nazmKuch Alfaaz

یہ بچہ کالا یہ کالا سا مٹیالا سا یہ بچہ بھوکا سا یہ بچہ سوکھا سا یہ بچہ کس کا بچہ ہے یہ بچہ کیسا بچہ ہے جو ریت پر تنہا بیٹھا ہے نا ا سے کے پیٹ ہے وہ ہے وہ روٹی ہے نا ا سے کے تن پر کپڑا ہے نا ا سے کے سر پر ٹوپی ہے نا ا سے کے پیر ہے وہ ہے وہ جوتا ہے نا ا سے کے پا سے کھلونا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی بھالو ہے کوئی گھوڑا ہے نا ا سے جی بہلانے کو کوئی لوری ہے کوئی جھولا ہے نا ا سے کی جیب ہے وہ ہے وہ دھیلا ہے نا ا سے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑھانے ہے نا ا سے کے امی ابو ہیں نا ا سے کی آپا ہے یہ سارے جگ ہے وہ ہے وہ تنہا ہے یہ بچہ کیسا بچہ ہے یہ صحرا کیسا صحرا ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بادل ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ برکھا ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بالی ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ خوشہ ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ سبزہ ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ سایہ ہے یہ صحرا بھوک کا صحرا ہے یہ صحرا موت کا صحرا ہے یہ بچہ کیسے بیٹھا ہے یہ بچہ کب سے بیٹھا ہے یہ بچہ کیا

Related Nazm

زندگی زندگی ایک لڑکے کا من ہے جسے بس اکیلے ہی بیران کے گبند کے پیچھے بنے لان ہے وہ ہے وہ رقص کرتی ہوئی اور بکھرتی ہوئی نیم کے پیڑ کی پتیاں دیکھنی ہیں زندگی ایک بچے کی ضد ہے جسے کوئی دنیا نہیں صرف پھولوں پہ بیٹھی ہوئی تتلیاں دیکھنی ہیں زندگی ایک جوگن کے پیروں کے پڑھنے لگیں پہ نکلی ہوئی تال سے مات تقاضا ہوا ایک مردنگ ہے زندگی زندگی کے نشے ہے وہ ہے وہ ہی ڈوبے ہوئے ایک مصور کی کوچی سے چھٹکا ہوا رنگ ہے زندگی اپنے محبوب کو اپنی بانہوں ہے وہ ہے وہ بے خوف سوتے ہوئے دیکھنا ہے اور اسے چومنے کی خواہش کا دل ہے وہ ہے وہ نہ آنا ہے زندگی اک ندی کے کنارے پہ چپ چاپ بیٹھے ہوئے دن بتانا ہے زندگی زندہ رہنے کا اچھا بہانا ہے زندگی میرے کمرے کے باہر بنی بالکنی ہے وہ ہے وہ بدلتے ہوئے موسموں کا مزہ لے رہی بلیاں ہیں زندگی بار بار آئینہ دیکھ کر خود پہ مرتی ہوئی اپنی تصویریں لیتی ہوئی باولی لڑکیاں ہیں زندگی اپنی مستی ہے وہ ہے وہ ڈوبی ہوئی خارج ہوئی لکڑیاں بیننے دور جاتی ہوئی ایک پہاڑن کے گالوں پہ بکھری ہوئی دھوپ ہے غور سے دیکھنے پر پتا چلتا ہے زندگی ہر جگہ ہر دفع اپنا خود کا

Vikram Gaur Vairagi

5 likes

سچ ہے وہ ہے وہ جاناں بے حد اچھی ہوں سب سے پیاری جاناں لگتی ہوں ب سے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی گم لگتی ہوں ویسے یہ دنیا جچتی ہے پر دنیا ہے وہ ہے وہ جاناں جچتی ہوں سچ ہے وہ ہے وہ جاناں بے حد اچھی ہوں اتنی اچھی پوچھو ہی مت چنو کوئی چاند ستارہ چنو ماں کا بچہ پیارا چنو روشن رستہ لگتا ویسا روشن تیرا دل ہے شاید مری تو منزل ہے تجھ کو خوجا ہر پل ہے وہ ہے وہ نے ہر اک گھر ہے وہ ہے وہ ہر دروازے لیکن جاناں مری دل ہے وہ ہے وہ ہوں مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ رہتی ہوں پر ہے وہ ہے وہ ٹھہرا پاگل لڑکا سچ کو تو ہے وہ ہے وہ اب ہوں سمجھا اور کہی تو ہوتی کیسے مری ہی دل ہے وہ ہے وہ بستی ہوں سچ ہے وہ ہے وہ جاناں بے حد اچھی ہوں

Kaviraj " Madhukar"

3 likes

دریا لکھاوت پر ہے اور بوجھ ناو پر ہے پہنا آب سارا ہے کوچ کا اشارہ ہوش آزما نظارہ موجوں کے منا ہے وہ ہے وہ کف ہے اک شور ہر طرف ہے مرگ آفرین ہے دھارا اور دور ہے کنارہ کوئی نہیں سہارا تیغ آزما ہیں لہریں تیغیں ہیں یا ہیں لہریں توبہ ہوا کی تیزی موج فنا کی تیزی ہے ک سے بلا کی تیزی تدبیر ناخدا کیا چپو کا آسرا کیا گرداب پڑ رہے ہیں کشتی سے لڑ رہے ہیں تختے اُکھڑ رہے ہیں ن غموں کا خون تمنا خاموش سب ناو نوش خاموش ہے یہ بارات ک سے کی نو شاہ اور باراتى لوٹے ہیں لے کے ڈولی مایو سے ہیں نگاہیں رقصاں لبوں پہ آہیں ڈولی ہے وہ ہے وہ حور پیکر کیا کانپتی ہے تھرتھر لیکن ہے مہر لب پر دولہا کے سر پہ صحرا لیکن ادا سے چہرہ عشرت کی آرزو تھی الفت کی جستجو تھی امید رو برو تھی یہ انقلاب کیا ہے آغوش مرگ وا ہے افسو سے یا الہی کیا آ گئی تباہی قسمت کی کم نگاہی دل سرد ہوں رہے ہیں رکھ زرد ہوں رہے ہیں ا سے محشر بلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لہجہ فنا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سیل باد پا ہے وہ ہے وہ ہے

Hafeez Jalandhari

2 likes

وجود پیڑ تھوڑے پہلے کاٹے جاتے تھے گھونسلے بھی ٹوٹ گر جاتے تھے اڑکے سارے ہی پنچھی کھو جاتے تھے گاؤں کو پھروں شہر اعلان کرنا تھا گھر بنایا تھا و ہاں انسان نے کچھ جگہ بھی چھوڑتا تھا کھیلنے ا سے جگہ اب بچے ہیں کھیلتے دور سے اک جاں تھی یہ سب دیکھتی آنکھ تھی غمگین ا سے کی دیکھ کر ا سے پہ پڑتی ہے نظر بچے کی اک حقیقت پنچھی شاید انہی ہے وہ ہے وہ سے تھا جو پیڑ ٹوٹے تھے مہینوں پہلے سب گھونسلہ ا سے کا تبھی ٹوٹا تھا یار بچہ اک دن اس کا کو پکڑ لیتا ہے پنجرہ بھی واسطے ا سے کے تھا اب اس کا کا کو ہر دن اچھا خا لگ ملتا تھا خوش تھا یا غم ہے وہ ہے وہ پتا لگنا بھی اب تھوڑا مشکل لگ رہا ہے یار اب بچے کو یہ لگ رہا تھا حقیقت پنچھی کو بڑا خوش رکھ رہا تھا باپ کو بچہ خوش دکھتا تھا آ سے پا سے جب پنچھی کے رہتا تھا گھر بنا پیڑ کا گرنا یہ اب مالک بھی اور پنجرے ہے وہ ہے وہ رہتا پنچھی بھی سب بھولے ب سے غلامی نام کا زار یہی ب سے ذرا سی ہی خوشی پاکر سبھی یہ بھول جاتے تھا کیا اپنا وجود

"Dharam" Barot

1 likes

ٹھٹھراتی یہ بچہ کیسا بچہ ہے یہ بچہ کالا یہ کالا مٹیالا سا یہ بچہ بھوکا سا یہ بچہ سوکھا سا یہ بچہ ک سے کا بچہ ہے یہ بچہ کیسا بچہ ہے جو ریت پہ تنہا بیٹھا ہے نا ا سے کے پیٹ ہے وہ ہے وہ روٹی ہے نا ا سے کے تن پر کپڑا ہے نا ا سے کے سر پر ٹوپی ہے نا ا سے کے پیر ہے وہ ہے وہ جوتا ہے نا ا سے کے پا سے کھلونوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی بھالو ہے کوئی گھوڑا ہے نا ا سے کا جی بہلانے کو کوئی لوری ہے کوئی جھولا ہے نا ا سے کی جیب ہے وہ ہے وہ دھیلا ہے نا ا سے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑھانے ہے نا ا سے کے امی ابو ہیں نا ا سے کی آپا خالا ہے یہ سارے جگ ہے وہ ہے وہ تنہا ہے یہ بچہ کیسا بچہ ہے غنچہ صورت یہ صحرا کیسا صحرا ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بادل ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ برکھا ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بالی ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ خوشا ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ سبزہ ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ سایہ ہے یہ صحرا بھوک کا صحرا ہے یہ صحرا موت کا صحرا ہے 3 یہ بچہ کیسے بیٹھا

Ibn E Insha

1 likes

More from Ibn E Insha

اے متوالو ناقوں والو دیتے ہوں کچھ ا سے کا پتا نجد کے اندر مجنوں نامی ایک ہمارا بھائی تھا آخر ا سے پر کیا کچھ بیتی جانو تو احوال کہو موت ملی یا لیلیٰ پائی دیوانے کا فصل خزاں کہو عقل کی باتیں کہنے والے دوستوں نے اسے سمجھایا ا سے کو تو لیکن چپ سی لگی تھی نا بولا نا باز آیا خیر اب ا سے کی بات کو چھوڑو دیوا لگ پھروں دیوا لگ جاتے جاتے ہم لوگوں کا ایک سندیسہ لے جانا آوارہ آوارہ پھروں لگ چھوڑ کے منڈلی یاروں کی دیکھ رہے ہیں دیکھنے والے انشا کا اب حال وہی کیا اچھا خوش باش جواں تھا جانے کیوں بیمار ہوا اٹھتے بیٹھتے میر کی بیتیں پڑھنا ا سے کا شعار ہوا طور طریقہ اُکھڑا اُکھڑا چہرہ پیلا سخت ملول راہ ہے وہ ہے وہ چنو خاک پہ کوئی مسئلہ مسئلہ باغ کا پھول شام سویرے بال ناری بیٹھا بیٹھا روتا ہے ناقوں والو ان لوگوں کا عالم کیسا ہوتا ہے اپنا بھی حقیقت دوست تھا ہم بھی پا سے ا سے کے بیٹھ آتے ہیں ادھر ادھر کے قصے کہ کے جی ا سے کا بہلاتے ہیں اکھڑی اکھڑی بات کرے ہے بھول کے ا گلہ یارا لگ کون ہوں جاناں ک سے کام سے آئی ہم نے لگ جاناں کو پہچانا جانے

Ibn E Insha

0 likes

لب پر نام کسی کا بھی ہو دل میں تیرا نقشہ ہے اے تصویر بنانے والی جب سے تجھ کو دیکھا ہے بے تیرے کیا وحشت ہم کو تجھ بن کیسا دل پامال و سکون تو ہی اپنا شہر ہے جانی تو ہی اپنا صحرا ہے نیلے پربت عودی دھرتی چاروں کوٹ میں تو ہی تو تجھ سے اپنے جی کی خلوت تجھ سے من کا میلا ہے آج تو ہم بکنے کو آئے آج ہمارے دام لگا یوسف تو بازار وفا میں ایک ٹکے کو بکتا ہے لے جانی اب اپنے من کے پیراہن کی گرہیں کھول لے جانی اب آدھی شب ہے چار طرف سناٹا ہے طوفانوں کی بات نہیں ہے طوفان آتے جاتے ہیں تو اک نرم ہوا کا جھونکا دل کے باغ میں ٹھہرا ہے یا تو آج ہمیں اپنا لے یا تو آج ہمارا بن دیکھ کہ وقت گزرتا جائے کون ابد تک جیتا ہے رنگیں محض فسوں کا پردہ ہم تو آج کے بندے ہیں ہجر و وصل وفا اور دھوکہ سب کچھ آج پہ رکھا ہے

Ibn E Insha

0 likes

شہر دل کی گلیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شام سے بھٹکتے ہیں چاند کے تمنا ئی بے قرار سودائی دل گداز تاریکی روح و جاں کو دستی ہے روح و جاں ہے وہ ہے وہ بستی ہے شہر دل کی گلیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تاک شب کی بیلوں پر شبنمی سرشکوں کی بے قرار لوگوں نے بے شمار لوگوں نے یادگار کانٹے ہے اتنی بات تھوڑی ہے سد ہزار باتیں تھیں حیلہ شکیبائی صورتوں کی زیبائی کامتوں کی را'نائی ان سیاہ راتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک بھی نہ یاد آئی جا بجا بھٹکتے ہیں کہ سے کی راہ تکتے ہیں چاند کے تمنا ئی یہ نگر کبھی پہلے ای سے دودمان نہ ویراں تھا کہنے والے کہتے ہیں قریہ نگاراں تھا خیر اپنے جینے کا یہ بھی ایک سامان تھا آج دل ہے وہ ہے وہ ویرانی ابر بن کے گھر آئی آج دل کو کیا کہیے با وفا نہ ہر جائی پھروں بھی لوگ دیوانے آ گئے ہیں سمجھانے اپنی وحشت دل کے بُن لیے ہیں افسانے خوش خیال دنیا نے گرمیاں تو جاتی ہیں حقیقت رتیں بھی آتی ہیں جب ملول راتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوستوں کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جی نہ

Ibn E Insha

0 likes

چاند کب سے ہے گریبان شفق اٹکا گھا سے شبنم ہے وہ ہے وہ شرابور ہے شب ہے آدھی بام سونا ہے ک ہاں ڈھونڈے کسی کا چہرہ لوگ بھلاکر کہ بے ربط ہیں باتیں اپنی شعر اگتے ہیں دکھی ذہن سے کونپل کونپل کون موسم ہے کہ بھرپور ہیں غم کی بیلیں دور پہنچے ہیں سرکتے ہوئے اودے بادل چاند تنہا ہے ا گر ا سے کی بلائیں لے لیں دوستو جی کا غضب حال ہے لینا بڑھنا چاندنی رات ہے کاتک کا مہی لگ ہوگا میر مغفور کے اشعار لگ پےہم پڑھنا جینے والوں کو ابھی اور بھی جینا ہوگا چاند ٹھٹھکا ہے گریبان شفق کب سے کون سا چاند ہے ک سے رت کی ہیں راتیں لوگوں دھند اڑنے لگی بنے لگی کیا کیا چہرے اچھی لگتی ہیں دیوانوں کی سی باتیں لوگوں بھیگتی رات ہے وہ ہے وہ دبکا ہوا جھین گر بولا کسمساتی کسی جھاڑی ہے وہ ہے وہ سے خوشبو لپکی کوئی کاکل کوئی دامن کوئی آنچل ہوگا ایک دنیا تھی م گر ہم سے سمیٹی لگ گئی یہ بڑا چاند چمکتا ہوا چہرہ کھولے بیٹھا رہتا ہے سر بام شبستاں شب کو ہم تو ا سے شہر ہے وہ ہے وہ تنہا ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے بولے کون ا سے حسن کو دیکھےگا یہ ا سے سے پوچھو سونے ل

Ibn E Insha

0 likes

इंशा'-जी ये कौन आया किस देस का बासी है होंटों पे तबस्सुम है आँखों में उदासी है ख़्वाबों के गुलिस्ताँ की ख़ुश-बू-ए-दिल-आरा है या सुब्ह-ए-तमन्ना के माथे का सितारा है तरसी हुई नज़रों को अब और न तरसा रे ऐ हुस्न के सौदागर ऐ रूप के बंजारे रमना दिल-ए-'इंशा' का अब तेरा ठिकाना हो अब कोई भी सूरत हो अब कोई बहाना हो ख़ाकिस्तर-ए-दिल को है फिर शोला-ब-जाँ होना हैरत का जहाँ होना हसरत का निशाँ होना ऐ शख़्स जो तू आ कर यूँँ दिल में समाया है तू दर्द कि दरमाँ है तो धूप कि साया है? नैनाँ तिरे जादू हैं गेसू तिरे ख़ुश्बू हैं बातें किसी जंगल में भटका हुआ आहू हैं मक़्सूद-ए-वफ़ा सुन ले क्या साफ़ है सादा है जीने की तमन्ना है मरने का इरादा है

Ibn E Insha

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ibn E Insha.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ibn E Insha's nazm.