nazmKuch Alfaaz

مریم ہے وہ ہے وہ ہے وہ آئینوں سے گریز کرتے ہوئے پہاڑوں کی کوکھ ہے وہ ہے وہ سان سے لینے والی ادا سے جھیلوں ہے وہ ہے وہ اپنے چہرے کا عک سے دیکھوں تو سوچتا ہوں کہ مجھ ہے وہ ہے وہ ایسا بھی کیا ہے مریم تمہاری بے ساختہ محبت ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ پھیلے ہوئے سمندر کی وسعتوں سے بھی ماورا ہے محبتوں کے سمندروں ہے وہ ہے وہ ب سے ایک بحرہ ہجر ہے جو برا ہے مریم خلا نوردوں کو جو ستارے تم معاوضے ہے وہ ہے وہ ملے تھے حقیقت ان کی روشنی ہے وہ ہے وہ یہ سوچتے ہیں کہ سمے ہی تو خدا ہے مریم اور ا سے مقدم کی گٹھریوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رکی ہوئی ساعتوں سے ہٹکر مری لیے اور کیا ہے مریم ابھی بے حد سمے ہے کہ ہم سمے دے ذرا اک دوسرے کو م گر ہم اک ساتھ رہ کر بھی خوش لگ رہ سکے تو معاف کرنا کہ ہے وہ ہے وہ نے بچپن ہی دکھ کی دہلیز پر گزارا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان چراغوں کا دکھ ہوں جن کی لوے شب انتظار ہے وہ ہے وہ بجھ گئی م گر ان سے اٹھنے والا دھواں زمان و مکان ہے وہ ہے وہ پھیلا ہوا ہے اب تک ہے وہ ہے وہ ہے وہ نشان نقش پا اور ان کے جسموں سے بہنے والی ان آبشاروں کا دکھ ہوں جن ک

Tehzeeb Hafi158 Likes

Related Nazm

حقیقت لوگ بے حد خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے کرنے والے کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھروں آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

Faiz Ahmad Faiz

160 likes

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں

Gulzar

107 likes

تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا

Kumar Vishwas

81 likes

جذبات جو یہ آنکھوں سے بہ رہا ہے کتنے ہم لاچار ہے جاناں سمجھو تو انتظار ہے ورنا کوئی انتظار نہیں تمہاری یاد ہے وہ ہے وہ ایسے ڈوبا چنو کوئی بیمار ہے جاناں سمجھو تو بے قرار ہے ورنا کوئی بے قرار نہیں جو مری دھڑکن چل رہی ہے ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے تمہارا نام ہے جاناں سمجھو تو یہ پکار ہے ورنا کوئی پکار نہیں ان ہاتھوں سے تمہاری زلفیں سنو ارنی ہیں ہر شام تمہارے ساتھ گزار لگ ہے جاناں سمجھو تو یہ دلار ہے ورنا کوئی دلار نہیں تمہارے ب سے دل ہے وہ ہے وہ جگہ نہیں تمہاری روح سے رشتہ چاہیے جاناں سمجھو تو یہ آر پار ہے ورنا کچھ آر پار نہیں تمہیں مل تو جائےگا مجھ سے اچھا سامنے تمہارے تو قطار ہے تمہیں پتا ہے نا تمہاری چاہت کا ب سے ایک حق دار ہے باقی کوئی حق دار نہیں تمہاری بان ہوں ہے وہ ہے وہ ہی سکون ملےگا مجھے سچ ک ہوں تو درکار ہے جاناں سمجھو تو یہ بہار ہے ورنا کہی بہار نہیں تمہاری گود ہے وہ ہے وہ آرام چاہیے تمہاری آواز ہے وہ ہے وہ ب سے اپنا نام چاہیے جاناں سمجھو تو یہ قرار ہے<br

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

More from Tehzeeb Hafi

کتنا عرصہ لگا نا امی گرا کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئے ایک بفری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئے نا خداوں ہے وہ ہے وہ اب پیچھے کتنے بچے ہیں روشنی اور اندھیرے کی تفریق ہے وہ ہے وہ کتنے لوگوں نے آنکھیں گنوا دیں کتنی صدیاں سفر ہے وہ ہے وہ گزاری م گر آج پھروں ا سے جگہ ہیں ج ہاں سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ماوں نے رخصت کیا تھا اپنے سب سے بڑے خواب کو اپنی آنکھوں کے آگے اجڑتے ہوئے دیکھنے سے برا کچھ نہیں ہے تیری قربت ہے وہ ہے وہ یا تجھ سے دوری پہ جتنی گزاری تیری چوڑیوں کی قسم زندگی دائروں کے سوا کچھ نہیں ہے کہنیوں سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا منا ڈھانپ کر کھانسنے کو بڑوں نے کہا تھا تو ہم ان پہ ہنستے تھے اور سوچتے تھے کہ ان کو ٹشو پیپروں کی مہک سے الرجی ہے لیکن ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ پتا ہی نہیں تھا کہ ان پہ حقیقت آفات ٹوٹی ہیں جن کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک ص گرا بعد پھروں سامنا ہے وبا کے دنوں ہے وہ ہے وہ کسے ہوش رہتا ہے ک سے ہاتھ کو کھڑکیاں ہے کسے تھامنا ہے اک ریاضی کے استاد نے اپنے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پرکار لے کر یہ

Tehzeeb Hafi

21 likes

नज़्म - बेबसी तेरे साथ गुज़रे दिनों की कोई एक धुँदली सी तस्वीर जब भी कभी सामने आएगी तो हमें एक दुआ थामने आएगी, बुढ़ापे की गहराइयों में उतरते हुए तेरी बे-लौस बाँहों के घेरे नहीं भूल पाएँगे हम हम को तेरे तवस्सुत से हँसते हुए जो मिले थे वो चेहरे नहीं भूल पाएँगे हम तेरे पहलू में लेटे हुओं का अजब क़र्ब है जो रात भर अपनी वीरान आँखों से तुझे तकते थे और तेरे शादाब शानों पे सिर रख के मरने की ख़्वाहिश में जीते रहे पर तेरे लम्स का कोई इशारा मुयस्सर नहीं था मगर इस जहाँ का कोई एक हिस्सा उन्हें तेरे बिस्तर से बेहतर नहीं था पर मोहब्बत को इस सब से कोई इलाका नहीं था एक दुख तो हम बहरहाल हम अपने सीनों में ले के मरेंगे कि हम ने मोहब्बत के दावे किए तेरे माथे पर सिंदूर टाँका नहीं इस सेे क्या फ़र्क पड़ता है दूर हैं तुझ सेे या पास हैं हम को कोई आदमी तो नहीं, हम तो एहसास हैं जो रहे तो हमेशा रहेंगे और गए तो मुड़ कर वापिस नहीं आएँगे

Tehzeeb Hafi

33 likes

جب وہ اس دنیا کے شور اور خاموشی سے کتا تعلق ہوکر انگلش میں غصہ کرتی ہے میں تو ڈر جاتا ہوں لیکن کمروں کی دیواریں ہنسنے لگتی ہیں وہ اک ایسی آگ ہے جس کو صرف دہکنے سے مطلب ہے وہ ایک ایسا خواب ہے جس کو دیکھنے والا خود مشکل میں پڑ سکتا ہے اس کو چھونے کی خواہش تو ٹھیک ہے لیکن پانی کون پکڑ سکتا ہے وہ رنگوں سے واقف ہے بلکہ ہر ایک رنگ کے شجرے تک سے واقف ہے ہم نے جن پھولوں کو نفرت سے بادہ آشامی کیا وہ ان پیلے پھولوں کی عزت کرتی ہے کبھی کبھی وہ اپنے ہاتھ میں پہنچاتا لے کر ایسی سطرے کھینچتی ہے سب کچھ سیدھا ہو جاتا ہے وہ چاہے تو ہر اک چیز کو اس کے اصل میں لا سکتی ہے صرف اسی کے ہاتھوں سے دنیا ترتیب میں آ سکتی ہے ہر پتھر اس پاؤں سے ٹکرانے کی خواہش میں زندہ لیکن یہ تو اسی ادھورے پن کا جہاں ہیں ہر پنجرے میں ایسے قیدی کب ہوتے ہیں ہر کپڑے کی قسمت میں وہ جسم کہاں ہیں میری بے مقصد باتوں سے تنگ بھی آ جاتی ہے تو محسوس نہیں ہونے دیتی لیکن اپنے ہونے سے اکتا جاتی ہے اس کو وقت کی آزمایا سے کیا مطلب ہے وہ تو بند گھڑی بھی ہاتھ میں باندھ کے کالج آ جاتی ہ

Tehzeeb Hafi

51 likes

مجھے بے حد ہے کے ہے وہ ہے وہ بھی شامل ہوں تیری زلفوں کی زائرینوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو اماوَ سے کی کالی راتوں کا رزق بننے سے بچ گئے مجھے قسم ہے ادا سے راتوں ہے وہ ہے وہ ڈسنے والے یتیم سانپوں کی زہر آلود زندگی کی تری چھوئے جسم بستر مرگ پر پڑے ہیں تری لبوں کی خفيف جنبش سے زلزلوں نے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کا زیور اتار پھینکا تیری درخشاں ہتھیلیوں پر بدلتے موسم کے ذائقوں سے پتا چلا ہے کے ا سے تعلق کی سر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر خیزہ بے حد دیر تک رہےگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں کے ہے وہ ہے وہ نے ممنوع جھونپڑیوں سے ہوں کے ایسے بے حد سے بابوں کی سیر کی ہے ج ہاں سے تو روکتی بے حد تھی یہ ہاتھ جن کو تری بدن کی چمک نے برسوں نڈھال رکھا حرام ہے کے ان ہوں نے شاخوں سے پھول گرفت ہوں یا کسی بھی پیڑ کے لچکدار حسن دلآویز سے کسی بھی موسم کا فل اتارا ہوں اور ا گر ایسا ہوں بھی جاتا تو پھروں بھی تیری شریشت ہے وہ ہے وہ انتقام کب ہے ابھی محبت کی صبح روشن ہے شام کب ہے یہ دل کے شیشے پر پڑھنے لگیں والی ملال کی دھول صاف کر دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے چھپ کر ا گر کسی سے ملا تو مجھے

Tehzeeb Hafi

25 likes

"तुम अकेली नहीं हो सहेली" तुम अकेली नहीं हो सहेली जिसे अपने वीरान घर को सजाना था और एक शाइ'र के लफ़्ज़ों को सच मान कर उस की पूजा में दिन काटने थे तुम से पहले भी ऐसा ही एक ख़्वाब झूठी तस्सली में जाँ दे चुका है तुम्हें भी वो एक दिन कहेगा कि वो तुम से पहले किसी को ज़बाँ दे चुका है वो तो शाइ'र है और साफ़ ज़ाहिर है, शाइ'र हवा की हथेली पे लिखी हुई वो पहेली है जिस ने अबद और अज़ल के दरीचों को उलझा दिया है वो तो शाइ'र है, शाइ'र तमन्ना के सेहरा में रम करने वाला हिरन है शोब्दा शास सुब्हो की पहली किरन है, अदब गाहे उलफ़त का मेमार है और ख़ुद अपने ख़्वाबों का ग़द्दार है वो तो शाइ'र है, शाइ'र को बस फ़िक्र लोह क़लम है, उसे कोई दुख है किसी का न ग़म है, वो तो शाइ'र है, शाइ'र को क्या ख़ौफ़ मरने से? शाइ'र तो ख़ुद शाह सवार-ए-अज़ल है, उसे किस तरह टाल सकता है कोई कि वो तो अटल है, मैं उसे जानती हूँ सहेली, वो समुंदर की वो लहर है जो किनारो से वापस पलटते हुए मेरी खुरदरी एड़ियों पे लगी रेत भी और मुझे भी बहा ले गया वो मेरे जंगलों के दरख़्तों पे बैठी हुयी शहद की मक्खियाँ भी उड़ा ले गया उस ने मेरे बदन को छुआ और मेरी हड्डियों से वो नज़् में क़सीदी जिन्हें पढ़के मैं काँप उठती हूँ और सोचती हूँ कि ये मसला दिलबरी का नहीं ख़ुदा की क़सम खा के कहती हूँ, वो जो भी कहता रहे वो किसी का नहीं सहेली मेरी बात मानो, तुम उसे जानती ही नहीं, वो ख़ुदा-ए-सिपाह-ए-सुख़न है और तुम एक पत्थर पे नाखुन से लिखी हुई, उसी की ही एक नज़्म

Tehzeeb Hafi

41 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's nazm.