nazmKuch Alfaaz

دل درد کی شدت سے خوں گشتہ و سی پارا ا سے شہر ہے وہ ہے وہ پھرتا ہے اک وحشی و آوارہ شاعر ہے کہ عاشق ہے جوگی ہے کہ بنجارا دروازہ کھلا رکھنا سینے سے گھٹا اٹھے آنکھوں سے جھڑی برسے فاگن کا نہیں بادل جو چار گھڑی برسے برکھا ہے یہ بھادوں کی برسے تو بڑی برسے دروازہ کھلا رکھنا آنکھوں ہے وہ ہے وہ تو اک عالم آنکھوں ہے وہ ہے وہ تو دنیا ہے ہونٹوں پہ م گر مہرے منا سے نہیں کہتا ہے ک سے چیز کو کھو بیٹھا کیا ڈھونڈنے نکلا ہے دروازہ کھلا رکھنا ہاں تھام محبت کی گر تھام سکے ڈوری ساجن ہے ترا ساجن اب تجھ سے تو کیا چوری یہ ج سے کی منا گرا ہے بستی ہے وہ ہے وہ تری گوری دروازہ کھلا رکھنا دہک کو اٹھا رکھنا آنکھوں کو بچھا رکھنا اک شمع دریچے کی چوکھٹ پہ جلا رکھنا مایو سے لگ پھروں جائے ہاں پا سے وفا رکھنا دروازہ کھلا رکھنا دروازہ کھلا رکھنا

Related Nazm

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک

Ali Zaryoun

70 likes

رہنے کو صدا دہر ہے وہ ہے وہ آتا نہیں کوئی جاناں چنو گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی ڈرتا ہوں کہی خشک لگ ہوں جائے سمندر راکھ اپنی کبھی آپ بہاتا نہیں کوئی اک بار تو خود موت بھی نزدیک تر گئی ہوں گی یوں موت کو سینے سے لگاتا نہیں کوئی مانا کہ اجالوں نے تمہیں داغ دیے تھے بے رات ڈھلے شمع بجھاتا نہیں کوئی ساقی سے گلہ تھا تمہیں مے خانے سے شکوہ اب زہر سے بھی پیا سے بجھاتا نہیں کوئی ہر صبح ہلا دیتا تھا زنجیر زما لگ کیوں آج دیوانے کو جگاتا نہیں کوئی ارتھی تو اٹھا لیتے ہیں سب خوشی بہا کے ناز دل بیتاب اٹھاتا نہیں کوئی

Kaifi Azmi

42 likes

بھارت کے اے سپوتو ہمت د کھائے جاؤ دنیا کے دل پہ اپنا سکہ بٹھائے جاؤ مردہ دلی کا اڑے پھینکو زمین پر جاناں زندہ دلی کا ہر سو پرچم زلف یار جاؤ لاؤ لگ بھول کر بھی دل ہے وہ ہے وہ خیال پستی خوش حالی وطن کا بیڑا اٹھائے جاؤ تن من مٹائے جاؤ جاناں نام قومیت پر راہ وطن ہے وہ ہے وہ اپنی جانیں لڑائے جاؤ کم ہمتی کا دل سے نام و نشاں مٹا دو جرأت کا لوح دل پر نقشہ جمائے جاؤ اے ہندوو مسلماناں آپ سے ہے وہ ہے وہ ان دنوں جاناں خوبصورت گھٹائے جاؤ الفت دیش دروہی جاؤ بکرم کی راج نیتی یاد خدا کی پالیسی کی سارے ج ہاں کے دل پر عظمت بٹھائے جاؤ ج سے کش مکش نے جاناں کو ہے ا سے دودمان مٹایا جاناں سے ہوں ج سے دودمان جاناں ا سے کو مٹائے جاؤ جن خا لگ جنگیوں نے یہ دن تمہیں د کھائے اب ان کی یاد اپنے دل ہے وہ ہے وہ بھلائے جاؤ بے خوف گائے جاؤ ہندوستان ہمارا اور وندے ماترم کے نعرے لگائے جاؤ جن دیش سیوکوں سے حاصل ہے فیض جاناں کو ان دیش سیوکوں کی جے جے منائے جاؤ ج سے ملک کا ہوں کھاتے دن رات آب و دا لگ ا سے ملک پر سروں کی بھیٹیں چڑھائے جاؤ پھانسی کا جیل کا

Lal Chand Falak

14 likes

مشورہ بدلیںگے لوگ بدلیںگے ان کے تیور بھی جانے انجانے ہے وہ ہے وہ ہر تیور سمجھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے الفاظ کو دل و دماغ سے لکھتا ہوں دل ٹوٹا عاشق ہوں ہر رنگ کو پرکھتا ہوں اپنی ان حرکت اور بے وجہ پیار پر ہونے پر ایک شام خود ہے وہ ہے وہ کہیں کھٹکتا ہوں تصویر کو دیکھ کر تیری لے کر تیرا نام ان پرانی یاد ہے وہ ہے وہ ہر روز کہیں اطراف ہوں تیری سب چیز اور سب تحفوں کو خوب مشورہ ظفر سنوارت کر اور سنبھالے رکھتا ہوں بھول کر تجھ کو اپنے من سے رد کر کے تیری یادیں شروع کرنے ایک نئی زندگی صبح سویرے نکلتا ہوں بےوفا ہے وہ ہے وہ نہ تجھے کہونگا نہ ہی خود کو مطلبی رہو ہمیشہ جاناں خوشحال منتیں ا سے کی کرتا ہوں انکوں سن لو دوستوں آج ہے وہ ہے وہ جاناں کو کہتا ہوں پہلے رازی بھوک کو بعد ہی عشق کرنا روز ایسے کتنے عاشقوں ہے وہ ہے وہ دیکھتا بچھڑتا ہوں

ZafarAli Memon

14 likes

More from Ibn E Insha

شہر دل کی گلیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شام سے بھٹکتے ہیں چاند کے تمنا ئی بے قرار سودائی دل گداز تاریکی روح و جاں کو دستی ہے روح و جاں ہے وہ ہے وہ بستی ہے شہر دل کی گلیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تاک شب کی بیلوں پر شبنمی سرشکوں کی بے قرار لوگوں نے بے شمار لوگوں نے یادگار کانٹے ہے اتنی بات تھوڑی ہے سد ہزار باتیں تھیں حیلہ شکیبائی صورتوں کی زیبائی کامتوں کی را'نائی ان سیاہ راتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک بھی نہ یاد آئی جا بجا بھٹکتے ہیں کہ سے کی راہ تکتے ہیں چاند کے تمنا ئی یہ نگر کبھی پہلے ای سے دودمان نہ ویراں تھا کہنے والے کہتے ہیں قریہ نگاراں تھا خیر اپنے جینے کا یہ بھی ایک سامان تھا آج دل ہے وہ ہے وہ ویرانی ابر بن کے گھر آئی آج دل کو کیا کہیے با وفا نہ ہر جائی پھروں بھی لوگ دیوانے آ گئے ہیں سمجھانے اپنی وحشت دل کے بُن لیے ہیں افسانے خوش خیال دنیا نے گرمیاں تو جاتی ہیں حقیقت رتیں بھی آتی ہیں جب ملول راتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوستوں کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جی نہ

Ibn E Insha

0 likes

پھیلتا پھیلتا شام غم کا دھواںاک اداسی کا تنٹا ہوا سایہ بان اونچے اونچے مناروں کے سر پہ رواں دیکھ پہنچا ہے آخر ک ہاں سے ک ہاں جھانکتا صورت خیل آوارگاں قمری قمری بہر کاخ و کو شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ مرثیہ سیل ظلمات کو چیرتا جل اٹھا دور بستی کا پہلا دیا پنچھیوں نے بھی پچھم کا رستہ لیا خیر جاؤ عزیزو م گر دیکھنا ایک جگنو بھی مشعل سی لے کے چلا ہے اسے بھی کوئی جستجو شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ سماں پر رواں سرمئی بادلوں ہاں تمہیں کیا فردو سے جوان اور اونچے فردو سے جوان باغ عالم کے تازہ شگفتہ گلو بے نیازا لگ مہکا کروں خوش رہو لیکن اتنا بھی سوچا کبھی ظالمو ہم بھی ہیں عاشق رنگ و بو شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی دیکھے یہ مجبوریاں دوریاں ایک ہی شہر ہے وہ ہے وہ ہم ک ہاں جاناں ک ہاں دوستوں نے بھی کانٹے ہیں دل داریاں آج وقف غم الفت رائگاں ہم جو پھرتے ہیں وحشت زدہ سرگراں تھے کبھی صاحب آبرو شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ لوگ تانوں سے کیا کیا جتاتے نہیں ایسے راہی تو منزل کو پاتے نہیں جی سے اک دوسرے کو بھلاتے نہیں سامنے بھی م گر آتے ج

Ibn E Insha

0 likes

کل ہم نے سپنا دیکھا ہے جو اپنا ہو نہیں سکتا ہے اس شخص کو اپنا دیکھا ہے وہ شخص کہ جس کی خاطر ہم اس دیس پھریں اس دیس پھریں جوگی کا بنا کر بھیس پھریں چاہت کے نرالے گیت لکھیں جی موہنے والے گیت لکھیں دھرتی کے مہکتے باغوں سے کلیوں کی جھولی بھر لائیں امبر کے سجیلے منڈل سے تاروں کی ڈولی بھر لائیں ہاں کس کے لیے سب اس کے لیے وہ جس کے لب پر تیسو ہیں وہ جس کے نیناں آہو ہیں جو خار بھی ہے اور خوشبو بھی جو درد بھی ہے اور دارو بھی وہ الھڑ سی وہ چنچل سی وہ شاعر سی وہ پاگل سی لوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیں ہم نام نہ اس کا بتلائیں اے دیکھنے والو تم نے بھی اس نار کی پیت کی آنچوں میں اس دل کا تینا دیکھا ہے کل ہم نے سپنا دیکھا ہے

Ibn E Insha

1 likes

اے متوالو ناقوں والو دیتے ہوں کچھ ا سے کا پتا نجد کے اندر مجنوں نامی ایک ہمارا بھائی تھا آخر ا سے پر کیا کچھ بیتی جانو تو احوال کہو موت ملی یا لیلیٰ پائی دیوانے کا فصل خزاں کہو عقل کی باتیں کہنے والے دوستوں نے اسے سمجھایا ا سے کو تو لیکن چپ سی لگی تھی نا بولا نا باز آیا خیر اب ا سے کی بات کو چھوڑو دیوا لگ پھروں دیوا لگ جاتے جاتے ہم لوگوں کا ایک سندیسہ لے جانا آوارہ آوارہ پھروں لگ چھوڑ کے منڈلی یاروں کی دیکھ رہے ہیں دیکھنے والے انشا کا اب حال وہی کیا اچھا خوش باش جواں تھا جانے کیوں بیمار ہوا اٹھتے بیٹھتے میر کی بیتیں پڑھنا ا سے کا شعار ہوا طور طریقہ اُکھڑا اُکھڑا چہرہ پیلا سخت ملول راہ ہے وہ ہے وہ چنو خاک پہ کوئی مسئلہ مسئلہ باغ کا پھول شام سویرے بال ناری بیٹھا بیٹھا روتا ہے ناقوں والو ان لوگوں کا عالم کیسا ہوتا ہے اپنا بھی حقیقت دوست تھا ہم بھی پا سے ا سے کے بیٹھ آتے ہیں ادھر ادھر کے قصے کہ کے جی ا سے کا بہلاتے ہیں اکھڑی اکھڑی بات کرے ہے بھول کے ا گلہ یارا لگ کون ہوں جاناں ک سے کام سے آئی ہم نے لگ جاناں کو پہچانا جانے

Ibn E Insha

0 likes

मुन्नी तेरे दाँत कहाँ हैं दाँत थे मैं ने दूध पिला कर सात बरस में पाले आ कर उन को ले गए चूहे लंबी मोंछों वाले गुड़ का उन को माट मिला था मीठा और मज़ेदार लाख ख़ुशामद कर के मुझ से ले लिए दाँत उधार मुन्नी तेरे दाँत कहाँ हैं बिल्ली थी इक मामी मौसी चुपके चुपके आई पंजों पर थी देग की खुरचन होंटों पर बालाई बोली गुड़ के माट पे मैं ने चूहे देखे चार हिस्सा आधों-आध रहेगा दे दो दाँत उधार मुन्नी तेरे दाँत कहाँ हैं बा'द में बूढ़ा मोती आया रोनी शक्ल बनाए बोला बीबी इस बिल्ली का कुछ तो करें उपाए दूध न छोड़े गोश्त न छोड़े हैं बुढ्ढा लाचार इस को करूँँ शिकार जो मुझ को दे दो दाँत उधार अच्छी मुन्नी तुम ने अपने इतने दाँत गँवाए कुछ चूहों ने कुछ बिल्ली ने कुछ मोती ने पाए बाक़ी जो दो-चार रहे हैं वो हम को दिलवाओ इक दावत में आज मिलेंगे तिक्के और पोलाव मुर्ग़ी के पाए का सालन बैगन का आचार दोगी या किसी और से माँगूँ हाँ दिए उधार बाबा हाँ हाँ दिए उधार मुन्नी तेरे दाँत कहाँ हैं

Ibn E Insha

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ibn E Insha.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ibn E Insha's nazm.