نجم محبت محبت ہے وہ ہے وہ کوئی لڑکا محبت ہے وہ ہے وہ کوئی لڑکی کبھی جب مبتلا ہوتے تو اپنوں سے جدا ہوتے جو حاصل ہوں تو پاگل پن جو لا حاصل تو پاگل پن محبت ہے وہ ہے وہ اذیت ہے مجھے ا سے سے شکایت ہے محبت شخصیت ہے جو بے حد خودغرض ہوتی ہے بے حد کم ظرف ہوتی ہے بھلا دیتی ہے دنیا کو بسا لیتی نئی دنیا محبت ہے وہ ہے وہ نہیں کرتا محبت کا مخالف ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ڈرتا ہوں محبت سے محبت درد دیتی ہے محبت جان لیتی ہے محبت بیوقوفی ہے
Related Nazm
''चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ'' चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ जो लफ़्ज़ कहूँ वो हो जाए बस अश्क कहूँ तो एक आँसू तेरे गोरे गाल को धो जाए मैं आ लिक्खूँ तू आ जाए मैं बैठ लिक्खूँ तू आ बैठे मेरे शाने पर सर रक्खे तू मैं नींद कहूँ तू सो जाए मैं काग़ज़ पर तेरे होंठ लिक्खूँ तेरे होंठों पर मुस्कान आए मैं दिल लिक्खूँ तू दिल था में मैं गुम लिक्खूँ वो खो जाए तेरे हाथ बनाऊँ पेंसिल से फिर हाथ पे तेरे हाथ रखूँ कुछ उल्टा सीधा फ़र्ज़ करूँँ कुछ सीधा उल्टा हो जाए मैं आह लिखूँ तू हाए करे बेचैन लिखूँ बेचैन हो तू फिर बेचैन का बे काटूँ तुझे चैन ज़रा सा हो जाए अभी ऐन लिखूँ तू सोचे मुझे फिर शीन लिखूँ तेरी नींद उड़े जब क़ाफ़ लिखूँ तुझे कुछ कुछ हो मैं इश्क़ लिखूँ तुझे हो जाए
Amir Ameer
295 likes
یاد ہے پہلے روز کہا تھا یاد ہے پہلے روز کہا تھا پھروں نہ کہنا غلطی دل کی پیار سمجھ کے کرنا لڑکی پیار نبھانا ہوتا ہے پھروں پار لگانا ہوتا ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا ساتھ چلو تو پورے سفر تک مر جانے کی اگلی خبر تک سمجھو یار خدا تک ہوگا سارا پیار وفا تک ہوگا پھروں یہ بندھن توڑ نہ جانا چھوڑ گئے تو پھروں نہ آنا چھوڑ دیا جو تیرا نہیں ہے چلا گیا جو میرا نہیں ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا یا تو ٹوٹ کے پیار نہ کرنا یا پھروں پیٹھ پہ وار نہ کرنا جب نادانی ہو جاتی ہے نئی کہانی ہو جاتی ہے نئی کہانی لکھ لاوں گا اگلے روز میں بک جاؤں گا تیرے گل جب کھیل جائیں گے مجھ کو پیسے مل جائیں گے یاد ہے پہلے روز کہا تھا بچھڑ گئے تو موج اڑانا واپس میرے پاس نہ آنا جب کوئی جا کر واپس آئے روئے تڑپے یا پچھتائے میں پھروں اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں گم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوں
Khalil Ur Rehman Qamar
191 likes
"हम मिलेंगे कहीं" हम मिलेंगे कहीं अजनबी शहर की ख़्वाब होती हुई शाहराओं पे और शाहराओं पे फैली हुई धूप में एक दिन हम कहीं साथ होगे वक़्त की आँधियों से अटी साहतों पर से मिट्टी हटाते हुए एक ही जैसे आँसू बहाते हुए हम मिलेंगे घने जंगलो की हरी घास पर और किसी शाख़-ए-नाज़ुक पर पड़ते हुए बोझ की दास्तानों में खो जाएँगे हम सनोबर के पेड़ों की नोकीले पत्तों से सदियों से सोए हुए देवताओं की आँखें चभो जाएँगे हम मिलेंगे कहीं बर्फ़ के बाजुओं में घिरे पर्वतों पर बाँझ क़ब्रो में लेटे हुए कोह पेमाओं की याद में नज़्म कहते हुए जो पहाड़ों की औलाद थे, और उन्हें वक़्त आने पर माँ बाप ने अपनी आग़ोश में ले लिया हम मिलेंगे कही शाह सुलेमान के उर्स में हौज़ की सीढियों पर वज़ू करने वालो के शफ़्फ़ाफ़ चेहरों के आगे संगेमरमर से आरस्ता फ़र्श पर पैर रखते हुए आह भरते हुए और दरख़्तों को मन्नत के धागो से आज़ाद करते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं नार मेंडी के साहिल पे आते हुए अपने गुम गश्तरश्तो की ख़ाक-ए-सफ़र से अटी वर्दियों के निशाँ देख कर मराकिस से पलटे हुए एक जर्नेल की आख़िरी बात पर मुस्कुराते हुए इक जहाँ जंग की चोट खाते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं रूस की दास्ताओं की झूठी कहानी पे आँखों में हैरत सजाए हुए, शाम लेबनान बेरूत की नरगिसी चश्मूरों की आमद के नोहू पे हँसते हुए, ख़ूनी कज़ियो से मफ़लूह जलबानियाँ के पहाड़ी इलाक़ों में मेहमान बन कर मिलेंगे हम मिलेंगे एक मुर्दा ज़माने की ख़ुश रंग तहज़ीब में ज़स्ब होने के इमकान में इक पुरानी इमारत के पहलू में उजड़े हुए लाँन में और अपने असीरों की राह देखते पाँच सदियों से वीरान ज़िंदान में हम मिलेंगे तमन्नाओं की छतरियों के तले, ख़्वाहिशों की हवाओं के बेबाक बोसो से छलनी बदन सौंपने के लिए रास्तों को हम मिलेंगे ज़मीं से नमूदार होते हुए आठवें बर्रे आज़म में उड़ते हुए कालीन पर हम मिलेंगे किसी बार में अपनी बकाया बची उम्र की पायमाली के जाम हाथ में लेंगे और एक ही घूंट में हम ये सैयाल अंदर उतारेंगे और होश आने तलक गीत गायेंगे बचपन के क़िस्से सुनाता हुआ गीत जो आज भी हम को अज़बर है बेड़ी बे बेड़ी तू ठिलदी तपईये पते पार क्या है पते पार क्या है? हम मिलेंगे बाग़ में, गाँव में, धूप में, छाँव में, रेत में, दश्त में, शहर में, मस्जिदों में, कलीसो में, मंदिर में, मेहराब में, चर्च में, मूसलाधार बारिश में, बाज़ार में, ख़्वाब में, आग में, गहरे पानी में, गलियों में, जंगल में और आसमानों में कोनो मकाँ से परे गैर आबद सैयाराए आरज़ू में सदियों से ख़ाली पड़ी बेंच पर जहाँ मौत भी हम से दस्तो गरेबाँ होगी, तो बस एक दो दिन की मेहमान होगी
Tehzeeb Hafi
236 likes
رمز جاناں جب آوگی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے مری تنہائی ہے وہ ہے وہ خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں مری کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں مری کمرے ہے وہ ہے وہ کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر ان ہے وہ ہے وہ اک رمز ہے ج سے رمز کا مارا ہوا ذہن مژدہ عشرت انجام نہیں پا سکتا زندگی ہے وہ ہے وہ کبھی آرام نہیں پا سکتا
Jaun Elia
216 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
More from S M Afzal Imam
حقیقت لڑکی یاد آتی ہے بلا کی خوبصورت تھی حقیقت چلتی پھرتی مورت تھی مری دل کی ضرورت تھی حقیقت لڑکی یاد آتی ہے سلیقے سے ذرا شہری سمندر سی م گر گہری نظر مری ج ہاں ٹھہری حقیقت لڑکی یاد آتی ہے کہ ج سے بن دل نہیں بہلائے زبان کے بن بھی سب کہ لے جسے دیکھا بے حد پہلے حقیقت لڑکی یاد آتی ہے بے حد فرصت سے دیکھا تھا بے حد الفت سے دیکھا تھا بڑی شدت سے دیکھا تھا حقیقت لڑکی یاد آتی ہے بہکتے دن حسین راتیں سبھی دلکش سجدہ بیتاب حقیقت ا سے کی بے سبب باتیں حقیقت لڑکی یاد آتی ہے جب ا سے کا نام سنتا ہوں جب ا سے کے خواب بنتا ہوں سنہرے لمحے چنتا ہوں حقیقت لڑکی یاد آتی ہے
S M Afzal Imam
0 likes
ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی ہماری یوں ہی زندگی لی گئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے ہمیشہ قریبی رہی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان کے چکر ہے وہ ہے وہ رسوا ہوئے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت کا وعدہ ہوا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے محبت کا نارا دیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی کبھی عاشقوں کے مسیحا تھے ہم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سبھی سے محبت کیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی
S M Afzal Imam
5 likes
حقیقت جتنی خوبصورت ہے حقیقت جتنی خوبصورت ہے اسے کیونکر ضرورت ہے کے زلفوں کو سنواردے حقیقت کے عادت کو سدھارے حقیقت لگائے سرخی ہونٹوں پر ہوں فلٹر چنو فوٹو پر کے خود کو بارہا دیکھے کے گھنٹوں آئی لگ دیکھے حقیقت جتنی خوبصورت ہے اسے کیوںکر ضرورت ہے کے لہجہ نرم ہوں ا سے کا شرافت دھرم ہوں ا سے کا کے ہونٹوں کو ذرا بھینچے نظر اپنی رکھے نیچے کوئی وعدہ نبھائے حقیقت کسی سے دل لگائے حقیقت حقیقت جتنی خوبصورت ہے اسے کیونکر ضرورت ہے
S M Afzal Imam
1 likes
تمہاری یاد تمہاری یاد آتے ہی دل کو تھام لیتا ہوں تمہیں ہی یاد کرتا ہوں تمہارا نام لیتا ہوں تمہاری یاد لاتی ہے تبسم مری چہرے پر خیالوں ہے وہ ہے وہ سنورتا ہوں نکل آتے سنہرے پر تمہارا یاد آنا زندگی دشوار ہونا ہے تمہاری یاد کھو جانا میرا بیمار ہونا ہے تمہاری یاد آتی ہے تو سب کچھ بھول جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب کچھ بھول جاتا ہوں تمہاری یاد آتی ہے تمہاری یاد آتی ہے تو آنکھیں بند کرتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھیں بند کرتا ہوں تمہاری یاد آتی ہے تمہاری یاد آنے سے تمہاری یاد جانے تک جو وقفہ بھی گزر تا ہے تمہاری یاد آتی ہے
S M Afzal Imam
10 likes
Similar Writers
Our suggestions based on S M Afzal Imam.
Similar Moods
More moods that pair well with S M Afzal Imam's nazm.







