nazmKuch Alfaaz

خط جاناں کو یہ بتانا تھا یا پھروں یہ سمجھانا تھا دل کی ب سے یہ چاہت تھی ب سے جاناں پر پیار لٹانا تھا جاناں کو یہ بتانا تھا تھا چھیڑنا جاناں کو تھوڑا تھوڑا تمہیں ستانا تھا جو روٹھ جاتے جاناں مجھ سے ہاں مجھ کو تمہیں منانا تھا پھروں جاناں کو گلے لگانا تھا جاناں کو یہ بتانا تھا لڑ کے بھی جاناں سوتے تو تمہارا سر سہلانا تھا مقصد صرف ایک تھا تمہارا پیار کمانا تھا ساری دنیا مٹی ہے تمہارا ساتھ خزا لگ تھا جاناں کو یہ بتانا تھا ملنے جاناں سے آنا تھا یا پھروں تمہیں بلانا تھا مانگ تمہاری بھڑنی تھی اپنا تمہیں بنانا تھا تمہارا ہی اندھیرا تھا جاناں کو یہ بتانا تھا ا سے جیون کا ہر منظر تمہارے ساتھ بتانا تھا ہر پھیرے کا ہر وعدہ تمہارے ساتھ نبھانا تھا منگل سوتر ان ہاتھوں سے جاناں کو ہی برفیلے تھا جاناں کو یہ بتانا تھا فاصلے جتنے بھی تھے ان کو مجھے مٹانا تھا ا سے خدا سے ہر جنم ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارا ساتھ لکھانا تھا پھروں بارات تمہاری چوکھٹ پر جاناں سے ہی بیاہ رچانا تھا<b

Related Nazm

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

حقیقت لوگ بے حد خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے کرنے والے کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھروں آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

Faiz Ahmad Faiz

160 likes

تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا

Kumar Vishwas

81 likes

ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں

Gulzar

107 likes

More from Divya 'Kumar Sahab'

باتیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور میری قلم 9 بات کرتے ہیں یہ چاند سورج کیا لگتے ہیں یہ دونوں اس کا کی آنکھیں ہیں تو پھروں یہ تارے کیا ہیں سب تارے اس کا کی بالی ہیں تو بادل کیا لگتے ہیں پھروں یہ بادل اس کا کی زلفیں ہیں تو خوشبو کیا لگتا ہے یہ خوشبو ہے نتھ اس کا کی یہ موسم کیا لگتے ہیں پھروں سب موسم اس کا کے نخرے ہیں تو پھروں ہوا کیا لگتی ہے ہوا تو اس کا کا آنچل ہے یہ ندیاں تو پھروں رہ گئیں یہ ندیاں اس کا کا کنگن ہیں تو پھروں سمندر کیا ہوا یہ سمندر پائل ہے اس کا کی پھروں پرکرتی کیا لگتی ہے یہ پرکرتی اس کا کی ساڑی ہے یہ پوری دھرتی رہ گئی یہ دھرتی اس کا کی گود ہے ان سب ہے وہ ہے وہ پھروں جاناں کیا ہوں مجھ کو اس کا کا دل سمجھ لو تمہارا دل پھروں کیا ہوا اس کا کا کے دل ہے وہ ہے وہ پھول سمجھ لو اس کا کا کے دل ہے وہ ہے وہ اگتا ہے اس کا کا کے دل ہے وہ ہے وہ کھلتا ہے اس کا کا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی پھروں ملتا ہے روز صبح سے رات تک دیکھنے مجھ کو آتا ہے ساتھ حقیقت ہر پل چلتا ہے کنگن پائل کھنکھاتا ہے<

Divya 'Kumar Sahab'

27 likes

میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

ہجر نہ جانے کیسے لوگ تھے حقیقت جو ان کے دل کو بھا گئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے محبت چاہی تو حقیقت یادیں مجھ کو تھما گئے پریم جتنا دل ہے وہ ہے وہ تھا زبان ہوتے ہوتے پر آ کر لفظ ہوا جب جاناں نے ان کو سنا نہیں نمہ بنکر نہین ہے وہ ہے وہ سما گئے دل ہے وہ ہے وہ تھی ایک آ سے بچی تیری بے رکھ سے ہار گئی حقیقت محبت تھی میری جو جاناں ہنسی ہے وہ ہے وہ قسمیں گئے جاناں نے آنکھیں جو پھیری ہیں اب ایسا شام سویرہ ہے سورج ہے چنو بجھا ہوا جام عنایت جاناں چنو جلا گئے کانوں کو تھے جو تیر لگے حقیقت دل پر آ کر زخم ہوئے اب درد آنکھوں ہے وہ ہے وہ رہتا ہے یہ کیا جاناں مجھ کو سنا گئے ساگر جو بادل بنکر ساحل سے تھا جدا ہوا پہاڑ نے پوچھا حال ذرا سارا منظر حقیقت بہا گئے نیند ہٹا کر آنکھوں سے یہ خواب تمہارے بیٹھے ہیں یاد اٹھی جب آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو خواب یہ سارے نہا گئے بس پیدل ہی چل کر کے کوئی بھوساگر پار ہوا اور ای سے زمیں پر ڈوب کر یہ جان کتنے گنوا گئے اب بس اکیلا رہتا ہے<b

Divya 'Kumar Sahab'

16 likes

کیوں ہے جاناں نہیں ہوں ی ہاں پر پھروں بھی تمہارے ہونے کا احسا سے کیوں ہے کچھ ہے نہیں مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کچھ ہونے کی یہ آ سے کیوں ہے بڑی حیرانی ہے مجھے کی حقیقت دور ہوکر بھی اتنا پا سے کیوں ہے سب نے کہا کہ حقیقت تو پرایا ہے حقیقت پرایا ہوکر بھی اتنا خاص کیوں ہے جتنا حقیقت دور ہے مجھ سے حقیقت اتنا ہی مجھ کو را سے کیوں ہے بیٹھا ہوں بلکل اکانت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کانوں ہے وہ ہے وہ ا سے کی آواز کیوں ہے کھل کے نہیں کہتی حقیقت کچھ بھی ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ اتنے راز کیوں ہیں بسی ہے دل ہے وہ ہے وہ حقیقت مری یہ میرا دل ا سے کا سمپتی کیوں ہے اس کا کا کو نہیں بھلا سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ا سے کے نام کی ہر شوا سے کیوں ہے پوری کائنات ا سے کی یاد دلاتی ہے یہ تن من ہے وہ ہے وہ ا سے کا وا سے کیوں ہے حقیقت مری ہوئی نہیں ہے ابھی اس کا کا کو کھونے کے ڈر سے من اتنا بدحوا سے کیوں ہے دوریاں لکھی ہیں چنو درمیان میرا نصیب مجھ سے اتنا ناراض کیوں ہے ایسے شبد ک ہاں سے لاؤں کی حقیقت سمجھے

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

جذبات جو یہ آنکھوں سے بہ رہا ہے کتنے ہم لاچار ہے جاناں سمجھو تو انتظار ہے ورنا کوئی انتظار نہیں تمہاری یاد ہے وہ ہے وہ ایسے ڈوبا چنو کوئی بیمار ہے جاناں سمجھو تو بے قرار ہے ورنا کوئی بے قرار نہیں جو مری دھڑکن چل رہی ہے ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے تمہارا نام ہے جاناں سمجھو تو یہ پکار ہے ورنا کوئی پکار نہیں ان ہاتھوں سے تمہاری زلفیں سنو ارنی ہیں ہر شام تمہارے ساتھ گزار لگ ہے جاناں سمجھو تو یہ دلار ہے ورنا کوئی دلار نہیں تمہارے ب سے دل ہے وہ ہے وہ جگہ نہیں تمہاری روح سے رشتہ چاہیے جاناں سمجھو تو یہ آر پار ہے ورنا کچھ آر پار نہیں تمہیں مل تو جائےگا مجھ سے اچھا سامنے تمہارے تو قطار ہے تمہیں پتا ہے نا تمہاری چاہت کا ب سے ایک حق دار ہے باقی کوئی حق دار نہیں تمہاری بان ہوں ہے وہ ہے وہ ہی سکون ملےگا مجھے سچ ک ہوں تو درکار ہے جاناں سمجھو تو یہ بہار ہے ورنا کہی بہار نہیں تمہاری گود ہے وہ ہے وہ آرام چاہیے تمہاری آواز ہے وہ ہے وہ ب سے اپنا نام چاہیے جاناں سمجھو تو یہ قرار ہے<br

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Divya 'Kumar Sahab'.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Divya 'Kumar Sahab''s nazm.