nazmKuch Alfaaz

رہنے کو صدا دہر ہے وہ ہے وہ آتا نہیں کوئی جاناں چنو گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی ڈرتا ہوں کہی خشک لگ ہوں جائے سمندر راکھ اپنی کبھی آپ بہاتا نہیں کوئی اک بار تو خود موت بھی نزدیک تر گئی ہوں گی یوں موت کو سینے سے لگاتا نہیں کوئی مانا کہ اجالوں نے تمہیں داغ دیے تھے بے رات ڈھلے شمع بجھاتا نہیں کوئی ساقی سے گلہ تھا تمہیں مے خانے سے شکوہ اب زہر سے بھی پیا سے بجھاتا نہیں کوئی ہر صبح ہلا دیتا تھا زنجیر زما لگ کیوں آج دیوانے کو جگاتا نہیں کوئی ارتھی تو اٹھا لیتے ہیں سب خوشی بہا کے ناز دل بیتاب اٹھاتا نہیں کوئی

Kaifi Azmi42 Likes

Related Nazm

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہر کام کرنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ضروری بات کہنی ہوں کوئی وعدہ نبھانا ہوں اسے آواز دینی ہوں اسے واپ سے بلانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مدد کرنی ہوں ا سے کی یار کی ڈھار سے باندھنا ہوں بے حد دیری لگ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدلتے موسموں کی سیر ہے وہ ہے وہ دل کو لگانا ہوں کسی کو یاد رکھنا ہوں کسی کو بھول جانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوں حقیقت اور تھی کچھ ا سے کو جا کے یہ بتانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہر کام کرنے ہے وہ ہے وہ

Muneer Niyazi

108 likes

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

حال دل میری دلربا جاناں خوبصورت ہوں صورت سے نہیں سیرت سے مجھے تمہاری سیرت سے محبت ہے اسیلیے سیرت کا جانتا ہوں شرم دہشت پریشانی جنہیں سخن وروں کویوں نے عشق کی لذت بتایا ہے فیلحال یہ میرے درمیان آ رہے ہیں بہرحال میری چاہتیں تمہارے نفس ہے وہ ہے وہ دھڑکتی ہیں زندہ رہتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تمہیں دیکھا ہے دیکھتے ہوئے مجھے چاہتے ہوئے مجھے سوچتے ہوئے اور میرے لیے پریشان ہوتے ہوئے ویسے چاہت ہوں تو کہنا لازمی ہوتا ہے ضروری ہوتا ہے لیکن عشق کی ان میں ہے وہ ہے وہ لفظ خاموش رہتے ہیں اور نگاہیں بات کر لیتی ہیں مجھے پتا ہے ایک دن جاناں میری نگاہوں سے بات کر لوگی پوچھ لوگی اور تمہیں جواب ملےگا ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی چاہتا ہوں خوب چاہتا ہوں ویسے ہے وہ ہے وہ بھی اپنے جاؤں گا اپنی غزلوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت خوب لکھتا ہوں حالانکہ اپناپن یہ ہے کہ ہے وہ ہے وہ بھی کہنے ہے وہ ہے وہ خوف تقاضا ہوں ویسے برا نہ ماننا کہ ہے وہ ہے وہ نے جاناں سے کبھی اظہار نہیں کیا سوچ لینا کہ تھی

Rakesh Mahadiuree

25 likes

More from Kaifi Azmi

مدتوں ہے وہ ہے وہ اک اندھے کوئیں ہے وہ ہے وہ ہم نوا سر خیال در و دیوار رہا گڑگڑاتا رہا روشنی چاہیے چاندنی چاہیے زندگی چاہیے روشنی پیار کی چاندنی یار کی زندگی دار کی اپنی آواز سنتا رہا رات دن دھیرے دھیرے یقین دل کو آتا رہا سونے سنسر ہے وہ ہے وہ ہے وہ بےوفا یار ہے وہ ہے وہ ہے وہ دامن دار ہے وہ ہے وہ ہے وہ روشنی بھی نہیں چاندنی بھی نہیں زندگی بھی نہیں زندگی ایک رات واہمہ کائنات آدمی بے بسات لوگ کوتاہ قد شہر شہر حسد گاؤں ان سے بھی بد ان اندھیروں نے جب پی سے ڈالا مجھے پھروں اچانک کوئیں نے اچھالا مجھے اپنے سینے سے باہر نکالا مجھے سیکڑوں مصر تھے سامنے سیکڑوں ا سے کے بازار تھے ایک بوڑھی زلیخا نہیں جانے کتنے خریدار تھے بڑھتا جاتا تھا یوسف کا مول لوگ بکنے کو تیار تھے کھل گئے مہ جبینوں کے سر ریشمی چادریں ہٹ گئیں پلکیں جھپکیں لگ نظریں جھکیں مرمریں انگلياں کٹ گئیں ہاتھ دامن تک آیا کوئی دھجیاں دور تک بٹ گئیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ڈر کے لگا دی کوئیں ہے وہ ہے وہ چھلانگ سر پٹکتا لگا پھروں اسی کر

Kaifi Azmi

0 likes

کبھی جمود کبھی صرف انتشار سا ہے ج ہاں کو اپنی تباہی کا انتظار سا ہے منہو کی مچھلی لگ کشتی نوح اور یہ فضا کہ قطرے قطرے ہے وہ ہے وہ طوفان بے قرار سا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے کو اپنے گریباں کا چاک دکھلاؤں کہ آج دامن یزداں بھی تار تار سا ہے سجا سنوار کے ج سے کو ہزار ناز کیے اسی پہ خالق کونین شرمسار سا ہے تمام جسم ہے منجملہ و اسباب ماتم فکر خوابیدہ دماغ پچھلے زمانے کی یادگار سا ہے سب اپنے پاؤں پہ رکھ رکھ کے پاؤں چلتے ہیں خود اپنے دوش پہ ہر آدمی سوار سا ہے جسے پکاریے ملتا ہے اک کھنڈر سے جواب جسے بھی دیکھیے ماضی کا اشتہار سا ہے ہوئی تو کیسے شایاں ہے وہ ہے وہ آ کے شام ہوئی کہ جو مزار ی ہاں ہے میرا مزار سا ہے کوئی تو سود چکائے کوئی تو ذمہ لے ا سے انقلاب کا جو آج تک ادھار سا ہے

Kaifi Azmi

1 likes

طبیعت جبریہ تسکین سے گھبرائی جاتی ہے ہنسوں کیسے ہنسی کم بخت تو مرجھائی جاتی ہے بے حد چمکا رہا ہوں خال و خط کو سعی رنگیں سے م گر پژمردگی سی خال و خط پر چھائی جاتی ہے امیدوں کی تجلی خوب برسی رنگینیوں پر م گر جو گرد تھی تہ ہے وہ ہے وہ حقیقت اب تک پائی جاتی ہے جوانی دوارکا ہے لاکھ خوابیدہ تمنا کو تمنا ہے کہ ا سے کو نیند ہی سی آئی جاتی ہے محبت کی نگوں ساری سے دل ڈوبا سا رہتا ہے محبت دل کی اضمحلال سے شرمائی جاتی ہے فضا کا سوگ اترا آ رہا ہے ظرف ہستی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نگاہ شوق روح آرزو کجلائی جاتی ہے یہ رنگ مے نہیں ساقی جھلک ہے خوں شدہ دل کی جو اک دھندلی سی سرخی انکھڑیوں ہے وہ ہے وہ پائی جاتی ہے مری مطرب لگ دے للہ مجھ کو دعوت نغمہ کہی ساز غلامی پر غزل بھی گائی جاتی ہے

Kaifi Azmi

0 likes

نقوش حسرت مٹا کے اٹھنا خوشی کا پرچم ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کے اٹھنا ملا کے سر بیٹھنا مبارک ترا لگ فتح گا کے اٹھنا یہ گفتگو گفتگو نہیں ہے بگڑنے بننے کا مرحلہ ہے دھڑک رہا ہے فضا کا سینا کہ زندگی کا معاملہ ہے اڑائے رہے یا بہار آئی تمہارے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ فیصلہ ہے لگ چین بے تاب بجلیوں کو لگ مطمئن کاروان شبنم کبھی شگوفوں کے گرم تیور کبھی گلوں کا مزاج برہم شگوفہ و گل کے ا سے تصادم ہے وہ ہے وہ گلستاں بن گیا تو جہنم سجا لیں سب اپنی اپنی جنت اب ایسے خاکے بنا کے اٹھنا خزا لگ رنگ و نور تاریک رہگزاروں ہے وہ ہے وہ لٹ رہا ہے عرو سے گل کا غرور عصمت سیاہکاروں ہے وہ ہے وہ لٹ رہا ہے تمام سرمایہ لطافت ذلیل خارو ہے وہ ہے وہ لٹ رہا ہے گھٹی گھٹی ہیں نمو کی سانسیں چھوٹی چھوٹی نبض گلستاں ہے ہیں گرسنا پھول تشنہ لبی غنچے رخوں پہ زر گرا لبوں پہ جاں ہے ہم نوا ہیں ہم سفیر جب سے اڑائے چمن ہے وہ ہے وہ رواں دواں ہے ا سے انتشار چمن کی سوگند باب زنداں ہلا کے اٹھنا حیات گیتی کی آج جستجو دل شکستہ ہوئی نگاہیں ہیں انقلابی پیام عشق سے کرنیں اتر رہی ہیں

Kaifi Azmi

0 likes

ہے وہ ہے وہ یہ سوچ کر ا سے کے در سے اٹھا تھا کہ حقیقت روک لےگی منا لےگی مجھ کو ہواؤں ہے وہ ہے وہ لہراتا آتا تھا دامن کہ دامن پکڑ کر بٹھا لےگی مجھ کو قدم ایسے انداز سے اٹھ رہے تھے کہ آواز دے کر بلا لےگی مجھ کو م گر ا سے نے روکا لگ مجھ کو منایا لگ دامن ہی پکڑا لگ مجھ کو بٹھایا لگ آواز ہی دی لگ مجھ کو بلایا ہے وہ ہے وہ ہے وہ آہستہ آہستہ بڑھتا ہی آیا ی ہاں تک کہ ا سے سے جدا ہوں گیا تو ہے وہ ہے وہ

Kaifi Azmi

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kaifi Azmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kaifi Azmi's nazm.