nazmKuch Alfaaz

میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ

Related Nazm

جذبات جو یہ آنکھوں سے بہ رہا ہے کتنے ہم لاچار ہے جاناں سمجھو تو انتظار ہے ورنا کوئی انتظار نہیں تمہاری یاد ہے وہ ہے وہ ایسے ڈوبا چنو کوئی بیمار ہے جاناں سمجھو تو بے قرار ہے ورنا کوئی بے قرار نہیں جو مری دھڑکن چل رہی ہے ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے تمہارا نام ہے جاناں سمجھو تو یہ پکار ہے ورنا کوئی پکار نہیں ان ہاتھوں سے تمہاری زلفیں سنو ارنی ہیں ہر شام تمہارے ساتھ گزار لگ ہے جاناں سمجھو تو یہ دلار ہے ورنا کوئی دلار نہیں تمہارے ب سے دل ہے وہ ہے وہ جگہ نہیں تمہاری روح سے رشتہ چاہیے جاناں سمجھو تو یہ آر پار ہے ورنا کچھ آر پار نہیں تمہیں مل تو جائےگا مجھ سے اچھا سامنے تمہارے تو قطار ہے تمہیں پتا ہے نا تمہاری چاہت کا ب سے ایک حق دار ہے باقی کوئی حق دار نہیں تمہاری بان ہوں ہے وہ ہے وہ ہی سکون ملےگا مجھے سچ ک ہوں تو درکار ہے جاناں سمجھو تو یہ بہار ہے ورنا کہی بہار نہیں تمہاری گود ہے وہ ہے وہ آرام چاہیے تمہاری آواز ہے وہ ہے وہ ب سے اپنا نام چاہیے جاناں سمجھو تو یہ قرار ہے<br

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

حال دل میری دلربا جاناں خوبصورت ہوں صورت سے نہیں سیرت سے مجھے تمہاری سیرت سے محبت ہے اسیلیے سیرت کا جانتا ہوں شرم دہشت پریشانی جنہیں سخن وروں کویوں نے عشق کی لذت بتایا ہے فیلحال یہ میرے درمیان آ رہے ہیں بہرحال میری چاہتیں تمہارے نفس ہے وہ ہے وہ دھڑکتی ہیں زندہ رہتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تمہیں دیکھا ہے دیکھتے ہوئے مجھے چاہتے ہوئے مجھے سوچتے ہوئے اور میرے لیے پریشان ہوتے ہوئے ویسے چاہت ہوں تو کہنا لازمی ہوتا ہے ضروری ہوتا ہے لیکن عشق کی ان میں ہے وہ ہے وہ لفظ خاموش رہتے ہیں اور نگاہیں بات کر لیتی ہیں مجھے پتا ہے ایک دن جاناں میری نگاہوں سے بات کر لوگی پوچھ لوگی اور تمہیں جواب ملےگا ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی چاہتا ہوں خوب چاہتا ہوں ویسے ہے وہ ہے وہ بھی اپنے جاؤں گا اپنی غزلوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت خوب لکھتا ہوں حالانکہ اپناپن یہ ہے کہ ہے وہ ہے وہ بھی کہنے ہے وہ ہے وہ خوف تقاضا ہوں ویسے برا نہ ماننا کہ ہے وہ ہے وہ نے جاناں سے کبھی اظہار نہیں کیا سوچ لینا کہ تھی

Rakesh Mahadiuree

25 likes

دریچہ ہا خیال چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیں اور یہ سب دریچہ ہا خیال جو تمہاری ہی سمت کھلتے ہیں بند کر دوں کچھ ا سے طرح کہ ی ہاں یاد کی اک کرن بھی آ لگ سکے چاہتا ہوں کہ بھول جاؤں تمہیں اور خود بھی لگ یاد آؤں تمہیں چنو جاناں صرف اک کہانی تھیں چنو ہے وہ ہے وہ صرف اک فسا لگ تھا

Jaun Elia

27 likes

مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں

Tehzeeb Hafi

161 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

More from Divya 'Kumar Sahab'

باتیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور میری قلم 9 بات کرتے ہیں یہ چاند سورج کیا لگتے ہیں یہ دونوں اس کا کی آنکھیں ہیں تو پھروں یہ تارے کیا ہیں سب تارے اس کا کی بالی ہیں تو بادل کیا لگتے ہیں پھروں یہ بادل اس کا کی زلفیں ہیں تو خوشبو کیا لگتا ہے یہ خوشبو ہے نتھ اس کا کی یہ موسم کیا لگتے ہیں پھروں سب موسم اس کا کے نخرے ہیں تو پھروں ہوا کیا لگتی ہے ہوا تو اس کا کا آنچل ہے یہ ندیاں تو پھروں رہ گئیں یہ ندیاں اس کا کا کنگن ہیں تو پھروں سمندر کیا ہوا یہ سمندر پائل ہے اس کا کی پھروں پرکرتی کیا لگتی ہے یہ پرکرتی اس کا کی ساڑی ہے یہ پوری دھرتی رہ گئی یہ دھرتی اس کا کی گود ہے ان سب ہے وہ ہے وہ پھروں جاناں کیا ہوں مجھ کو اس کا کا دل سمجھ لو تمہارا دل پھروں کیا ہوا اس کا کا کے دل ہے وہ ہے وہ پھول سمجھ لو اس کا کا کے دل ہے وہ ہے وہ اگتا ہے اس کا کا کے دل ہے وہ ہے وہ کھلتا ہے اس کا کا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی پھروں ملتا ہے روز صبح سے رات تک دیکھنے مجھ کو آتا ہے ساتھ حقیقت ہر پل چلتا ہے کنگن پائل کھنکھاتا ہے<

Divya 'Kumar Sahab'

27 likes

ہجر نہ جانے کیسے لوگ تھے حقیقت جو ان کے دل کو بھا گئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے محبت چاہی تو حقیقت یادیں مجھ کو تھما گئے پریم جتنا دل ہے وہ ہے وہ تھا زبان ہوتے ہوتے پر آ کر لفظ ہوا جب جاناں نے ان کو سنا نہیں نمہ بنکر نہین ہے وہ ہے وہ سما گئے دل ہے وہ ہے وہ تھی ایک آ سے بچی تیری بے رکھ سے ہار گئی حقیقت محبت تھی میری جو جاناں ہنسی ہے وہ ہے وہ قسمیں گئے جاناں نے آنکھیں جو پھیری ہیں اب ایسا شام سویرہ ہے سورج ہے چنو بجھا ہوا جام عنایت جاناں چنو جلا گئے کانوں کو تھے جو تیر لگے حقیقت دل پر آ کر زخم ہوئے اب درد آنکھوں ہے وہ ہے وہ رہتا ہے یہ کیا جاناں مجھ کو سنا گئے ساگر جو بادل بنکر ساحل سے تھا جدا ہوا پہاڑ نے پوچھا حال ذرا سارا منظر حقیقت بہا گئے نیند ہٹا کر آنکھوں سے یہ خواب تمہارے بیٹھے ہیں یاد اٹھی جب آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو خواب یہ سارے نہا گئے بس پیدل ہی چل کر کے کوئی بھوساگر پار ہوا اور ای سے زمیں پر ڈوب کر یہ جان کتنے گنوا گئے اب بس اکیلا رہتا ہے<b

Divya 'Kumar Sahab'

16 likes

کیوں ہے جاناں نہیں ہوں ی ہاں پر پھروں بھی تمہارے ہونے کا احسا سے کیوں ہے کچھ ہے نہیں مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کچھ ہونے کی یہ آ سے کیوں ہے بڑی حیرانی ہے مجھے کی حقیقت دور ہوکر بھی اتنا پا سے کیوں ہے سب نے کہا کہ حقیقت تو پرایا ہے حقیقت پرایا ہوکر بھی اتنا خاص کیوں ہے جتنا حقیقت دور ہے مجھ سے حقیقت اتنا ہی مجھ کو را سے کیوں ہے بیٹھا ہوں بلکل اکانت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کانوں ہے وہ ہے وہ ا سے کی آواز کیوں ہے کھل کے نہیں کہتی حقیقت کچھ بھی ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ اتنے راز کیوں ہیں بسی ہے دل ہے وہ ہے وہ حقیقت مری یہ میرا دل ا سے کا سمپتی کیوں ہے اس کا کا کو نہیں بھلا سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ا سے کے نام کی ہر شوا سے کیوں ہے پوری کائنات ا سے کی یاد دلاتی ہے یہ تن من ہے وہ ہے وہ ا سے کا وا سے کیوں ہے حقیقت مری ہوئی نہیں ہے ابھی اس کا کا کو کھونے کے ڈر سے من اتنا بدحوا سے کیوں ہے دوریاں لکھی ہیں چنو درمیان میرا نصیب مجھ سے اتنا ناراض کیوں ہے ایسے شبد ک ہاں سے لاؤں کی حقیقت سمجھے

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

جذبات جو یہ آنکھوں سے بہ رہا ہے کتنے ہم لاچار ہے جاناں سمجھو تو انتظار ہے ورنا کوئی انتظار نہیں تمہاری یاد ہے وہ ہے وہ ایسے ڈوبا چنو کوئی بیمار ہے جاناں سمجھو تو بے قرار ہے ورنا کوئی بے قرار نہیں جو مری دھڑکن چل رہی ہے ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے تمہارا نام ہے جاناں سمجھو تو یہ پکار ہے ورنا کوئی پکار نہیں ان ہاتھوں سے تمہاری زلفیں سنو ارنی ہیں ہر شام تمہارے ساتھ گزار لگ ہے جاناں سمجھو تو یہ دلار ہے ورنا کوئی دلار نہیں تمہارے ب سے دل ہے وہ ہے وہ جگہ نہیں تمہاری روح سے رشتہ چاہیے جاناں سمجھو تو یہ آر پار ہے ورنا کچھ آر پار نہیں تمہیں مل تو جائےگا مجھ سے اچھا سامنے تمہارے تو قطار ہے تمہیں پتا ہے نا تمہاری چاہت کا ب سے ایک حق دار ہے باقی کوئی حق دار نہیں تمہاری بان ہوں ہے وہ ہے وہ ہی سکون ملےگا مجھے سچ ک ہوں تو درکار ہے جاناں سمجھو تو یہ بہار ہے ورنا کہی بہار نہیں تمہاری گود ہے وہ ہے وہ آرام چاہیے تمہاری آواز ہے وہ ہے وہ ب سے اپنا نام چاہیے جاناں سمجھو تو یہ قرار ہے<br

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

خط جاناں کو یہ بتانا تھا یا پھروں یہ سمجھانا تھا دل کی ب سے یہ چاہت تھی ب سے جاناں پر پیار لٹانا تھا جاناں کو یہ بتانا تھا تھا چھیڑنا جاناں کو تھوڑا تھوڑا تمہیں ستانا تھا جو روٹھ جاتے جاناں مجھ سے ہاں مجھ کو تمہیں منانا تھا پھروں جاناں کو گلے لگانا تھا جاناں کو یہ بتانا تھا لڑ کے بھی جاناں سوتے تو تمہارا سر سہلانا تھا مقصد صرف ایک تھا تمہارا پیار کمانا تھا ساری دنیا مٹی ہے تمہارا ساتھ خزا لگ تھا جاناں کو یہ بتانا تھا ملنے جاناں سے آنا تھا یا پھروں تمہیں بلانا تھا مانگ تمہاری بھڑنی تھی اپنا تمہیں بنانا تھا تمہارا ہی اندھیرا تھا جاناں کو یہ بتانا تھا ا سے جیون کا ہر منظر تمہارے ساتھ بتانا تھا ہر پھیرے کا ہر وعدہ تمہارے ساتھ نبھانا تھا منگل سوتر ان ہاتھوں سے جاناں کو ہی برفیلے تھا جاناں کو یہ بتانا تھا فاصلے جتنے بھی تھے ان کو مجھے مٹانا تھا ا سے خدا سے ہر جنم ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارا ساتھ لکھانا تھا پھروں بارات تمہاری چوکھٹ پر جاناں سے ہی بیاہ رچانا تھا<b

Divya 'Kumar Sahab'

28 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Divya 'Kumar Sahab'.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Divya 'Kumar Sahab''s nazm.