nazmKuch Alfaaz

غضب سادہ سا لڑکا تھا غضب سادہ سا لڑکا تھا جو مری ساتھ پڑھتا تھا اسے غم بھی تھے لیکن حقیقت صدا ہنستا ہی رہتا تھا کسی کے ساتھ بھی جاؤں کبھی روکا نہیں ا سے نے اسے ہے وہ ہے وہ دوست جو بھی دوں کبھی ٹوکا نہیں ا سے نے صدا ب سے پیار کی باتیں کیا کرتا تھا حقیقت مجھ سے مری کپڑے ہٹا کر تل کبھی دیکھا نہیں ا سے نے بے حد عزت مجھے دیتا ادب سے بات کرتا تھا بیاں ہے وہ ہے وہ کر نہیں سکتی حقیقت مجھ پہ کتنا مرتا تھا مجھے حقیقت ایک ماں چنو سلیقے سب سکھاتا تھا دوپٹہ ا سے طرح اوڑھو مجھے یہ بھی بتاتا تھا شرارت ہے وہ ہے وہ ا گر ہوتا مری چیزیں چھپا دیتا ا گر ہے وہ ہے وہ روٹھنے لگتی مجھے سینے لگا لیتا مری بالوں کو سلجھا کر مری چوٹی بناتا تھا کسی دا گرا کے چنو حقیقت کہانی بھی سناتا تھا غضب سادہ سا لڑکا تھا جو مری ساتھ پڑھتا تھا

Related Nazm

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا مری زندگی شماکی صورت ہوں خدایا مری دور دنیا کا مری دم سے اندھیرا ہوں جائے ہر جگہ مری چمکنے سے اجالا ہوں جائے ہوں مری دم سے یوںہی مری وطن کی ظفر ج سے طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی ظفر زندگی ہوں مری پروانے کی صورت یا رب علم کی شماسے ہوں مجھ کو محبت یا رب ہوں میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا مری اللہ برائی سے بچانا مجھ کو نیک جو راہ ہوں ا سے رہ پہ چلانا مجھ کو

Allama Iqbal

51 likes

مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں

Tehzeeb Hafi

161 likes

خدا کا سوال مری رب کی مجھ پر عنایت ہوئی ک ہوں بھی تو کیسے عبادت ہوئی حقیقت ہوئی چنو مجھ پر عیاں بن گئی ہے خدا کی زبان ہوتے ہوتے مخاطب ہے بندے سے پروردگار تو حسن چمن تو ہی رنگ بہار تو معراج فن تو ہی فن کا سنگار مصور ہوں ہے وہ ہے وہ تو میرا شاہکار یہ صبحیں یہ شا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ دن اور رات یہ رنگین دلکش حسین ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ حور و ملائک و الا جنات نے کیا ہے تجھے اشرف اول مخلوقات عظمتوں مری جلترنگ کا حوالہ ہے تو تو ہی روشنی ہے اجالا ہے تو یہ دنیا ج ہاں بزم آرائیاں یہ محفل یہ ذائقہ یہ تنہائیاں فلک کا تجھے شامیا لگ دیا ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر تجھے آب و دا لگ دیا ملے آبشاروں سے بھی حوصلے پہاڑوں ہے وہ ہے وہ تجھ کو دیے راستے یہ پانی ہوا اور یہ شم سے و قمر یہ موج رواں یہ کنارہ بھنور یہ شاخوں پہ غنچے چٹکتے ہوئے فلک پہ ستارے تم چمکتے ہوئے یہ سبزے یہ پھولوں بھری کیاریاں یہ پنچھی یہ اڑتی ہوئی تتلیاں یہ شعلہ یہ شبنم یہ مٹی یہ سنگ یہ جھرنوں کے بجتے ہوئے چرندوں یہ جھیلوں ہے وہ ہے وہ ہنستے ہوئے س

Abrar Kashif

46 likes

More from Raja Singh 'Kaabil'

تمہارا نام لینے سے تمہیں اپنی پریشانی ابھی ہے وہ ہے وہ کہ نہیں سکتا تمہیں دل ہے وہ ہے وہ رکھوں گا تو ہے وہ ہے وہ زندہ رہ نہیں سکتا مجھے معلوم ہے اک دور تھا جب چاہتی تھیں جاناں مجھے اپنی دعاؤں ہے وہ ہے وہ ہمیشہ مانگتی تھیں جاناں م گر اب کیا ک ہوں جاناں سے میرا دل کتنا روتا ہے تمہارا نام لینے سے گلے ہے وہ ہے وہ درد ہوتا ہے تمہارے نام سے اب پھول بھی مرجھانے لگتے ہیں تمہارے ذکر سے آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو آنے لگتے ہیں تمہیں اب پھول کوئی توڑ کر ہے وہ ہے وہ دے نہیں سکتا تمہارا نام ہے وہ ہے وہ اپنی زبان سے لے نہیں سکتا تمہیں لکھتا ہے خط پھروں دل اسے خوں ہے وہ ہے وہ بگوتا ہے تمہارا نام لینے سے گلے ہے وہ ہے وہ درد ہوتا ہے لگا ہے روگ کوئی یا تمہاری بد دعا ہے یہ سمجھ ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں آتا کہ مجھ کو کیا ہوا ہے یہ نشان اپنے مری دل سے مٹا دو آج جاناں جاناں مجھے کیوں درد ہوتا ہے بتا دو راز جاناں جاناں تمہارے داغوں کو یہ دل بے حد مشکل سے دھوتا ہے تمہارا نام لینے سے گلے ہے وہ ہے وہ درد ہوتا ہے کروں گا ایک دن ایسا ہے وہ ہے وہ سار

Raja Singh 'Kaabil'

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Raja Singh 'Kaabil'.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Raja Singh 'Kaabil''s nazm.