nazmKuch Alfaaz

تمہاری یاد تمہاری یاد آتے ہی دل کو تھام لیتا ہوں تمہیں ہی یاد کرتا ہوں تمہارا نام لیتا ہوں تمہاری یاد لاتی ہے تبسم مری چہرے پر خیالوں ہے وہ ہے وہ سنورتا ہوں نکل آتے سنہرے پر تمہارا یاد آنا زندگی دشوار ہونا ہے تمہاری یاد کھو جانا میرا بیمار ہونا ہے تمہاری یاد آتی ہے تو سب کچھ بھول جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب کچھ بھول جاتا ہوں تمہاری یاد آتی ہے تمہاری یاد آتی ہے تو آنکھیں بند کرتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھیں بند کرتا ہوں تمہاری یاد آتی ہے تمہاری یاد آنے سے تمہاری یاد جانے تک جو وقفہ بھی گزر تا ہے تمہاری یاد آتی ہے

Related Nazm

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

نجم اک بر سے اور کٹ گیا تو شریک روز سانسوں کی جنگ لڑتے ہوئے سب کو اپنے خلاف کرتے ہوئے یار کو بھولنے سے ڈرتے ہوئے اور سب سے بڑا غصہ ہے یہ سانسیں لینے سے دل نہیں بھرتا اب بھی مرنے کو جی نہیں کرتا

Shariq Kaifi

46 likes

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ

Faiz Ahmad Faiz

73 likes

کیوں الجھا الجھا رہتے ہوں کچھ بولو تو کچھ بات کروں کیا اب بھی تنہا راتیں ہیں کیا درد ہی دل بہلاتے ہیں کیوں محفل را سے نہیں آتی کیوں کوئل گیت نہیں گاتی کیوں پھولوں سے خوشبو گم ہے کیوں بھونرا گم سم گم سم ہے ان باتوں کا کیا زار ہے کچھ بولو تو کچھ بات کروں کیوں اماں کی کم سنتے ہوں کیا بھیتر بھیتر گنتے ہوں کیوں ہنسنا رونا بھول گئے کیوں لکڑی چنو گھنتے ہوں کیا دل کو کہی لگائے ہوں کیا عشق ہے وہ ہے وہ دھوکہ کھائے ہوں کیا ایسا ہی کچھ مسئلہ ہے کچھ بولو تو کچھ بات کروں

Raghav Ramkaran

42 likes

خدا کا سوال مری رب کی مجھ پر عنایت ہوئی ک ہوں بھی تو کیسے عبادت ہوئی حقیقت ہوئی چنو مجھ پر عیاں بن گئی ہے خدا کی زبان ہوتے ہوتے مخاطب ہے بندے سے پروردگار تو حسن چمن تو ہی رنگ بہار تو معراج فن تو ہی فن کا سنگار مصور ہوں ہے وہ ہے وہ تو میرا شاہکار یہ صبحیں یہ شا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ دن اور رات یہ رنگین دلکش حسین ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ حور و ملائک و الا جنات نے کیا ہے تجھے اشرف اول مخلوقات عظمتوں مری جلترنگ کا حوالہ ہے تو تو ہی روشنی ہے اجالا ہے تو یہ دنیا ج ہاں بزم آرائیاں یہ محفل یہ ذائقہ یہ تنہائیاں فلک کا تجھے شامیا لگ دیا ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر تجھے آب و دا لگ دیا ملے آبشاروں سے بھی حوصلے پہاڑوں ہے وہ ہے وہ تجھ کو دیے راستے یہ پانی ہوا اور یہ شم سے و قمر یہ موج رواں یہ کنارہ بھنور یہ شاخوں پہ غنچے چٹکتے ہوئے فلک پہ ستارے تم چمکتے ہوئے یہ سبزے یہ پھولوں بھری کیاریاں یہ پنچھی یہ اڑتی ہوئی تتلیاں یہ شعلہ یہ شبنم یہ مٹی یہ سنگ یہ جھرنوں کے بجتے ہوئے چرندوں یہ جھیلوں ہے وہ ہے وہ ہنستے ہوئے س

Abrar Kashif

46 likes

More from S M Afzal Imam

حقیقت لڑکی یاد آتی ہے بلا کی خوبصورت تھی حقیقت چلتی پھرتی مورت تھی مری دل کی ضرورت تھی حقیقت لڑکی یاد آتی ہے سلیقے سے ذرا شہری سمندر سی م گر گہری نظر مری ج ہاں ٹھہری حقیقت لڑکی یاد آتی ہے کہ ج سے بن دل نہیں بہلائے زبان کے بن بھی سب کہ لے جسے دیکھا بے حد پہلے حقیقت لڑکی یاد آتی ہے بے حد فرصت سے دیکھا تھا بے حد الفت سے دیکھا تھا بڑی شدت سے دیکھا تھا حقیقت لڑکی یاد آتی ہے بہکتے دن حسین راتیں سبھی دلکش سجدہ بیتاب حقیقت ا سے کی بے سبب باتیں حقیقت لڑکی یاد آتی ہے جب ا سے کا نام سنتا ہوں جب ا سے کے خواب بنتا ہوں سنہرے لمحے چنتا ہوں حقیقت لڑکی یاد آتی ہے

S M Afzal Imam

0 likes

نجم محبت محبت ہے وہ ہے وہ کوئی لڑکا محبت ہے وہ ہے وہ کوئی لڑکی کبھی جب مبتلا ہوتے تو اپنوں سے جدا ہوتے جو حاصل ہوں تو پاگل پن جو لا حاصل تو پاگل پن محبت ہے وہ ہے وہ اذیت ہے مجھے ا سے سے شکایت ہے محبت شخصیت ہے جو بے حد خودغرض ہوتی ہے بے حد کم ظرف ہوتی ہے بھلا دیتی ہے دنیا کو بسا لیتی نئی دنیا محبت ہے وہ ہے وہ نہیں کرتا محبت کا مخالف ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ڈرتا ہوں محبت سے محبت درد دیتی ہے محبت جان لیتی ہے محبت بیوقوفی ہے

S M Afzal Imam

0 likes

ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی ہماری یوں ہی زندگی لی گئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے ہمیشہ قریبی رہی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان کے چکر ہے وہ ہے وہ رسوا ہوئے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت کا وعدہ ہوا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے محبت کا نارا دیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی کبھی عاشقوں کے مسیحا تھے ہم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سبھی سے محبت کیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی

S M Afzal Imam

5 likes

حقیقت جتنی خوبصورت ہے حقیقت جتنی خوبصورت ہے اسے کیونکر ضرورت ہے کے زلفوں کو سنواردے حقیقت کے عادت کو سدھارے حقیقت لگائے سرخی ہونٹوں پر ہوں فلٹر چنو فوٹو پر کے خود کو بارہا دیکھے کے گھنٹوں آئی لگ دیکھے حقیقت جتنی خوبصورت ہے اسے کیوںکر ضرورت ہے کے لہجہ نرم ہوں ا سے کا شرافت دھرم ہوں ا سے کا کے ہونٹوں کو ذرا بھینچے نظر اپنی رکھے نیچے کوئی وعدہ نبھائے حقیقت کسی سے دل لگائے حقیقت حقیقت جتنی خوبصورت ہے اسے کیونکر ضرورت ہے

S M Afzal Imam

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on S M Afzal Imam.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with S M Afzal Imam's nazm.