nazmKuch Alfaaz

मेरे ख़्वाबों के झरोकों को सजाने वाली तेरे ख़्वाबों में कहीं मेरा गुज़र है कि नहीं पूछ कर अपनी निगाहों से बता दे मुझ को मेरी रातों के मुक़द्दर में सहर है कि नहीं चार दिन की ये रिफ़ाक़त जो रिफ़ाक़त भी नहीं उम्र भर के लिए आज़ार हुई जाती है ज़िंदगी यूँ तो हमेशा से परेशान सी थी अब तो हर साँस गिरां-बार हुई जाती है मेरी उजड़ी हुई नींदों के शबिस्तानों में तू किसी ख़्वाब के पैकर की तरह आई है कभी अपनी सी कभी ग़ैर नज़र आई है कभी इख़्लास की मूरत कभी हरजाई है प्यार पर बस तो नहीं है मिरा लेकिन फिर भी तू बता दे कि तुझे प्यार करूँं या न करूँं तू ने ख़ुद अपने तबस्सुम से जगाया है जिन्हें उन तमन्नाओं का इज़हार करूँं या न करूँं तू किसी और के दामन की कली है लेकिन मेरी रातें तिरी ख़ुश्बू से बसी रहती हैं तू कहीं भी हो तिरे फूल से आरिज़ की क़सम तेरी पलकें मिरी आँखों पे झुकी रहती हैं तेरे हाथों की हरारत तिरे साँसों की महक तैरती रहती है एहसास की पहनाई में ढूंढ़ती रहती हैं तख़्ईल की बांहें तुझ को सर्द रातों की सुलगती हुई तन्हाई में तेरा अल्ताफ़-ओ- करम एक हक़ीक़त है मगर ये हक़ीक़त भी हक़ीक़त में फ़साना ही न हो तेरी मानूस निगाहों का ये मोहतात पयाम दिल के ख़ूँ करने का एक और बहाना ही न हो कौन जाने मिरे इमरोज़ का फ़र्दा क्या है क़ुर्बतें बढ़ के पशेमान भी हो जाती हैं दिल के दामन से लिपटती हुई रंगीं नज़रें देखते देखते अंजान भी हो जाती हैं मेरी दरमांदा जवानी की तमन्नाओं के मुज़्महिल ख़्वाब की ता'बीर बता दे मुझ को मेरा हासिल मेरी तक़दीर बता दे मुझ को

Related Nazm

حال دل میری دلربا جاناں خوبصورت ہوں صورت سے نہیں سیرت سے مجھے تمہاری سیرت سے محبت ہے اسیلیے سیرت کا جانتا ہوں شرم دہشت پریشانی جنہیں سخن وروں کویوں نے عشق کی لذت بتایا ہے فیلحال یہ میرے درمیان آ رہے ہیں بہرحال میری چاہتیں تمہارے نفس ہے وہ ہے وہ دھڑکتی ہیں زندہ رہتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تمہیں دیکھا ہے دیکھتے ہوئے مجھے چاہتے ہوئے مجھے سوچتے ہوئے اور میرے لیے پریشان ہوتے ہوئے ویسے چاہت ہوں تو کہنا لازمی ہوتا ہے ضروری ہوتا ہے لیکن عشق کی ان میں ہے وہ ہے وہ لفظ خاموش رہتے ہیں اور نگاہیں بات کر لیتی ہیں مجھے پتا ہے ایک دن جاناں میری نگاہوں سے بات کر لوگی پوچھ لوگی اور تمہیں جواب ملےگا ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی چاہتا ہوں خوب چاہتا ہوں ویسے ہے وہ ہے وہ بھی اپنے جاؤں گا اپنی غزلوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت خوب لکھتا ہوں حالانکہ اپناپن یہ ہے کہ ہے وہ ہے وہ بھی کہنے ہے وہ ہے وہ خوف تقاضا ہوں ویسے برا نہ ماننا کہ ہے وہ ہے وہ نے جاناں سے کبھی اظہار نہیں کیا سوچ لینا کہ تھی

Rakesh Mahadiuree

25 likes

"ख़ूबसूरत अजनबी" मिला है सफ़र में मुझे एक चेहरा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत ख़ुदा ने बनाया है जो उसका मुखड़ा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत मुसलसल उसी को फ़क़त तक रहा हूँ उसी पर मैं इक नज़्म भी कह रहा हूँ वो रक्खी है जो अपने सर पर दुपट्टा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत बहुत क़ातिलाना है उसकी निगाहें बहुत जानलेवा है उसकी अदाएँ लगाई है जो उसने आँखों पे चश्मा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत उसे हूर कह के पुकारा है मैंने ज़रा गुफ़्तुगू करके देखा है मैंने उसे बात करने का जो है तरीक़ा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत है मालूम 'दानिश' वो इक अजनबी है मगर उसमें हरगिज़ न कोई कमी है जो गुज़रा है उसका मेरे साथ लम्हा बहुत ख़ूबसूरत बहुत ख़ूबसूरत

Danish Balliavi

12 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں

Tehzeeb Hafi

161 likes

جذبات جو یہ آنکھوں سے بہ رہا ہے کتنے ہم لاچار ہے جاناں سمجھو تو انتظار ہے ورنا کوئی انتظار نہیں تمہاری یاد ہے وہ ہے وہ ایسے ڈوبا چنو کوئی بیمار ہے جاناں سمجھو تو بے قرار ہے ورنا کوئی بے قرار نہیں جو مری دھڑکن چل رہی ہے ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے تمہارا نام ہے جاناں سمجھو تو یہ پکار ہے ورنا کوئی پکار نہیں ان ہاتھوں سے تمہاری زلفیں سنو ارنی ہیں ہر شام تمہارے ساتھ گزار لگ ہے جاناں سمجھو تو یہ دلار ہے ورنا کوئی دلار نہیں تمہارے ب سے دل ہے وہ ہے وہ جگہ نہیں تمہاری روح سے رشتہ چاہیے جاناں سمجھو تو یہ آر پار ہے ورنا کچھ آر پار نہیں تمہیں مل تو جائےگا مجھ سے اچھا سامنے تمہارے تو قطار ہے تمہیں پتا ہے نا تمہاری چاہت کا ب سے ایک حق دار ہے باقی کوئی حق دار نہیں تمہاری بان ہوں ہے وہ ہے وہ ہی سکون ملےگا مجھے سچ ک ہوں تو درکار ہے جاناں سمجھو تو یہ بہار ہے ورنا کہی بہار نہیں تمہاری گود ہے وہ ہے وہ آرام چاہیے تمہاری آواز ہے وہ ہے وہ ب سے اپنا نام چاہیے جاناں سمجھو تو یہ قرار ہے<br

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

More from Sahir Ludhianvi

ساتھ یوں ہے وہ ہے وہ نے برسوں تمہارے لیے چاند تاروں بہاروں کے سپنے بنے حسن اور عشق کے گیت گاتا رہا آرزوؤں کے ایواں سجاتا رہا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارا مغنی تمہارے لیے جب بھی آیا نئے گیت لاتا رہا آج لیکن مری دامن چاک ہے وہ ہے وہ ہے وہ گرد راہ سفر کے سوا کچھ نہیں مری بربط کے سینے ہے وہ ہے وہ ن غموں کا دم گھٹ گیا تو تانیں چیخوں کے امبار ہے وہ ہے وہ دب گئی ہیں اور گیتوں کے سر ہچکیاں بن گئے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارا مغنی ہوں نغمہ نہیں ہوں اور نغمے کی تخلیق کا ساز و ساماں ساتھ یوں آج جاناں نے بھسم کر دیا ہے اور ہے وہ ہے وہ اپنا ٹوٹا ہوا ساز تھامے سرد لاشوں کے امبار کو تک رہا ہوں مری چاروں طرف موت کی وحشتیں من اندھیرا ہیں اور انساں کی حیوانیت جاگ اٹھی ہے بربریت کے خوں خوار افریت اپنے ناپاک جبڑوں کو کھولے خون پی پی کے غررا رہے ہیں بچے ماوں کی گودوں ہے وہ ہے وہ سے ہمیں ہوئے ہیں عصمتیں سر برہ لگ پریشان ہیں ہر طرف شور آہ و بکا ہے اور ہے وہ ہے وہ ا سے تباہی کے طوفان ہے وہ ہے وہ ہے وہ آگ اور خوں کے ہیجان ہے وہ ہے وہ ہے وہ<

Sahir Ludhianvi

2 likes

حراس تیرے ہونٹوں پہ تبسم کی وہ ہلکی سی لکیر میرے اڑو میں رہ رہ کے جھلک اٹھتی ہے یوں اچانک تری آریض گلابی کا خیال آتا ہے جیسے ظلمت میں کوئی شمع بھڑک اٹھتی ہے تیرے پیرہن رنگیں کی جنوں خیز مہک خواب بن بن کے مری ذہن میں لہراتی ہے رات کی سرد خموشی میں ہر اک جھونکے سے تیرے انفاس تری جسم کی آنچ آتی ہے میں دستور ہوئے رازوں کو عیاں تو کر دوں لیکن ان رازوں کی تشہیر سے جی ڈرتا ہے رات کے خواب اجالے میں بیاں تو کر دوں ان حسین خوابوں کی تعبیر سے جی ڈرتا ہے تیری سانسوں کی تھکن تیری نگاہوں کا سکوت درحقیقت کوئی رنگین شرارت ہی نہ ہو میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں وہ تبسم وہ تکلم تری عادت ہی نہ ہو سوچتا ہوں کہ تجھے مل کے میں جس سوچ میں ہوں پہلے اس سوچ کا مقسوم سمجھ لوں تو کہوں میں تری شہر میں انجان ہوں پردیسی ہوں تیرے الطاف کا مفہوم سمجھ لوں تو کہوں کہیں ایسا نہ ہو پاؤں مری تھرا جائیں اور تری مرمریں بانہوں کا سہارا نہ ملے اشک بہتے رہیں خاموش سیہ راتوں میں اور تری ریشمی آنچل کا کنارہ نہ ملے

Sahir Ludhianvi

6 likes

تاج تری لیے اک مظہر الفت ہی صحیح تجھ کو ا سے وا گرا رنگیں سے عقیدت ہی صحیح مری محبوب کہی اور ملا کر مجھ سے بزم شاہی ہے وہ ہے وہ غریبوں کا گزر کیا معنی ثبت ج سے راہ ہے وہ ہے وہ ہوں سطوت شاہی کے نشان ا سے پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی مری محبوب پ سے پردہ تشہیر وفا تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا مردہ شا ہوں کے مقابر سے بہلنے والی اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا ان گنت لوگوں نے دنیا ہے وہ ہے وہ محبت کی ہے کون کہتا ہے کہ صادق لگ تھے جذبے ان کے لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں کیونکہ حقیقت لوگ بھی اپنی ہی طرح مفل سے تھے یہ عمارت و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار مطلق الحکم شہنشا ہوں کی عظمت کے ستون سی لگ دہر کے ناسور ہیں کہ لگ ناسور جذب ہے ان ہے وہ ہے وہ تری اور مری ٹھی سے کا خوں مری محبوب ا نہیں بھی تو محبت ہوں گی جن کی ثنائی نے بخشی ہے اسے شکل جمیل ان کے پیارو کے مقابر رہے بےنام و نمود آج تک ان پہ جلائی لگ کسی نے قندیل یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محل یہ م نقش در و دی

Sahir Ludhianvi

2 likes

"वो सुब्ह कभी तो आएगी" 1 वो सुब्ह कभी तो आएगी इन काली सदियों के सर से जब रात का आँचल ढलकेगा जब दुख के बादल पिघलेंगे जब सुख का सागर छलकेगा जब अंबर झूम के नाचेगा जब धरती नग़्में गाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी जिस सुब्ह की ख़ातिर जुग जुग से हम सब मर मर कर जीते हैं जिस सुब्ह के अमृत की धुन में हम ज़हर के प्याले पीते हैं इन भूखी प्यासी रूहों पर इक दिन तो करम फ़रमाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी माना कि अभी तेरे मेरे अरमानों की क़ीमत कुछ भी नहीं मिट्टी का भी है कुछ मोल मगर इंसानों की क़ीमत कुछ भी नहीं इंसानों की इज़्ज़त जब झूटे सिक्कों में न तौली जाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी दौलत के लिए जब औरत की इस्मत को न बेचा जाएगा चाहत को न कुचला जाएगा ग़ैरत को न बेचा जाएगा अपने काले करतूतों पर जब ये दुनिया शरमाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी बीतेंगे कभी तो दिन आख़िर ये भूख के और बेकारी के टूटेंगे कभी तो बुत आख़िर दौलत की इजारा-दारी के जब एक अनोखी दुनिया की बुनियाद उठाई जाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी मजबूर बुढ़ापा जब सूनी राहों की धूल न फाँकेगा मासूम लड़कपन जब गंदी गलियों में भीक न माँगेगा हक़ माँगने वालों को जिस दिन सूली न दिखाई जाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी फ़ाक़ों की चिताओं पर जिस दिन इंसाँ न जलाए जाएँगे सीनों के दहकते दोज़ख़ में अरमाँ न जलाए जाएँगे ये नरक से भी गंदी दुनिया जब स्वर्ग बनाई जाएगी वो सुब्ह कभी तो आएगी 2 वो सुब्ह हमीं से आएगी जब धरती करवट बदलेगी जब क़ैद से क़ैदी छूटेंगे जब पाप घरौंदे फूटेंगे जब ज़ुल्म के बंधन टूटेंगे उस सुब्ह को हम ही लाएँगे वो सुब्ह हमीं से आएगी वो सुब्ह हमीं से आएगी मनहूस समाजी ढाँचों में जब ज़ुल्म न पाले जाएँगे जब हाथ न काटे जाएँगे जब सर न उछाले जाएँगे जेलों के बिना जब दुनिया की सरकार चलाई जाएगी वो सुब्ह हमीं से आएगी संसार के सारे मेहनत-कश खेतों से मिलों से निकलेंगे बे-घर बे-दर बे-बस इंसाँ तारीक बिलों से निकलेंगे दुनिया अम्न और ख़ुश-हाली के फूलों से सजाई जाएगी वो सुब्ह हमीं से आएगी

Sahir Ludhianvi

0 likes

یہ کوچے یہ نیلامگھر دلکشی کے یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے کہاں ہیں کہاں ہے محافظ خودی کے جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں یہ پرپیچ گلیاں یہ بدنام بازار یہ گمنام راہی یہ بکھرنے کی جھنگار یہ عصمت کے سودے یہ سودوں پہ تکرار جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں یہ صدیوں سے بےخواب سہمی سی گلیاں یہ مسلی ہوئی ادھکلی زرد مصروف یہ بکتی ہوئی کھوکھلی رنگ رلیاں جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں حقیقت اجلے دریچوں ہے وہ ہے وہ پائل کی چھن چھن تھکی ہاری سانسوں پہ طبلے کی دھن دھن یہ بےروح کمروں ہے وہ ہے وہ کھانسی کی ٹھن ٹھن جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں یہ پھولوں کے گجرے یہ پیکوں کے چھینٹے یہ بےباک نظریں یہ گستاخ فکرے یہ ڈھلکے بدن اور یہ بیمار چہرے جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں یہاں پیر بھی آ چکے ہیں جواں بھی تنومند بیٹے بھی ابا میاں بھی یہ بیوی بھی ہے اور بہن بھی ہے ماں بھی جنہیں ناز ہے ہند پر حقیقت کہاں ہیں مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی غضب کی ہمجنس رادھا کی بیٹی پیغمبر کی امت زلیخا کی بی

Sahir Ludhianvi

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Sahir Ludhianvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Sahir Ludhianvi's nazm.