nazmKuch Alfaaz

یہ اندھیری رات یہ ساری فضا سوئی ہوئی پتی پتی منظر خاموش ہے وہ ہے وہ کھوئی ہوئی موجزن ہے بہر میسج تیرگی کا خون تمنا ہے شام ہی سے آج قندیل فلک خاموش ہے چند تارے ہیں بھی تو بے نور پتھرائے ہوئے چنو باسی ہار ہے وہ ہے وہ ہوں پھول کمھلائے ہوئے کھپ گیا تو ہے یوں گھٹا ہے وہ ہے وہ چاندنی کا صاف رنگ ج سے طرح مایوسیوں ہے وہ ہے وہ دب کے رہ جائے امنگ امڈی ہے کالی گھٹا دنیا ڈبونے کے لیے یا چلی ہے بال کھولے رانڈ رونے کے لیے جتنی ہے گنجان بستی اتنی ہی ویران ہے ہر گلی خاموش ہے ہر راستہ سنسان ہے اک مکان سے بھی جلوے کی کچھ خبر ملتی نہیں چلمنیں اٹھتی نہیں زنجیر در ہلتی نہیں سو رہے ہیں مست و بے خود گھر کے کل پیر و جواں ہوں گئی ہیں بند حسن و عشق ہے وہ ہے وہ سرگوشیاں ہاں م گر اک سمت اک گوشے ہے وہ ہے وہ کوئی نوحہ گر لے رہی ہے کروٹوں پر کروٹیں دل تھام کر دل سنبھلتا ہی نہیں ہے سی لگ صد چاک ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول سا چہرہ اٹا ہے بیوگی کی خاک ہے وہ ہے وہ ہے وہ اڑ چلی ہے رنگ رکھ بن کر حیات مستعار ہوں رہا ہے قلب مردہ ہے وہ ہے وہ جوانی کا فشار حسرتیں دم

Kaifi Azmi0 Likes

Related Nazm

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ

Faiz Ahmad Faiz

73 likes

کچی عمر کے پیار یہ کچی عمر کے پیار بھی بڑے پکے نشان دیتے ہیں آج پر کم دھیان دیتے ہیں بہکے بہکے نقص دیتے ہیں ان کو دیکھے ہوئے مدت ہوئی اور ہم اب بھی جان دیتے ہیں کیا پیار ایک بار ہوتا ہے نہیں یہ بار بار ہوتا ہے تو پھروں کیوں کسی ایک کا انتظار ہوتا ہے وہی تو سچا پیار ہوتا ہے اچھا پیار بھی کیا انسان ہوتا ہے کبھی سچا کبھی جھوٹا بے ایمان ہوتا ہے ا سے کی رگوں ہے وہ ہے وہ بھی کیا خاندان ہوتا ہے اور مقصد حیات نفع نقصان ہوتا ہے پیار تو پیار ہوتا ہے

Yasra rizvi

47 likes

سزا ہر بار مری سامنے آتی رہی ہوں جاناں ہر بار جاناں سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتی ہوں جاناں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں ہے وہ ہے وہ خود بھی نہیں جانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں مجھ کو جان کر ہی پڑی ہوں عذاب ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور ا سے طرح خود اپنی سزا بن گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں ج سے زمین پر ہوں ہے وہ ہے وہ ا سے کا خدا نہیں پ سے سر بسر اذیت و الا آزار ہی رہو بیزار ہوں گئی ہوں بے حد زندگی سے جاناں جب ب سے ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں ہے تو بیزار ہی رہو جاناں کو ی ہاں کے سایہ و الا پرتو سے کیا غرض جاناں اپنے حق ہے وہ ہے وہ بیچ کی دیوار ہی رہو ہے وہ ہے وہ ہے وہ یعنی سے بےمہر ہی رہا جاناں انتہا عشق کا گاہے ہی رہو جاناں خون تھوکتی ہوں یہ سن کر خوشی ہوئی ا سے رنگ ا سے ادا ہے وہ ہے وہ بھی سخن ساز ہی رہو ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے یہ کب کہا تھا محبت ہے وہ ہے وہ ہے نجات ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے یہ کب کہا تھا وفادار ہی رہو اپنی متا ناز لٹا کر مری لیے بازار التفات ہے وہ ہے وہ نادار

Jaun Elia

44 likes

میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

More from Kaifi Azmi

نقوش حسرت مٹا کے اٹھنا خوشی کا پرچم ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے اٹھنا ملا کے سر بیٹھنا مبارک ترا لگ فتح گا کے اٹھنا یہ گفتگو گفتگو نہیں ہے بگڑنے بننے کا مرحلہ ہے دھڑک رہا ہے فضا کا سینا کہ زندگی کا معاملہ ہے اڑائے رہے یا بہار آئی تمہارے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ فیصلہ ہے لگ چین بے تاب بجلیوں کو لگ مطمئن کاروان شبنم کبھی شگوفوں کے گرم تیور کبھی گلوں کا مزاج برہم شگوفہ و گل کے ا سے تصادم ہے وہ ہے وہ گلستاں بن گیا تو جہنم سجا لیں سب اپنی اپنی جنت اب ایسے خاکے بنا کے اٹھنا خزا لگ رنگ و نور تاریک رہگزاروں ہے وہ ہے وہ لٹ رہا ہے عرو سے گل کا غرور عصمت سیاہکاروں ہے وہ ہے وہ لٹ رہا ہے تمام سرمایہ لطافت ذلیل خارو ہے وہ ہے وہ لٹ رہا ہے گھٹی گھٹی ہیں نمو کی سانسیں چھوٹی چھوٹی نبض گلستاں ہے ہیں گرسنا پھول تشنہ لبی غنچے رخوں پہ زر گرا لبوں پہ جاں ہے ہم نوا ہیں ہم سفیر جب سے اڑائے چمن ہے وہ ہے وہ رواں دواں ہے ا سے انتشار چمن کی سوگند باب زنداں ہلا کے اٹھنا حیات گیتی کی آج جستجو دل شکستہ ہوئی نگاہیں ہیں انقلابی پیام عشق سے کرنیں اتر رہی ہیں

Kaifi Azmi

0 likes

اے ہمہ رنگ ہمہ نور ہمہ سوز و گداز بزم مہتاب سے آنے کی ضرورت کیا تھی تو ج ہاں تھی اسی جنت ہے وہ ہے وہ نکھرتا ترا روپ ا سے جہنم کو بسانے کی ضرورت کیا تھی یہ خد و خال یہ خوابوں سے تراشا ہوا جسم اور دل ج سے پہ خد و خال کی دل پسند بھی نثار بچھاؤ ہی بچھاؤ شرارے ہی شرارے ہیں ی ہاں اور تھم تھم کے اٹھا پاؤں بہاروں کی بہار تشنہ لبی زہر بھی پی جاتی ہے امرت کی طرح جانے ک سے جام پہ رک جائے نگاہ معصوم ڈوبتے دیکھا ہے جن آنکھوں ہے وہ ہے وہ مے خا لگ بھی پیا سے ان آنکھوں کی بجھے یا لگ بجھے کیا معلوم ہیں سبھی حسن پرست اہل نظر صاحب دل کوئی گھر ہے وہ ہے وہ کوئی محفل ہے وہ ہے وہ سجائے گا تجھے تو فقط جسم نہیں شعر بھی ہے گیت بھی ہے کون اشکوں کی گھنی چھاؤں ہے وہ ہے وہ گائے گا تجھے تجھ سے اک درد کا رشتہ بھی ہے ب سے پیار نہیں اپنے آنچل پہ مجھے خوشی بہا لینے دے تو ج ہاں جاتی ہے جا روکنے والا ہے وہ ہے وہ کون اپنے رستے ہے وہ ہے وہ م گر شمع جلا لینے دے

Kaifi Azmi

0 likes

کبھی جمود کبھی صرف انتشار سا ہے ج ہاں کو اپنی تباہی کا انتظار سا ہے منہو کی مچھلی لگ کشتی نوح اور یہ فضا کہ قطرے قطرے ہے وہ ہے وہ طوفان بے قرار سا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے کو اپنے گریباں کا چاک دکھلاؤں کہ آج دامن یزداں بھی تار تار سا ہے سجا سنوار کے ج سے کو ہزار ناز کیے اسی پہ خالق کونین شرمسار سا ہے تمام جسم ہے منجملہ و اسباب ماتم فکر خوابیدہ دماغ پچھلے زمانے کی یادگار سا ہے سب اپنے پاؤں پہ رکھ رکھ کے پاؤں چلتے ہیں خود اپنے دوش پہ ہر آدمی سوار سا ہے جسے پکاریے ملتا ہے اک کھنڈر سے جواب جسے بھی دیکھیے ماضی کا اشتہار سا ہے ہوئی تو کیسے شایاں ہے وہ ہے وہ آ کے شام ہوئی کہ جو مزار ی ہاں ہے میرا مزار سا ہے کوئی تو سود چکائے کوئی تو ذمہ لے ا سے انقلاب کا جو آج تک ادھار سا ہے

Kaifi Azmi

1 likes

ہے وہ ہے وہ یہ سوچ کر ا سے کے در سے اٹھا تھا کہ حقیقت روک لےگی منا لےگی مجھ کو ہواؤں ہے وہ ہے وہ لہراتا آتا تھا دامن کہ دامن پکڑ کر بٹھا لےگی مجھ کو قدم ایسے انداز سے اٹھ رہے تھے کہ آواز دے کر بلا لےگی مجھ کو م گر ا سے نے روکا لگ مجھ کو منایا لگ دامن ہی پکڑا لگ مجھ کو بٹھایا لگ آواز ہی دی لگ مجھ کو بلایا ہے وہ ہے وہ ہے وہ آہستہ آہستہ بڑھتا ہی آیا ی ہاں تک کہ ا سے سے جدا ہوں گیا تو ہے وہ ہے وہ

Kaifi Azmi

5 likes

یہ برسات یہ موسم شادمانی خ سے و خار پر پھٹ پڑی ہے جوانی بھڑکتا ہے رہ رہ کے سوز محبت جھماجھم برستا ہے پر شور پانی فضا جھومتی ہے گھٹا جھومتی ہے درختوں کو ذو برق کی چومتی ہے تھرکتے ہوئے ابر کا جذب توبہ کہ دامن اٹھائے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھومتی ہے کڑکتی ہے بجلی چمکتی ہوئی ہیں بوندیں لپکتا ہے ابھارنا دمکتی ہیں بوندیں رگ جاں پہ رہ رہ کے لگتی ہیں چوٹیں چھما چھم خلا ہے وہ ہے وہ کھنکتی ہیں بوندیں فلک گا رہا ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ گا رہی ہے کلیجے ہے وہ ہے وہ ہر لے چوبی جا رہی ہے مجھے پا کے ا سے مست شب ہے وہ ہے وہ اکیلا یہ درماندہ گھٹا تیر برسا رہی ہے چمکتا ہے شورش ہے تھرا رہا ہے بھٹکنے کی جگنو سزا پا رہا ہے ابھی ذہن ہے وہ ہے وہ تھا یہ روشن تخیّل فضا ہے وہ ہے وہ جو اڑتا چلا جا رہا ہے لچک کر سنبھلتے ہیں جب اندھیرا برستے ہیں دامن سے دم دار تارے مچلتی ہے رہ رہ کے بالوں ہے وہ ہے وہ بجلی اولیں ہوئے جا رہے ہیں کنارے فضا جھوم کر رنگ برسا رہی ہے ہر اک سان سے شعلہ بنی جا رہی ہے کبھی ا سے طرح یاد آتی نہیں

Kaifi Azmi

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kaifi Azmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kaifi Azmi's nazm.