دیکھ تو گوری کسے پکارے بستی بستی دوارے دوارے بر معین ہے وہ ہے وہ جھولی ہاتھ ہے وہ ہے وہ کاسا گھوم رہا ہے پیت کا پیاسا دل ہے وہ ہے وہ آگ دبی ہے ڈرنا آنکھوں ہے وہ ہے وہ اشکوں کا جھرنا لب پر درد کا بارہ ماسا گھوم رہا ہے پیت کا پیاسا کانٹوں سے چھلنی ہیں پاؤں دھوپ ملی چہرے پر چھاؤں آ سے ملی آنکھوں ہے وہ ہے وہ نراسہ گھوم رہا ہے پیت کا پیاسا بات ہماری مان کے گوری سب دنیا سے چوری چوری گھونگھٹ کا پٹ کھول ذرا سا گھوم رہا ہے پیت کا پیاسا صورت ہے انشا جی کی سی بال پریشاں آنکھیں نیچی نام بھی کچھ انشا جی کا سا گھوم رہا ہے پیت کا پیاسا سوچ نہیں ساجن کو بلا لے آگے بڑھ سینے سے لگا لے تجھ بن دے اسے کون دلاسہ گھوم رہا ہے پیت کا پیاسا
Related Nazm
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ
Afkar Alvi
78 likes
کچی عمر کے پیار یہ کچی عمر کے پیار بھی بڑے پکے نشان دیتے ہیں آج پر کم دھیان دیتے ہیں بہکے بہکے نقص دیتے ہیں ان کو دیکھے ہوئے مدت ہوئی اور ہم اب بھی جان دیتے ہیں کیا پیار ایک بار ہوتا ہے نہیں یہ بار بار ہوتا ہے تو پھروں کیوں کسی ایک کا انتظار ہوتا ہے وہی تو سچا پیار ہوتا ہے اچھا پیار بھی کیا انسان ہوتا ہے کبھی سچا کبھی جھوٹا بے ایمان ہوتا ہے ا سے کی رگوں ہے وہ ہے وہ بھی کیا خاندان ہوتا ہے اور مقصد حیات نفع نقصان ہوتا ہے پیار تو پیار ہوتا ہے
Yasra rizvi
47 likes
خدا کا سوال مری رب کی مجھ پر عنایت ہوئی ک ہوں بھی تو کیسے عبادت ہوئی حقیقت ہوئی چنو مجھ پر عیاں بن گئی ہے خدا کی زبان ہوتے ہوتے مخاطب ہے بندے سے پروردگار تو حسن چمن تو ہی رنگ بہار تو معراج فن تو ہی فن کا سنگار مصور ہوں ہے وہ ہے وہ تو میرا شاہکار یہ صبحیں یہ شا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ دن اور رات یہ رنگین دلکش حسین ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ حور و ملائک و الا جنات نے کیا ہے تجھے اشرف اول مخلوقات عظمتوں مری جلترنگ کا حوالہ ہے تو تو ہی روشنی ہے اجالا ہے تو یہ دنیا ج ہاں بزم آرائیاں یہ محفل یہ ذائقہ یہ تنہائیاں فلک کا تجھے شامیا لگ دیا ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر تجھے آب و دا لگ دیا ملے آبشاروں سے بھی حوصلے پہاڑوں ہے وہ ہے وہ تجھ کو دیے راستے یہ پانی ہوا اور یہ شم سے و قمر یہ موج رواں یہ کنارہ بھنور یہ شاخوں پہ غنچے چٹکتے ہوئے فلک پہ ستارے تم چمکتے ہوئے یہ سبزے یہ پھولوں بھری کیاریاں یہ پنچھی یہ اڑتی ہوئی تتلیاں یہ شعلہ یہ شبنم یہ مٹی یہ سنگ یہ جھرنوں کے بجتے ہوئے چرندوں یہ جھیلوں ہے وہ ہے وہ ہنستے ہوئے س
Abrar Kashif
46 likes
ہم گھوم چکے بستی بن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک آ سے کی فان سے لیے من ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی ساجن ہوں کوئی پیارا ہوں کوئی دیپک ہوں کوئی تارا ہوں جب جیون رات اندھیری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں جب ساون بادل چھائی ہوں جب فاگن پھول کھلائے ہوں جب چندا روپ لٹاتا ہوں جب سورج دھوپ نہاتا ہوں یا شام نے بستی گھری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں ہاں دل کا دامن پھیلا ہے کیوں گوری کا دل میلا ہے ہم کب تک پیت کے دھوکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کب تک دور جھروکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب دید سے دل کو سیری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں کیا جھگڑا سود گٹھلیاں کا یہ کاج نہیں بنجارے کا سب سونا روپا لے جائے سب دنیا دنیا لے جائے جاناں ایک مجھے بہتری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں
Ibn E Insha
22 likes
More from Ibn E Insha
لب پر نام کسی کا بھی ہو دل میں تیرا نقشہ ہے اے تصویر بنانے والی جب سے تجھ کو دیکھا ہے بے تیرے کیا وحشت ہم کو تجھ بن کیسا دل پامال و سکون تو ہی اپنا شہر ہے جانی تو ہی اپنا صحرا ہے نیلے پربت عودی دھرتی چاروں کوٹ میں تو ہی تو تجھ سے اپنے جی کی خلوت تجھ سے من کا میلا ہے آج تو ہم بکنے کو آئے آج ہمارے دام لگا یوسف تو بازار وفا میں ایک ٹکے کو بکتا ہے لے جانی اب اپنے من کے پیراہن کی گرہیں کھول لے جانی اب آدھی شب ہے چار طرف سناٹا ہے طوفانوں کی بات نہیں ہے طوفان آتے جاتے ہیں تو اک نرم ہوا کا جھونکا دل کے باغ میں ٹھہرا ہے یا تو آج ہمیں اپنا لے یا تو آج ہمارا بن دیکھ کہ وقت گزرتا جائے کون ابد تک جیتا ہے رنگیں محض فسوں کا پردہ ہم تو آج کے بندے ہیں ہجر و وصل وفا اور دھوکہ سب کچھ آج پہ رکھا ہے
Ibn E Insha
0 likes
کل ہم نے سپنا دیکھا ہے جو اپنا ہو نہیں سکتا ہے اس شخص کو اپنا دیکھا ہے وہ شخص کہ جس کی خاطر ہم اس دیس پھریں اس دیس پھریں جوگی کا بنا کر بھیس پھریں چاہت کے نرالے گیت لکھیں جی موہنے والے گیت لکھیں دھرتی کے مہکتے باغوں سے کلیوں کی جھولی بھر لائیں امبر کے سجیلے منڈل سے تاروں کی ڈولی بھر لائیں ہاں کس کے لیے سب اس کے لیے وہ جس کے لب پر تیسو ہیں وہ جس کے نیناں آہو ہیں جو خار بھی ہے اور خوشبو بھی جو درد بھی ہے اور دارو بھی وہ الھڑ سی وہ چنچل سی وہ شاعر سی وہ پاگل سی لوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیں ہم نام نہ اس کا بتلائیں اے دیکھنے والو تم نے بھی اس نار کی پیت کی آنچوں میں اس دل کا تینا دیکھا ہے کل ہم نے سپنا دیکھا ہے
Ibn E Insha
1 likes
پھیلتا پھیلتا شام غم کا دھواںاک اداسی کا تنٹا ہوا سایہ بان اونچے اونچے مناروں کے سر پہ رواں دیکھ پہنچا ہے آخر ک ہاں سے ک ہاں جھانکتا صورت خیل آوارگاں قمری قمری بہر کاخ و کو شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ مرثیہ سیل ظلمات کو چیرتا جل اٹھا دور بستی کا پہلا دیا پنچھیوں نے بھی پچھم کا رستہ لیا خیر جاؤ عزیزو م گر دیکھنا ایک جگنو بھی مشعل سی لے کے چلا ہے اسے بھی کوئی جستجو شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ سماں پر رواں سرمئی بادلوں ہاں تمہیں کیا فردو سے جوان اور اونچے فردو سے جوان باغ عالم کے تازہ شگفتہ گلو بے نیازا لگ مہکا کروں خوش رہو لیکن اتنا بھی سوچا کبھی ظالمو ہم بھی ہیں عاشق رنگ و بو شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی دیکھے یہ مجبوریاں دوریاں ایک ہی شہر ہے وہ ہے وہ ہم ک ہاں جاناں ک ہاں دوستوں نے بھی کانٹے ہیں دل داریاں آج وقف غم الفت رائگاں ہم جو پھرتے ہیں وحشت زدہ سرگراں تھے کبھی صاحب آبرو شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ لوگ تانوں سے کیا کیا جتاتے نہیں ایسے راہی تو منزل کو پاتے نہیں جی سے اک دوسرے کو بھلاتے نہیں سامنے بھی م گر آتے ج
Ibn E Insha
0 likes
ہم بنجارے دل والے ہیں اور پینٹھ ہے وہ ہے وہ ڈیرے ڈالے ہیں جاناں دھوکہ دینے والی ہوں ہم دھوکہ خانے والے ہیں ا سے ہے وہ ہے وہ تو نہیں شرماوگی کیا دھوکہ دینے آوگی سب مال نکالو لے آؤ اے بستی والو لے آؤ یہ تن کا جھوٹا جادو بھی یہ من کی جھوٹی خوشبو بھی یہ تال بناتے آنسو بھی یہ جال بچھاتے گیسو بھی یہ دھیمے دھیمے سوجھتے سینے کی پر سچ نہیں بولتے سینے کی یہ ہونٹ بھی ہم سے کیا چوری کیا سچ مچ جھوٹے ہیں گوری ان رمزوں ہے وہ ہے وہ ان غاتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان وعدوں ہے وہ ہے وہ ان باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ کھوٹ حقیقت کا تو نہیں کچھ میل اپناپن کا تو نہیں یہ سارے دھوکے لے آؤ یہ پیاری دھوکے لے آؤ کیوں رکھو خود سے دور ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو دام کہو جھمکے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان کانچ کے منکوں کے بدلے ہاں بولو گوری کیا لوگی جاناں ایک جہان کی اشرفیاں یا دل اور جان کی اشرفیاں
Ibn E Insha
0 likes
اے متوالو ناقوں والو دیتے ہوں کچھ ا سے کا پتا نجد کے اندر مجنوں نامی ایک ہمارا بھائی تھا آخر ا سے پر کیا کچھ بیتی جانو تو احوال کہو موت ملی یا لیلیٰ پائی دیوانے کا فصل خزاں کہو عقل کی باتیں کہنے والے دوستوں نے اسے سمجھایا ا سے کو تو لیکن چپ سی لگی تھی نا بولا نا باز آیا خیر اب ا سے کی بات کو چھوڑو دیوا لگ پھروں دیوا لگ جاتے جاتے ہم لوگوں کا ایک سندیسہ لے جانا آوارہ آوارہ پھروں لگ چھوڑ کے منڈلی یاروں کی دیکھ رہے ہیں دیکھنے والے انشا کا اب حال وہی کیا اچھا خوش باش جواں تھا جانے کیوں بیمار ہوا اٹھتے بیٹھتے میر کی بیتیں پڑھنا ا سے کا شعار ہوا طور طریقہ اُکھڑا اُکھڑا چہرہ پیلا سخت ملول راہ ہے وہ ہے وہ چنو خاک پہ کوئی مسئلہ مسئلہ باغ کا پھول شام سویرے بال ناری بیٹھا بیٹھا روتا ہے ناقوں والو ان لوگوں کا عالم کیسا ہوتا ہے اپنا بھی حقیقت دوست تھا ہم بھی پا سے ا سے کے بیٹھ آتے ہیں ادھر ادھر کے قصے کہ کے جی ا سے کا بہلاتے ہیں اکھڑی اکھڑی بات کرے ہے بھول کے ا گلہ یارا لگ کون ہوں جاناں ک سے کام سے آئی ہم نے لگ جاناں کو پہچانا جانے
Ibn E Insha
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ibn E Insha.
Similar Moods
More moods that pair well with Ibn E Insha's nazm.







