nazmKuch Alfaaz

ہم پرورش لوح و کرتے رہیں گے جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے اسباب غم عشق بہم کرتے رہیں گے ویرانی دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے ہاں تلخی ایام ابھی اور بڑھےگی ہاں اہل ستم مشک ستم کرتے رہیں گے جھمکے یہ تلخی یہ ستم ہم کو بے شرط دم ہے تو مدوا الم کرتے رہیں گے مے خا لگ سلامت ہے تو ہم سرخی مے سے تزئین در و بام حرم کرتے رہیں گے باقی ہے لہو دل ہے وہ ہے وہ تو ہر خوشی سے پیدا رنگ لب و رخسار صنم کرتے رہیں گے اک طرز ت غافل ہے سو حقیقت ان کو مبارک اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

Related Nazm

حقیقت لوگ بے حد خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے کرنے والے کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھروں آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

Faiz Ahmad Faiz

160 likes

بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س

Tahir Faraz

54 likes

کیوں الجھا الجھا رہتے ہوں کچھ بولو تو کچھ بات کروں کیا اب بھی تنہا راتیں ہیں کیا درد ہی دل بہلاتے ہیں کیوں محفل را سے نہیں آتی کیوں کوئل گیت نہیں گاتی کیوں پھولوں سے خوشبو گم ہے کیوں بھونرا گم سم گم سم ہے ان باتوں کا کیا زار ہے کچھ بولو تو کچھ بات کروں کیوں اماں کی کم سنتے ہوں کیا بھیتر بھیتر گنتے ہوں کیوں ہنسنا رونا بھول گئے کیوں لکڑی چنو گھنتے ہوں کیا دل کو کہی لگائے ہوں کیا عشق ہے وہ ہے وہ دھوکہ کھائے ہوں کیا ایسا ہی کچھ مسئلہ ہے کچھ بولو تو کچھ بات کروں

Raghav Ramkaran

42 likes

محبوبہ کے نام تو اپنی چٹھیوں ہے وہ ہے وہ میر کے اشعار لکھتی ہے محبت کے بنا ہے زندگی بیکار لکھتی ہے تیرے خط تو عبارت ہیں وفاداری کی قسموں سے جنہیں ہے وہ ہے وہ پیسہ ڈرتا ہوں وہی ہر بار لکھتی ہے تو پیروکار لیلیٰ کی ہے شیریں کی پجارن ہے مگر تو جس پہ بیٹھی ہے حقیقت سونے کا سنگھاسن ہے تیری پلکوں کے مسکارے تیرے ہونٹوں کی یہ لالی یہ تیرے ریشمی کپڑے یہ تیرے کان کی بالی گلے کا یہ چمکتا ہار ہاتھوں کے تیرے کنگن یہ سب کے سب ہے میرے دل میرے احساس کے دشمن کہ ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے پیار کی قیمت وفا کا مول کیا کیا ہے اعتبار کی قیمت شکستہ کشتیوں ٹوٹی ہوئی پتوار کی قیمت ہے میری جیت سے بڑھکر تو تیری ہار کی قیمت حقیقت خون کے آنسو تجھے جنگل پرستی جاناں تو اپنے فیصلے پر بعد ہے وہ ہے وہ پچھتائےگی جاناں میرے کندھے پہ چھوٹے بھائیوں کی ذمہ داری ہے میرے ماں باپ بوڑھے ہے بہن بھی تو کنواری ہے برہنہ موسموں کے وار کو تو سہ نہ بدلی حویلی چھوڑ کر تو جھونپڑی ہے وہ ہے وہ رہ نہ بدلی بیگانہ غم تیری میری مفلسی کو

Abrar Kashif

50 likes

نجم اک بر سے اور کٹ گیا تو شریک روز سانسوں کی جنگ لڑتے ہوئے سب کو اپنے خلاف کرتے ہوئے یار کو بھولنے سے ڈرتے ہوئے اور سب سے بڑا غصہ ہے یہ سانسیں لینے سے دل نہیں بھرتا اب بھی مرنے کو جی نہیں کرتا

Shariq Kaifi

46 likes

More from Faiz Ahmad Faiz

یاد دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ اے جان ج ہاں لرزاں ہیں تیری آواز کے سائے تری ہونٹوں کے سراب دشت تنہائی ہے وہ ہے وہ دوری کے خ سے و خاک تلے کھیل رہے ہیں تری پہلو کے سمن اور گلاب اٹھ رہی ہے کہی قربت سے تری سان سے کی آنچ اپنی خوشبو ہے وہ ہے وہ سلگتی ہوئی شاہد و ساقی شاہد و ساقی دور پیام عشق پار چمکتی ہوئی ہوئی اللہ ری اللہ ری گر رہی ہے تری دلدار نظر کی شبنم ا سے دودمان پیار سے اے جان ج ہاں رکھا ہے دل کے رخسار پہ ا سے سمے تری یاد نے ہاتھ یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبح فراق ڈھل گیا تو ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات

Faiz Ahmad Faiz

3 likes

گزر رہے ہیں شب و روز جاناں نہیں آتی ریاض زیست ہے آزردہ بہار ابھی مری خیال کی دنیا ہے سوگوار ابھی جو حسرتیں تری غم کی کفیل ہیں پیاری ابھی تلک مری تنہائیوں ہے وہ ہے وہ بستی ہیں طویل راتیں ابھی تک طویل ہیں پیاری ادا سے آنکھیں تری دید کو مشین ہیں بہار حسن پہ پابن گرا کہوں کب تک یہ آزمائش دل پامال گریز پا کب تک قسم تمہاری بے حد غم اٹھا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ غلط تھا دعا دل پامال و شکیب آ جاؤ قرار خاطر بیتاب تھک گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

حقیقت سمے مری جان بے حد دور نہیں ہے جب درد سے رک جائیں گی سب آب و زیست کی راہیں اور حد سے گزر جائےگا اندوہ نہانی تھک جائیں گی ترسی ہوئی ناکام نگاہیں چھن جائیں گے مجھ سے مری آنسو مری آہیں چھن جائے گی مجھ سے مری بے کار جوانی شاید مری الفت کو بے حد یاد کروںگی اپنے دل معصوم کو ناشاد کروںگی آوگی مری گور پہ جاناں خوشی بہانے نو خیز بہاروں کے حسین پھول چڑھانے شاید مری تربت کو بھی ٹھکرا کے چلوںگی شاید مری بے سود وفاؤں پہ ہنسوگی ا سے وضع کرم کا بھی تمہیں پا سے لگ ہوگا لیکن دل ناکام کو احسا سے لگ ہوگا القصہ معال غم الفت پہ ہنسو جاناں یا خوشی بہاتی رہو پڑنا کروں جاناں ماضی پہ ندامت ہوں تمہیں یا کہ مسرت خاموش پڑا سوئے گا واماندہ الفت

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

ٹھٹھراتی دور جا کر قریب ہوں جتنے ہم سے کب جاناں قریب تھے اتنے اب لگ آوگے جاناں لگ جاؤگے وصل ہجراں بہم ہوئے کتنے غنچہ صورت چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کا رنگ بدلے کسی صورت شب تنہائی کا دولت لب سے پھروں اے خسرو شیریں دہناں آج ارزاں ہوں کوئی حرف شنا سائی کا گرمی رشک سے ہر انجمن گل بدناں تذکرہ چھیڑے تری پیرہن آرائی کا صحن گلشن ہے وہ ہے وہ کبھی اے شہ شمشاد قداں پھروں نظر آئی سلیقہ تری رعنائی کا ایک بار اور مسیحا دل دل زدگاں کوئی وعدہ کوئی اقرار مسیحائی کا ساز و سامان بہم پہنچا ہے رسوائی کا 3 کب تک دل کی خیر رونگٹے کب تک رہ دکھ لاؤ گے کب تک چین کی مہلت دوگے کب تک یاد لگ آوگے بیتا دید امید کا موسم خاک اڑتی ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب بھیجوگے درد کا بادل کب برکھا برساؤگے عہد وفا یا سمجھاتے جو چاہو سو آپ کروں اپنے ب سے کی بات ہی کیا ہے ہم سے کیا منواؤگے ک سے نے وصل کا سورج دیکھا ک سے پر ہجر کی رات ڈھلی گیسوؤں والے کون تھے کیا تھے ان کو کیا جتلاوگے فیض دلوں کے بھاگ ہے وہ ہے وہ ہے گھر بھرنا بھی لٹ جانا بھی جاناں

Faiz Ahmad Faiz

1 likes

آج کی رات ساز درد لگ چھیڑ دکھ سے بھرپور دن تمام ہوئے اور کل کی خبر کسے معلوم دوش و فردا کی مٹ چکی ہیں حدود ہوں لگ ہوں اب سحر کسے معلوم زندگی بریدش انفا سے لیکن آج کی رات از گراّت ہے ممکن آج کی رات آج کی رات ساز درد لگ چھیڑ اب لگ دوہرا فسا لگ ہا الم اپنی قسمت پہ سوگوار لگ ہوں فکر فردا اتار دے دل سے عمر رفتہ پہ خوشی بار لگ ہوں عہد غم کی حکایتیں مت پوچھ ہوں چکیں سب شکایتیں مت پوچھ آج کی رات ساز درد لگ چھیڑ

Faiz Ahmad Faiz

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Faiz Ahmad Faiz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Faiz Ahmad Faiz's nazm.