حقیقت جتنی خوبصورت ہے حقیقت جتنی خوبصورت ہے اسے کیونکر ضرورت ہے کے زلفوں کو سنواردے حقیقت کے عادت کو سدھارے حقیقت لگائے سرخی ہونٹوں پر ہوں فلٹر چنو فوٹو پر کے خود کو بارہا دیکھے کے گھنٹوں آئی لگ دیکھے حقیقت جتنی خوبصورت ہے اسے کیوںکر ضرورت ہے کے لہجہ نرم ہوں ا سے کا شرافت دھرم ہوں ا سے کا کے ہونٹوں کو ذرا بھینچے نظر اپنی رکھے نیچے کوئی وعدہ نبھائے حقیقت کسی سے دل لگائے حقیقت حقیقت جتنی خوبصورت ہے اسے کیونکر ضرورت ہے
Related Nazm
مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ
Afkar Alvi
78 likes
لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں روح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیں روح کیا ہوتی ہے اس سے انہیں مطلب ہی نہیں وہ تو بس تن کے تقاضوں کا کہا مانتے ہیں روح مر جاتے ہیں تو یہ جسم ہے چلتی ہوئی لاش اس حقیقت کو نہ سمجھتے ہیں نہ پہچانتے ہیں کتنی صدیوں سے یہ وحشت کا چلن جاری ہے کتنی صدیوں سے ہے قائم یہ گناہوں کا رواج لوگ عورت کی ہر اک چیخ اٹھیں کو نغمہ سمجھے وہ قبیلوں کا زمانہ ہو کہ شہروں کا رواج جبر سے نسل بڑھے ظلم سے تن میل کریں یہ عمل ہم میں ہے بے علم پرندوں میں نہیں ہم جو انسانوں کی برزخ لیے پھرتے ہیں ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں اک بجھی روح لوٹے جسم کے ڈھانچے میں لیے سوچتی ہوں میں کہاں جا کے مقدر پھوڑوں میں نہ زندہ ہوں کہ مرنے کا سہارا ڈھونڈوں اور نہ مردہ ہوں کہ جینے کے غموں سے چھوٹوں کون سفارشوں مجھ کو کسے جا کر پوچھوں زندگی قہر کے سانچوں میں ڈھلےگی کب تک کب تلک آنکھ نہ کھولےگا زمانے کا ضمیر ظلم اور جبر کی یہ ریت چلےگی کب تک <b
Sahir Ludhianvi
12 likes
اسے کہنا چیزیں سے محبت تو نہیں مرتی بچھڑ جانا محبت کی صداقت کی علامت ہے محبت ایک فطرت ہے ہاں فطرت کب بدلتی ہے سو جب ہم دور ہوں جائیں نئے رشتوں ہے وہ ہے وہ کھو جائیں تو یہ مت سوچ لینا جاناں کے محبت مر گئی ہوں گی نہیں ایسے نہیں ہوگا مری بارے ہے وہ ہے وہ گر تمہاری آنکھیں بھر آئیں چھلک کر ایک بھی آنسو پلک پہ جو اتر آئی تو ب سے اتنا سمجھ لینا جو مری نام سے اتنی تری دل کو عقیدت ہے تری دل ہے وہ ہے وہ بچھڑ کر بھی ابھی مری محبت ہے محبت تو بچھڑ کر بھی صدا آباد رہتی ہے محبت ہوں کسی سے تو ہمیشہ یاد رہتی ہے محبت سمے کے بے رحم طوفان سے نہیں ڈرتی
Mohsin Naqvi
10 likes
چار زندگی سب کو ملا ہے چار زندگی کا سفر ماں کا پیٹ اور دنیا کا گھر چھوٹی سی قبر اور میدان حشر پہلی زندگی کا تصور ا گر ماں کا پیٹ جاناں کو آئےگا نظر نو مہینے ج سے نے کیا تھا دل پامال جاناں نے دیا کیا ا سے کا اجر دوسری زندگی دنیا کا گھر ج سے ہے وہ ہے وہ بسایا جاناں نے شہر تھی چار دن کی زندگی م گر ا سے پر لگا دی پوری عمر ملی جب موت کی سب کو خبر پچھتاننے لگے پھروں ہوا یہ اثر اہل و عیال بھی روئے ادھر ہوا تیار جنازہ ادھر بے رخی زندگی جس کا پیٹ قبر ہوں گے سب دور تجھے دفن کر آئیں گے فرشتے جیوںگی قبر پر لگے گا سوالوں کا ایک امبر دینا جواب تب خود کے بل پر جب پہنچےگی دنیا ا سے موڑ پر خوشگوار تک ہے قبر کا سفر چوتھی زندگی میدان حشر جدھر ملےگا نیکی ب گرا کا اجر سامنے ہوگا پل صراط سفر تیزی سے گزرےگا حقیقت ہی ا سے پر جو پڑھتا نماز مغرب سے عصر ج سے نے کیا بیت اللہ کا سفر ج سے نے بنایا نبی کو رہبر جنت ہے وہ ہے وہ ہوں گے محل اور شجر اور خوف ہے وہ ہے وہ ہوں گے آگ کے امبر لگ معلوم کتنی
ZafarAli Memon
14 likes
تلاش حق تلاش حق ہے گر تجھ کو نظر کو تیروں کے رکھ پر لگا دے تو ہدف کو دیکھ دنیا کے اسے پہچان ا سے کی جستجو ہے وہ ہے وہ رات دن لگ جا تجھے حق بھی ملےگا ا سے تلک جانے کا رستہ بھی م گر حقیقت راستہ چن لے تو پھروں تو زخم خانے کو ج گر بھی ساتھ لے آنا ستم پر مسکرانے کا ہنر بھی ساتھ لے آنا یہی ہے انتہا ا سے کی یہی انجام ہوتا ہے کہ ا سے رستے پہ چلنے کا یہی انعام ہوتا ہے م گر ا سے راستے پر زخم خانے کا مزہ کچھ اور ہے سن لے ی ہاں پر جان دینے کی جزا کچھ اور ہے سن لے ا گر تو عزم کر لے ب سے ذرا سا حوصلہ کر لے تو پھروں کل کیا پتا جب پھروں کوئی حق کا ہوں جوئندہ نشان رستے لہو کے تری کوئی نقش پا کر لے کہ یہ دنیا تو فانی ہے یہ جاں تو یوں بھی جانی ہے تلاش حق ہے گر تجھ کو نظر کو تیروں کے رکھ پر لگا دے تو
Dharmesh bashar
7 likes
More from S M Afzal Imam
حقیقت لڑکی یاد آتی ہے بلا کی خوبصورت تھی حقیقت چلتی پھرتی مورت تھی مری دل کی ضرورت تھی حقیقت لڑکی یاد آتی ہے سلیقے سے ذرا شہری سمندر سی م گر گہری نظر مری ج ہاں ٹھہری حقیقت لڑکی یاد آتی ہے کہ ج سے بن دل نہیں بہلائے زبان کے بن بھی سب کہ لے جسے دیکھا بے حد پہلے حقیقت لڑکی یاد آتی ہے بے حد فرصت سے دیکھا تھا بے حد الفت سے دیکھا تھا بڑی شدت سے دیکھا تھا حقیقت لڑکی یاد آتی ہے بہکتے دن حسین راتیں سبھی دلکش سجدہ بیتاب حقیقت ا سے کی بے سبب باتیں حقیقت لڑکی یاد آتی ہے جب ا سے کا نام سنتا ہوں جب ا سے کے خواب بنتا ہوں سنہرے لمحے چنتا ہوں حقیقت لڑکی یاد آتی ہے
S M Afzal Imam
0 likes
ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی ہماری یوں ہی زندگی لی گئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے ہمیشہ قریبی رہی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان کے چکر ہے وہ ہے وہ رسوا ہوئے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت کا وعدہ ہوا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے محبت کا نارا دیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی کبھی عاشقوں کے مسیحا تھے ہم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سبھی سے محبت کیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے محبت نہیں کی گئی
S M Afzal Imam
5 likes
نجم محبت محبت ہے وہ ہے وہ کوئی لڑکا محبت ہے وہ ہے وہ کوئی لڑکی کبھی جب مبتلا ہوتے تو اپنوں سے جدا ہوتے جو حاصل ہوں تو پاگل پن جو لا حاصل تو پاگل پن محبت ہے وہ ہے وہ اذیت ہے مجھے ا سے سے شکایت ہے محبت شخصیت ہے جو بے حد خودغرض ہوتی ہے بے حد کم ظرف ہوتی ہے بھلا دیتی ہے دنیا کو بسا لیتی نئی دنیا محبت ہے وہ ہے وہ نہیں کرتا محبت کا مخالف ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ڈرتا ہوں محبت سے محبت درد دیتی ہے محبت جان لیتی ہے محبت بیوقوفی ہے
S M Afzal Imam
0 likes
تمہاری یاد تمہاری یاد آتے ہی دل کو تھام لیتا ہوں تمہیں ہی یاد کرتا ہوں تمہارا نام لیتا ہوں تمہاری یاد لاتی ہے تبسم مری چہرے پر خیالوں ہے وہ ہے وہ سنورتا ہوں نکل آتے سنہرے پر تمہارا یاد آنا زندگی دشوار ہونا ہے تمہاری یاد کھو جانا میرا بیمار ہونا ہے تمہاری یاد آتی ہے تو سب کچھ بھول جاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب کچھ بھول جاتا ہوں تمہاری یاد آتی ہے تمہاری یاد آتی ہے تو آنکھیں بند کرتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھیں بند کرتا ہوں تمہاری یاد آتی ہے تمہاری یاد آنے سے تمہاری یاد جانے تک جو وقفہ بھی گزر تا ہے تمہاری یاد آتی ہے
S M Afzal Imam
10 likes
Similar Writers
Our suggestions based on S M Afzal Imam.
Similar Moods
More moods that pair well with S M Afzal Imam's nazm.







