nazmKuch Alfaaz

گاؤں ہے وہ ہے وہ شعر کا اک شکاری بھی تھا تقاضا تھا دشت کی حقیقت ہمیشہ ہوا شعر کو ا سے نے قبضے ہے وہ ہے وہ اک دن کیا شام ہوتی گئی بڑھ گیا تو دھندلکا بکریوں کو بھی حقیقت پالتا تھا صدا گھا سے بھی دشت سے ساتھ حقیقت لاتا تھا گھا سے اور بکری بھی ا سے کے ہمراہ تھے شعر کے ساتھ دیکھو یہ دونوں چلے راہ ہے وہ ہے وہ ان کی پل ایک حائل ہوا دھندلکا گہرا ہونے لگا شام کا پل کے رکھوالے نے ا سے کو روکا کہا پار جاناں پل کو کر سکتے ہوں برملا صرف اک چیز کو ساتھ لے جاؤگے اپنی منزل کو پھروں دیکھ لو پاؤگے جاناں جو چاہو تو واپ سے بھی آ سکتے ہوں ایک اجازت ساتھ اپنے بھی لا سکتے ہوں سوچ ہے وہ ہے وہ پڑ گیا تو اب شکاری بے حد شرط تھی واقعی آج بھاری بے حد گھا سے کو ساتھ لے جانا مشکل ہی تھا کیوں کہ خود شعر بکری کو کھا جائےگا ہاں ا گر شعر کو ساتھ لے جاؤں گا بکری چارہ بنا ڈالے گی گھا سے کا کش مکش ہے وہ ہے وہ شکاری ابھی پڑ گیا تو کیسے حل ہوگا ہے یہ بڑا مسئلہ اب اسے کچھ سمجھ ہے وہ ہے وہ تو آیا نہیں سوچتے سوچتے جھک گئی تھی جبیں ایک ترکیب آخر کو سوج

Related Nazm

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک

Ali Zaryoun

70 likes

تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا

Kumar Vishwas

81 likes

بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س

Tahir Faraz

54 likes

محبوبہ کے نام تو اپنی چٹھیوں ہے وہ ہے وہ میر کے اشعار لکھتی ہے محبت کے بنا ہے زندگی بیکار لکھتی ہے تیرے خط تو عبارت ہیں وفاداری کی قسموں سے جنہیں ہے وہ ہے وہ پیسہ ڈرتا ہوں وہی ہر بار لکھتی ہے تو پیروکار لیلیٰ کی ہے شیریں کی پجارن ہے مگر تو جس پہ بیٹھی ہے حقیقت سونے کا سنگھاسن ہے تیری پلکوں کے مسکارے تیرے ہونٹوں کی یہ لالی یہ تیرے ریشمی کپڑے یہ تیرے کان کی بالی گلے کا یہ چمکتا ہار ہاتھوں کے تیرے کنگن یہ سب کے سب ہے میرے دل میرے احساس کے دشمن کہ ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے پیار کی قیمت وفا کا مول کیا کیا ہے اعتبار کی قیمت شکستہ کشتیوں ٹوٹی ہوئی پتوار کی قیمت ہے میری جیت سے بڑھکر تو تیری ہار کی قیمت حقیقت خون کے آنسو تجھے جنگل پرستی جاناں تو اپنے فیصلے پر بعد ہے وہ ہے وہ پچھتائےگی جاناں میرے کندھے پہ چھوٹے بھائیوں کی ذمہ داری ہے میرے ماں باپ بوڑھے ہے بہن بھی تو کنواری ہے برہنہ موسموں کے وار کو تو سہ نہ بدلی حویلی چھوڑ کر تو جھونپڑی ہے وہ ہے وہ رہ نہ بدلی بیگانہ غم تیری میری مفلسی کو

Abrar Kashif

50 likes

More from Amjad Husain Hafiz Karnataki

अहमद बब्लू बाबू सलमा एक जमाअत के ये बच्चे अख़लाक़ी घंटे में देखो जम्अ'' हुए हैं इक इक कर के नज़्म-ओ-ज़ब्त जमाअत में था उफ़ नहीं करता था कोई बच्चा ये जो कहानी का था घंटा सब को शौक़ कहानी का था देखो क्लास में उस्ताद आए उठ के खड़े हुए सारे बच्चे सब ने किया सलाम अब उन को बच्चे थे सब मन के अच्छे हम आवाज़ था हर इक बच्चा हम हैं कहानी के सब शैदा सब ने मिल कर किया तक़ाज़ा हम को सुनाइए अच्छा क़िस्सा सुन कर बच्चों से ये बातें हो गए ख़ुश उस्ताद इसी दम मुन्नू चुन्नू मन्नू ख़ुश थे क़ाबिल-ए-दीद है शौक़ का आलम टीचर ने जो छेड़ी कहानी बच्चे हमा-तन गोश हुए सब ख़ामोशी थी हर चेहरे पर सब से कहा ये टीचर ने अब एक पहाड़ी के दामन में क़र्या इक शादाब था बच्चो गाँव में इक चरवाहा भी था हाँ वो बहुत नादान था प्यारो रोज़ पहाड़ी पर वो जाता बकरियाँ अपनी ख़ुद ही चराता दिन भर हाँकता वो गले को शाम ढले घर वापस आता इक दिन उस को सूझी शरारत रह रह कर उस ने चिल्लाया लोगों आओ मुझ को बचाओ शे'र ने बोला है अब धावा लट्ठे भाले बर्छियाँ ले कर भागे आए लोग बराबर पाया सलामत चरवाहे को कहने लगा चरवाहा हँस कर शे'र यहाँ आया नहीं कोई यूँँ ही शरारत मैं ने की थी शुक्रिया आप यहाँ सब आए आप की हमदर्दी है सच्ची मैं ने सब को यूँँ ही परखा इम्तिहाँ आप की चाहत का था ख़ुश हूँ आप की हमदर्दी पर मैं ने प्यार सभों का पाया था ये कर्तब चरवाहे का उस ने उल्लू सब को बनाया मायूसी के साथ वो लौटे झूटा चरवाहे को पाया इज़्ज़त चरवाहे ने गँवाई अब के मुँह की उस ने खाई चरवाहे की नादानी पर दी क़र्ये वालों ने दहाई हरियाली का मौसम आया ग़ल्ले ने भी चारा पाया था मसरूर बहुत चरवाहा उस ने ख़ुशी का नग़्मा गाया उस ने अब मंज़र ये देखा शे'र है ग़ल्ले में आ धमका घबरा कर फिर वो चिल्लाया देखो शे'र ने कर दिया हमला गाँव में चीख़ें सुनीं लोगों ने एक मज़ाक़ उसे सब समझे आया न कोई उस की मदद को पड़ गए जान के लाले देखो शे'र का बन गया बच्चो निवाला चरवाहे का सारा गिला फिर चरवाहे पर हुआ जो हमला ख़ात्मा हो गया चरवाहे का शब का हुआ गहरा सन्नाटा चरवाहा अब घर नहीं आया उस की माँ बहनें थीं परेशाँ बढ़ गया उन पर ख़ौफ़ का साया दूसरे दिन का सूरज निकला गाँव में चरवाहे का था चर्चा सब ने पहाड़ी पर जा देखा ग़म था पता अब चरवाहे का क़िस्सा ख़त्म हुआ ये बच्चो तुम हो क्यूँँ ग़मगीं ये बोलो चरवाहे की फ़िक्र को छोड़ो चरवाहे से सबक़ ये सीखो झूट से जान गई थी उस की बात हमेशा कहना सच्ची मानो झूट बला है बच्चो उस से हमेशा बच कर रहियो झूट से जान भी जा सकती है झूट तो इक अंधी शक्ति है झूट गुनाह है जानो बच्चो दोज़ख़ मिलती है झूटों को प्यारो छोड़ो शरारत सारी छोड़ो सच्चाई को बस अपनाओ

Amjad Husain Hafiz Karnataki

0 likes

है कठिन बच्चो ये जीवन का सफ़र है निहायत पुर-ख़तर इक इक डगर राहबर के भेस में हैं राहज़न इस सफ़र की हैं फ़ज़ाएँ पुर-फ़ितन आँधियाँ ग़म की उठेंगी हर क़दम रखना अपने हौसलों का तुम भरम ग़म को साँचे में ख़ुशी के ढालना हर बला को मुस्कुरा कर टालना कारवाँ को भी पराया मानिए इस सफ़र में ख़ुद को तन्हा जानिए थक गए हों तो ज़रा सुसताइए मंज़िलों की सम्त फिर बढ़ जाइए चाहिए तुम को ख़ुदी की रौशनी है मुसलसल इक सफ़र ये ज़िंदगी रहिए दुनिया में मुसाफ़िर की तरह देखिए दुनिया को नाज़िर की तरह तुम मुसाफ़िर ही अगर दुनिया में हो क़द्र बच्चो वक़्त की करते रहो होते हैं बच्चो सफ़र में तजरबे लोग मिलते हैं मुसाफ़िर को नए इक वसीला है सफ़र तफ़रीह का गूँजती है हर तरफ़ उस की सदा मा'लूमात अफ़ज़ा न हो क्यूँँ कर सफ़र हो मुसाफ़िर की मगर गहरी नज़र है मुसाफ़िर-ख़ाना ये दुनिया सुनो हम मुसाफ़िर हैं सभी ऐ दोस्तो क़ौल तुम अपने बुज़ुर्गों का सुनो इस के आमिल ऐ मिरे बच्चो बनो सुब्ह जल्दी से सफ़र पर चल पड़ो शब से पहले घर को तुम लौट आइयो हल्का कुछ सामाँ सफ़र में चाहिए दीद का अरमाँ सफ़र में चाहिए ज़िंदगी में है सफ़र का अपना रोल बढ़ता है लोगों से बच्चो मेल-जोल इन दिनों अपना सफ़र आसान है और तय्यारों पे अपना ध्यान है तेज़ है अपनी उड़ानों का असर मिनटों में मेलों का तय होगा सफ़र हर मुसाफ़िर को सफ़र से प्यार है अज़्म कामिल हो तो बेड़ा पार है रहता है 'हाफ़िज़' सफ़र में रोज़-ओ-शब वो सफ़र का करता है दिल से अदब

Amjad Husain Hafiz Karnataki

0 likes

نجم کیا ہے شاعری کی دو صنفیں ہیں نظم و غزل اردو ہے وہ ہے وہ ان کی شہرت ہے بچوں اٹل نجم پابند ہے نجم آزاد بھی یہ کبھی نثر ہے اور معرا کبھی نظم پابند ہے وہ ہے وہ وزن ہوگا میاں اور آزاد ہے وہ ہے وہ بھی ہے ا سے کا نشان نظم پابند کا طرز ہے جو لطیف ا سے ہے وہ ہے وہ پاؤگے جاناں قافیہ و ردیف نثری نظموں ہے وہ ہے وہ ب سے نثر ہی نثر ہے وزن اور قافیہ ہے لگ ہی بہر ہے وزن اور قافیہ جن کو مشکل ہوئے نثری نظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عموماً حقیقت کہتے لگے وزن نظم معری ہے وہ ہے وہ ہے دوستو ا سے کو جاناں بے ردیف و قوافی کہو مثنوی ہوں قصیدہ ہوں یا رکھ نجم کا ملتا ہے بچوں ہم کو پتا نجم ہے وہ ہے وہ سلسلہ ہے خیالات کا ایک دریا سا ہے دیکھو جذبات کا حقیقت مخم سے ہوں یا ہوں مسد سے کوئی یہ بھی اک شکل ہے نظم پابند کی حقیقت غزل ہوں کہ ہوں نجم بچوں سنو دونوں یکساں ہیں شہرت ہے وہ ہے وہ ب سے جان لو خون تمنا کی نظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مشہور ہیں ہر جگہ ہیں غزل کے ج گر واقعی بادشاہ نجم ہے وہ ہے وہ جو کہانی کہی جائے گی شوق سے اے میاں حقیقت سنی جائے گی

Amjad Husain Hafiz Karnataki

13 likes

गर्मी का जो मौसम आया जलने लगी पेड़ों की छाया सूख गई थी डाली डाली और पत्तों से भी थी ख़ाली नंगे पेड़ पे बैठा कव्वा हाँप रहा था जो प्यासा था पानी को वो ढूँढ़ता निकला घर के इक छज्जे पर बैठा हर सू काल था पानी का जो गाँव में भी था सूखा प्यारो आँगन में थी एक सुराही उस में था थोड़ा सा पानी कव्वा सुराही तक जा पहुँचा लेकिन पानी तह में ही था चोंच को अपनी अंदर डाला पानी तक वो पहुँच न पाया हो गया देख के ये ख़ुश कव्वा बाज़ू ढेर था कंकरियों का लाया इक इक को ये चुन कर डालता जाता था यूँँ कंकर उस में डाले इतने कंकर पानी उभर कर आया ऊपर फिर कव्वे ने प्यास बुझाई उस की जान में जान अब आई उड़ गया फुरती से अब कव्वा चुनने लगा फिर दाना दुन्का अक़्ल का खोलो तुम दरवाज़ा हल मुश्किल का ख़ुद निकलेगा

Amjad Husain Hafiz Karnataki

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Amjad Husain Hafiz Karnataki.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Amjad Husain Hafiz Karnataki's nazm.