nazmKuch Alfaaz

ایک سال و مری دل کے ٹکڑے مری بہنا مری بیٹی مری بچے آج ایک سال ہوں گیا تو تمہیں باشندہ اے عدم آباد ہوئے مری چھوٹی سی دنیا کو برباد ہوئے چنو یہ خوشبو دھوپ ابر و باد ہوئے تمہیں آزاد ہوئے مجھے شب زاد ہوئے جاناں سے کوئی ویواد ہوئے مجھے نامراد ہوئے ا سے دل کو نا شاد ہوئے تمہیں قاف یوں ایک یاد ہوئے مری بیٹی آج ایک سال ہوں گیا تو مقدر کو بگڑے ہوئے مجھے جاناں سے بچھڑے ہوئے ا سے گھر کو اجڑے ہوئے ا سے دل کے ٹکڑے ہوئے بیٹھا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ تیری تصویر کو پکڑے ہوئے بیٹھی ہے تیری یاد دل ہے وہ ہے وہ دل کو جکڑے ہوئے تری مری جھگڑے ہوئے اور مجھے تجھ پہ اکڑے ہوئے ابھاگے باپ کے مکھڑے سے ایک آنکھ کو لکڑے ہوئے ابھاگے بھائی کے کندھے سے ایک بازو کو اکھڑے ہوئے مری بیٹی آج ایک سال ہوں گیا تو خوشیوں کو گھر چھوڑے ہوئے خدا کو مقدر پھوڑے ہوئے گھر کی طرف سیلاب کو موڑے ہوئے مری نیند کو چینے خواب کو گرفت ہوئے ڈاکٹر کے پیرو ہے وہ ہے وہ لوٹے ہوئے ہاتھوں کو جوڑے ہوئے تجھ کو یہ دنیا چھوڑے ہوئے مجھے دنیا سے سب کم ع

Related Nazm

حال دل میری دلربا جاناں خوبصورت ہوں صورت سے نہیں سیرت سے مجھے تمہاری سیرت سے محبت ہے اسیلیے سیرت کا جانتا ہوں شرم دہشت پریشانی جنہیں سخن وروں کویوں نے عشق کی لذت بتایا ہے فیلحال یہ میرے درمیان آ رہے ہیں بہرحال میری چاہتیں تمہارے نفس ہے وہ ہے وہ دھڑکتی ہیں زندہ رہتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تمہیں دیکھا ہے دیکھتے ہوئے مجھے چاہتے ہوئے مجھے سوچتے ہوئے اور میرے لیے پریشان ہوتے ہوئے ویسے چاہت ہوں تو کہنا لازمی ہوتا ہے ضروری ہوتا ہے لیکن عشق کی ان میں ہے وہ ہے وہ لفظ خاموش رہتے ہیں اور نگاہیں بات کر لیتی ہیں مجھے پتا ہے ایک دن جاناں میری نگاہوں سے بات کر لوگی پوچھ لوگی اور تمہیں جواب ملےگا ہاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی چاہتا ہوں خوب چاہتا ہوں ویسے ہے وہ ہے وہ بھی اپنے جاؤں گا اپنی غزلوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت خوب لکھتا ہوں حالانکہ اپناپن یہ ہے کہ ہے وہ ہے وہ بھی کہنے ہے وہ ہے وہ خوف تقاضا ہوں ویسے برا نہ ماننا کہ ہے وہ ہے وہ نے جاناں سے کبھی اظہار نہیں کیا سوچ لینا کہ تھی

Rakesh Mahadiuree

25 likes

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا

Kumar Vishwas

81 likes

دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک

Ali Zaryoun

70 likes

मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मुझ से पहले कितने शाइ'र आए और आ कर चले गए कुछ आहें भर कर लौट गए, कुछ नग़ में गा कर चले गए वे भी एक पल का क़िस्सा थे, मैं भी एक पल का क़िस्सा हूँ कल तुम से जुदा हो जाऊँगा गो आज तुम्हारा हिस्सा हूँ मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है कल और आएँगे नग़मों की खिलती कलियाँ चुनने वाले मुझ सेे बेहतर कहने वाले, तुम सेे बेहतर सुनने वाले कल कोई मुझ को याद करे, क्यूँ कोई मुझ को याद करे मसरुफ़ ज़माना मेरे लिए, क्यूँ वक़्त अपना बर्बाद करे मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है रिश्तों का रूप बदलता है, बुनियादें ख़त्म नहीं होतीं ख़्वाबों और उमँगों की मियादें ख़त्म नहीं होतीं इक फूल में तेरा रूप बसा, इक फूल में मेरी जवानी है इक चेहरा तेरी निशानी है, इक चेहरा मेरी निशानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है तुझ को मुझ को जीवन अमृत अब इन हाथों से पीना है इन की धड़कन में बसना है, इन की साँसों में जीना है तू अपनी अदाएं बक्ष इन्हें, मैं अपनी वफ़ाएँ देता हूँ जो अपने लिए सोचीं थी कभी, वो सारी दुआएँ देता हूँ मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है

Sahir Ludhianvi

52 likes

More from Chhayank Tyagi

بنجارا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں ب سے ایک بنجارا کبھی ا سے دل کبھی ا سے دل کبھی خامل کبھی شامل کبھی پر دل کبھی نچوا کبھی کج دل کبھی خوش دل کبھی دلبر کبھی قاتل کبھی غافل کبھی یک دل کبھی ساگر کبھی ساحل غبار دل فراغ دل یہ راز دل حقیقت خون دل میرا حقیقت عشق داغ دل ہے دود دل مزاق دل حقیقت اک صورت مراد اے دل نہیں ہے عشق بے حاصل ہے وہ ہے وہ ہے وہ گل در گل ہے وہ ہے وہ ناقابل سر محفل بجائے دل کہیں بھی جا رہا ہوں ب سے نہیں معلوم مجھ کو کیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجارا ہی تو ہوں اک کبھی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ٹھٹھرتی ٹھنڈی راتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی دن کے اجالے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کلیجے کے کسی چھالے سے بہتے ا سے لہو ہے وہ ہے وہ تو کسی آرِز پہ آئی ان اولیں سی لکیروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ گداز و نرم بانہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ فراق غم کی آہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسک جو ہے اسے گاتا پھروں کسی بیت الغزل سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوشی کے غم کو لکھتا اور کہانی کو سناتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی دل در پڑ

Chhayank Tyagi

2 likes

اس کا سے کہنا اس کا کا سے کہنا بچھڑ گئے تو کیا یاد تو اب بھی آتی ہے اس کا کا کے لوٹ آنے کی امید اب بھی نظر آتی ہے آدھی رات کو چاند جب کھڑکیوں سے جھانکتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بھی لکھنے بیٹھتا ہوں مگر میرا ہاتھ گواہوں ہے پتا نہیں کیوں ایک کمی سی رہتی ہے یہ نگاہیں اس کا ایک تصویر پر تھمی سی رہتی ہے پرانی میسج ہے وہ ہے وہ لبالب بھری محبت دیکھ کر پگھل جاتا ہے پتھر ورنا تو اس کا دل پہ برف جمی سی رہتی ہے دل ناشاد سے کہنا جیسی اس کا کی ایک رات تھی ویسی یہاں ہر روز آنکھ ہے وہ ہے وہ نمی سی رہتی ہے میری تنہائی اور اس کا کی بے اعتنائی میری ادھوری چھوٹی پڑی غزلیں اور نظمیں ویسے کچھ ہجر کے مکمل شعر ہیں بجھے پڑے دیے ہیں جلی ہوئی اندھیر ہے اس کا کا کے نام لکھے گئے خط میرے گھر کی ویران پڑی چھت تصویر سے اس کا کی لوٹایا کا تل اور میرا بکھرا ہوا دل اور حقیقت یاد ہے ایک مرجھایا ہوا گلاب تھا نا میرا ایک ٹوٹا ہوا خواب ہے نا یہ سبھی روز میرے بغل ہے وہ ہے وہ آ کر کھڑے ہوں جاتے ہیں اور مجھ سے کہتے ہیں اس کا کا سے کہنا دل ٹ

Chhayank Tyagi

3 likes

گزشتہ پچھلے کچھ برس کی یادیں پچھلی کچھ راتوں سے میرے ذہن میں سر پٹک رہی ہیں یہ میری سانسیں جو میری اقتضا وجود ہیں پھروں بھی میری آنکھوں کو خٹک رہی ہیں تیری ان تنگ گلیوں اور ان چھتوں پر دھول چڑھی کتابوں اور ان خطوں پر اس گلزار رضوا کے پھولوں کی اداس خوشبو میں پیڑوں کی چبھتی چھاؤں میں شہر کے کیفے میں اور میرے اس چھوٹے سے گاؤں میں تتلیوں کی ڈھلتی رعنائی میں کوئلوں کی بجھتی گنائی میں ان مظلوموں کی رنجیدہ اہتمام رانائی میں تیری ہتھیلیوں پر لگی کسی اور کے نام کی ہینائی میں تیری چوکھٹ پر تیری کھڑکی پہ میری آنکھوں میں تمہاری سڈکی نے میری توقع کو توڑ دیا ہے تو نے مجھ کو چھوڑ دیا ہے میرے آزردہ خواب بکھر چکے ہیں بھیتر ہی بھیتر مر چکے ہیں بہتر کی تلاش میں خوشتر دن گزر چکے ہیں تیرے وصل میں دنیا کو درگزر چکے ہیں تیری غیر موجودگی اور یہ میری بے تکان افزائش محبت تیرے لیے دم توڑتی ہوئی امید دیدار تیرا سرکتا ہوا عشق اور یہ رقیب سے قرار داد ازدواج سب مل کر مجھے خود کشی کے لیے تسخیر کر چکے ہیں کلاس کی اس بینچ پر

Chhayank Tyagi

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Chhayank Tyagi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Chhayank Tyagi's nazm.