nazmKuch Alfaaz

دو جانب ایک ہے وہ ہے وہ ہوں ایک تو ہے دونوں بڑے نادان ہیں تو مجھ سے اور ہے وہ ہے وہ خود سے دونوں ہی انجان ہیں تیری گلیاں سورگ ہیں چنو میرا شہر شمشان ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شمع کب سے بجھا ہوا تجھ پر پتنگیں قربان ہیں خوشیاں تری قدم چومتیں غم مری مہمان ہیں تجھ پر خدا فدا ہے مجھ سے گھر والے تک پریشان ہیں مجھے کہ ب سے اک خواہش تیری تجھے کہ سیکڑوں ارمان ہیں مری قسمت ہے وہ ہے وہ تو ہی نہیں تجھ پر قسمت مہربان ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری لیے کچھ بھی نہیں تو مری لیے بھگوان ہے تری دل ہے وہ ہے وہ بھلے ریحان لگ ہوں تیری زندگی پھروں بھی ریحان ہے

Rehaan2 Likes

Related Nazm

حقیقت لوگ بے حد خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے کرنے والے کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھروں آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

Faiz Ahmad Faiz

160 likes

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں

Gulzar

107 likes

تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا

Kumar Vishwas

81 likes

بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س

Tahir Faraz

54 likes

More from Rehaan

"अफ़सोस-2" मोहब्बत में तुम्हें जब उम्र भर का साथ चुभता है अगर ये इश्क़ भी मेरा महज़ इक झूठ लगता है तुम अपनी शाइरी को भी मेरी ग़लती बताते हो तो फिर बोलो कि मुझ से तुम मोहब्बत क्यूँ जताते हो कहो किस हक़ से अब मुझ से कोई भी चाह है तुमको बताओ क्यूँ मेरी ख़ुशियों की यूँ परवाह है तुम को चलो छोड़ो कहा तुम ने जो सब कुछ मानती हूँ मैं मेरा जो हाल होना है ब-ख़ूबी जानती हूँ मैं मुबारक हो तुम्हारी याद में मैं रोज़ जलती हूँ मोहब्बत वाकई अफ़सोस है अब मैं समझती हूँ

Rehaan

0 likes

ب سے پھروں سے سڑک پر دوڑ چلی ہے ب سے پھروں سے سڑک پر دوڑ چلی ہے پھروں تری شہر کو آ رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کم ہوں رہی ہر ایک میل کی دوری پہ اپنے دل کی دھڑکنیں بڑھا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دن گزرا ہے آج پھروں ویسا ہی تھکان بھرا پر خود کو ابھی بے حد املان پا رہا ہن ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھایا ہے آکاش ہے وہ ہے وہ اندھیرا شوالہ اماوَ سے کا خیالوں ہے وہ ہے وہ تری روپ سا چاند بسا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مانکر ساکشی پیچھے چھوٹتے ہر ایک گاؤں کو اتیت کی سبھی رنجشوں سے کسک مٹا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات کچھ کٹ چکی ہے کچھ ڈھلنی اب بھی باقی ہے سویرہ جلد ہونے کی امید لگا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے پھروں سے سڑک پر دوڑ چلی ہے پھروں تری شہر کو آ رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے پھروں سے سڑک پر دوڑ چلی ہے پھروں تری شہر سے خالی ہاتھ جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بڑھ رہی ہر ایک میل کی دوری پہ تری کیے حقیقت سبھی وعدے بھلا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات تری خوابوں سے نیند مکمل شاداب ہوئی جانے پھروں کیوں خود کو اتنا کلانت پا رہا ہوں ہے

Rehaan

1 likes

ایسا کیوں ہوتا ہے ایسا کیوں ہوتا ہے جاتا ہے کوئی تو لوٹ کے پھروں لگ حقیقت آتا دوبارہ ایسا کیوں ہوتا ہے چندا کے جانے سے لگتا فلک یہ سونا سارا دنیا یہ پیار کی دشمن ا سے سے لگ پار پاتا ہے دل ایسا کیوں ہوتا ہے مولا اپنوں سے ہار جاتا ہے دل ایسا کیوں ہوتا ہے دل جو بچھڑتے ہیں دن لگ گزرنے ہیں شا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ کٹتی ہیں راتیں لگ چھٹتی ہیں لگتا نہیں کہی دل یہ بیچارا ایسا کیوں ہوتا ہے رہتی ہیں آنکھیں نمہ ہوں نہیں پاتا ہے گزارا وعدے کیے تھے ا سے نے جو وعدے تھے ا سے کے سارے جھوٹے جتنا اسے تھا کل چاہا خود سے ہیں آج اتنے روٹھے ایسا کیوں ہوتا ہے بھول لگ چا ہوں تو دل کو مناؤں تو دل لگ سمجھتا ہے مجھ سے الجھتا ہے کرتا ہے ا سے پہ ہی ب سے یہ اشارہ ایسا کیوں ہوتا ہے جب بھی یوں ہوتا ہے دل یہ ہوں جاتا ترساؤ

Rehaan

1 likes

ضروری تھا بھولنہ بھی تھا ضروری تجھے تو ا سے لیے پھروں عشق ہے وہ ہے وہ جلتے چراغوں کو بجھایا ہم نے سوچ کر یہ کہ تیری یاد نہیں لازم اب دل سے اپنے تیری یادوں کو ہٹایا ہم نے محبت کے ملالوں سے ابرنا بھی ضروری تھا مرادیں بھی ضروری تھیں سمجھنا بھی ضروری تھا ضروری تھا کہ یادوں کو سنبھالے رکھتے دل ہے وہ ہے وہ ہم مگر یادوں کا پھروں دل سے نکلنا بھی ضروری تھا ہیں ہم کو یاد شا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو تیری گلیوں ہے وہ ہے وہ بیتی تھیں ہمارا دل جہاں ہارا تھا نظریں تیری جیتی تھیں حقیقت تیرا ہم کو شہر جان جاں دیکھنا کیول بہانا تھا اصل ہے وہ ہے وہ تو تیرا مقصد ہمارا دل دکھانا تھا مگر ہم دیر سے سمجھے ادائیں حقیقت نمائش تھیں تیری گلیوں سے بن دیکھے گزرنا بھی ضروری تھا کسی منزل سفر کی اب نہیں رہتی خبر ہم کو کوئی امید کی لو بھی نہیں آتی نظر ہم کو محبت کی غلطیاں کی تھی سزائیں پانی تھی پا لیں کیے کتنے ستم خود پہ کہ کتنی ٹھوکریں کھا لیں تیرے غم کے ستائیں ہم کبھی روئے کبھی تڑپے مگر تڑپے تو یاد آیا تڑپنا بھی ضروری تھا

Rehaan

1 likes

سنو ہے وہ ہے وہ گھر واپ سے آ رہا ہوں اچھا تمہیں ایک خبر سنا رہا ہوں سنو ہے وہ ہے وہ گھر واپ سے آ رہا ہوں ملائے گا نو دنوں کی چھٹیاں ملی ہیں م گر چھٹیاں تو قاف یوں ایک بہانا ہے اصل ہے وہ ہے وہ تو جاناں سے ملنا چاہتا ہوں تمہیں رو برو دیکھنا چاہتا ہوں اک دفع پھروں با ہوں ہے وہ ہے وہ بھرنا چاہتا ہوں اصل ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھوڑا سا تھک گیا تو ہوں تمہاری گود ہے وہ ہے وہ کچھ دیر سونا چاہتا ہوں سفر کی دھوپ ہے وہ ہے وہ بے حد جل چکا ہوں ذرا زلفوں کی پناہ ہے وہ ہے وہ رہنا چاہتا ہوں انجان را ہوں پہ بڑا بھٹک لیا ہوں تمہارے دل کے مکان ہے وہ ہے وہ ٹھہرنا چاہتا ہوں ب سے نو ہی دن ملے ہیں مجھے مریم ہر پل تمہارے ساتھ گزار لگ چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ میرا انتظار کرنا ٹھیک ویسے ہی ان حسین شاموں کی طرح اسی سفید بڑھاؤں گا اور کرتی ہے وہ ہے وہ سنورنا اور گلے ہے وہ ہے وہ لہراتا وہی سرخ دوپٹہ اپنی چھت کی منڈیر پر جاناں کھڑی رہنا گزرونگا جب ہے وہ ہے وہ گلی سے تمہاری تو روکنا لگ خود کو جاناں مسکرانے سے م گر ا سے بار پھیر لوں گا نظ

Rehaan

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rehaan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rehaan's nazm.