nazmKuch Alfaaz

"वो सुब्ह कभी तो आएगी" 1 वो सुब्ह कभी तो आएगी इन काली सदियों के सर से जब रात का आँचल ढलकेगा जब दुख के बादल पिघलेंगे जब सुख का सागर छलकेगा जब अंबर झूम के नाचेगा जब धरती नग़्में गाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी जिस सुब्ह की ख़ातिर जुग जुग से हम सब मर मर कर जीते हैं जिस सुब्ह के अमृत की धुन में हम ज़हर के प्याले पीते हैं इन भूखी प्यासी रूहों पर इक दिन तो करम फ़रमाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी माना कि अभी तेरे मेरे अरमानों की क़ीमत कुछ भी नहीं मिट्टी का भी है कुछ मोल मगर इंसानों की क़ीमत कुछ भी नहीं इंसानों की इज़्ज़त जब झूटे सिक्कों में न तौली जाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी दौलत के लिए जब औरत की इस्मत को न बेचा जाएगा चाहत को न कुचला जाएगा ग़ैरत को न बेचा जाएगा अपने काले करतूतों पर जब ये दुनिया शरमाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी बीतेंगे कभी तो दिन आख़िर ये भूख के और बेकारी के टूटेंगे कभी तो बुत आख़िर दौलत की इजारा-दारी के जब एक अनोखी दुनिया की बुनियाद उठाई जाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी मजबूर बुढ़ापा जब सूनी राहों की धूल न फाँकेगा मासूम लड़कपन जब गंदी गलियों में भीक न माँगेगा हक़ माँगने वालों को जिस दिन सूली न दिखाई जाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी फ़ाक़ों की चिताओं पर जिस दिन इंसाँ न जलाए जाएँगे सीनों के दहकते दोज़ख़ में अरमाँ न जलाए जाएँगे ये नरक से भी गंदी दुनिया जब स्वर्ग बनाई जाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी 2 वो सुब्ह हमीं से आएगी जब धरती करवट बदलेगी जब क़ैद से क़ैदी छूटेंगे जब पाप घरौंदे फूटेंगे जब ज़ुल्म के बंधन टूटेंगे उस सुब्ह को हम ही लाएँगे वो सुब्ह हमीं से आएगी वो सुब्ह हमीं से आएगी मनहूस समाजी ढाँचों में जब ज़ुल्म न पाले जाएँगे जब हाथ न काटे जाएँगे जब सर न उछाले जाएँगे जेलों के बिना जब दुनिया की सरकार चलाई जाएगी वो सुब्ह हमीं से आएगी संसार के सारे मेहनत-कश खेतों से मिलों से निकलेंगे बे-घर बे-दर बे-बस इंसाँ तारीक बिलों से निकलेंगे दुनिया अम्न और ख़ुश-हाली के फूलों से सजाई जाएगी वो सुब्ह हमीं से आएगी

Related Nazm

اداسی عبارت جو اداسی نے لکھی ہے بدن ا سے کا غزل سا ریشمی ہے کسی کی پا سے آتی آہٹوں سے اداسی اور گہری ہوں چلی ہے چھری اچھل پڑتی ہیں لہریں چاند تک جب سمندر کی اداسی ٹوٹتی ہے اداسی کے پرندوں جاناں ک ہاں ہوں مری تنہائی جاناں کو ڈھونڈتی ہے مری گھر کی گھنی تاری کیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اداسی بالب سی جلتی رہی ہے اداسی اوڑھے حقیقت بوڑھی حویلی لگ جانے ک سے کا رستہ دیکھتی ہے اداسی صبح کا معصوم جھرنا اداسی شام کی بہتی ن گرا ہے

Sandeep Thakur

21 likes

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

باتیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور میری قلم 9 بات کرتے ہیں یہ چاند سورج کیا لگتے ہیں یہ دونوں اس کا کی آنکھیں ہیں تو پھروں یہ تارے کیا ہیں سب تارے اس کا کی بالی ہیں تو بادل کیا لگتے ہیں پھروں یہ بادل اس کا کی زلفیں ہیں تو خوشبو کیا لگتا ہے یہ خوشبو ہے نتھ اس کا کی یہ موسم کیا لگتے ہیں پھروں سب موسم اس کا کے نخرے ہیں تو پھروں ہوا کیا لگتی ہے ہوا تو اس کا کا آنچل ہے یہ ندیاں تو پھروں رہ گئیں یہ ندیاں اس کا کا کنگن ہیں تو پھروں سمندر کیا ہوا یہ سمندر پائل ہے اس کا کی پھروں پرکرتی کیا لگتی ہے یہ پرکرتی اس کا کی ساڑی ہے یہ پوری دھرتی رہ گئی یہ دھرتی اس کا کی گود ہے ان سب ہے وہ ہے وہ پھروں جاناں کیا ہوں مجھ کو اس کا کا دل سمجھ لو تمہارا دل پھروں کیا ہوا اس کا کا کے دل ہے وہ ہے وہ پھول سمجھ لو اس کا کا کے دل ہے وہ ہے وہ اگتا ہے اس کا کا کے دل ہے وہ ہے وہ کھلتا ہے اس کا کا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی پھروں ملتا ہے روز صبح سے رات تک دیکھنے مجھ کو آتا ہے ساتھ حقیقت ہر پل چلتا ہے کنگن پائل کھنکھاتا ہے<

Divya 'Kumar Sahab'

27 likes

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ

Faiz Ahmad Faiz

73 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

More from Sahir Ludhianvi

حراس تیرے ہونٹوں پہ تبسم کی وہ ہلکی سی لکیر میرے اڑو میں رہ رہ کے جھلک اٹھتی ہے یوں اچانک تری آریض گلابی کا خیال آتا ہے جیسے ظلمت میں کوئی شمع بھڑک اٹھتی ہے تیرے پیرہن رنگیں کی جنوں خیز مہک خواب بن بن کے مری ذہن میں لہراتی ہے رات کی سرد خموشی میں ہر اک جھونکے سے تیرے انفاس تری جسم کی آنچ آتی ہے میں دستور ہوئے رازوں کو عیاں تو کر دوں لیکن ان رازوں کی تشہیر سے جی ڈرتا ہے رات کے خواب اجالے میں بیاں تو کر دوں ان حسین خوابوں کی تعبیر سے جی ڈرتا ہے تیری سانسوں کی تھکن تیری نگاہوں کا سکوت درحقیقت کوئی رنگین شرارت ہی نہ ہو میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں وہ تبسم وہ تکلم تری عادت ہی نہ ہو سوچتا ہوں کہ تجھے مل کے میں جس سوچ میں ہوں پہلے اس سوچ کا مقسوم سمجھ لوں تو کہوں میں تری شہر میں انجان ہوں پردیسی ہوں تیرے الطاف کا مفہوم سمجھ لوں تو کہوں کہیں ایسا نہ ہو پاؤں مری تھرا جائیں اور تری مرمریں بانہوں کا سہارا نہ ملے اشک بہتے رہیں خاموش سیہ راتوں میں اور تری ریشمی آنچل کا کنارہ نہ ملے

Sahir Ludhianvi

6 likes

ساتھ یوں ہے وہ ہے وہ نے برسوں تمہارے لیے چاند تاروں بہاروں کے سپنے بنے حسن اور عشق کے گیت گاتا رہا آرزوؤں کے ایواں سجاتا رہا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارا مغنی تمہارے لیے جب بھی آیا نئے گیت لاتا رہا آج لیکن مری دامن چاک ہے وہ ہے وہ ہے وہ گرد راہ سفر کے سوا کچھ نہیں مری بربط کے سینے ہے وہ ہے وہ ن غموں کا دم گھٹ گیا تو تانیں چیخوں کے امبار ہے وہ ہے وہ دب گئی ہیں اور گیتوں کے سر ہچکیاں بن گئے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارا مغنی ہوں نغمہ نہیں ہوں اور نغمے کی تخلیق کا ساز و ساماں ساتھ یوں آج جاناں نے بھسم کر دیا ہے اور ہے وہ ہے وہ اپنا ٹوٹا ہوا ساز تھامے سرد لاشوں کے امبار کو تک رہا ہوں مری چاروں طرف موت کی وحشتیں من اندھیرا ہیں اور انساں کی حیوانیت جاگ اٹھی ہے بربریت کے خوں خوار افریت اپنے ناپاک جبڑوں کو کھولے خون پی پی کے غررا رہے ہیں بچے ماوں کی گودوں ہے وہ ہے وہ سے ہمیں ہوئے ہیں عصمتیں سر برہ لگ پریشان ہیں ہر طرف شور آہ و بکا ہے اور ہے وہ ہے وہ ا سے تباہی کے طوفان ہے وہ ہے وہ ہے وہ آگ اور خوں کے ہیجان ہے وہ ہے وہ ہے وہ<

Sahir Ludhianvi

2 likes

یہ کوچے یہ نیلامگھر دلکشی کے یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے کہاں ہیں کہاں ہے محافظ خودی کے جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں یہ پرپیچ گلیاں یہ بدنام بازار یہ گمنام راہی یہ بکھرنے کی جھنگار یہ عصمت کے سودے یہ سودوں پہ تکرار جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں یہ صدیوں سے بےخواب سہمی سی گلیاں یہ مسلی ہوئی ادھکلی زرد مصروف یہ بکتی ہوئی کھوکھلی رنگ رلیاں جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں حقیقت اجلے دریچوں ہے وہ ہے وہ پائل کی چھن چھن تھکی ہاری سانسوں پہ طبلے کی دھن دھن یہ بےروح کمروں ہے وہ ہے وہ کھانسی کی ٹھن ٹھن جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں یہ پھولوں کے گجرے یہ پیکوں کے چھینٹے یہ بےباک نظریں یہ گستاخ فکرے یہ ڈھلکے بدن اور یہ بیمار چہرے جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں یہاں پیر بھی آ چکے ہیں جواں بھی تنومند بیٹے بھی ابا میاں بھی یہ بیوی بھی ہے اور بہن بھی ہے ماں بھی جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی غضب کی ہمجنس رادھا کی بیٹی پیغمبر کی امت زلیخا کی بی

Sahir Ludhianvi

2 likes

آؤ کہ آج غور کریں ا سے سوال پر دیکھے تھے ہم نے جو حقیقت حسین خواب کیا ہوئے دولت بڑھی تو ملک ہے وہ ہے وہ افلا سے کیوں بڑھا خوش حالی عوام کے اسباب کیا ہوئے جو اپنے ساتھ ساتھ چلے کو دار تک حقیقت دوست حقیقت رفیق حقیقت احباب کیا ہوئے کیا مول لگ رہا ہے شہیدوں کے خون کا مرتے تھے جن پہ ہم حقیقت سزا یاب کیا ہوئے بے ک سے برہنگی کو کفن تک نہیں نصیب حقیقت وعدہ ہا اطل سے و کم خواب کیا ہوئے جمہوریت نواز بشر دوست امن خواہ خود کو جو خود دیے تھے حقیقت القاب کیا ہوئے مذہب کا روگ آج بھی کیوں لا علاج ہے حقیقت نسخہ ہا نادر و نایاب کیا ہوئے ہر کوچہ شعلہ زار ہے ہر شہر قتل گاہ یکجہتی حیات کے صاحب کردار کیا ہوئے صحرا تیرگی ہے وہ ہے وہ سوچنے ہے زندگی ابھرے تھے جو پیام عشق پہ حقیقت مہتاب کیا ہوئے مجرم ہوں ہے وہ ہے وہ ا گر تو گنہگار جاناں بھی ہوں اے رہبرنا قوم اعتباری کار جاناں بھی ہوں

Sahir Ludhianvi

3 likes

لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں روح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیں روح کیا ہوتی ہے اس سے انہیں مطلب ہی نہیں وہ تو بس تن کے تقاضوں کا کہا مانتے ہیں روح مر جاتے ہیں تو یہ جسم ہے چلتی ہوئی لاش اس حقیقت کو نہ سمجھتے ہیں نہ پہچانتے ہیں کتنی صدیوں سے یہ وحشت کا چلن جاری ہے کتنی صدیوں سے ہے قائم یہ گناہوں کا رواج لوگ عورت کی ہر اک چیخ اٹھیں کو نغمہ سمجھے وہ قبیلوں کا زمانہ ہو کہ شہروں کا رواج جبر سے نسل بڑھے ظلم سے تن میل کریں یہ عمل ہم میں ہے بے علم پرندوں میں نہیں ہم جو انسانوں کی برزخ لیے پھرتے ہیں ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں اک بجھی روح لوٹے جسم کے ڈھانچے میں لیے سوچتی ہوں میں کہاں جا کے مقدر پھوڑوں میں نہ زندہ ہوں کہ مرنے کا سہارا ڈھونڈوں اور نہ مردہ ہوں کہ جینے کے غموں سے چھوٹوں کون سفارشوں مجھ کو کسے جا کر پوچھوں زندگی قہر کے سانچوں میں ڈھلےگی کب تک کب تلک آنکھ نہ کھولےگا زمانے کا ضمیر ظلم اور جبر کی یہ ریت چلےگی کب تک <b

Sahir Ludhianvi

12 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Sahir Ludhianvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Sahir Ludhianvi's nazm.