حقیقت لوگ بے حد خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے کرنے والے کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھروں آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
Related Nazm
تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تری چہرے پر تو کسی اور ستارے تم سے چمک لائی تھی تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مون سے جاں کیا کروں ہے وہ ہے وہ کہ تو بولی ہی بے حد کم مجھ سے تیری چپ سے ہی یہی محسو سے کیا تھا ہے وہ ہے وہ نے جیت جائےگا تیرا غم کسی روز مجھ سے شہر آوازیں لگاتا تھا م گر تو چپ تھی یہ تعلق مجھے تقاضا تھا م گر تو چپ تھی وہی انجام تھا جو عشق کا آغاز سے ہے تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھا چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے یہی ہوتا ہے یہی ہوگا یہی ہونا تھا پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے اور مری آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ہوتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اندازے لگائے کے سبب کیا ہوگا پر مری تیر ترازو بھی نہیں ہوتے تھے جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے پھروں حقیقت خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل ہے
Tehzeeb Hafi
180 likes
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہر کام کرنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ضروری بات کہنی ہوں کوئی وعدہ نبھانا ہوں اسے آواز دینی ہوں اسے واپ سے بلانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مدد کرنی ہوں ا سے کی یار کی ڈھار سے باندھنا ہوں بے حد دیری لگ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدلتے موسموں کی سیر ہے وہ ہے وہ دل کو لگانا ہوں کسی کو یاد رکھنا ہوں کسی کو بھول جانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوں حقیقت اور تھی کچھ ا سے کو جا کے یہ بتانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہر کام کرنے ہے وہ ہے وہ
Muneer Niyazi
108 likes
مریم ہے وہ ہے وہ ہے وہ آئینوں سے گریز کرتے ہوئے پہاڑوں کی کوکھ ہے وہ ہے وہ سان سے لینے والی ادا سے جھیلوں ہے وہ ہے وہ اپنے چہرے کا عک سے دیکھوں تو سوچتا ہوں کہ مجھ ہے وہ ہے وہ ایسا بھی کیا ہے مریم تمہاری بے ساختہ محبت ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ پھیلے ہوئے سمندر کی وسعتوں سے بھی ماورا ہے محبتوں کے سمندروں ہے وہ ہے وہ ب سے ایک بحرہ ہجر ہے جو برا ہے مریم خلا نوردوں کو جو ستارے تم معاوضے ہے وہ ہے وہ ملے تھے حقیقت ان کی روشنی ہے وہ ہے وہ یہ سوچتے ہیں کہ سمے ہی تو خدا ہے مریم اور ا سے مقدم کی گٹھریوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رکی ہوئی ساعتوں سے ہٹکر مری لیے اور کیا ہے مریم ابھی بے حد سمے ہے کہ ہم سمے دے ذرا اک دوسرے کو م گر ہم اک ساتھ رہ کر بھی خوش لگ رہ سکے تو معاف کرنا کہ ہے وہ ہے وہ نے بچپن ہی دکھ کی دہلیز پر گزارا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان چراغوں کا دکھ ہوں جن کی لوے شب انتظار ہے وہ ہے وہ بجھ گئی م گر ان سے اٹھنے والا دھواں زمان و مکان ہے وہ ہے وہ پھیلا ہوا ہے اب تک ہے وہ ہے وہ ہے وہ نشان نقش پا اور ان کے جسموں سے بہنے والی ان آبشاروں کا دکھ ہوں جن ک
Tehzeeb Hafi
158 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں
Gulzar
107 likes
More from Faiz Ahmad Faiz
یاد دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ اے جان ج ہاں لرزاں ہیں تیری آواز کے سائے تری ہونٹوں کے سراب دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ دوری کے خ سے و خاک تلے کھیل رہے ہیں تری پہلو کے سمن اور گلاب اٹھ رہی ہے کہی قربت سے تری سان سے کی آنچ اپنی خوشبو ہے وہ ہے وہ سلگتی ہوئی شاہد و ساقی شاہد و ساقی دور پیام عشق پار چمکتی ہوئی ہوئی اللہ ری اللہ ری گر رہی ہے تری دلدار نظر کی شبنم ا سے دودمان پیار سے اے جان ج ہاں رکھا ہے دل کے رخسار پہ ا سے سمے تری یاد نے ہاتھ یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبح فراق ڈھل گیا تو ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات
Faiz Ahmad Faiz
3 likes
ہم پرورش لوح و کرتے رہیں گے جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے اسباب غم عشق بہم کرتے رہیں گے ویرانی دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے ہاں تلخی ایام ابھی اور بڑھےگی ہاں اہل ستم مشک ستم کرتے رہیں گے جھمکے یہ تلخی یہ ستم ہم کو بے شرط دم ہے تو مدوا الم کرتے رہیں گے مے خا لگ سلامت ہے تو ہم سرخی مے سے تزئین در و بام حرم کرتے رہیں گے باقی ہے لہو دل ہے وہ ہے وہ تو ہر خوشی سے پیدا رنگ لب و رخسار صنم کرتے رہیں گے اک طرز ت غافل ہے سو حقیقت ان کو مبارک اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
ٹھٹھراتی دور جا کر قریب ہوں جتنے ہم سے کب جاناں قریب تھے اتنے اب لگ آوگے جاناں لگ جاؤگے وصل ہجراں بہم ہوئے کتنے غنچہ صورت چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کا رنگ بدلے کسی صورت شب تنہائی کا دولت لب سے پھروں اے خسرو شیریں دہناں آج ارزاں ہوں کوئی حرف شنا سائی کا گرمی رشک سے ہر انجمن گل بدناں تذکرہ چھیڑے تری پیرہن آرائی کا صحن گلشن ہے وہ ہے وہ کبھی اے شہ شمشاد قداں پھروں نظر آئی سلیقہ تری رعنائی کا ایک بار اور مسیحا دل دل زدگاں کوئی وعدہ کوئی اقرار مسیحائی کا ساز و سامان بہم پہنچا ہے رسوائی کا 3 کب تک دل کی خیر رونگٹے کب تک رہ دکھ لاؤ گے کب تک چین کی مہلت دوگے کب تک یاد لگ آوگے بیتا دید امید کا موسم خاک اڑتی ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب بھیجوگے درد کا بادل کب برکھا برساؤگے عہد وفا یا سمجھاتے جو چاہو سو آپ کروں اپنے ب سے کی بات ہی کیا ہے ہم سے کیا منواؤگے ک سے نے وصل کا سورج دیکھا ک سے پر ہجر کی رات ڈھلی گیسوؤں والے کون تھے کیا تھے ان کو کیا جتلاوگے فیض دلوں کے بھاگ ہے وہ ہے وہ ہے گھر بھرنا بھی لٹ جانا بھی جاناں
Faiz Ahmad Faiz
1 likes
آج کی رات ساز درد لگ چھیڑ دکھ سے بھرپور دن تمام ہوئے اور کل کی خبر کسے معلوم دوش و فردا کی مٹ چکی ہیں حدود ہوں لگ ہوں اب سحر کسے معلوم زندگی بریدش انفا سے لیکن آج کی رات از گراّت ہے ممکن آج کی رات آج کی رات ساز درد لگ چھیڑ اب لگ دوہرا فسا لگ ہا الم اپنی قسمت پہ سوگوار لگ ہوں فکر فردا اتار دے دل سے عمر رفتہ پہ خوشی بار لگ ہوں عہد غم کی حکایتیں مت پوچھ ہوں چکیں سب شکایتیں مت پوچھ آج کی رات ساز درد لگ چھیڑ
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
आज के नाम और आज के ग़म के नाम आज का ग़म कि है ज़िंदगी के भरे गुलसिताँ से ख़फ़ा ज़र्द पत्तों का बन ज़र्द पत्तों का बन जो मिरा देस है दर्द की अंजुमन जो मिरा देस है क्लरकों की अफ़्सुर्दा जानों के नाम किर्म-ख़ुर्दा दिलों और ज़बानों के नाम पोस्ट-मैनों के नाम ताँगे वालों का नाम रेल-बानों के नाम कार-ख़ानों के भूके जियालों के नाम बादशाह-ए-जहाँ वाली-ए-मा-सिवा, नाएब-उल-अल्लाह फ़िल-अर्ज़ दहक़ाँ के नाम जिस के ढोरों को ज़ालिम हँका ले गए जिस की बेटी को डाकू उठा ले गए हाथ भर खेत से एक अंगुश्त पटवार ने काट ली है दूसरी मालिए के बहाने से सरकार ने काट ली है जिस की पग ज़ोर वालों के पाँव-तले धज्जियाँ हो गई है उन दुखी माँओं के नाम रात में जिन के बच्चे बिलकते हैं और नींद की मार खाए हुए बाज़ुओं में सँभलते नहीं दुख बताते नहीं मिन्नतों ज़ारियों से बहलते नहीं उन हसीनाओं के नाम जिन की आँखों के गुल चिलमनों और दरीचों की बेलों पे बे-कार खिल खिल के मुरझा गए हैं उन बियाहताओं के नाम जिन के बदन बे मोहब्बत रिया-कार सेजों पे सज सज के उक्ता गए हैं बेवाओं के नाम कटड़ियों और गलियों मोहल्लों के नाम जिन की नापाक ख़ाशाक से चाँद रातों को आ आ के करता है अक्सर वज़ू जिन के सायों में करती है आह-ओ-बुका आँचलों की हिना चूड़ियों की खनक काकुलों की महक आरज़ू-मंद सीनों की अपने पसीने में जुल्ने की बू पढ़ने वालों के नाम वो जो असहाब-ए-तब्ल-ओ-अलम के दरों पर किताब और क़लम का तक़ाज़ा लिए हाथ फैलाए वो मासूम जो भोले-पन में वहाँ अपने नन्हे चराग़ों में लौ की लगन ले के पहुँचे जहाँ बट रहे थे घटा-टोप बे-अंत रातों के साए उन असीरों के नाम जिन के सीनों में फ़र्दा के शब-ताब गौहर जेल-ख़ानों की शोरीदा रातों की सरसर में जल जल के अंजुम-नुमा होगए हैं आने वाले दिनों के सफ़ीरों के नाम वो जो ख़ुश्बू-ए-गुल की तरह अपने पैग़ाम पर ख़ुद फ़िदा होगए हैं
Faiz Ahmad Faiz
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.
Similar Moods
More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's nazm.







