بابا تری کمرے سے جو آتی تھی ہمیشہ بابا حقیقت آواز پکارتی نہیں مجھ کو بابا تری کاندهوں پر بیٹھ کر جو دیکھے تھے کبھی حقیقت ذائقہ لگتے ہیں اب سونے جسر بابا یہ زمانے کی نگاہیں کوڑی ہے وحشی ہے یہ نوچ نو زائیدہ جسموں کو ہمارے بابا تو گھر ہے وہ ہے وہ ہمارے ویران تھا ہم تو تری آنگن کی کلی تھے بابا تری کاندهوں پر آخری سمے رونا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری سائے ہے وہ ہے وہ ا سے گھر سے وداع ہونا تھا بابا تیری ہی نشانی ہے تجھ سا دکھتا بھی ہے بھائی بھی کب بیٹیوں سا سمجھتا ہے بابا تو جو گیا تو ماں کے چہرے کی رنگت بھی لے گیا تو حقیقت بھی ادا سے ہے بے حد کم بولتی ہے بابا دل سے اب ب سے یہی دعا نکلتی ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں مسکراتے ملو جنت ہے وہ ہے وہ بابا
Related Nazm
تمہاری یاد تمہاری یاد آتے ہی دل کو تھام لیتا ہوں تمہیں ہی یاد کرتا ہوں تمہارا نام لیتا ہوں تمہاری یاد لاتی ہے تبسم مری چہرے پر خیالوں ہے وہ ہے وہ سنورتا ہوں نکل آتے سنہرے پر تمہارا یاد آنا زندگی دشوار ہونا ہے تمہاری یاد کھو جانا میرا بیمار ہونا ہے تمہاری یاد آتی ہے تو سب کچھ بھول جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب کچھ بھول جاتا ہوں تمہاری یاد آتی ہے تمہاری یاد آتی ہے تو آنکھیں بند کرتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھیں بند کرتا ہوں تمہاری یاد آتی ہے تمہاری یاد آنے سے تمہاری یاد جانے تک جو وقفہ بھی گزر تا ہے تمہاری یاد آتی ہے
S M Afzal Imam
10 likes
"लव ट्राईऐंगल" जब ख़यालों में मैं उस के पीछे पीछे जाता भाव खाती देखो फिर मैं उस सेे रुठ जाता ऐसे वैसे कैसे कैसे मुझ को वो मनाती जान थी मेरी वो कैसे मैं ना मान पाता अपने लव का ट्राईऐंगल काश जो ना बनता तू सवाल और तेरा मैं जवाब होता काश जो तू मेरी आँखों में वो झाँक जाती तेरे पास में जो महका मैं गुलाब होता अगर ये ख़्वाब सच हुआ तो सुनले ऐ हसीं मैं पूरी उम्र तेरे दिल में ही गुज़ार दूँ तू जो चले तो दिन हो जब रूके तो रात हो ये काएनात तेरे क़दमों में उतार दूँ अपने लव का ट्राईऐंगल काश जो ना बनता काश जो तू बोले तेरी मैं आवाज़ होता तू शबाब तेरी धुन में मैं शराब होता सबके चेहरों को तो तू यूँँ निहार जाती तेरे नैनों का कभी तो मैं शिकार होता अपने लव का ट्राईऐंगल काश जो ना बनता
Rohit tewatia 'Ishq'
11 likes
اک خط مجھے لکھنا ہے دہلی ہے وہ ہے وہ بسے دل کو اک دن مجھے چکھنا ہے خاجہ تیری نگری کا خسرو تیری چوکھٹ سے اک شب مجھے پینی ہے لذت سخنوالی خوشبو اے وطن والی تاکتے تری مرقد کو اک شعر سنہانا ہے اک سانولی رنگت کو چپکے سے بتانا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل بھی ہوں دہلی بھی اردو بھی ہوں ہم رہی بھی اک خط مجھے لکھنا ہے ممکن ہے کبھی لکھوں ممکن ہے ابھی لکھوں
Ali Zaryoun
25 likes
بچپن کی محبت تو تھا مری دل کا رہبر تو کتنے دن یاد آئےگا تو چھوڑ گیا تو ہے مجھ کو پر تو کتنے دن یاد آئےگا ہاں پیار ہوا تھا بچپن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اقرار ہوا تھا بچپن ہے وہ ہے وہ ہے وہ سن بچپن کا مری دلبر تو کتنا خوش ہے مری بنا یہ دل روتا ہے تری بنا تو تھا منزل کا راہ گزر اب پیار محبت ہے ہی نہیں رونے کے سوا اب کچھ بھی نہیں ب سے اشکوں سے دامن ہے تر تیری یادیں تڑپاتی ہے الفت ہے وہ ہے وہ آگ لگاتی ہے کب لےگا تو دانش کی خبر
Danish Balliavi
11 likes
اداسی عبارت جو اداسی نے لکھی ہے بدن ا سے کا غزل سا ریشمی ہے کسی کی پا سے آتی آہٹوں سے اداسی اور گہری ہوں چلی ہے چھری اچھل پڑتی ہیں لہریں چاند تک جب سمندر کی اداسی ٹوٹتی ہے اداسی کے پرندوں جاناں ک ہاں ہوں مری تنہائی جاناں کو ڈھونڈتی ہے مری گھر کی گھنی تاری کیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اداسی بالب سی جلتی رہی ہے اداسی اوڑھے حقیقت بوڑھی حویلی لگ جانے ک سے کا رستہ دیکھتی ہے اداسی صبح کا معصوم جھرنا اداسی شام کی بہتی ن گرا ہے
Sandeep Thakur
21 likes
More from ALI ZUHRI
نسا دنیا کے رنگین مظاہروں سے ہٹ کر,जब کبھی میری نظر اس کا سادہ لباس لڑکی پہ اگر پڑتی میرے دل سے حسرتیں نکلتی اور امنگیں جھوم اٹھتی اس کا کا لڑکی کے ناک نقش بلکل بھی بناوٹی نہیں اس کا کا کے بدن کے نقوش ہے وہ ہے وہ کچھ بھی سجاوٹی نہیں خدا کی قسم دنیا کے مظاہروں ہے وہ ہے وہ اس کا کے سوا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں اسے اس کا دنیا کی جوش کی کوئی پرواہ ہی نہیں مانو دنیا سے اسے کوئی رابطہ ہی نہیں اسے خدا نے اپنی قدرت کی نشانی کے لیے بنایا ہوگا اس کا کا کا پیکر تحت السرا کی مٹی سے تراشا ہوگا اس کا کا کی بلندی پہ فرشتوں نے بھی سر جھکایا ہوگا حقیقت تو ایسی چیز ہے جسے دیکھ کر خدا کو خود اپنی کن پہ رشک آیا ہوگا خدا نے کوئل کو اس کا کی سماعت کے آثار تلاشیں ہیں اور پیڑوں کو اس کا کی بانہوں کے ہار تلاشیں ہیں یہ گھٹا اس کا کی اگر کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ رہ کر کالی ہوتی ہے اس کا کا کے آنچل سے ہی شام پر لالی ہوتی ہے اس کا کا کے ہاتھوں کی لکیروں پر دنیا نقش ہے جنت کی کیسی کیسی ہے وہ ہے وہ بھی اس کا کا ہی عکس ہے اس کا کا کی آنکھوں کی بینائی سے सुब्ह,रात
ALI ZUHRI
4 likes
"जुदाई" जिन दिनों में तुम ने देखा था मुझे मैं उन दिनों किसी गुलाब जैसा खिल रहा था महक रहा था तुम्हारे इश्क़ का गुलाबी जाम मेरे नर्म चेहरे पे बह रहा था मगर अब के यूँँ है बिछड़ के तुम सेे तुम्हारे हिज्र ए मलाल से मैं उजड़ गया हूँ तुम्हारी क़िताब में रखे हुए गुलाब जैसा मैं इन दिनों सड़ रहा हूँ तुम्हारे इंतिज़ार की सर्द राहों पर पत्ती पत्ती बिखर रहा हूँ मैं जीता जागता एक लड़का साँस दर साँस मर रहा हूँ
ALI ZUHRI
1 likes
دوست یہ بات تجھ سے چھپی نہیں تو روح ہے مری سایہ نہیں تو نے یہ کیسے کہ دیا تو دوست ہے ہم سفر نہیں کیوں تجھے آتا سمجھ نہیں تو راہ ہے مری منزل نہیں
ALI ZUHRI
11 likes
جنگ یہ جنگ کبھی لگ ختم ہوں گی چل ہم دنیا بسائیں اور کہی ا سے شہر کی چڑیاں سہم گئی ہیں حقیقت اڑ کے جاتی ہیں اور کہی ی ہاں گونج رہی ہے توپوں کی صدائیں چل ہم گیت سنائیں اور کہی یہ دنیا ہے کانٹو سے بھری ہم پھول کھلائیں اور کہی ی ہاں خوبصورت کا بارود جلا ہیں ہم محبت مہکائیں اور کہی سب بستیاں جل کے راکھ ہوئی چل آشیاں بنائیں اور کہی یہ لوگ ہیں جسم چبانے کے لیے ہم فصل اگائیں اور کہی ہر دھڑکن ہے وہ ہے وہ شور ہے برپا چل سکون ب نام طاقت اور کہی
ALI ZUHRI
9 likes
بچپن ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب چھوٹا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے چلنا نا سیکھا تھا مری ہر بات سچی تھی میرا ہر لفظ ماں تھا میرا بستر باپ کا کانده تھا میرا ساتھی بھائی تھا جو گھر کا آنگن تھا حقیقت مری دنیا تھا جو ماں کے قدم تھے حقیقت مری جنت تھے اب ہوش جب سنبھالا ہے یاد پھروں وہی سب آیا ہے کتنے اچھے تھے ساتھ تھے دل ہے وہ ہے وہ ا نہیں کھونے کا ملال آیا ہے ماضی کے ورقوں پر عطر کا سایہ ہے مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ وہی منظر پرانا ہے موقع ملے قسمت سے تو وہی بچپن دہرانا ہے
ALI ZUHRI
10 likes
Similar Writers
Our suggestions based on ALI ZUHRI.
Similar Moods
More moods that pair well with ALI ZUHRI's nazm.







