nazmKuch Alfaaz

رمز جاناں جب آوگی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے مری تنہائی ہے وہ ہے وہ خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں مری کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں مری کمرے ہے وہ ہے وہ کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر ان ہے وہ ہے وہ اک رمز ہے ج سے رمز کا مارا ہوا ذہن مژدہ عشرت انجام نہیں پا سکتا زندگی ہے وہ ہے وہ کبھی آرام نہیں پا سکتا

Jaun Elia216 Likes

Related Nazm

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س

Tahir Faraz

54 likes

تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا

Kumar Vishwas

81 likes

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

More from Jaun Elia

راتیں سچی ہیں دن جھوٹے ہیں چاہے جاناں مری بینائی کھرچ ڈالو پھروں بھی اپنے خواب نہیں چھوڑوں گا ان کی لذت اور اذیت سے ہے وہ ہے وہ اپنا کوئی عہد نہیں توڑوں گا تیز نظر نابیناؤں کی آبا گرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا ہے وہ ہے وہ اپنے دھیان کی یہ پونجی بھی گنوا دوں ہاں مری خوابوں کو تمہاری صبحوں کی سرد اور سایہ گوں تعبیروں سے خوبصورت ہے ان صبحوں نے شام کے ہاتھوں اب تک جتنے سورج بیچے حقیقت سب اک برفانی بھاپ کی چمکیلی اور چکر کھاتی گولائی تھے سو مری خوابوں کی راتیں جلتی اور دہکتی راتیں ایسی یخ بستہ تعبیروں کے ہر دن سے اچھی ہیں اور سچی بھی ہیں ج سے ہے وہ ہے وہ دھندلا چکر تقاضا چمکیلا پن چھے اطراف کا روگ بنا ہے مری اندھیرے بھی سچے ہیں اور تمہارے روگ اجالے بھی جھوٹے ہیں راتیں سچی ہیں دن جھوٹے جب تک دن جھوٹے ہیں جب تک راتیں سہنا اور اپنے خوابوں ہے وہ ہے وہ رہنا خوابوں کو بہکانے والے دن کے اجالوں سے اچھا ہے ہاں ہے وہ ہے وہ بہکاووں کی دھند نہیں اوڑھوں گا چاہے جاناں مری بینائی کھرچ ڈالو ہے وہ ہے وہ پھروں بھی اپنے خواب

Jaun Elia

7 likes

ہمیشہ قتل ہوں جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بسات زندگی تو ہر گھڑی بچھتی ہے اٹھتی ہے ی ہاں پر جتنے خانے جتنے گھر ہیں سارے خوشیاں اور غم انعام کرتے ہیں ی ہاں پر سارے مہرے اپنی اپنی چال چلتے ہیں کبھی محسور ہوتے ہیں کبھی آگے نکلتے ہیں ی ہاں پر شہ بھی پڑتی ہے ی ہاں پر مات ہوتی ہے کبھی اک چال ٹلتی ہے کبھی بازی پلٹتی ہے ی ہاں پر سارے مہرے اپنی اپنی چال چلتے ہیں م گر ہے وہ ہے وہ حقیقت پیادہ ہوں جو ہر گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ کبھی ا سے شہ سے پہلے اور کبھی ا سے مات سے پہلے کبھی اک برد سے پہلے کبھی آفات سے پہلے ہمیشہ قتل ہوں جاتا ہے

Jaun Elia

10 likes

ب سے ایک اندازہ بر سے گزرے تمہیں سوئے ہوئے اٹھ جاؤ سنتی ہوں اب اٹھ جاؤ ہے وہ ہے وہ ہے وہ آیا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اندازے سے سمجھا ہوں ی ہاں سوئی ہوئی ہوں جاناں ی ہاں رو زمین کے ا سے مقام آسمانی تر کی حد ہے وہ ہے وہ ہے وہ باد ہا تند نے مری لیے ب سے ایک اندازہ ہی چھوڑا ہے

Jaun Elia

7 likes

فن پارہ یہ کتابوں کی صف بہ صف جلدیں کاغذوں کا فضول استعمال روشنائی کا شاندار اسراف سیدھے سیدھے سے کچھ سیہ دھبے جن کی توجیہ آج تک لگ ہوئی چند خوش ذوق کم نصیبوں نے بسر اوقات کے لیے شاید یہ لکیرے بکھیر ڈالی ہیں کتنی ہی بے قصور جالے نے ان کو پڑھنے کے جرم ہے وہ ہے وہ تا عمر لے کے کشکول علم و حکمت و فن کو بہ کو جاں کی بھیک مانگی ہے آہ یہ سمے کا عذاب علیم سمے خلاق بے شعور اچھی اچھی ساری تعریفیں ان اندھیروں کی جن ہے وہ ہے وہ پرتو لگ کوئی پرچھائیں آہ یہ زندگی کی تنہائی سوچنا اور سوچتے رہنا چند معصوم پاگلوں کی سزا آج ہے وہ ہے وہ نے بھی سوچ رکھا ہے سمے سے انتقام لینے کو یوںہی تا شام سادے کاغذ پر ٹیڑھے ٹیڑھے خطوط کھینچے جائیں

Jaun Elia

3 likes

قاتل سنا ہے جاناں نے اپنے آخری لمحوں ہے وہ ہے وہ سمجھا تھا کہ جاناں مری حفاظت ہے وہ ہے وہ ہوں مری بازوؤں ہے وہ ہے وہ ہوں سنا ہے بجھتے بجھتے بھی تمہارے سرد و مردہ لب سے ایک شعلہ شعلہ یاقوت فام و رنگ و امید فروغ زندگی آہنگ لپکا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود ہے وہ ہے وہ چھپا لیجے یہ میرا حقیقت عذاب جاں ہے جو مجھ کو مری اپنے خود اپنے ہی جہنم ہے وہ ہے وہ جلاتا ہے تمہارا سی لگ سی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے بازووان مرمریں مری لیے مجھ اک ہوسناک فرومایہ کی خاطر ساز و سامان نشاط و نشہ عشرت فزونی تھے مری عیاش لمحوں کی فسوں گر پر جنونی کے لیے سد لذت آگیں سد کرشمہ پر زبانی تھے تمہیں مری ہوں سے پیشہ مری سفاق قاتل بے وفائی کا گماں تک ا سے گماں کا ایک وہم خود گریزاں تک نہیں تھا کیوں نہیں تھا کیوں نہیں تھا کیوں کوئی ہوتا کوئی تو ہوتا جو مجھ سے مری سفاق قاتل بے وفائی کی سزا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خون تھکواتا مجھے ہر لمحے کی سولی پہ لٹکاتا م گر پڑنا کوئی بھی نہیں کوئی دریغ افتاد کوئی بھی<b

Jaun Elia

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jaun Elia.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jaun Elia's nazm.