nazmKuch Alfaaz

بندہ اور خدا ایک بڑھوا سی کہانی ہے جو وقار کہ منا زبانی ہے یہ حکومت آسمانی ہے ہر مخلوق روحانی ہے یہ خدا کی مہربانی ہے کی سجدوں ہے وہ ہے وہ جھکتی پیشانی ہے یہ ساری دنیا فانی ہے ہر بے وجہ کو موت آنی ہے یہ انسانیت عیاشی کی دیوانی ہے ہر بے وجہ کی ڈھلتی جوانی ہے قدرت کی پکڑ سے کوئی نہیں بچا یہ آ رہے عذاب خوشگوار کی نشانی ہے یہ لوگوں کی گمراہی اور بڑی نادانی ہے کی ک ہاں اوپر خدا کو شکل ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دکھانی ہے

Related Nazm

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

نجم کیا ہے شاعری کی دو صنفیں ہیں نظم و غزل اردو ہے وہ ہے وہ ان کی شہرت ہے بچوں اٹل نجم پابند ہے نجم آزاد بھی یہ کبھی نثر ہے اور معرا کبھی نظم پابند ہے وہ ہے وہ وزن ہوگا میاں اور آزاد ہے وہ ہے وہ بھی ہے ا سے کا نشان نظم پابند کا طرز ہے جو لطیف ا سے ہے وہ ہے وہ پاؤگے جاناں قافیہ و ردیف نثری نظموں ہے وہ ہے وہ ب سے نثر ہی نثر ہے وزن اور قافیہ ہے لگ ہی بہر ہے وزن اور قافیہ جن کو مشکل ہوئے نثری نظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عموماً حقیقت کہتے لگے وزن نظم معری ہے وہ ہے وہ ہے دوستو ا سے کو جاناں بے ردیف و قوافی کہو مثنوی ہوں قصیدہ ہوں یا رکھ نجم کا ملتا ہے بچوں ہم کو پتا نجم ہے وہ ہے وہ سلسلہ ہے خیالات کا ایک دریا سا ہے دیکھو جذبات کا حقیقت مخم سے ہوں یا ہوں مسد سے کوئی یہ بھی اک شکل ہے نظم پابند کی حقیقت غزل ہوں کہ ہوں نجم بچوں سنو دونوں یکساں ہیں شہرت ہے وہ ہے وہ ب سے جان لو خون تمنا کی نظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مشہور ہیں ہر جگہ ہیں غزل کے ج گر واقعی بادشاہ نجم ہے وہ ہے وہ جو کہانی کہی جائے گی شوق سے اے میاں حقیقت سنی جائے گی

Amjad Husain Hafiz Karnataki

13 likes

خدا اب مجھے چین ملتا نہیں ہے لگ آرام اب مجھ کو اک پل بھی یاروں مجھے یاد آیا تھا حقیقت کل بھی یاروں حقیقت یاروں مری ساتھ کیوں کر گیا تو یہ کوئی تو دوا ہوں جو آرام دے دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دفترون کے بھاگتی ہے وہ ہے وہ پسنے لگا ہوں ہیں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پتھر ہے وہ ہے وہ خود آئی لگ ہوں حقیقت تاروں سے آگے ہے وہ ہے وہ دھرتی کے اندر بنا ہے حقیقت پاگل جو کل تھا سکندر حقیقت کل تھا ج ہاں پر حقیقت اب بھی وہیں ہے خدا اب مجھے چین ملتا نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ برسوں سے در در اطراف رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بےچین بھی ہوں ہے وہ ہے وہ حرص و ہوا ہوں نئے زخم پھروں سے ہے لائی محبت کہ جب سے ہوئی ہے دلہن محبت محبت کا مجھ کو صلہ یہ ملا ہے دیوانوں کا اب ساتھ ہے وہ ہے وہ قافلہ ہے سکون تھک گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دنیا سے آگے فلک تک گیا تو ہوں یہ دل ہے کہی اور دھڑکن کہی ہے خدا اب مجھے چین ملتا نہیں ہے

Amaan Pathan

7 likes

मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मुझ से पहले कितने शाइ'र आए और आ कर चले गए कुछ आहें भर कर लौट गए, कुछ नग़ में गा कर चले गए वे भी एक पल का क़िस्सा थे, मैं भी एक पल का क़िस्सा हूँ कल तुम से जुदा हो जाऊँगा गो आज तुम्हारा हिस्सा हूँ मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है कल और आएँगे नग़मों की खिलती कलियाँ चुनने वाले मुझ सेे बेहतर कहने वाले, तुम सेे बेहतर सुनने वाले कल कोई मुझ को याद करे, क्यूँ कोई मुझ को याद करे मसरुफ़ ज़माना मेरे लिए, क्यूँ वक़्त अपना बर्बाद करे मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है रिश्तों का रूप बदलता है, बुनियादें ख़त्म नहीं होतीं ख़्वाबों और उमँगों की मियादें ख़त्म नहीं होतीं इक फूल में तेरा रूप बसा, इक फूल में मेरी जवानी है इक चेहरा तेरी निशानी है, इक चेहरा मेरी निशानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है तुझ को मुझ को जीवन अमृत अब इन हाथों से पीना है इन की धड़कन में बसना है, इन की साँसों में जीना है तू अपनी अदाएं बक्ष इन्हें, मैं अपनी वफ़ाएँ देता हूँ जो अपने लिए सोचीं थी कभी, वो सारी दुआएँ देता हूँ मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है

Sahir Ludhianvi

52 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

More from ZafarAli Memon

چار زندگی سب کو ملا ہے چار زندگی کا سفر ماں کا پیٹ اور دنیا کا گھر چھوٹی سی قبر اور میدان حشر پہلی زندگی کا تصور ا گر ماں کا پیٹ جاناں کو آئےگا نظر نو مہینے ج سے نے کیا تھا دل پامال جاناں نے دیا کیا ا سے کا اجر دوسری زندگی دنیا کا گھر ج سے ہے وہ ہے وہ بسایا جاناں نے شہر تھی چار دن کی زندگی م گر ا سے پر لگا دی پوری عمر ملی جب موت کی سب کو خبر پچھتاننے لگے پھروں ہوا یہ اثر اہل و عیال بھی روئے ادھر ہوا تیار جنازہ ادھر بے رخی زندگی جس کا پیٹ قبر ہوں گے سب دور تجھے دفن کر آئیں گے فرشتے جیوںگی قبر پر لگے گا سوالوں کا ایک امبر دینا جواب تب خود کے بل پر جب پہنچےگی دنیا ا سے موڑ پر خوشگوار تک ہے قبر کا سفر چوتھی زندگی میدان حشر جدھر ملےگا نیکی ب گرا کا اجر سامنے ہوگا پل صراط سفر تیزی سے گزرےگا حقیقت ہی ا سے پر جو پڑھتا نماز مغرب سے عصر ج سے نے کیا بیت اللہ کا سفر ج سے نے بنایا نبی کو رہبر جنت ہے وہ ہے وہ ہوں گے محل اور شجر اور خوف ہے وہ ہے وہ ہوں گے آگ کے امبر لگ معلوم کتنی

ZafarAli Memon

14 likes

"पहला इश्क़" तअर्रुफ़ हुआ था अभी ही उन से वक़्त कहाँ ज़्यादा गुज़रा है बातें होती थी बहुत ही उन से वक़्त कहाँ ज़्यादा सुधरा है अंकों में दिलचस्पी मुझे उर्दू का थोड़ा-सा ज्ञान था वो अंग्रेज़ी से वाक़िफ़ बहुत लेकिन शून्य सा अभिमान था पसंद उन की आँखों में काजल और उन पर वो चश्मा था उन्हें पसंद मेरी घनी दाढ़ी और आँखों में सुरमा था कभी ये ला दो तो कभी वो ला दो मैं ने की हर ख़्वाहिश पूरी लेकिन महरम बनाने की मेरी ख़्वाहिश रह गई अधूरी कहा था उन्होंने पहले ही मुझ से रख दो अपने माँ-बाप को अर्ज़ी पर ज़फ़र डरता खोने से उन को और कहा जैसी रब की मर्ज़ी न जाने कौन सा लज़ीज़ वक़्त था की इश्क़ की रसोई को हम ने पकाया अगर अलाहिदा करना ही था मक़्सद तो फिर क्यूँँ हम दोनों को मिलाया

ZafarAli Memon

14 likes

خدا ناراض غصہ ہے غصہ ہے مذہب کی بات پر کیوں اٹھ رہے سوال ہے بےحال ہے بےحال ہے سب مکڑیوں کے جال ہے دنیا ہے وہ ہے وہ رہنا بھی اب بے حد بڑا جنجال ہے نڈھال ہے نڈھال ہے گزر رہی جو زندگی یہ دن ہے یا کوئی سال ہے مجھے آج کی فکر تو ہے مجھے کل کا بھی خیال ہے نقاب ہے نقاب ہے ہر چہرے پر نقاب ہے جو بے وجہ کی یہ ذات ہے حقیقت سانپ کا بھی باپ ہے جو دو رخا کردار ہے غضب ہے بے مثال ہے دلال ہے دلال ہے سب سوچ کے دلال ہے گناہ بھی ا سے کا ماف ہے سب پیسے کی یہ چال ہے کیا کال ہے کیا کال ہے خدا بھی جو ناراض ہے عبادتوں ہے وہ ہے وہ مل رہے جلدبازی کے اعمال ہے خود سوچنا اب تو تو ذرا مذہب کی بات پر کیوں اٹھ رہے سوال ہے غصہ ہے غصہ ہے

ZafarAli Memon

17 likes

مشورہ بدلیںگے لوگ بدلیںگے ان کے تیور بھی جانے انجانے ہے وہ ہے وہ ہر تیور سمجھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے الفاظ کو دل و دماغ سے لکھتا ہوں دل ٹوٹا عاشق ہوں ہر رنگ کو پرکھتا ہوں اپنی ان حرکت اور بے وجہ پیار پر ہونے پر ایک شام خود ہے وہ ہے وہ کہیں کھٹکتا ہوں تصویر کو دیکھ کر تیری لے کر تیرا نام ان پرانی یاد ہے وہ ہے وہ ہر روز کہیں اطراف ہوں تیری سب چیز اور سب تحفوں کو خوب مشورہ ظفر سنوارت کر اور سنبھالے رکھتا ہوں بھول کر تجھ کو اپنے من سے رد کر کے تیری یادیں شروع کرنے ایک نئی زندگی صبح سویرے نکلتا ہوں بےوفا ہے وہ ہے وہ نہ تجھے کہونگا نہ ہی خود کو مطلبی رہو ہمیشہ جاناں خوشحال منتیں ا سے کی کرتا ہوں انکوں سن لو دوستوں آج ہے وہ ہے وہ جاناں کو کہتا ہوں پہلے رازی بھوک کو بعد ہی عشق کرنا روز ایسے کتنے عاشقوں ہے وہ ہے وہ دیکھتا بچھڑتا ہوں

ZafarAli Memon

14 likes

جاناں ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ باہوش ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری جسم کا جاناں خون ہوں جاناں سرد ہوں برسات بھی مری گرمیوں کی جاناں نومبر ہوں جاناں غزل ہوں ہوں جاناں شاعری مری لکھی نجم کی دھن ہوں مری ہنسی بھی جاناں مری خوشی بھی جاناں مری ای سے حیات کی ممنون ہوں جاناں دھوپ ہوں مری چھاؤں بھی جاناں سیاہ رات کا مون ہوں جاناں سن ہوں جاناں کاف بھی جاناں واو کے بعد کی نون ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں

ZafarAli Memon

25 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on ZafarAli Memon.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with ZafarAli Memon's nazm.