لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں روح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیں روح کیا ہوتی ہے اس سے انہیں مطلب ہی نہیں وہ تو بس تن کے تقاضوں کا کہا مانتے ہیں روح مر جاتے ہیں تو یہ جسم ہے چلتی ہوئی لاش اس حقیقت کو نہ سمجھتے ہیں نہ پہچانتے ہیں کتنی صدیوں سے یہ وحشت کا چلن جاری ہے کتنی صدیوں سے ہے قائم یہ گناہوں کا رواج لوگ عورت کی ہر اک چیخ اٹھیں کو نغمہ سمجھے وہ قبیلوں کا زمانہ ہو کہ شہروں کا رواج جبر سے نسل بڑھے ظلم سے تن میل کریں یہ عمل ہم میں ہے بے علم پرندوں میں نہیں ہم جو انسانوں کی برزخ لیے پھرتے ہیں ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں اک بجھی روح لوٹے جسم کے ڈھانچے میں لیے سوچتی ہوں میں کہاں جا کے مقدر پھوڑوں میں نہ زندہ ہوں کہ مرنے کا سہارا ڈھونڈوں اور نہ مردہ ہوں کہ جینے کے غموں سے چھوٹوں کون سفارشوں مجھ کو کسے جا کر پوچھوں زندگی قہر کے سانچوں میں ڈھلےگی کب تک کب تلک آنکھ نہ کھولےگا زمانے کا ضمیر ظلم اور جبر کی یہ ریت چلےگی کب تک <b
Related Nazm
حقیقت لوگ بے حد خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے کرنے والے کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھروں آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
Faiz Ahmad Faiz
160 likes
تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے
Zubair Ali Tabish
117 likes
جاناں ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ باہوش ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری جسم کا جاناں خون ہوں جاناں سرد ہوں برسات بھی مری گرمیوں کی جاناں نومبر ہوں جاناں غزل ہوں ہوں جاناں شاعری مری لکھی نجم کی دھن ہوں مری ہنسی بھی جاناں مری خوشی بھی جاناں مری ای سے حیات کی ممنون ہوں جاناں دھوپ ہوں مری چھاؤں بھی جاناں سیاہ رات کا مون ہوں جاناں سن ہوں جاناں کاف بھی جاناں واو کے بعد کی نون ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں
ZafarAli Memon
25 likes
دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک
Ali Zaryoun
70 likes
بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س
Tahir Faraz
54 likes
More from Sahir Ludhianvi
"वो सुब्ह कभी तो आएगी" 1 वो सुब्ह कभी तो आएगी इन काली सदियों के सर से जब रात का आँचल ढलकेगा जब दुख के बादल पिघलेंगे जब सुख का सागर छलकेगा जब अंबर झूम के नाचेगा जब धरती नग़्में गाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी जिस सुब्ह की ख़ातिर जुग जुग से हम सब मर मर कर जीते हैं जिस सुब्ह के अमृत की धुन में हम ज़हर के प्याले पीते हैं इन भूखी प्यासी रूहों पर इक दिन तो करम फ़रमाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी माना कि अभी तेरे मेरे अरमानों की क़ीमत कुछ भी नहीं मिट्टी का भी है कुछ मोल मगर इंसानों की क़ीमत कुछ भी नहीं इंसानों की इज़्ज़त जब झूटे सिक्कों में न तौली जाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी दौलत के लिए जब औरत की इस्मत को न बेचा जाएगा चाहत को न कुचला जाएगा ग़ैरत को न बेचा जाएगा अपने काले करतूतों पर जब ये दुनिया शरमाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी बीतेंगे कभी तो दिन आख़िर ये भूख के और बेकारी के टूटेंगे कभी तो बुत आख़िर दौलत की इजारा-दारी के जब एक अनोखी दुनिया की बुनियाद उठाई जाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी मजबूर बुढ़ापा जब सूनी राहों की धूल न फाँकेगा मासूम लड़कपन जब गंदी गलियों में भीक न माँगेगा हक़ माँगने वालों को जिस दिन सूली न दिखाई जाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी फ़ाक़ों की चिताओं पर जिस दिन इंसाँ न जलाए जाएँगे सीनों के दहकते दोज़ख़ में अरमाँ न जलाए जाएँगे ये नरक से भी गंदी दुनिया जब स्वर्ग बनाई जाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी 2 वो सुब्ह हमीं से आएगी जब धरती करवट बदलेगी जब क़ैद से क़ैदी छूटेंगे जब पाप घरौंदे फूटेंगे जब ज़ुल्म के बंधन टूटेंगे उस सुब्ह को हम ही लाएँगे वो सुब्ह हमीं से आएगी वो सुब्ह हमीं से आएगी मनहूस समाजी ढाँचों में जब ज़ुल्म न पाले जाएँगे जब हाथ न काटे जाएँगे जब सर न उछाले जाएँगे जेलों के बिना जब दुनिया की सरकार चलाई जाएगी वो सुब्ह हमीं से आएगी संसार के सारे मेहनत-कश खेतों से मिलों से निकलेंगे बे-घर बे-दर बे-बस इंसाँ तारीक बिलों से निकलेंगे दुनिया अम्न और ख़ुश-हाली के फूलों से सजाई जाएगी वो सुब्ह हमीं से आएगी
Sahir Ludhianvi
0 likes
ساتھ یوں ہے وہ ہے وہ نے برسوں تمہارے لیے چاند تاروں بہاروں کے سپنے بنے حسن اور عشق کے گیت گاتا رہا آرزوؤں کے ایواں سجاتا رہا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارا مغنی تمہارے لیے جب بھی آیا نئے گیت لاتا رہا آج لیکن مری دامن چاک ہے وہ ہے وہ ہے وہ گرد راہ سفر کے سوا کچھ نہیں مری بربط کے سینے ہے وہ ہے وہ ن غموں کا دم گھٹ گیا تو تانیں چیخوں کے امبار ہے وہ ہے وہ دب گئی ہیں اور گیتوں کے سر ہچکیاں بن گئے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارا مغنی ہوں نغمہ نہیں ہوں اور نغمے کی تخلیق کا ساز و ساماں ساتھ یوں آج جاناں نے بھسم کر دیا ہے اور ہے وہ ہے وہ اپنا ٹوٹا ہوا ساز تھامے سرد لاشوں کے امبار کو تک رہا ہوں مری چاروں طرف موت کی وحشتیں من اندھیرا ہیں اور انساں کی حیوانیت جاگ اٹھی ہے بربریت کے خوں خوار افریت اپنے ناپاک جبڑوں کو کھولے خون پی پی کے غررا رہے ہیں بچے ماوں کی گودوں ہے وہ ہے وہ سے ہمیں ہوئے ہیں عصمتیں سر برہ لگ پریشان ہیں ہر طرف شور آہ و بکا ہے اور ہے وہ ہے وہ ا سے تباہی کے طوفان ہے وہ ہے وہ ہے وہ آگ اور خوں کے ہیجان ہے وہ ہے وہ ہے وہ<
Sahir Ludhianvi
2 likes
یہ کوچے یہ نیلامگھر دلکشی کے یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے کہاں ہیں کہاں ہے محافظ خودی کے جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں یہ پرپیچ گلیاں یہ بدنام بازار یہ گمنام راہی یہ بکھرنے کی جھنگار یہ عصمت کے سودے یہ سودوں پہ تکرار جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں یہ صدیوں سے بےخواب سہمی سی گلیاں یہ مسلی ہوئی ادھکلی زرد مصروف یہ بکتی ہوئی کھوکھلی رنگ رلیاں جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں حقیقت اجلے دریچوں ہے وہ ہے وہ پائل کی چھن چھن تھکی ہاری سانسوں پہ طبلے کی دھن دھن یہ بےروح کمروں ہے وہ ہے وہ کھانسی کی ٹھن ٹھن جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں یہ پھولوں کے گجرے یہ پیکوں کے چھینٹے یہ بےباک نظریں یہ گستاخ فکرے یہ ڈھلکے بدن اور یہ بیمار چہرے جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں یہاں پیر بھی آ چکے ہیں جواں بھی تنومند بیٹے بھی ابا میاں بھی یہ بیوی بھی ہے اور بہن بھی ہے ماں بھی جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی غضب کی ہمجنس رادھا کی بیٹی پیغمبر کی امت زلیخا کی بی
Sahir Ludhianvi
2 likes
حراس تیرے ہونٹوں پہ تبسم کی وہ ہلکی سی لکیر میرے اڑو میں رہ رہ کے جھلک اٹھتی ہے یوں اچانک تری آریض گلابی کا خیال آتا ہے جیسے ظلمت میں کوئی شمع بھڑک اٹھتی ہے تیرے پیرہن رنگیں کی جنوں خیز مہک خواب بن بن کے مری ذہن میں لہراتی ہے رات کی سرد خموشی میں ہر اک جھونکے سے تیرے انفاس تری جسم کی آنچ آتی ہے میں دستور ہوئے رازوں کو عیاں تو کر دوں لیکن ان رازوں کی تشہیر سے جی ڈرتا ہے رات کے خواب اجالے میں بیاں تو کر دوں ان حسین خوابوں کی تعبیر سے جی ڈرتا ہے تیری سانسوں کی تھکن تیری نگاہوں کا سکوت درحقیقت کوئی رنگین شرارت ہی نہ ہو میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں وہ تبسم وہ تکلم تری عادت ہی نہ ہو سوچتا ہوں کہ تجھے مل کے میں جس سوچ میں ہوں پہلے اس سوچ کا مقسوم سمجھ لوں تو کہوں میں تری شہر میں انجان ہوں پردیسی ہوں تیرے الطاف کا مفہوم سمجھ لوں تو کہوں کہیں ایسا نہ ہو پاؤں مری تھرا جائیں اور تری مرمریں بانہوں کا سہارا نہ ملے اشک بہتے رہیں خاموش سیہ راتوں میں اور تری ریشمی آنچل کا کنارہ نہ ملے
Sahir Ludhianvi
6 likes
تاج تری لیے اک مظہر الفت ہی صحیح تجھ کو ا سے وا گرا رنگیں سے عقیدت ہی صحیح مری محبوب کہی اور ملا کر مجھ سے بزم شاہی ہے وہ ہے وہ غریبوں کا گزر کیا معنی ثبت ج سے راہ ہے وہ ہے وہ ہوں سطوت شاہی کے نشان ا سے پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی مری محبوب پ سے پردہ تشہیر وفا تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا مردہ شا ہوں کے مقابر سے بہلنے والی اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا ان گنت لوگوں نے دنیا ہے وہ ہے وہ محبت کی ہے کون کہتا ہے کہ صادق لگ تھے جذبے ان کے لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں کیونکہ حقیقت لوگ بھی اپنی ہی طرح مفل سے تھے یہ عمارت و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار مطلق الحکم شہنشا ہوں کی عظمت کے ستون سی لگ دہر کے ناسور ہیں کہ لگ ناسور جذب ہے ان ہے وہ ہے وہ تری اور مری ٹھی سے کا خوں مری محبوب ا نہیں بھی تو محبت ہوں گی جن کی ثنائی نے بخشی ہے اسے شکل جمیل ان کے پیارو کے مقابر رہے بےنام و نمود آج تک ان پہ جلائی لگ کسی نے قندیل یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محل یہ م نقش در و دی
Sahir Ludhianvi
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Sahir Ludhianvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Sahir Ludhianvi's nazm.







