nazmKuch Alfaaz

تاج تری لیے اک مظہر الفت ہی صحیح تجھ کو ا سے وا گرا رنگیں سے عقیدت ہی صحیح مری محبوب کہی اور ملا کر مجھ سے بزم شاہی ہے وہ ہے وہ غریبوں کا گزر کیا معنی ثبت ج سے راہ ہے وہ ہے وہ ہوں سطوت شاہی کے نشان ا سے پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی مری محبوب پ سے پردہ تشہیر وفا تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا مردہ شا ہوں کے مقابر سے بہلنے والی اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا ان گنت لوگوں نے دنیا ہے وہ ہے وہ محبت کی ہے کون کہتا ہے کہ صادق لگ تھے جذبے ان کے لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں کیونکہ حقیقت لوگ بھی اپنی ہی طرح مفل سے تھے یہ عمارت و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار مطلق الحکم شہنشا ہوں کی عظمت کے ستون سی لگ دہر کے ناسور ہیں کہ لگ ناسور جذب ہے ان ہے وہ ہے وہ تری اور مری ٹھی سے کا خوں مری محبوب ا نہیں بھی تو محبت ہوں گی جن کی ثنائی نے بخشی ہے اسے شکل جمیل ان کے پیارو کے مقابر رہے بےنام و نمود آج تک ان پہ جلائی لگ کسی نے قندیل یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محل یہ م نقش در و دی

Related Nazm

مشورہ بدلیںگے لوگ بدلیںگے ان کے تیور بھی جانے انجانے ہے وہ ہے وہ ہر تیور سمجھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے الفاظ کو دل و دماغ سے لکھتا ہوں دل ٹوٹا عاشق ہوں ہر رنگ کو پرکھتا ہوں اپنی ان حرکت اور بے وجہ پیار پر ہونے پر ایک شام خود ہے وہ ہے وہ کہیں کھٹکتا ہوں تصویر کو دیکھ کر تیری لے کر تیرا نام ان پرانی یاد ہے وہ ہے وہ ہر روز کہیں اطراف ہوں تیری سب چیز اور سب تحفوں کو خوب مشورہ ظفر سنوارت کر اور سنبھالے رکھتا ہوں بھول کر تجھ کو اپنے من سے رد کر کے تیری یادیں شروع کرنے ایک نئی زندگی صبح سویرے نکلتا ہوں بےوفا ہے وہ ہے وہ نہ تجھے کہونگا نہ ہی خود کو مطلبی رہو ہمیشہ جاناں خوشحال منتیں ا سے کی کرتا ہوں انکوں سن لو دوستوں آج ہے وہ ہے وہ جاناں کو کہتا ہوں پہلے رازی بھوک کو بعد ہی عشق کرنا روز ایسے کتنے عاشقوں ہے وہ ہے وہ دیکھتا بچھڑتا ہوں

ZafarAli Memon

14 likes

ا سے کی خوشیاں ساری جھیلیں سوکھ گئی ہیں ا سے کی آنکھیں سوکھ گئی ہیں پیڑوں پر پنچھی بھی چپ ہیں اس کا کا کو کوئی دکھ ہے شاید رستے سونے سونے ہیں سب ا سے نے ٹہلنا چھوڑ دیا ہے ساری غزلیں بے معنی ہیں ا سے نے پڑھنا چھوڑ دیا ہے حقیقت بھی ہنسنا بھول چکی ہے گلوں نے کھلنا چھوڑ دیا ہے ساون کا موسم جاری ہے زبان ا سے کا غم جاری ہے باقی موسم ٹال دیے ہیں سکھ کوئیں ہے وہ ہے وہ ڈال دیے ہیں چاند کو چھٹی دے دی گئی ہے تاروں کو شاہد و ساقی رکھا ہے آتش دان ہے وہ ہے وہ پھینک دی خوشیاں دل ہے وہ ہے وہ ب سے اک غم رکھا ہے خا لگ پینا چھوڑ دیا ہے سب سے رشتہ توڑ دیا ہے ہاں یہ خوشگوار آنے کو ہے ا سے نے جینا چھوڑ دیا ہے ہر دل خوش ہر چہرہ خوش ہوں حقیقت ہوں خوش تو دنیا خوش ہوں حقیقت اچھی تو سب اچھا ہے اور دنیا ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ہے یہ سب سن کر خدا نے بولا بول تیری اب خواہش کیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بولا مری خواہش مری خواہش ا سے کی خوشیاں خدا نے بولا تیری خواہش ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بولا ا سے کی خوشیاں ا سے کے علا

Varun Anand

30 likes

"मेरी दास्ताँ" वो दिन भी कितने अजीब थे जब हम दोनों क़रीब थे शबब-ए-हिज़्र न तू, न मैं सब अपने-अपने नसीब थे तू ही मेरी दुनिया थी मैं ही तेरा जहान था मुझे तेरे होने का ग़ुरूर था तुझे मेरे होने पर गुमान था तेरे साथ बिताए थे वो दिन वो राते कितनी हसीन थी उस कमरे में थी जन्नत सारी एक बिस्तर पर ही जमीन थी तेरी गोद में सर रख कर मैं गज़ले अपनी सुनाता था तू सुन कर शा'इरी सो जाती थी, मैं तेरी ख़ुशबू में खो जाता था मेरी कामयाबी की ख़बरें सुन मुझ सेे ज़्यादा झूमा करती थी वो बेवजह बातों-बातों में मेरा माथा चूमा करती थी मेरी हर परेशानी में वो मेरी हमदर्द थी,हम सेाया थी उस से बढ़कर कुछ न था बस वही एक सर्माया थी मुलाक़ात न हो तो कहती थी मैं कैसे आज सो पाऊंगी मुझे गले लगा कर कहती थी मैं तुम सेे जुदा ना हो पाऊंगी इक आईना थी वो मेरा उस सेे कुछ भी नहीं छुपा था हर चीज जानती थी मेरी मेरा सब कुछ उसे पता था यार वही चेहरे हैं अपने वही एहसास दिल में है फिर क्यूँ दूरियाँ बढ़ सी गई क्यूँ रिश्ते आज मुश्किल में है कई सवाल हैं दिल में एक-एक कर के सब सुनोगी क्या? मैं शुरू करता हूँ शुरू से अब सबका जवाब दोगी क्या क्यूँ लौटा दी अंगुठी मुझे? क्यूँ बदल गए सब इरादे तेरे? क्या हुआ तेरी सब क़समों का? अब कहाँ गए सब वादे तेरे? तेरे इन मेहंदी वाले हाथों में किसी ओर का अब नाम हैं इक हादसा हैं मेरे लिए ये माना तेरे लिए ईनाम हैं अपने हिज्र की वो पहली रात तब ख़याल तो मेरा आया होगा आई होगी सब यादें पुरानी मेरी बातों ने भी रुलाया होगा जैसे मुझ में कोई चीख रहा हैं मेरी रूह-रूह तक सो रही हैं मैं अपनी दास्तां लिख रहा हूँ और मेरी शा'इरी रो रही हैं बस यही इल्तिजा हैं ख़ुदा से कोई इतना भी प्यारा न बने कई सूरतें हो सामने नज़र के पर कोई हमारा ना बने

"Nadeem khan' Kaavish"

16 likes

اک خط مجھے لکھنا ہے دہلی ہے وہ ہے وہ بسے دل کو اک دن مجھے چکھنا ہے خاجہ تیری نگری کا خسرو تیری چوکھٹ سے اک شب مجھے پینی ہے لذت سخنوالی خوشبو اے وطن والی تاکتے تری مرقد کو اک شعر سنہانا ہے اک سانولی رنگت کو چپکے سے بتانا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل بھی ہوں دہلی بھی اردو بھی ہوں ہم رہی بھی اک خط مجھے لکھنا ہے ممکن ہے کبھی لکھوں ممکن ہے ابھی لکھوں

Ali Zaryoun

25 likes

ہم گھوم چکے بستی بن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک آ سے کی فان سے لیے من ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی ساجن ہوں کوئی پیارا ہوں کوئی دیپک ہوں کوئی تارا ہوں جب جیون رات اندھیری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں جب ساون بادل چھائی ہوں جب فاگن پھول کھلائے ہوں جب چندا روپ لٹاتا ہوں جب سورج دھوپ نہاتا ہوں یا شام نے بستی گھری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں ہاں دل کا دامن پھیلا ہے کیوں گوری کا دل میلا ہے ہم کب تک پیت کے دھوکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کب تک دور جھروکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب دید سے دل کو سیری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں کیا جھگڑا سود گٹھلیاں کا یہ کاج نہیں بنجارے کا سب سونا روپا لے جائے سب دنیا دنیا لے جائے جاناں ایک مجھے بہتری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں

Ibn E Insha

22 likes

More from Sahir Ludhianvi

ساتھ یوں ہے وہ ہے وہ نے برسوں تمہارے لیے چاند تاروں بہاروں کے سپنے بنے حسن اور عشق کے گیت گاتا رہا آرزوؤں کے ایواں سجاتا رہا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارا مغنی تمہارے لیے جب بھی آیا نئے گیت لاتا رہا آج لیکن مری دامن چاک ہے وہ ہے وہ ہے وہ گرد راہ سفر کے سوا کچھ نہیں مری بربط کے سینے ہے وہ ہے وہ ن غموں کا دم گھٹ گیا تو تانیں چیخوں کے امبار ہے وہ ہے وہ دب گئی ہیں اور گیتوں کے سر ہچکیاں بن گئے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارا مغنی ہوں نغمہ نہیں ہوں اور نغمے کی تخلیق کا ساز و ساماں ساتھ یوں آج جاناں نے بھسم کر دیا ہے اور ہے وہ ہے وہ اپنا ٹوٹا ہوا ساز تھامے سرد لاشوں کے امبار کو تک رہا ہوں مری چاروں طرف موت کی وحشتیں من اندھیرا ہیں اور انساں کی حیوانیت جاگ اٹھی ہے بربریت کے خوں خوار افریت اپنے ناپاک جبڑوں کو کھولے خون پی پی کے غررا رہے ہیں بچے ماوں کی گودوں ہے وہ ہے وہ سے ہمیں ہوئے ہیں عصمتیں سر برہ لگ پریشان ہیں ہر طرف شور آہ و بکا ہے اور ہے وہ ہے وہ ا سے تباہی کے طوفان ہے وہ ہے وہ ہے وہ آگ اور خوں کے ہیجان ہے وہ ہے وہ ہے وہ<

Sahir Ludhianvi

2 likes

"वो सुब्ह कभी तो आएगी" 1 वो सुब्ह कभी तो आएगी इन काली सदियों के सर से जब रात का आँचल ढलकेगा जब दुख के बादल पिघलेंगे जब सुख का सागर छलकेगा जब अंबर झूम के नाचेगा जब धरती नग़्में गाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी जिस सुब्ह की ख़ातिर जुग जुग से हम सब मर मर कर जीते हैं जिस सुब्ह के अमृत की धुन में हम ज़हर के प्याले पीते हैं इन भूखी प्यासी रूहों पर इक दिन तो करम फ़रमाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी माना कि अभी तेरे मेरे अरमानों की क़ीमत कुछ भी नहीं मिट्टी का भी है कुछ मोल मगर इंसानों की क़ीमत कुछ भी नहीं इंसानों की इज़्ज़त जब झूटे सिक्कों में न तौली जाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी दौलत के लिए जब औरत की इस्मत को न बेचा जाएगा चाहत को न कुचला जाएगा ग़ैरत को न बेचा जाएगा अपने काले करतूतों पर जब ये दुनिया शरमाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी बीतेंगे कभी तो दिन आख़िर ये भूख के और बेकारी के टूटेंगे कभी तो बुत आख़िर दौलत की इजारा-दारी के जब एक अनोखी दुनिया की बुनियाद उठाई जाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी मजबूर बुढ़ापा जब सूनी राहों की धूल न फाँकेगा मासूम लड़कपन जब गंदी गलियों में भीक न माँगेगा हक़ माँगने वालों को जिस दिन सूली न दिखाई जाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी फ़ाक़ों की चिताओं पर जिस दिन इंसाँ न जलाए जाएँगे सीनों के दहकते दोज़ख़ में अरमाँ न जलाए जाएँगे ये नरक से भी गंदी दुनिया जब स्वर्ग बनाई जाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी 2 वो सुब्ह हमीं से आएगी जब धरती करवट बदलेगी जब क़ैद से क़ैदी छूटेंगे जब पाप घरौंदे फूटेंगे जब ज़ुल्म के बंधन टूटेंगे उस सुब्ह को हम ही लाएँगे वो सुब्ह हमीं से आएगी वो सुब्ह हमीं से आएगी मनहूस समाजी ढाँचों में जब ज़ुल्म न पाले जाएँगे जब हाथ न काटे जाएँगे जब सर न उछाले जाएँगे जेलों के बिना जब दुनिया की सरकार चलाई जाएगी वो सुब्ह हमीं से आएगी संसार के सारे मेहनत-कश खेतों से मिलों से निकलेंगे बे-घर बे-दर बे-बस इंसाँ तारीक बिलों से निकलेंगे दुनिया अम्न और ख़ुश-हाली के फूलों से सजाई जाएगी वो सुब्ह हमीं से आएगी

Sahir Ludhianvi

0 likes

یہ کوچے یہ نیلامگھر دلکشی کے یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے کہاں ہیں کہاں ہے محافظ خودی کے جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں یہ پرپیچ گلیاں یہ بدنام بازار یہ گمنام راہی یہ بکھرنے کی جھنگار یہ عصمت کے سودے یہ سودوں پہ تکرار جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں یہ صدیوں سے بےخواب سہمی سی گلیاں یہ مسلی ہوئی ادھکلی زرد مصروف یہ بکتی ہوئی کھوکھلی رنگ رلیاں جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں حقیقت اجلے دریچوں ہے وہ ہے وہ پائل کی چھن چھن تھکی ہاری سانسوں پہ طبلے کی دھن دھن یہ بےروح کمروں ہے وہ ہے وہ کھانسی کی ٹھن ٹھن جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں یہ پھولوں کے گجرے یہ پیکوں کے چھینٹے یہ بےباک نظریں یہ گستاخ فکرے یہ ڈھلکے بدن اور یہ بیمار چہرے جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں یہاں پیر بھی آ چکے ہیں جواں بھی تنومند بیٹے بھی ابا میاں بھی یہ بیوی بھی ہے اور بہن بھی ہے ماں بھی جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی غضب کی ہمجنس رادھا کی بیٹی پیغمبر کی امت زلیخا کی بی

Sahir Ludhianvi

2 likes

حراس تیرے ہونٹوں پہ تبسم کی وہ ہلکی سی لکیر میرے اڑو میں رہ رہ کے جھلک اٹھتی ہے یوں اچانک تری آریض گلابی کا خیال آتا ہے جیسے ظلمت میں کوئی شمع بھڑک اٹھتی ہے تیرے پیرہن رنگیں کی جنوں خیز مہک خواب بن بن کے مری ذہن میں لہراتی ہے رات کی سرد خموشی میں ہر اک جھونکے سے تیرے انفاس تری جسم کی آنچ آتی ہے میں دستور ہوئے رازوں کو عیاں تو کر دوں لیکن ان رازوں کی تشہیر سے جی ڈرتا ہے رات کے خواب اجالے میں بیاں تو کر دوں ان حسین خوابوں کی تعبیر سے جی ڈرتا ہے تیری سانسوں کی تھکن تیری نگاہوں کا سکوت درحقیقت کوئی رنگین شرارت ہی نہ ہو میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں وہ تبسم وہ تکلم تری عادت ہی نہ ہو سوچتا ہوں کہ تجھے مل کے میں جس سوچ میں ہوں پہلے اس سوچ کا مقسوم سمجھ لوں تو کہوں میں تری شہر میں انجان ہوں پردیسی ہوں تیرے الطاف کا مفہوم سمجھ لوں تو کہوں کہیں ایسا نہ ہو پاؤں مری تھرا جائیں اور تری مرمریں بانہوں کا سہارا نہ ملے اشک بہتے رہیں خاموش سیہ راتوں میں اور تری ریشمی آنچل کا کنارہ نہ ملے

Sahir Ludhianvi

6 likes

मेरे ख़्वाबों के झरोकों को सजाने वाली तेरे ख़्वाबों में कहीं मेरा गुज़र है कि नहीं पूछ कर अपनी निगाहों से बता दे मुझ को मेरी रातों के मुक़द्दर में सहर है कि नहीं चार दिन की ये रिफ़ाक़त जो रिफ़ाक़त भी नहीं उम्र भर के लिए आज़ार हुई जाती है ज़िंदगी यूँ तो हमेशा से परेशान सी थी अब तो हर साँस गिरां-बार हुई जाती है मेरी उजड़ी हुई नींदों के शबिस्तानों में तू किसी ख़्वाब के पैकर की तरह आई है कभी अपनी सी कभी ग़ैर नज़र आई है कभी इख़्लास की मूरत कभी हरजाई है प्यार पर बस तो नहीं है मिरा लेकिन फिर भी तू बता दे कि तुझे प्यार करूँं या न करूँं तू ने ख़ुद अपने तबस्सुम से जगाया है जिन्हें उन तमन्नाओं का इज़हार करूँं या न करूँं तू किसी और के दामन की कली है लेकिन मेरी रातें तिरी ख़ुश्बू से बसी रहती हैं तू कहीं भी हो तिरे फूल से आरिज़ की क़सम तेरी पलकें मिरी आँखों पे झुकी रहती हैं तेरे हाथों की हरारत तिरे साँसों की महक तैरती रहती है एहसास की पहनाई में ढूंढ़ती रहती हैं तख़्ईल की बांहें तुझ को सर्द रातों की सुलगती हुई तन्हाई में तेरा अल्ताफ़-ओ- करम एक हक़ीक़त है मगर ये हक़ीक़त भी हक़ीक़त में फ़साना ही न हो तेरी मानूस निगाहों का ये मोहतात पयाम दिल के ख़ूँ करने का एक और बहाना ही न हो कौन जाने मिरे इमरोज़ का फ़र्दा क्या है क़ुर्बतें बढ़ के पशेमान भी हो जाती हैं दिल के दामन से लिपटती हुई रंगीं नज़रें देखते देखते अंजान भी हो जाती हैं मेरी दरमांदा जवानी की तमन्नाओं के मुज़्महिल ख़्वाब की ता'बीर बता दे मुझ को मेरा हासिल मेरी तक़दीर बता दे मुझ को

Sahir Ludhianvi

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Sahir Ludhianvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Sahir Ludhianvi's nazm.