nazmKuch Alfaaz

لب پر نام کسی کا بھی ہو دل میں تیرا نقشہ ہے اے تصویر بنانے والی جب سے تجھ کو دیکھا ہے بے تیرے کیا وحشت ہم کو تجھ بن کیسا دل پامال و سکون تو ہی اپنا شہر ہے جانی تو ہی اپنا صحرا ہے نیلے پربت عودی دھرتی چاروں کوٹ میں تو ہی تو تجھ سے اپنے جی کی خلوت تجھ سے من کا میلا ہے آج تو ہم بکنے کو آئے آج ہمارے دام لگا یوسف تو بازار وفا میں ایک ٹکے کو بکتا ہے لے جانی اب اپنے من کے پیراہن کی گرہیں کھول لے جانی اب آدھی شب ہے چار طرف سناٹا ہے طوفانوں کی بات نہیں ہے طوفان آتے جاتے ہیں تو اک نرم ہوا کا جھونکا دل کے باغ میں ٹھہرا ہے یا تو آج ہمیں اپنا لے یا تو آج ہمارا بن دیکھ کہ وقت گزرتا جائے کون ابد تک جیتا ہے رنگیں محض فسوں کا پردہ ہم تو آج کے بندے ہیں ہجر و وصل وفا اور دھوکہ سب کچھ آج پہ رکھا ہے

Related Nazm

''चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ'' चल आ एक ऐसी नज़्म कहूँ जो लफ़्ज़ कहूँ वो हो जाए बस अश्क कहूँ तो एक आँसू तेरे गोरे गाल को धो जाए मैं आ लिक्खूँ तू आ जाए मैं बैठ लिक्खूँ तू आ बैठे मेरे शाने पर सर रक्खे तू मैं नींद कहूँ तू सो जाए मैं काग़ज़ पर तेरे होंठ लिक्खूँ तेरे होंठों पर मुस्कान आए मैं दिल लिक्खूँ तू दिल था में मैं गुम लिक्खूँ वो खो जाए तेरे हाथ बनाऊँ पेंसिल से फिर हाथ पे तेरे हाथ रखूँ कुछ उल्टा सीधा फ़र्ज़ करूँँ कुछ सीधा उल्टा हो जाए मैं आह लिखूँ तू हाए करे बेचैन लिखूँ बेचैन हो तू फिर बेचैन का बे काटूँ तुझे चैन ज़रा सा हो जाए अभी ऐन लिखूँ तू सोचे मुझे फिर शीन लिखूँ तेरी नींद उड़े जब क़ाफ़ लिखूँ तुझे कुछ कुछ हो मैं इश्क़ लिखूँ तुझे हो जाए

Amir Ameer

295 likes

"हम मिलेंगे कहीं" हम मिलेंगे कहीं अजनबी शहर की ख़्वाब होती हुई शाहराओं पे और शाहराओं पे फैली हुई धूप में एक दिन हम कहीं साथ होगे वक़्त की आँधियों से अटी साहतों पर से मिट्टी हटाते हुए एक ही जैसे आँसू बहाते हुए हम मिलेंगे घने जंगलो की हरी घास पर और किसी शाख़-ए-नाज़ुक पर पड़ते हुए बोझ की दास्तानों में खो जाएँगे हम सनोबर के पेड़ों की नोकीले पत्तों से सदियों से सोए हुए देवताओं की आँखें चभो जाएँगे हम मिलेंगे कहीं बर्फ़ के बाजुओं में घिरे पर्वतों पर बाँझ क़ब्रो में लेटे हुए कोह पेमाओं की याद में नज़्म कहते हुए जो पहाड़ों की औलाद थे, और उन्हें वक़्त आने पर माँ बाप ने अपनी आग़ोश में ले लिया हम मिलेंगे कही शाह सुलेमान के उर्स में हौज़ की सीढियों पर वज़ू करने वालो के शफ़्फ़ाफ़ चेहरों के आगे संगेमरमर से आरस्ता फ़र्श पर पैर रखते हुए आह भरते हुए और दरख़्तों को मन्नत के धागो से आज़ाद करते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं नार मेंडी के साहिल पे आते हुए अपने गुम गश्तरश्तो की ख़ाक-ए-सफ़र से अटी वर्दियों के निशाँ देख कर मराकिस से पलटे हुए एक जर्नेल की आख़िरी बात पर मुस्कुराते हुए इक जहाँ जंग की चोट खाते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं रूस की दास्ताओं की झूठी कहानी पे आँखों में हैरत सजाए हुए, शाम लेबनान बेरूत की नरगिसी चश्मूरों की आमद के नोहू पे हँसते हुए, ख़ूनी कज़ियो से मफ़लूह जलबानियाँ के पहाड़ी इलाक़ों में मेहमान बन कर मिलेंगे हम मिलेंगे एक मुर्दा ज़माने की ख़ुश रंग तहज़ीब में ज़स्ब होने के इमकान में इक पुरानी इमारत के पहलू में उजड़े हुए लाँन में और अपने असीरों की राह देखते पाँच सदियों से वीरान ज़िंदान में हम मिलेंगे तमन्नाओं की छतरियों के तले, ख़्वाहिशों की हवाओं के बेबाक बोसो से छलनी बदन सौंपने के लिए रास्तों को हम मिलेंगे ज़मीं से नमूदार होते हुए आठवें बर्रे आज़म में उड़ते हुए कालीन पर हम मिलेंगे किसी बार में अपनी बकाया बची उम्र की पायमाली के जाम हाथ में लेंगे और एक ही घूंट में हम ये सैयाल अंदर उतारेंगे और होश आने तलक गीत गायेंगे बचपन के क़िस्से सुनाता हुआ गीत जो आज भी हम को अज़बर है बेड़ी बे बेड़ी तू ठिलदी तपईये पते पार क्या है पते पार क्या है? हम मिलेंगे बाग़ में, गाँव में, धूप में, छाँव में, रेत में, दश्त में, शहर में, मस्जिदों में, कलीसो में, मंदिर में, मेहराब में, चर्च में, मूसलाधार बारिश में, बाज़ार में, ख़्वाब में, आग में, गहरे पानी में, गलियों में, जंगल में और आसमानों में कोनो मकाँ से परे गैर आबद सैयाराए आरज़ू में सदियों से ख़ाली पड़ी बेंच पर जहाँ मौत भी हम से दस्तो गरेबाँ होगी, तो बस एक दो दिन की मेहमान होगी

Tehzeeb Hafi

236 likes

رمز جاناں جب آوگی تو کھویا ہوا پاؤ گی مجھے مری تنہائی ہے وہ ہے وہ خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں مری کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں مری کمرے ہے وہ ہے وہ کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر ان ہے وہ ہے وہ اک رمز ہے ج سے رمز کا مارا ہوا ذہن مژدہ عشرت انجام نہیں پا سکتا زندگی ہے وہ ہے وہ کبھی آرام نہیں پا سکتا

Jaun Elia

216 likes

یاد ہے پہلے روز کہا تھا یاد ہے پہلے روز کہا تھا پھروں نہ کہنا غلطی دل کی پیار سمجھ کے کرنا لڑکی پیار نبھانا ہوتا ہے پھروں پار لگانا ہوتا ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا ساتھ چلو تو پورے سفر تک مر جانے کی اگلی خبر تک سمجھو یار خدا تک ہوگا سارا پیار وفا تک ہوگا پھروں یہ بندھن توڑ نہ جانا چھوڑ گئے تو پھروں نہ آنا چھوڑ دیا جو تیرا نہیں ہے چلا گیا جو میرا نہیں ہے یاد ہے پہلے روز کہا تھا یا تو ٹوٹ کے پیار نہ کرنا یا پھروں پیٹھ پہ وار نہ کرنا جب نادانی ہو جاتی ہے نئی کہانی ہو جاتی ہے نئی کہانی لکھ لاوں گا اگلے روز میں بک جاؤں گا تیرے گل جب کھیل جائیں گے مجھ کو پیسے مل جائیں گے یاد ہے پہلے روز کہا تھا بچھڑ گئے تو موج اڑانا واپس میرے پاس نہ آنا جب کوئی جا کر واپس آئے روئے تڑپے یا پچھتائے میں پھروں اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں گم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوں

Khalil Ur Rehman Qamar

191 likes

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہر کام کرنے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ضروری بات کہنی ہوں کوئی وعدہ نبھانا ہوں اسے آواز دینی ہوں اسے واپ سے بلانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مدد کرنی ہوں ا سے کی یار کی ڈھار سے باندھنا ہوں بے حد دیری لگ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدلتے موسموں کی سیر ہے وہ ہے وہ دل کو لگانا ہوں کسی کو یاد رکھنا ہوں کسی کو بھول جانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہوں حقیقت اور تھی کچھ ا سے کو جا کے یہ بتانا ہوں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہر کام کرنے ہے وہ ہے وہ

Muneer Niyazi

108 likes

More from Ibn E Insha

شہر دل کی گلیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شام سے بھٹکتے ہیں چاند کے تمنا ئی بے قرار سودائی دل گداز تاریکی روح و جاں کو دستی ہے روح و جاں ہے وہ ہے وہ بستی ہے شہر دل کی گلیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تاک شب کی بیلوں پر شبنمی سرشکوں کی بے قرار لوگوں نے بے شمار لوگوں نے یادگار کانٹے ہے اتنی بات تھوڑی ہے سد ہزار باتیں تھیں حیلہ شکیبائی صورتوں کی زیبائی کامتوں کی را'نائی ان سیاہ راتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک بھی نہ یاد آئی جا بجا بھٹکتے ہیں کہ سے کی راہ تکتے ہیں چاند کے تمنا ئی یہ نگر کبھی پہلے ای سے دودمان نہ ویراں تھا کہنے والے کہتے ہیں قریہ نگاراں تھا خیر اپنے جینے کا یہ بھی ایک سامان تھا آج دل ہے وہ ہے وہ ویرانی ابر بن کے گھر آئی آج دل کو کیا کہیے با وفا نہ ہر جائی پھروں بھی لوگ دیوانے آ گئے ہیں سمجھانے اپنی وحشت دل کے بُن لیے ہیں افسانے خوش خیال دنیا نے گرمیاں تو جاتی ہیں حقیقت رتیں بھی آتی ہیں جب ملول راتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوستوں کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جی نہ

Ibn E Insha

0 likes

یہ بچہ کالا یہ کالا سا مٹیالا سا یہ بچہ بھوکا سا یہ بچہ سوکھا سا یہ بچہ کس کا بچہ ہے یہ بچہ کیسا بچہ ہے جو ریت پر تنہا بیٹھا ہے نا ا سے کے پیٹ ہے وہ ہے وہ روٹی ہے نا ا سے کے تن پر کپڑا ہے نا ا سے کے سر پر ٹوپی ہے نا ا سے کے پیر ہے وہ ہے وہ جوتا ہے نا ا سے کے پا سے کھلونا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی بھالو ہے کوئی گھوڑا ہے نا ا سے جی بہلانے کو کوئی لوری ہے کوئی جھولا ہے نا ا سے کی جیب ہے وہ ہے وہ دھیلا ہے نا ا سے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑھانے ہے نا ا سے کے امی ابو ہیں نا ا سے کی آپا ہے یہ سارے جگ ہے وہ ہے وہ تنہا ہے یہ بچہ کیسا بچہ ہے یہ صحرا کیسا صحرا ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بادل ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ برکھا ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بالی ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ خوشہ ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ سبزہ ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ سایہ ہے یہ صحرا بھوک کا صحرا ہے یہ صحرا موت کا صحرا ہے یہ بچہ کیسے بیٹھا ہے یہ بچہ کب سے بیٹھا ہے یہ بچہ کیا

Ibn E Insha

1 likes

چاند کب سے ہے گریبان شفق اٹکا گھا سے شبنم ہے وہ ہے وہ شرابور ہے شب ہے آدھی بام سونا ہے ک ہاں ڈھونڈے کسی کا چہرہ لوگ بھلاکر کہ بے ربط ہیں باتیں اپنی شعر اگتے ہیں دکھی ذہن سے کونپل کونپل کون موسم ہے کہ بھرپور ہیں غم کی بیلیں دور پہنچے ہیں سرکتے ہوئے اودے بادل چاند تنہا ہے ا گر ا سے کی بلائیں لے لیں دوستو جی کا غضب حال ہے لینا بڑھنا چاندنی رات ہے کاتک کا مہی لگ ہوگا میر مغفور کے اشعار لگ پےہم پڑھنا جینے والوں کو ابھی اور بھی جینا ہوگا چاند ٹھٹھکا ہے گریبان شفق کب سے کون سا چاند ہے ک سے رت کی ہیں راتیں لوگوں دھند اڑنے لگی بنے لگی کیا کیا چہرے اچھی لگتی ہیں دیوانوں کی سی باتیں لوگوں بھیگتی رات ہے وہ ہے وہ دبکا ہوا جھین گر بولا کسمساتی کسی جھاڑی ہے وہ ہے وہ سے خوشبو لپکی کوئی کاکل کوئی دامن کوئی آنچل ہوگا ایک دنیا تھی م گر ہم سے سمیٹی لگ گئی یہ بڑا چاند چمکتا ہوا چہرہ کھولے بیٹھا رہتا ہے سر بام شبستاں شب کو ہم تو ا سے شہر ہے وہ ہے وہ تنہا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے بولے کون ا سے حسن کو دیکھےگا یہ ا سے سے پوچھو سونے ل

Ibn E Insha

0 likes

اے متوالو ناقوں والو دیتے ہوں کچھ ا سے کا پتا نجد کے اندر مجنوں نامی ایک ہمارا بھائی تھا آخر ا سے پر کیا کچھ بیتی جانو تو احوال کہو موت ملی یا لیلیٰ پائی دیوانے کا فصل خزاں کہو عقل کی باتیں کہنے والے دوستوں نے اسے سمجھایا ا سے کو تو لیکن چپ سی لگی تھی نا بولا نا باز آیا خیر اب ا سے کی بات کو چھوڑو دیوا لگ پھروں دیوا لگ جاتے جاتے ہم لوگوں کا ایک سندیسہ لے جانا آوارہ آوارہ پھروں لگ چھوڑ کے منڈلی یاروں کی دیکھ رہے ہیں دیکھنے والے انشا کا اب حال وہی کیا اچھا خوش باش جواں تھا جانے کیوں بیمار ہوا اٹھتے بیٹھتے میر کی بیتیں پڑھنا ا سے کا شعار ہوا طور طریقہ اُکھڑا اُکھڑا چہرہ پیلا سخت ملول راہ ہے وہ ہے وہ چنو خاک پہ کوئی مسئلہ مسئلہ باغ کا پھول شام سویرے بال ناری بیٹھا بیٹھا روتا ہے ناقوں والو ان لوگوں کا عالم کیسا ہوتا ہے اپنا بھی حقیقت دوست تھا ہم بھی پا سے ا سے کے بیٹھ آتے ہیں ادھر ادھر کے قصے کہ کے جی ا سے کا بہلاتے ہیں اکھڑی اکھڑی بات کرے ہے بھول کے ا گلہ یارا لگ کون ہوں جاناں ک سے کام سے آئی ہم نے لگ جاناں کو پہچانا جانے

Ibn E Insha

0 likes

मुन्नी तेरे दाँत कहाँ हैं दाँत थे मैं ने दूध पिला कर सात बरस में पाले आ कर उन को ले गए चूहे लंबी मोंछों वाले गुड़ का उन को माट मिला था मीठा और मज़ेदार लाख ख़ुशामद कर के मुझ से ले लिए दाँत उधार मुन्नी तेरे दाँत कहाँ हैं बिल्ली थी इक मामी मौसी चुपके चुपके आई पंजों पर थी देग की खुरचन होंटों पर बालाई बोली गुड़ के माट पे मैं ने चूहे देखे चार हिस्सा आधों-आध रहेगा दे दो दाँत उधार मुन्नी तेरे दाँत कहाँ हैं बा'द में बूढ़ा मोती आया रोनी शक्ल बनाए बोला बीबी इस बिल्ली का कुछ तो करें उपाए दूध न छोड़े गोश्त न छोड़े हैं बुढ्ढा लाचार इस को करूँँ शिकार जो मुझ को दे दो दाँत उधार अच्छी मुन्नी तुम ने अपने इतने दाँत गँवाए कुछ चूहों ने कुछ बिल्ली ने कुछ मोती ने पाए बाक़ी जो दो-चार रहे हैं वो हम को दिलवाओ इक दावत में आज मिलेंगे तिक्के और पोलाव मुर्ग़ी के पाए का सालन बैगन का आचार दोगी या किसी और से माँगूँ हाँ दिए उधार बाबा हाँ हाँ दिए उधार मुन्नी तेरे दाँत कहाँ हैं

Ibn E Insha

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ibn E Insha.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ibn E Insha's nazm.