹہلنا چھوڑ دیا ہے ساری غزلیں بے معنی ہیں ا سے نے پڑھنا چھوڑ دیا ہے حقیقت بھی ہنسنا بھول چکی ہے گلوں نے کھلنا چھوڑ دیا ہے ساون کا موسم جاری ہے زبان ا سے کا غم جاری ہے باقی موسم ٹال دیے ہیں سکھ کوئیں ہے وہ ہے وہ ڈال دیے ہیں چاند کو چھٹی دے دی گئی ہے تاروں کو شاہد و ساقی رکھا ہے آتش دان ہے وہ ہے وہ پھینک دی خوشیاں دل ہے وہ ہے وہ ب سے اک غم رکھا ہے خا لگ پینا چھوڑ دیا ہے سب سے رشتہ توڑ دیا ہے ہاں یہ خوشگوار آنے کو ہے ا سے نے جینا چھوڑ دیا ہے ہر دل خوش ہر چہرہ خوش ہوں حقیقت ہوں خوش تو دنیا خوش ہوں حقیقت اچھی تو سب اچھا ہے اور دنیا ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ہے یہ سب سن کر خدا نے بولا بول تیری اب خواہش کیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بولا مری خواہش مری خواہش ا سے کی خوشیاں خدا نے بولا تیری خواہش ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بولا ا سے کی خوشیاں ا سے کے علا
Varun Anand
30 likes
तुम हमारे लिए तुम हमारे लिए अर्चना बन गई हम तुम्हारे लिए एक दर्पण प्रिये तुम मिलो तो सही हाल पूछो मेरा हम न रो दें तो कह देना पत्थर प्रिये प्यार मिलना नहीं था अगर भाग्य में देवताओं ने हम सेे ये छल क्यूँ किया मेरे दिल में भरी रेत ही रेत थी दे के अमृत ये हम को विकल क्यूँ किया अप्सरा हो तो हो पर हमारे लिए तुम ही सुंदर सुकोमल सुघर हो प्रिये देवताओं के गणितीय संसार में ऐसा भी है नहीं कोई अच्छा न था हम अगर इस जनम भी नहीं मिल सके सब कहेंगे यही प्यार सच्चा न था कायरों को कभी प्यार मिलता नहीं फ़ैसला कोई ले लो कि डटकर प्रिये मम्मी कहती थीं चंदा बहुत दूर है चाँद से आगे हम को सितारा लगा यूँँ तो चेहरे ही चेहरे थे दुनिया में पर एक तेरा ही चेहरा पियारा लगा पलकों पे मेरी रख कर क़दम तुम चलो पॉंव में चुभ न जाए कि कंकड़ प्रिये
Rakesh Mahadiuree
24 likes
حقیقت لوگ بے حد خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے کرنے والے کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھروں آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
Faiz Ahmad Faiz
160 likes
باتیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور میری قلم 9 بات کرتے ہیں یہ چاند سورج کیا لگتے ہیں یہ دونوں اس کا کی آنکھیں ہیں تو پھروں یہ تارے کیا ہیں سب تارے اس کا کی بالی ہیں تو بادل کیا لگتے ہیں پھروں یہ بادل اس کا کی زلفیں ہیں تو خوشبو کیا لگتا ہے یہ خوشبو ہے نتھ اس کا کی یہ موسم کیا لگتے ہیں پھروں سب موسم اس کا کے نخرے ہیں تو پھروں ہوا کیا لگتی ہے ہوا تو اس کا کا آنچل ہے یہ ندیاں تو پھروں رہ گئیں یہ ندیاں اس کا کا کنگن ہیں تو پھروں سمندر کیا ہوا یہ سمندر پائل ہے اس کا کی پھروں پرکرتی کیا لگتی ہے یہ پرکرتی اس کا کی ساڑی ہے یہ پوری دھرتی رہ گئی یہ دھرتی اس کا کی گود ہے ان سب ہے وہ ہے وہ پھروں جاناں کیا ہوں مجھ کو اس کا کا دل سمجھ لو تمہارا دل پھروں کیا ہوا اس کا کا کے دل ہے وہ ہے وہ پھول سمجھ لو اس کا کا کے دل ہے وہ ہے وہ اگتا ہے اس کا کا کے دل ہے وہ ہے وہ کھلتا ہے اس کا کا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی پھروں ملتا ہے روز صبح سے رات تک دیکھنے مجھ کو آتا ہے ساتھ حقیقت ہر پل چلتا ہے کنگن پائل کھنکھاتا ہے<
Divya 'Kumar Sahab'
27 likes
کیوں ہے جاناں نہیں ہوں ی ہاں پر پھروں بھی تمہارے ہونے کا احسا سے کیوں ہے کچھ ہے نہیں مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کچھ ہونے کی یہ آ سے کیوں ہے بڑی حیرانی ہے مجھے کی حقیقت دور ہوکر بھی اتنا پا سے کیوں ہے سب نے کہا کہ حقیقت تو پرایا ہے حقیقت پرایا ہوکر بھی اتنا خاص کیوں ہے جتنا حقیقت دور ہے مجھ سے حقیقت اتنا ہی مجھ کو را سے کیوں ہے بیٹھا ہوں بلکل اکانت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کانوں ہے وہ ہے وہ ا سے کی آواز کیوں ہے کھل کے نہیں کہتی حقیقت کچھ بھی ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ اتنے راز کیوں ہیں بسی ہے دل ہے وہ ہے وہ حقیقت مری یہ میرا دل ا سے کا سمپتی کیوں ہے اس کا کا کو نہیں بھلا سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ا سے کے نام کی ہر شوا سے کیوں ہے پوری کائنات ا سے کی یاد دلاتی ہے یہ تن من ہے وہ ہے وہ ا سے کا وا سے کیوں ہے حقیقت مری ہوئی نہیں ہے ابھی اس کا کا کو کھونے کے ڈر سے من اتنا بدحوا سے کیوں ہے دوریاں لکھی ہیں چنو درمیان میرا نصیب مجھ سے اتنا ناراض کیوں ہے ایسے شبد ک ہاں سے لاؤں کی حقیقت سمجھے
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
More from Tehzeeb Hafi
ہے وہ ہے وہ سپنوں ہے وہ ہے وہ آکسیجن پلانٹ انسٹال کر رہا ہوں اور ہر مرنے والے کے ساتھ مر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے لفظوں کے ذریعے تمہیں سانسوں کے سلنڈر بھیجوں گا جو تمہیں ا سے جنگ ہے وہ ہے وہ ہارنے نہیں دیں گے اور تمہاری دیکھ بھال کرنے والوں کے ہاتھوں کو کانپنے نہیں دیں گے آکسیجن اسٹاک ختم ہونے کی خبریں گردش بھی کریں تو کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے لیے اپنی نظموں سے وینٹیلیٹر بناؤں گا اسپتالوں کے بستر بھر بھی جائیں کچھ لوگ جاناں سے بچھڑ بھی جائیں تو حوصلہ مت شفت کیونکہ رات چاہے جتنی مرضی کالی ہوں گزر جانے کے لیے ہوتی ہے رنگ اتر جانے کے لیے ہوتے ہیں اور زخم بھر جانے کے ہوتے ہیں
Tehzeeb Hafi
46 likes
مقرر کیا ہے صبح روشن تھی اور گرمیوں کے تھکا دینے والے دنوں میں ساری دنیا سے آزاد ہم مچھلیوں کی طرح میلی نہروں میں گوٹے لگاتے اپنے چہرے پہ کیچڑ لگا کر ڈراتے تھے ایک دوسرے کو کنارو پہ بیٹھے ہوئے ہم نے جو عہد ایک دوسرے سے لیے تھے اس کے دھندلے سے نقشے آج بھی میرے دل پر کہیں نقش ہیں خدا روز سورج کو تیار کر کے ہماری طرف بھیجتا تھا اور ہم سایہ کفر میں ایک دوجے کے چہرے کی تابندگی کی دعا مانگتے تھے اس کا چہرہ کبھی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو سکا اس کا چہرہ اگر میری آنکھوں سے ہٹتا تو میں کائنات میں پھیلے ہوئے ان مظاہر کی تفہیم نظموں میں کرتا کہ جس پر بزید نے یہ بیمار جن کو خود اپنی تمناؤں کی آتماوں نے اتنا ڈرایا کے انکو ہوس کے قفس میں محبت کی کرنوں نے چھونے کی کوشش بھی کی تو یہ اس سے پرے ہو گئے ان کے بس میں نہیں کہ یہ محسوس کرتے اک محبت بھرے ہاتھ کا لمس جس سے انکار کر کر کے ان کے بدن خوردری ہو گئے ایک دن جو خدا اور محبت کی اک قسط کو اگلے دن پر نہیں ٹال سکتے خدا اور محبت پہ رائزنی کرتے تھکتے نہیں اور اس پر بھی یہ چاہتے ہیں کہ میں ان کی مرضی کی نظمیں کہوں جن<
Tehzeeb Hafi
26 likes
صبحیں روشن تھی اور گرمیوں کی تھکا دینے والے دنوں میں ساری دنیا سے آزاد ہم مچھلیوں کی طرح میلی نہروں میں گوٹے لگاتے اپنے چہروں سے کیچڑ دیکھیں گے ڈراتے تھے ایک دوسرے کو کناروں پر بیٹھے ہوئے ہم نے جو عہد ایک دوسرے سے لیے تھے اس کے دھندلے سے نقشے آج بھی میرے دل پر کہیں نقش ہے خدا روز سورج کو تیار کر کے ہماری طرف بھیجتا تھا اور ہم سایہ کفر میں اک دوجے کے چہرے کی تابندگی کی دعا مانگتے تھے اس کا چہرہ کبھی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو سکا اس کا چہرہ اگر میری آنکھوں سے ہٹتا تو میں کائناتوں میں پھیلے ہوئے ان مظاہر کی تفہیم نظموں میں کرتا کہ جس پر بزید ہے یہ بیمار جن کو خود اپنی تمناؤں کی آتماوں نے اتنا ڈرایا کہ انکو ہوس کے قفس میں محبت کی کرنوں نے چھونے کی کوشش بھی کی تو یہ اس سے پرے ہو گئے ان کے بس میں نہیں کہ یہ محسوس کرتے ایک محبت بھرے ہاتھ کا لمس جن سے انکار کر کر کے ان کے بدن خوردورے ہو گئے ایک دن جو خدا اور محبت کی ایک قسط کو اگلے دن پر نہیں ٹال سکتے خدا اور محبت پر رائے زنی کرتے تھکتے نہیں اور اس پر بھی یہ چاہتے ہیں کہ میں ان کی مرضی کی نظمی
Tehzeeb Hafi
18 likes
کتنا عرصہ لگا نا امی گرا کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئے ایک بفری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئے نا خداوں ہے وہ ہے وہ اب پیچھے کتنے بچے ہیں روشنی اور اندھیرے کی تفریق ہے وہ ہے وہ کتنے لوگوں نے آنکھیں گنوا دیں کتنی صدیاں سفر ہے وہ ہے وہ گزاری م گر آج پھروں ا سے جگہ ہیں ج ہاں سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ماوں نے رخصت کیا تھا اپنے سب سے بڑے خواب کو اپنی آنکھوں کے آگے اجڑتے ہوئے دیکھنے سے برا کچھ نہیں ہے تیری قربت ہے وہ ہے وہ یا تجھ سے دوری پہ جتنی گزاری تیری چوڑیوں کی قسم زندگی دائروں کے سوا کچھ نہیں ہے کہنیوں سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا منا ڈھانپ کر کھانسنے کو بڑوں نے کہا تھا تو ہم ان پہ ہنستے تھے اور سوچتے تھے کہ ان کو ٹشو پیپروں کی مہک سے الرجی ہے لیکن ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ پتا ہی نہیں تھا کہ ان پہ حقیقت آفات ٹوٹی ہیں جن کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک ص گرا بعد پھروں سامنا ہے وبا کے دنوں ہے وہ ہے وہ کسے ہوش رہتا ہے ک سے ہاتھ کو کھڑکیاں ہے کسے تھامنا ہے اک ریاضی کے استاد نے اپنے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پرکار لے کر یہ
Tehzeeb Hafi
21 likes
مجھ پہ تیری تمنا کا الزام ثابت لگ ہوتا تو سب ٹھیک تھا زما لگ تیری روشنی کے تسلسل کی ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اٹھاتا ہے اور ہے وہ ہے وہ تری ساتھ رہ کر بھی تاریخیوں کے تنظور ہے وہ ہے وہ مارا گیا تو مجھ پہ نظر کرم کر مخاطب ہوں مجھ سے مجھے یہ بتا ہے وہ ہے وہ تیرا کون ہوں ا سے تعلق کی کیاری ہے وہ ہے وہ اگتے ہوئے پھول کو نام دے مجھ کو تیری محبت پہ شک تو نہیں پر مری نام سے تری سینے ہے وہ ہے وہ رکھی ہوئی اینٹ دھڑکے تو مانو کب تلک ہے وہ ہے وہ تیری خموشی سے یوںہی اپنے مرضی کے زار نکالوں گا مجھ کو آواز دے چاہے حقیقت مری حق ہے وہ ہے وہ بری ہوں تیری آواز سننے کی خواہش ہے وہ ہے وہ کانوں کے پردے کھینچے جا رہے ہیں بول دے کچھ بھی جو تیرا جی چاہے بول نا تری ہونٹوں پہ مکڑی کے جالوں کے جمنے کا دکھ تو برحال مجھ کو ہمیشہ رہے گا تو نے چپی ہی سادنی تھی تو اظہار ہی کیوں کیا تھا یہ تو ایسے ہے بچپن ہے وہ ہے وہ چنو کہی کھیلتے کھیلتے کوئی کسی کو اسٹیچو کہے اور پھروں عمر بھر اس کا کو مڑ کر لگ دیکھے
Tehzeeb Hafi
38 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.
Similar Moods
More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's nazm.





