بہت یاد آتے ہوں جاناں گر تنہا سفر ہوں اور لمبی بلبلوں ہوں ہوں راہیں بھی مشکل بیگانہ شہر ہوں جدھر بھی ہے وہ ہے وہ دیکھوں نظر ہے وہ ہے وہ ہوں تمہیں گلابوں کے پاکی شجر ہے وہ ہے وہ ہوں تمہیں ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ میری اب آنسو کی دھارا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود سے ہوں جیتا اور اپنوں سے ہارا اندھیروں سے اب بھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ڈرتا ہوں پاپا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو بہت یاد کرتا ہوں پاپا دیواروں ہے وہ ہے وہ 9 کیوں آتے ہوں جاناں کیوں خلوت ہے وہ ہے وہ مجھ کو رلاتے ہوں جاناں بہت یاد آتے ہوں جاناں بہت یاد آتے ہوں جاناں
Related Nazm
ا سے سے محبت جھیلیں کیا ہیں ا سے کی آنکھیں عمدہ کیا ہے ا سے کا چہرہ خوشبو کیا ہے ا سے کی سانسیں خوشیاں کیا ہیں ا سے کا ہونا تو غم کیا ہے ا سے سے جدائی ساون کیا ہے ا سے کا رونا سر گرا کیا ہے ا سے کی اداسی گرمی کیا ہے ا سے کا غصہ اور بہاریں ا سے کا ہنسنا میٹھا کیا ہے ا سے کی باتیں کڑوا کیا ہے مری باتیں کیا پڑھنا ہے ا سے کا لکھا کیا سننا ہے ا سے کی غزلیں لب کی خواہش ا سے کا ماتھا زخم کی خواہش ا سے کا چھونا دنیا کیا ہے اک جنگل ہے اور جاناں کیا ہوں پیڑ سمجھ لو اور حقیقت کیا ہے اک راہی ہے کیا سوچا ہے ا سے سے محبت کیا کرتے ہوں ا سے سے محبت زار پیشہ ا سے سے محبت ا سے کے علاوہ ا سے سے محبت ا سے سے محبت
Varun Anand
475 likes
"हम मिलेंगे कहीं" हम मिलेंगे कहीं अजनबी शहर की ख़्वाब होती हुई शाहराओं पे और शाहराओं पे फैली हुई धूप में एक दिन हम कहीं साथ होगे वक़्त की आँधियों से अटी साहतों पर से मिट्टी हटाते हुए एक ही जैसे आँसू बहाते हुए हम मिलेंगे घने जंगलो की हरी घास पर और किसी शाख़-ए-नाज़ुक पर पड़ते हुए बोझ की दास्तानों में खो जाएँगे हम सनोबर के पेड़ों की नोकीले पत्तों से सदियों से सोए हुए देवताओं की आँखें चभो जाएँगे हम मिलेंगे कहीं बर्फ़ के बाजुओं में घिरे पर्वतों पर बाँझ क़ब्रो में लेटे हुए कोह पेमाओं की याद में नज़्म कहते हुए जो पहाड़ों की औलाद थे, और उन्हें वक़्त आने पर माँ बाप ने अपनी आग़ोश में ले लिया हम मिलेंगे कही शाह सुलेमान के उर्स में हौज़ की सीढियों पर वज़ू करने वालो के शफ़्फ़ाफ़ चेहरों के आगे संगेमरमर से आरस्ता फ़र्श पर पैर रखते हुए आह भरते हुए और दरख़्तों को मन्नत के धागो से आज़ाद करते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं नार मेंडी के साहिल पे आते हुए अपने गुम गश्तरश्तो की ख़ाक-ए-सफ़र से अटी वर्दियों के निशाँ देख कर मराकिस से पलटे हुए एक जर्नेल की आख़िरी बात पर मुस्कुराते हुए इक जहाँ जंग की चोट खाते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं रूस की दास्ताओं की झूठी कहानी पे आँखों में हैरत सजाए हुए, शाम लेबनान बेरूत की नरगिसी चश्मूरों की आमद के नोहू पे हँसते हुए, ख़ूनी कज़ियो से मफ़लूह जलबानियाँ के पहाड़ी इलाक़ों में मेहमान बन कर मिलेंगे हम मिलेंगे एक मुर्दा ज़माने की ख़ुश रंग तहज़ीब में ज़स्ब होने के इमकान में इक पुरानी इमारत के पहलू में उजड़े हुए लाँन में और अपने असीरों की राह देखते पाँच सदियों से वीरान ज़िंदान में हम मिलेंगे तमन्नाओं की छतरियों के तले, ख़्वाहिशों की हवाओं के बेबाक बोसो से छलनी बदन सौंपने के लिए रास्तों को हम मिलेंगे ज़मीं से नमूदार होते हुए आठवें बर्रे आज़म में उड़ते हुए कालीन पर हम मिलेंगे किसी बार में अपनी बकाया बची उम्र की पायमाली के जाम हाथ में लेंगे और एक ही घूंट में हम ये सैयाल अंदर उतारेंगे और होश आने तलक गीत गायेंगे बचपन के क़िस्से सुनाता हुआ गीत जो आज भी हम को अज़बर है बेड़ी बे बेड़ी तू ठिलदी तपईये पते पार क्या है पते पार क्या है? हम मिलेंगे बाग़ में, गाँव में, धूप में, छाँव में, रेत में, दश्त में, शहर में, मस्जिदों में, कलीसो में, मंदिर में, मेहराब में, चर्च में, मूसलाधार बारिश में, बाज़ार में, ख़्वाब में, आग में, गहरे पानी में, गलियों में, जंगल में और आसमानों में कोनो मकाँ से परे गैर आबद सैयाराए आरज़ू में सदियों से ख़ाली पड़ी बेंच पर जहाँ मौत भी हम से दस्तो गरेबाँ होगी, तो बस एक दो दिन की मेहमान होगी
Tehzeeb Hafi
236 likes
یاد ہے پہلے روز کہا تھا یاد ہے پہلے روز کہا تھا پھروں نہ کہنا غلطی دل کی پیار سمجھ کے کرنا لڑکی پیار نبھانا ہوتا ہے پھروں پار لگانا ہوتا ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا ساتھ چلو تو پورے سفر تک مر جانے کی اگلی خبر تک سمجھو یار خدا تک ہوگا سارا پیار وفا تک ہوگا پھروں یہ بندھن توڑ نہ جانا چھوڑ گئے تو پھروں نہ آنا چھوڑ دیا جو تیرا نہیں ہے چلا گیا جو میرا نہیں ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا یا تو ٹوٹ کے پیار نہ کرنا یا پھروں پیٹھ پہ وار نہ کرنا جب نادانی ہو جاتی ہے نئی کہانی ہو جاتی ہے نئی کہانی لکھ لاوں گا اگلے روز میں بک جاؤں گا تیرے گل جب کھیل جائیں گے مجھ کو پیسے مل جائیں گے یاد ہے پہلے روز کہا تھا بچھڑ گئے تو موج اڑانا واپس میرے پاس نہ آنا جب کوئی جا کر واپس آئے روئے تڑپے یا پچھتائے میں پھروں اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں گم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوں
Khalil Ur Rehman Qamar
191 likes
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہر کام کرنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ضروری بات کہنی ہوں کوئی وعدہ نبھانا ہوں اسے آواز دینی ہوں اسے واپ سے بلانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مدد کرنی ہوں ا سے کی یار کی ڈھار سے باندھنا ہوں بے حد دیری لگ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدلتے موسموں کی سیر ہے وہ ہے وہ دل کو لگانا ہوں کسی کو یاد رکھنا ہوں کسی کو بھول جانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوں حقیقت اور تھی کچھ ا سے کو جا کے یہ بتانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہر کام کرنے ہے وہ ہے وہ
Muneer Niyazi
108 likes
جاناں ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ باہوش ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری جسم کا جاناں خون ہوں جاناں سرد ہوں برسات بھی مری گرمیوں کی جاناں نومبر ہوں جاناں غزل ہوں ہوں جاناں شاعری مری لکھی نجم کی دھن ہوں مری ہنسی بھی جاناں مری خوشی بھی جاناں مری ای سے حیات کی ممنون ہوں جاناں دھوپ ہوں مری چھاؤں بھی جاناں سیاہ رات کا مون ہوں جاناں سن ہوں جاناں کاف بھی جاناں واو کے بعد کی نون ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں
ZafarAli Memon
25 likes
More from "Nadeem khan' Kaavish"
زندگی کی حقیقت تمام عمر چلتا رہا یہ سلسلہ جینے کے لیے موت کی دہلیز پر آ کر جانا زندگی کو کیسے جیے آئی موت کی کگار پر تو دعائیں تمام رات کی زندگی جینے کے سلسلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ موت سے ملاقات کی بچپن سے رخصت ہوتے ہی ذمہ داریوں سے گھر گئے ہم چاند پانے کی خواہش ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ہی قدموں ہے وہ ہے وہ گر گئے ہم خود کی محفل سونا چھوڑ کر سب محفلیں آباد کی زندگی جینے کے سلسلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ موت سے ملاقات کی جاناں کو کیا لگتا ہیں یہ زندگی بے حد آسان ہیں ا گر جاناں بے ایمان ہوں تو پھروں یہ بھی بے حد بے ایمان ہیں اک تری ہی سلسلے ہے وہ ہے وہ تو ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ سے بات کی زندگی جینے کے سلسلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ موت سے ملاقات کی ی ہاں چاند کی نیند ادھوری ہے سورج کو پسی لگ بھرپور ہے جو کسی کام کے نہیں ہیں ایسے ستاروں کو بھی غرور ہیں اک آ سماں چھونے کی خاطر سب خواہشیں برباد کی زندگی جینے کے سلسلے ہے وہ ہے وہ ہے وہ موت سے ملاقات کی
"Nadeem khan' Kaavish"
5 likes
تیری آنکھیں یار تیری آنکھوں کی تصویر بنانا مشکل ہے اور پھروں ا سے پر کوئی غزل سنہانا مشکل ہے کوئی کہتا ہے شراب سی نشیلی ہے تیری آنکھیں کوئی کہتا ہے صاف پانی سی نیلی ہیں تیری آنکھیں انتقامن مجھ سے پوچھو ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی گہرائی ہیں چنو کوئی سرنگ ہے چنو کوئی کھائی ہے ا گر دیکھی ہوتی تیری آنکھیں تو اتنے اڑاؤ نہیں ہوتے نیوٹن کے یہ سارے لا یہ کوئی رول نہیں ہوتے کرچوف کے حقیقت رول حقیقت تھیوری یہ بتاتی ہے کیسے ساری آنکھیں تیری آنکھوں پر رک جاتی ہیں آریہ بھٹ نے جب بتایا تھا یہ پرتھوی گول ہے ا سے بات ہے وہ ہے وہ تیری آنکھوں کا بہترین رول ہیں ردر فورڈ کا پرمانو ماڈل ا سے بات کو درشاتا ہے تیری آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہیں دھن آویش ج سے ہے وہ ہے وہ یہ رن آویش جاتا ہے ایک بات بتاؤ یہ پیریوڈک ٹیبل کیوں پیسہ ہوں یاروں ا سے کی آنکھیں ہی رنگین ہیں اور ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سالٹ ہیں ہزاروں خدا تیری آنکھیں ا گر بے حد پہلے ہی بنا دیتا تو رامانجن سارے
"Nadeem khan' Kaavish"
4 likes
نبھے گی ہجر یار تری جانے سے کچھ نہیں بدلا یہ جھوٹ نہیں ہے سچمچ نہیں بدلا ہاں آج بھی وہی ادائیں ہیں مری وہی لہجہ ہے وہی صدائیں ہیں مری کبھی ہے وہ ہے وہ نے خود پر غم تاری لگ کیا تیری بے رکھ کو کہی جاری نا کیا ہر بات پر مسکرانے کی عادت لگ گئی تری خاطر راتوں کی عبادت لگ گئی بعد تری جانے کے کئی خواب سجائے ہیں تو نہیں تو تیری یادوں کو شعر سنائے ہیں ب سے یہی بتانا تھا کہ کچھ نہیں بدلا یہ جھوٹ نہیں ہے سچمچ نہیں بدلا
"Nadeem khan' Kaavish"
10 likes
"मेरी दास्ताँ" वो दिन भी कितने अजीब थे जब हम दोनों क़रीब थे शबब-ए-हिज़्र न तू, न मैं सब अपने-अपने नसीब थे तू ही मेरी दुनिया थी मैं ही तेरा जहान था मुझे तेरे होने का ग़ुरूर था तुझे मेरे होने पर गुमान था तेरे साथ बिताए थे वो दिन वो राते कितनी हसीन थी उस कमरे में थी जन्नत सारी एक बिस्तर पर ही जमीन थी तेरी गोद में सर रख कर मैं गज़ले अपनी सुनाता था तू सुन कर शा'इरी सो जाती थी, मैं तेरी ख़ुशबू में खो जाता था मेरी कामयाबी की ख़बरें सुन मुझ सेे ज़्यादा झूमा करती थी वो बेवजह बातों-बातों में मेरा माथा चूमा करती थी मेरी हर परेशानी में वो मेरी हमदर्द थी,हम सेाया थी उस से बढ़कर कुछ न था बस वही एक सर्माया थी मुलाक़ात न हो तो कहती थी मैं कैसे आज सो पाऊंगी मुझे गले लगा कर कहती थी मैं तुम सेे जुदा ना हो पाऊंगी इक आईना थी वो मेरा उस सेे कुछ भी नहीं छुपा था हर चीज जानती थी मेरी मेरा सब कुछ उसे पता था यार वही चेहरे हैं अपने वही एहसास दिल में है फिर क्यूँ दूरियाँ बढ़ सी गई क्यूँ रिश्ते आज मुश्किल में है कई सवाल हैं दिल में एक-एक कर के सब सुनोगी क्या? मैं शुरू करता हूँ शुरू से अब सबका जवाब दोगी क्या क्यूँ लौटा दी अंगुठी मुझे? क्यूँ बदल गए सब इरादे तेरे? क्या हुआ तेरी सब क़समों का? अब कहाँ गए सब वादे तेरे? तेरे इन मेहंदी वाले हाथों में किसी ओर का अब नाम हैं इक हादसा हैं मेरे लिए ये माना तेरे लिए ईनाम हैं अपने हिज्र की वो पहली रात तब ख़याल तो मेरा आया होगा आई होगी सब यादें पुरानी मेरी बातों ने भी रुलाया होगा जैसे मुझ में कोई चीख रहा हैं मेरी रूह-रूह तक सो रही हैं मैं अपनी दास्तां लिख रहा हूँ और मेरी शा'इरी रो रही हैं बस यही इल्तिजा हैं ख़ुदा से कोई इतना भी प्यारा न बने कई सूरतें हो सामने नज़र के पर कोई हमारा ना बने
"Nadeem khan' Kaavish"
16 likes
Similar Writers
Our suggestions based on "Nadeem khan' Kaavish".
Similar Moods
More moods that pair well with "Nadeem khan' Kaavish"'s nazm.







