"तुम अकेली नहीं हो सहेली" तुम अकेली नहीं हो सहेली जिसे अपने वीरान घर को सजाना था और एक शाइ'र के लफ़्ज़ों को सच मान कर उस की पूजा में दिन काटने थे तुम से पहले भी ऐसा ही एक ख़्वाब झूठी तस्सली में जाँ दे चुका है तुम्हें भी वो एक दिन कहेगा कि वो तुम से पहले किसी को ज़बाँ दे चुका है वो तो शाइ'र है और साफ़ ज़ाहिर है, शाइ'र हवा की हथेली पे लिखी हुई वो पहेली है जिस ने अबद और अज़ल के दरीचों को उलझा दिया है वो तो शाइ'र है, शाइ'र तमन्ना के सेहरा में रम करने वाला हिरन है शोब्दा शास सुब्हो की पहली किरन है, अदब गाहे उलफ़त का मेमार है और ख़ुद अपने ख़्वाबों का ग़द्दार है वो तो शाइ'र है, शाइ'र को बस फ़िक्र लोह क़लम है, उसे कोई दुख है किसी का न ग़म है, वो तो शाइ'र है, शाइ'र को क्या ख़ौफ़ मरने से? शाइ'र तो ख़ुद शाह सवार-ए-अज़ल है, उसे किस तरह टाल सकता है कोई कि वो तो अटल है, मैं उसे जानती हूँ सहेली, वो समुंदर की वो लहर है जो किनारो से वापस पलटते हुए मेरी खुरदरी एड़ियों पे लगी रेत भी और मुझे भी बहा ले गया वो मेरे जंगलों के दरख़्तों पे बैठी हुयी शहद की मक्खियाँ भी उड़ा ले गया उस ने मेरे बदन को छुआ और मेरी हड्डियों से वो नज़् में क़सीदी जिन्हें पढ़के मैं काँप उठती हूँ और सोचती हूँ कि ये मसला दिलबरी का नहीं ख़ुदा की क़सम खा के कहती हूँ, वो जो भी कहता रहे वो किसी का नहीं सहेली मेरी बात मानो, तुम उसे जानती ही नहीं, वो ख़ुदा-ए-सिपाह-ए-सुख़न है और तुम एक पत्थर पे नाखुन से लिखी हुई, उसी की ही एक नज़्म
Related Nazm
مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ
Afkar Alvi
78 likes
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں
Tehzeeb Hafi
161 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
ا سے سے محبت جھیلیں کیا ہیں ا سے کی آنکھیں عمدہ کیا ہے ا سے کا چہرہ خوشبو کیا ہے ا سے کی سانسیں خوشیاں کیا ہیں ا سے کا ہونا تو غم کیا ہے ا سے سے جدائی ساون کیا ہے ا سے کا رونا سر گرا کیا ہے ا سے کی اداسی گرمی کیا ہے ا سے کا غصہ اور بہاریں ا سے کا ہنسنا میٹھا کیا ہے ا سے کی باتیں کڑوا کیا ہے مری باتیں کیا پڑھنا ہے ا سے کا لکھا کیا سننا ہے ا سے کی غزلیں لب کی خواہش ا سے کا ماتھا زخم کی خواہش ا سے کا چھونا دنیا کیا ہے اک جنگل ہے اور جاناں کیا ہوں پیڑ سمجھ لو اور حقیقت کیا ہے اک راہی ہے کیا سوچا ہے ا سے سے محبت کیا کرتے ہوں ا سے سے محبت زار پیشہ ا سے سے محبت ا سے کے علاوہ ا سے سے محبت ا سے سے محبت
Varun Anand
475 likes
More from Tehzeeb Hafi
ہے وہ ہے وہ سپنوں ہے وہ ہے وہ آکسیجن پلانٹ انسٹال کر رہا ہوں اور ہر مرنے والے کے ساتھ مر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے لفظوں کے ذریعے تمہیں سانسوں کے سلنڈر بھیجوں گا جو تمہیں ا سے جنگ ہے وہ ہے وہ ہارنے نہیں دیں گے اور تمہاری دیکھ بھال کرنے والوں کے ہاتھوں کو کانپنے نہیں دیں گے آکسیجن اسٹاک ختم ہونے کی خبریں گردش بھی کریں تو کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے لیے اپنی نظموں سے وینٹیلیٹر بناؤں گا اسپتالوں کے بستر بھر بھی جائیں کچھ لوگ جاناں سے بچھڑ بھی جائیں تو حوصلہ مت شفت کیونکہ رات چاہے جتنی مرضی کالی ہوں گزر جانے کے لیے ہوتی ہے رنگ اتر جانے کے لیے ہوتے ہیں اور زخم بھر جانے کے ہوتے ہیں
Tehzeeb Hafi
46 likes
مقرر کیا ہے صبح روشن تھی اور گرمیوں کے تھکا دینے والے دنوں میں ساری دنیا سے آزاد ہم مچھلیوں کی طرح میلی نہروں میں گوٹے لگاتے اپنے چہرے پہ کیچڑ لگا کر ڈراتے تھے ایک دوسرے کو کنارو پہ بیٹھے ہوئے ہم نے جو عہد ایک دوسرے سے لیے تھے اس کے دھندلے سے نقشے آج بھی میرے دل پر کہیں نقش ہیں خدا روز سورج کو تیار کر کے ہماری طرف بھیجتا تھا اور ہم سایہ کفر میں ایک دوجے کے چہرے کی تابندگی کی دعا مانگتے تھے اس کا چہرہ کبھی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو سکا اس کا چہرہ اگر میری آنکھوں سے ہٹتا تو میں کائنات میں پھیلے ہوئے ان مظاہر کی تفہیم نظموں میں کرتا کہ جس پر بزید نے یہ بیمار جن کو خود اپنی تمناؤں کی آتماوں نے اتنا ڈرایا کے انکو ہوس کے قفس میں محبت کی کرنوں نے چھونے کی کوشش بھی کی تو یہ اس سے پرے ہو گئے ان کے بس میں نہیں کہ یہ محسوس کرتے اک محبت بھرے ہاتھ کا لمس جس سے انکار کر کر کے ان کے بدن خوردری ہو گئے ایک دن جو خدا اور محبت کی اک قسط کو اگلے دن پر نہیں ٹال سکتے خدا اور محبت پہ رائزنی کرتے تھکتے نہیں اور اس پر بھی یہ چاہتے ہیں کہ میں ان کی مرضی کی نظمیں کہوں جن<
Tehzeeb Hafi
26 likes
کتنا عرصہ لگا نا امی گرا کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئے ایک بفری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئے نا خداوں ہے وہ ہے وہ اب پیچھے کتنے بچے ہیں روشنی اور اندھیرے کی تفریق ہے وہ ہے وہ کتنے لوگوں نے آنکھیں گنوا دیں کتنی صدیاں سفر ہے وہ ہے وہ گزاری م گر آج پھروں ا سے جگہ ہیں ج ہاں سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ماوں نے رخصت کیا تھا اپنے سب سے بڑے خواب کو اپنی آنکھوں کے آگے اجڑتے ہوئے دیکھنے سے برا کچھ نہیں ہے تیری قربت ہے وہ ہے وہ یا تجھ سے دوری پہ جتنی گزاری تیری چوڑیوں کی قسم زندگی دائروں کے سوا کچھ نہیں ہے کہنیوں سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا منا ڈھانپ کر کھانسنے کو بڑوں نے کہا تھا تو ہم ان پہ ہنستے تھے اور سوچتے تھے کہ ان کو ٹشو پیپروں کی مہک سے الرجی ہے لیکن ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ پتا ہی نہیں تھا کہ ان پہ حقیقت آفات ٹوٹی ہیں جن کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک ص گرا بعد پھروں سامنا ہے وبا کے دنوں ہے وہ ہے وہ کسے ہوش رہتا ہے ک سے ہاتھ کو کھڑکیاں ہے کسے تھامنا ہے اک ریاضی کے استاد نے اپنے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پرکار لے کر یہ
Tehzeeb Hafi
21 likes
صبحیں روشن تھی اور گرمیوں کی تھکا دینے والے دنوں میں ساری دنیا سے آزاد ہم مچھلیوں کی طرح میلی نہروں میں گوٹے لگاتے اپنے چہروں سے کیچڑ دیکھیں گے ڈراتے تھے ایک دوسرے کو کناروں پر بیٹھے ہوئے ہم نے جو عہد ایک دوسرے سے لیے تھے اس کے دھندلے سے نقشے آج بھی میرے دل پر کہیں نقش ہے خدا روز سورج کو تیار کر کے ہماری طرف بھیجتا تھا اور ہم سایہ کفر میں اک دوجے کے چہرے کی تابندگی کی دعا مانگتے تھے اس کا چہرہ کبھی میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو سکا اس کا چہرہ اگر میری آنکھوں سے ہٹتا تو میں کائناتوں میں پھیلے ہوئے ان مظاہر کی تفہیم نظموں میں کرتا کہ جس پر بزید ہے یہ بیمار جن کو خود اپنی تمناؤں کی آتماوں نے اتنا ڈرایا کہ انکو ہوس کے قفس میں محبت کی کرنوں نے چھونے کی کوشش بھی کی تو یہ اس سے پرے ہو گئے ان کے بس میں نہیں کہ یہ محسوس کرتے ایک محبت بھرے ہاتھ کا لمس جن سے انکار کر کر کے ان کے بدن خوردورے ہو گئے ایک دن جو خدا اور محبت کی ایک قسط کو اگلے دن پر نہیں ٹال سکتے خدا اور محبت پر رائے زنی کرتے تھکتے نہیں اور اس پر بھی یہ چاہتے ہیں کہ میں ان کی مرضی کی نظمی
Tehzeeb Hafi
18 likes
नज़्म - बेबसी तेरे साथ गुज़रे दिनों की कोई एक धुँदली सी तस्वीर जब भी कभी सामने आएगी तो हमें एक दुआ थामने आएगी, बुढ़ापे की गहराइयों में उतरते हुए तेरी बे-लौस बाँहों के घेरे नहीं भूल पाएँगे हम हम को तेरे तवस्सुत से हँसते हुए जो मिले थे वो चेहरे नहीं भूल पाएँगे हम तेरे पहलू में लेटे हुओं का अजब क़र्ब है जो रात भर अपनी वीरान आँखों से तुझे तकते थे और तेरे शादाब शानों पे सिर रख के मरने की ख़्वाहिश में जीते रहे पर तेरे लम्स का कोई इशारा मुयस्सर नहीं था मगर इस जहाँ का कोई एक हिस्सा उन्हें तेरे बिस्तर से बेहतर नहीं था पर मोहब्बत को इस सब से कोई इलाका नहीं था एक दुख तो हम बहरहाल हम अपने सीनों में ले के मरेंगे कि हम ने मोहब्बत के दावे किए तेरे माथे पर सिंदूर टाँका नहीं इस सेे क्या फ़र्क पड़ता है दूर हैं तुझ सेे या पास हैं हम को कोई आदमी तो नहीं, हम तो एहसास हैं जो रहे तो हमेशा रहेंगे और गए तो मुड़ कर वापिस नहीं आएँगे
Tehzeeb Hafi
33 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.
Similar Moods
More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's nazm.







