nazmKuch Alfaaz

ہجر نہ جانے کیسے لوگ تھے حقیقت جو ان کے دل کو بھا گئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے محبت چاہی تو حقیقت یادیں مجھ کو تھما گئے پریم جتنا دل ہے وہ ہے وہ تھا زبان ہوتے ہوتے پر آ کر لفظ ہوا جب جاناں نے ان کو سنا نہیں نمہ بنکر نہین ہے وہ ہے وہ سما گئے دل ہے وہ ہے وہ تھی ایک آ سے بچی تیری بے رکھ سے ہار گئی حقیقت محبت تھی میری جو جاناں ہنسی ہے وہ ہے وہ قسمیں گئے جاناں نے آنکھیں جو پھیری ہیں اب ایسا شام سویرہ ہے سورج ہے چنو بجھا ہوا جام عنایت جاناں چنو جلا گئے کانوں کو تھے جو تیر لگے حقیقت دل پر آ کر زخم ہوئے اب درد آنکھوں ہے وہ ہے وہ رہتا ہے یہ کیا جاناں مجھ کو سنا گئے ساگر جو بادل بنکر ساحل سے تھا جدا ہوا پہاڑ نے پوچھا حال ذرا سارا منظر حقیقت بہا گئے نیند ہٹا کر آنکھوں سے یہ خواب تمہارے بیٹھے ہیں یاد اٹھی جب آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو خواب یہ سارے نہا گئے بس پیدل ہی چل کر کے کوئی بھوساگر پار ہوا اور ای سے زمیں پر ڈوب کر یہ جان کتنے گنوا گئے اب بس اکیلا رہتا ہے<b

Related Nazm

''चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ'' चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ जो लफ़्ज़ कहूँ वो हो जाए बस अश्क कहूँ तो एक आँसू तेरे गोरे गाल को धो जाए मैं आ लिक्खूँ तू आ जाए मैं बैठ लिक्खूँ तू आ बैठे मेरे शाने पर सर रक्खे तू मैं नींद कहूँ तू सो जाए मैं काग़ज़ पर तेरे होंठ लिक्खूँ तेरे होंठों पर मुस्कान आए मैं दिल लिक्खूँ तू दिल था में मैं गुम लिक्खूँ वो खो जाए तेरे हाथ बनाऊँ पेंसिल से फिर हाथ पे तेरे हाथ रखूँ कुछ उल्टा सीधा फ़र्ज़ करूँँ कुछ सीधा उल्टा हो जाए मैं आह लिखूँ तू हाए करे बेचैन लिखूँ बेचैन हो तू फिर बेचैन का बे काटूँ तुझे चैन ज़रा सा हो जाए अभी ऐन लिखूँ तू सोचे मुझे फिर शीन लिखूँ तेरी नींद उड़े जब क़ाफ़ लिखूँ तुझे कुछ कुछ हो मैं इश्क़ लिखूँ तुझे हो जाए

Amir Ameer

295 likes

رمز جاناں جب آوگی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے مری تنہائی ہے وہ ہے وہ خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں مری کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں مری کمرے ہے وہ ہے وہ کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر ان ہے وہ ہے وہ اک رمز ہے ج سے رمز کا مارا ہوا ذہن مژدہ عشرت انجام نہیں پا سکتا زندگی ہے وہ ہے وہ کبھی آرام نہیں پا سکتا

Jaun Elia

216 likes

یاد ہے پہلے روز کہا تھا یاد ہے پہلے روز کہا تھا پھروں نہ کہنا غلطی دل کی پیار سمجھ کے کرنا لڑکی پیار نبھانا ہوتا ہے پھروں پار لگانا ہوتا ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا ساتھ چلو تو پورے سفر تک مر جانے کی اگلی خبر تک سمجھو یار خدا تک ہوگا سارا پیار وفا تک ہوگا پھروں یہ بندھن توڑ نہ جانا چھوڑ گئے تو پھروں نہ آنا چھوڑ دیا جو تیرا نہیں ہے چلا گیا جو میرا نہیں ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا یا تو ٹوٹ کے پیار نہ کرنا یا پھروں پیٹھ پہ وار نہ کرنا جب نادانی ہو جاتی ہے نئی کہانی ہو جاتی ہے نئی کہانی لکھ لاوں گا اگلے روز میں بک جاؤں گا تیرے گل جب کھیل جائیں گے مجھ کو پیسے مل جائیں گے یاد ہے پہلے روز کہا تھا بچھڑ گئے تو موج اڑانا واپس میرے پاس نہ آنا جب کوئی جا کر واپس آئے روئے تڑپے یا پچھتائے میں پھروں اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں گم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوں

Khalil Ur Rehman Qamar

191 likes

تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تری چہرے پر تو کسی اور ستارے تم سے چمک لائی تھی تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مون سے جاں کیا کروں ہے وہ ہے وہ کہ تو بولی ہی بے حد کم مجھ سے تیری چپ سے ہی یہی محسو سے کیا تھا ہے وہ ہے وہ نے جیت جائےگا تیرا غم کسی روز مجھ سے شہر آوازیں لگاتا تھا م گر تو چپ تھی یہ تعلق مجھے تقاضا تھا م گر تو چپ تھی وہی انجام تھا جو عشق کا آغاز سے ہے تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھا چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے یہی ہوتا ہے یہی ہوگا یہی ہونا تھا پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے اور مری آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ہوتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اندازے لگائے کے سبب کیا ہوگا پر مری تیر ترازو بھی نہیں ہوتے تھے جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے پھروں حقیقت خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل ہے

Tehzeeb Hafi

180 likes

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہر کام کرنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ضروری بات کہنی ہوں کوئی وعدہ نبھانا ہوں اسے آواز دینی ہوں اسے واپ سے بلانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مدد کرنی ہوں ا سے کی یار کی ڈھار سے باندھنا ہوں بے حد دیری لگ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدلتے موسموں کی سیر ہے وہ ہے وہ دل کو لگانا ہوں کسی کو یاد رکھنا ہوں کسی کو بھول جانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوں حقیقت اور تھی کچھ ا سے کو جا کے یہ بتانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہر کام کرنے ہے وہ ہے وہ

Muneer Niyazi

108 likes

More from Divya 'Kumar Sahab'

باتیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور میری قلم 9 بات کرتے ہیں یہ چاند سورج کیا لگتے ہیں یہ دونوں اس کا کی آنکھیں ہیں تو پھروں یہ تارے کیا ہیں سب تارے اس کا کی بالی ہیں تو بادل کیا لگتے ہیں پھروں یہ بادل اس کا کی زلفیں ہیں تو خوشبو کیا لگتا ہے یہ خوشبو ہے نتھ اس کا کی یہ موسم کیا لگتے ہیں پھروں سب موسم اس کا کے نخرے ہیں تو پھروں ہوا کیا لگتی ہے ہوا تو اس کا کا آنچل ہے یہ ندیاں تو پھروں رہ گئیں یہ ندیاں اس کا کا کنگن ہیں تو پھروں سمندر کیا ہوا یہ سمندر پائل ہے اس کا کی پھروں پرکرتی کیا لگتی ہے یہ پرکرتی اس کا کی ساڑی ہے یہ پوری دھرتی رہ گئی یہ دھرتی اس کا کی گود ہے ان سب ہے وہ ہے وہ پھروں جاناں کیا ہوں مجھ کو اس کا کا دل سمجھ لو تمہارا دل پھروں کیا ہوا اس کا کا کے دل ہے وہ ہے وہ پھول سمجھ لو اس کا کا کے دل ہے وہ ہے وہ اگتا ہے اس کا کا کے دل ہے وہ ہے وہ کھلتا ہے اس کا کا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی پھروں ملتا ہے روز صبح سے رات تک دیکھنے مجھ کو آتا ہے ساتھ حقیقت ہر پل چلتا ہے کنگن پائل کھنکھاتا ہے<

Divya 'Kumar Sahab'

27 likes

کیوں ہے جاناں نہیں ہوں ی ہاں پر پھروں بھی تمہارے ہونے کا احسا سے کیوں ہے کچھ ہے نہیں مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کچھ ہونے کی یہ آ سے کیوں ہے بڑی حیرانی ہے مجھے کی حقیقت دور ہوکر بھی اتنا پا سے کیوں ہے سب نے کہا کہ حقیقت تو پرایا ہے حقیقت پرایا ہوکر بھی اتنا خاص کیوں ہے جتنا حقیقت دور ہے مجھ سے حقیقت اتنا ہی مجھ کو را سے کیوں ہے بیٹھا ہوں بلکل اکانت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کانوں ہے وہ ہے وہ ا سے کی آواز کیوں ہے کھل کے نہیں کہتی حقیقت کچھ بھی ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ اتنے راز کیوں ہیں بسی ہے دل ہے وہ ہے وہ حقیقت مری یہ میرا دل ا سے کا سمپتی کیوں ہے اس کا کا کو نہیں بھلا سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ا سے کے نام کی ہر شوا سے کیوں ہے پوری کائنات ا سے کی یاد دلاتی ہے یہ تن من ہے وہ ہے وہ ا سے کا وا سے کیوں ہے حقیقت مری ہوئی نہیں ہے ابھی اس کا کا کو کھونے کے ڈر سے من اتنا بدحوا سے کیوں ہے دوریاں لکھی ہیں چنو درمیان میرا نصیب مجھ سے اتنا ناراض کیوں ہے ایسے شبد ک ہاں سے لاؤں کی حقیقت سمجھے

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

خط جاناں کو یہ بتانا تھا یا پھروں یہ سمجھانا تھا دل کی ب سے یہ چاہت تھی ب سے جاناں پر پیار لٹانا تھا جاناں کو یہ بتانا تھا تھا چھیڑنا جاناں کو تھوڑا تھوڑا تمہیں ستانا تھا جو روٹھ جاتے جاناں مجھ سے ہاں مجھ کو تمہیں منانا تھا پھروں جاناں کو گلے لگانا تھا جاناں کو یہ بتانا تھا لڑ کے بھی جاناں سوتے تو تمہارا سر سہلانا تھا مقصد صرف ایک تھا تمہارا پیار کمانا تھا ساری دنیا مٹی ہے تمہارا ساتھ خزا لگ تھا جاناں کو یہ بتانا تھا ملنے جاناں سے آنا تھا یا پھروں تمہیں بلانا تھا مانگ تمہاری بھڑنی تھی اپنا تمہیں بنانا تھا تمہارا ہی اندھیرا تھا جاناں کو یہ بتانا تھا ا سے جیون کا ہر منظر تمہارے ساتھ بتانا تھا ہر پھیرے کا ہر وعدہ تمہارے ساتھ نبھانا تھا منگل سوتر ان ہاتھوں سے جاناں کو ہی برفیلے تھا جاناں کو یہ بتانا تھا فاصلے جتنے بھی تھے ان کو مجھے مٹانا تھا ا سے خدا سے ہر جنم ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارا ساتھ لکھانا تھا پھروں بارات تمہاری چوکھٹ پر جاناں سے ہی بیاہ رچانا تھا<b

Divya 'Kumar Sahab'

28 likes

میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

جذبات جو یہ آنکھوں سے بہ رہا ہے کتنے ہم لاچار ہے جاناں سمجھو تو انتظار ہے ورنا کوئی انتظار نہیں تمہاری یاد ہے وہ ہے وہ ایسے ڈوبا چنو کوئی بیمار ہے جاناں سمجھو تو بے قرار ہے ورنا کوئی بے قرار نہیں جو مری دھڑکن چل رہی ہے ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے تمہارا نام ہے جاناں سمجھو تو یہ پکار ہے ورنا کوئی پکار نہیں ان ہاتھوں سے تمہاری زلفیں سنو ارنی ہیں ہر شام تمہارے ساتھ گزار لگ ہے جاناں سمجھو تو یہ دلار ہے ورنا کوئی دلار نہیں تمہارے ب سے دل ہے وہ ہے وہ جگہ نہیں تمہاری روح سے رشتہ چاہیے جاناں سمجھو تو یہ آر پار ہے ورنا کچھ آر پار نہیں تمہیں مل تو جائےگا مجھ سے اچھا سامنے تمہارے تو قطار ہے تمہیں پتا ہے نا تمہاری چاہت کا ب سے ایک حق دار ہے باقی کوئی حق دار نہیں تمہاری بان ہوں ہے وہ ہے وہ ہی سکون ملےگا مجھے سچ ک ہوں تو درکار ہے جاناں سمجھو تو یہ بہار ہے ورنا کہی بہار نہیں تمہاری گود ہے وہ ہے وہ آرام چاہیے تمہاری آواز ہے وہ ہے وہ ب سے اپنا نام چاہیے جاناں سمجھو تو یہ قرار ہے<br

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Divya 'Kumar Sahab'.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Divya 'Kumar Sahab''s nazm.