"मेरी दास्ताँ" वो दिन भी कितने अजीब थे जब हम दोनों क़रीब थे शबब-ए-हिज़्र न तू, न मैं सब अपने-अपने नसीब थे तू ही मेरी दुनिया थी मैं ही तेरा जहान था मुझे तेरे होने का ग़ुरूर था तुझे मेरे होने पर गुमान था तेरे साथ बिताए थे वो दिन वो राते कितनी हसीन थी उस कमरे में थी जन्नत सारी एक बिस्तर पर ही जमीन थी तेरी गोद में सर रख कर मैं गज़ले अपनी सुनाता था तू सुन कर शा'इरी सो जाती थी, मैं तेरी ख़ुशबू में खो जाता था मेरी कामयाबी की ख़बरें सुन मुझ सेे ज़्यादा झूमा करती थी वो बेवजह बातों-बातों में मेरा माथा चूमा करती थी मेरी हर परेशानी में वो मेरी हमदर्द थी,हम सेाया थी उस से बढ़कर कुछ न था बस वही एक सर्माया थी मुलाक़ात न हो तो कहती थी मैं कैसे आज सो पाऊंगी मुझे गले लगा कर कहती थी मैं तुम सेे जुदा ना हो पाऊंगी इक आईना थी वो मेरा उस सेे कुछ भी नहीं छुपा था हर चीज जानती थी मेरी मेरा सब कुछ उसे पता था यार वही चेहरे हैं अपने वही एहसास दिल में है फिर क्यूँ दूरियाँ बढ़ सी गई क्यूँ रिश्ते आज मुश्किल में है कई सवाल हैं दिल में एक-एक कर के सब सुनोगी क्या? मैं शुरू करता हूँ शुरू से अब सबका जवाब दोगी क्या क्यूँ लौटा दी अंगुठी मुझे? क्यूँ बदल गए सब इरादे तेरे? क्या हुआ तेरी सब क़समों का? अब कहाँ गए सब वादे तेरे? तेरे इन मेहंदी वाले हाथों में किसी ओर का अब नाम हैं इक हादसा हैं मेरे लिए ये माना तेरे लिए ईनाम हैं अपने हिज्र की वो पहली रात तब ख़याल तो मेरा आया होगा आई होगी सब यादें पुरानी मेरी बातों ने भी रुलाया होगा जैसे मुझ में कोई चीख रहा हैं मेरी रूह-रूह तक सो रही हैं मैं अपनी दास्तां लिख रहा हूँ और मेरी शा'इरी रो रही हैं बस यही इल्तिजा हैं ख़ुदा से कोई इतना भी प्यारा न बने कई सूरतें हो सामने नज़र के पर कोई हमारा ना बने
Related Nazm
مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ
Afkar Alvi
78 likes
حقیقت لوگ بے حد خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے کرنے والے کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھروں آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
Faiz Ahmad Faiz
160 likes
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا مری زندگی شماکی صورت ہوں خدایا مری دور دنیا کا مری دم سے اندھیرا ہوں جائے ہر جگہ مری چمکنے سے اجالا ہوں جائے ہوں مری دم سے یوںہی مری وطن کی ظفر ج سے طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی ظفر زندگی ہوں مری پروانے کی صورت یا رب علم کی شماسے ہوں مجھ کو محبت یا رب ہوں میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا مری اللہ برائی سے بچانا مجھ کو نیک جو راہ ہوں ا سے رہ پہ چلانا مجھ کو
Allama Iqbal
51 likes
More from "Nadeem khan' Kaavish"
زندگی کی حقیقت تمام عمر چلتا رہا یہ سلسلہ جینے کے لیے موت کی دہلیز پر آ کر جانا زندگی کو کیسے جیے آئی موت کی کگار پر تو دعائیں تمام رات کی زندگی جینے کے سلسلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ موت سے ملاقات کی بچپن سے رخصت ہوتے ہی ذمہ داریوں سے گھر گئے ہم چاند پانے کی خواہش ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ہی قدموں ہے وہ ہے وہ گر گئے ہم خود کی محفل سونا چھوڑ کر سب محفلیں آباد کی زندگی جینے کے سلسلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ موت سے ملاقات کی جاناں کو کیا لگتا ہیں یہ زندگی بے حد آسان ہیں ا گر جاناں بے ایمان ہوں تو پھروں یہ بھی بے حد بے ایمان ہیں اک تری ہی سلسلے ہے وہ ہے وہ تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ سے بات کی زندگی جینے کے سلسلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ موت سے ملاقات کی ی ہاں چاند کی نیند ادھوری ہے سورج کو پسی لگ بھرپور ہے جو کسی کام کے نہیں ہیں ایسے ستاروں کو بھی غرور ہیں اک آ سماں چھونے کی خاطر سب خواہشیں برباد کی زندگی جینے کے سلسلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ موت سے ملاقات کی
"Nadeem khan' Kaavish"
5 likes
بہت یاد آتے ہوں جاناں گر تنہا سفر ہوں اور لمبی بلبلوں ہوں ہوں راہیں بھی مشکل بیگانہ شہر ہوں جدھر بھی ہے وہ ہے وہ دیکھوں نظر ہے وہ ہے وہ ہوں تمہیں گلابوں کے پاکی شجر ہے وہ ہے وہ ہوں تمہیں ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ میری اب آنسو کی دھارا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود سے ہوں جیتا اور اپنوں سے ہارا اندھیروں سے اب بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ڈرتا ہوں پاپا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو بہت یاد کرتا ہوں پاپا دیواروں ہے وہ ہے وہ 9 کیوں آتے ہوں جاناں کیوں خلوت ہے وہ ہے وہ مجھ کو رلاتے ہوں جاناں بہت یاد آتے ہوں جاناں بہت یاد آتے ہوں جاناں
"Nadeem khan' Kaavish"
4 likes
تیری آنکھیں یار تیری آنکھوں کی تصویر بنانا مشکل ہے اور پھروں ا سے پر کوئی غزل سنہانا مشکل ہے کوئی کہتا ہے شراب سی نشیلی ہے تیری آنکھیں کوئی کہتا ہے صاف پانی سی نیلی ہیں تیری آنکھیں انتقامن مجھ سے پوچھو ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی گہرائی ہیں چنو کوئی سرنگ ہے چنو کوئی کھائی ہے ا گر دیکھی ہوتی تیری آنکھیں تو اتنے اڑاؤ نہیں ہوتے نیوٹن کے یہ سارے لا یہ کوئی رول نہیں ہوتے کرچوف کے حقیقت رول حقیقت تھیوری یہ بتاتی ہے کیسے ساری آنکھیں تیری آنکھوں پر رک جاتی ہیں آریہ بھٹ نے جب بتایا تھا یہ پرتھوی گول ہے ا سے بات ہے وہ ہے وہ تیری آنکھوں کا بہترین رول ہیں ردر فورڈ کا پرمانو ماڈل ا سے بات کو درشاتا ہے تیری آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہیں دھن آویش ج سے ہے وہ ہے وہ یہ رن آویش جاتا ہے ایک بات بتاؤ یہ پیریوڈک ٹیبل کیوں پیسہ ہوں یاروں ا سے کی آنکھیں ہی رنگین ہیں اور ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سالٹ ہیں ہزاروں خدا تیری آنکھیں ا گر بے حد پہلے ہی بنا دیتا تو رامانجن سارے
"Nadeem khan' Kaavish"
4 likes
نبھے گی ہجر یار تری جانے سے کچھ نہیں بدلا یہ جھوٹ نہیں ہے سچمچ نہیں بدلا ہاں آج بھی وہی ادائیں ہیں مری وہی لہجہ ہے وہی صدائیں ہیں مری کبھی ہے وہ ہے وہ نے خود پر غم تاری لگ کیا تیری بے رکھ کو کہی جاری نا کیا ہر بات پر مسکرانے کی عادت لگ گئی تری خاطر راتوں کی عبادت لگ گئی بعد تری جانے کے کئی خواب سجائے ہیں تو نہیں تو تیری یادوں کو شعر سنائے ہیں ب سے یہی بتانا تھا کہ کچھ نہیں بدلا یہ جھوٹ نہیں ہے سچمچ نہیں بدلا
"Nadeem khan' Kaavish"
10 likes
Similar Writers
Our suggestions based on "Nadeem khan' Kaavish".
Similar Moods
More moods that pair well with "Nadeem khan' Kaavish"'s nazm.







