nazmKuch Alfaaz

دریا لکھاوت پر ہے اور بوجھ ناو پر ہے پہنا آب سارا ہے کوچ کا اشارہ ہوش آزما نظارہ موجوں کے منا ہے وہ ہے وہ کف ہے اک شور ہر طرف ہے مرگ آفرین ہے دھارا اور دور ہے کنارہ کوئی نہیں سہارا تیغ آزما ہیں لہریں تیغیں ہیں یا ہیں لہریں توبہ ہوا کی تیزی موج فنا کی تیزی ہے ک سے بلا کی تیزی تدبیر ناخدا کیا چپو کا آسرا کیا گرداب پڑ رہے ہیں کشتی سے لڑ رہے ہیں تختے اُکھڑ رہے ہیں ن غموں کا خون تمنا خاموش سب ناو نوش خاموش ہے یہ بارات ک سے کی نو شاہ اور باراتى لوٹے ہیں لے کے ڈولی مایو سے ہیں نگاہیں رقصاں لبوں پہ آہیں ڈولی ہے وہ ہے وہ حور پیکر کیا کانپتی ہے تھرتھر لیکن ہے مہر لب پر دولہا کے سر پہ صحرا لیکن ادا سے چہرہ عشرت کی آرزو تھی الفت کی جستجو تھی امید رو برو تھی یہ انقلاب کیا ہے آغوش مرگ وا ہے افسو سے یا الہی کیا آ گئی تباہی قسمت کی کم نگاہی دل سرد ہوں رہے ہیں رکھ زرد ہوں رہے ہیں ا سے محشر بلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لہجہ فنا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سیل باد پا ہے وہ ہے وہ ہے

Related Nazm

"हम मिलेंगे कहीं" हम मिलेंगे कहीं अजनबी शहर की ख़्वाब होती हुई शाहराओं पे और शाहराओं पे फैली हुई धूप में एक दिन हम कहीं साथ होगे वक़्त की आँधियों से अटी साहतों पर से मिट्टी हटाते हुए एक ही जैसे आँसू बहाते हुए हम मिलेंगे घने जंगलो की हरी घास पर और किसी शाख़-ए-नाज़ुक पर पड़ते हुए बोझ की दास्तानों में खो जाएँगे हम सनोबर के पेड़ों की नोकीले पत्तों से सदियों से सोए हुए देवताओं की आँखें चभो जाएँगे हम मिलेंगे कहीं बर्फ़ के बाजुओं में घिरे पर्वतों पर बाँझ क़ब्रो में लेटे हुए कोह पेमाओं की याद में नज़्म कहते हुए जो पहाड़ों की औलाद थे, और उन्हें वक़्त आने पर माँ बाप ने अपनी आग़ोश में ले लिया हम मिलेंगे कही शाह सुलेमान के उर्स में हौज़ की सीढियों पर वज़ू करने वालो के शफ़्फ़ाफ़ चेहरों के आगे संगेमरमर से आरस्ता फ़र्श पर पैर रखते हुए आह भरते हुए और दरख़्तों को मन्नत के धागो से आज़ाद करते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं नार मेंडी के साहिल पे आते हुए अपने गुम गश्तरश्तो की ख़ाक-ए-सफ़र से अटी वर्दियों के निशाँ देख कर मराकिस से पलटे हुए एक जर्नेल की आख़िरी बात पर मुस्कुराते हुए इक जहाँ जंग की चोट खाते हुए हम मिलेंगे हम मिलेंगे कहीं रूस की दास्ताओं की झूठी कहानी पे आँखों में हैरत सजाए हुए, शाम लेबनान बेरूत की नरगिसी चश्मूरों की आमद के नोहू पे हँसते हुए, ख़ूनी कज़ियो से मफ़लूह जलबानियाँ के पहाड़ी इलाक़ों में मेहमान बन कर मिलेंगे हम मिलेंगे एक मुर्दा ज़माने की ख़ुश रंग तहज़ीब में ज़स्ब होने के इमकान में इक पुरानी इमारत के पहलू में उजड़े हुए लाँन में और अपने असीरों की राह देखते पाँच सदियों से वीरान ज़िंदान में हम मिलेंगे तमन्नाओं की छतरियों के तले, ख़्वाहिशों की हवाओं के बेबाक बोसो से छलनी बदन सौंपने के लिए रास्तों को हम मिलेंगे ज़मीं से नमूदार होते हुए आठवें बर्रे आज़म में उड़ते हुए कालीन पर हम मिलेंगे किसी बार में अपनी बकाया बची उम्र की पायमाली के जाम हाथ में लेंगे और एक ही घूंट में हम ये सैयाल अंदर उतारेंगे और होश आने तलक गीत गायेंगे बचपन के क़िस्से सुनाता हुआ गीत जो आज भी हम को अज़बर है बेड़ी बे बेड़ी तू ठिलदी तपईये पते पार क्या है पते पार क्या है? हम मिलेंगे बाग़ में, गाँव में, धूप में, छाँव में, रेत में, दश्त में, शहर में, मस्जिदों में, कलीसो में, मंदिर में, मेहराब में, चर्च में, मूसलाधार बारिश में, बाज़ार में, ख़्वाब में, आग में, गहरे पानी में, गलियों में, जंगल में और आसमानों में कोनो मकाँ से परे गैर आबद सैयाराए आरज़ू में सदियों से ख़ाली पड़ी बेंच पर जहाँ मौत भी हम से दस्तो गरेबाँ होगी, तो बस एक दो दिन की मेहमान होगी

Tehzeeb Hafi

236 likes

ہجر نہ جانے کیسے لوگ تھے حقیقت جو ان کے دل کو بھا گئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے محبت چاہی تو حقیقت یادیں مجھ کو تھما گئے پریم جتنا دل ہے وہ ہے وہ تھا زبان ہوتے ہوتے پر آ کر لفظ ہوا جب جاناں نے ان کو سنا نہیں نمہ بنکر نہین ہے وہ ہے وہ سما گئے دل ہے وہ ہے وہ تھی ایک آ سے بچی تیری بے رکھ سے ہار گئی حقیقت محبت تھی میری جو جاناں ہنسی ہے وہ ہے وہ قسمیں گئے جاناں نے آنکھیں جو پھیری ہیں اب ایسا شام سویرہ ہے سورج ہے چنو بجھا ہوا جام عنایت جاناں چنو جلا گئے کانوں کو تھے جو تیر لگے حقیقت دل پر آ کر زخم ہوئے اب درد آنکھوں ہے وہ ہے وہ رہتا ہے یہ کیا جاناں مجھ کو سنا گئے ساگر جو بادل بنکر ساحل سے تھا جدا ہوا پہاڑ نے پوچھا حال ذرا سارا منظر حقیقت بہا گئے نیند ہٹا کر آنکھوں سے یہ خواب تمہارے بیٹھے ہیں یاد اٹھی جب آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو خواب یہ سارے نہا گئے بس پیدل ہی چل کر کے کوئی بھوساگر پار ہوا اور ای سے زمیں پر ڈوب کر یہ جان کتنے گنوا گئے اب بس اکیلا رہتا ہے<b

Divya 'Kumar Sahab'

16 likes

ہے وہ ہے وہ اور جاناں ہم دونوں مستقبل ہے وہ ہے وہ ایک ہونا چاہتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے خیال سے ڈرتی تھی اور حقیقت دعا مانگتے تھے حقیقت مجھے ہر گھڑی اور موڑ پہ سنبھالتا تھا مگر دونوں ڈرتے تھے کیونکہ دونوں الگ مذہب سے تھے عشق ہے وہ ہے وہ اتنی آزمایا ہے کیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسی سوچ ہے وہ ہے وہ رویا کرتی تھی آنکھ سے آنسو بہتے تھے تکیے کو بھگویا کرتی تھی اور حقیقت بھی اسی سوچ ہے وہ ہے وہ پریشان تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہندو تھی اور حقیقت مسلمان تھا ساتھ ہوکر کبھی الگ ہوں گے یار پھروں ساتھ ہے وہ ہے وہ غلط ہوں گے ڈانٹتی تھی اسے برابر دن اور حقیقت چپ مجھے عجب ہوں گے ا سے کے گھر والے مان جاتے لیکن میرا گھر مجھے مار دیتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر ا سے کی نہیں ہوتی ایک دن حقیقت خود کو ہار دیتا ا سے لیے ہم دونوں ایک اچھی نوکری چاہتے تھے نوکری ہوں گی تو سب مان آئی جائیں گے یہ ہم مانتے تھے لیکن ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پتا نہیں تھا ہمارے ساتھ آگے کیا ہوگا یا پھروں ہم ا سے کے رہیں گے بھی یا حقیقت مجھ سے جدا ہوگا<b

Arohi Tripathi

7 likes

مری حیات یہ ہے اور یہ تمہاری قضا زیادہ ک سے سے ک ہوں اور ک سے کو کم بولو جاناں اہل خا لگ رہے اور ہے وہ ہے وہ یتیم ہوا تمہارا درد بڑا ہے یا میرا غم بولو تمہارا دور تھا گھر ہے وہ ہے وہ بہار ہنستی تھی ابھی تو در پہ فقط رنج و غم کی دستک ہے تمہارے ساتھ کا موسم بڑا حسین رہا تمہارے بعد کا موسم بڑا بھيانک ہے ہزاروں قرض تھے مجھ پر تمہاری الفت کے مجھے حقیقت قرض چکانے کا موقع تو دیتے تمہارا خون مری جسم ہے وہ ہے وہ مچلتا رہا ذرا سے قطرے بہانے کا موقع تو دیتے بڑے سکون سے جاناں سو گئے و ہاں جا کر یہ کیسے نیند تمہیں آ گئی نئے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر ایک شب ہے وہ ہے وہ فقط کروٹیں بدلتا ہوں تمہاری قبر کے کنکر ہوں چنو بستر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بوجھ کاندهوں پہ ایسے اٹھا کے چلتا ہوں تمہارا چنو جنازہ اٹھا کے چلتا تھا ی ہاں پہ مری پریشانی صرف مری ہے و ہاں کوئی لگ کوئی کانده تو بدلتا تھا تمہاری شم تمنا ب سے ایک رات بجھی چراغ مری توقع کے روز بجھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سان سے لوں بھی تو کیسے کہ مری سانسوں ہے

Zubair Ali Tabish

19 likes

جب پاپا پاپا کہتے تھے جب پاپا پاپا کہتے تھے ہم کتنے مزے ہے وہ ہے وہ رہتے تھے جب پاپا ہم نے کہوائی جاں پھٹ کے گلے ہے وہ ہے وہ ہے آئی تب ہنستے گاتے پھرتے تھے اب مارے مارے پھرتے ہیں لگ ہی کچھ کھونے کا ڈر تھا تب لگ ہی کچھ پانے کی اچھا تھی تب من ہے وہ ہے وہ ج ہاں بھی آتا تھا وہیں پہ رویا کرتے تھے ہم رونے کے لیے بھی اب ہم کو جا بک کروانی پڑتی ہے جب پاپا پاپا کہتے تھے ہم کتنے مزے ہے وہ ہے وہ رہتے تھے سکول کو ہم جاناں جاتے تھے تب زیب ہے وہ ہے وہ پیسے رہتے تھے اب ہاتھ سبھی کے خالی ہیں کیسی یار اب کی پڑھائی ہے حقیقت پیٹھ پہ بوجھ کتابوں کا اور جیب ہے وہ ہے وہ کنچے رہتے تھے جب سکول سے گھر آتے تھے تو چاک چرا کر لاتے تھے گلی ڈنڈا لے لے کر روز ہم گلیوں گلیوں پھرتے تھے جب پاپا پاپا کہتے تھے ہم کتنے مزے ہے وہ ہے وہ رہتے تھے یاد آتا ہے حقیقت دور ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دا گرا کے آنچل ہے وہ ہے وہ سیاہ بخت تھے ممی کو جھوٹ بتاتے تھے پاپا کو جھوٹ بتاتے تھے پھروں ہوتی خوب پٹائی تھی ہم اکڑ بکر کرتے تھ

Prashant Kumar

4 likes

More from Hafeez Jalandhari

لحد ہے وہ ہے وہ سو رہی ہے آج بے شک مشت خاک اس کا کی مگر گرم عمل ہے جاگتی ہے جان پاک اس کا کی حقیقت اک فانی بشر تھا ہے وہ ہے وہ یہ ہوا شوق کر نہیں سکتا بشر حفیظ ہوں جائے تو ہرگز مر نہیں سکتا ب زیر سایہ دیوار مسجد ہے جو آسودہ یہ خاکی جسم ہے ستر برس کا راہ پیمودہ یہ خاکی جسم بھی اس کا کا بہت ہی بیش قیمت تھا جسے ہم جلوہ سمجھے تھے حقیقت پردہ بھی غنیمت تھا اسے ہم ناپتے تھے لے کے آنکھوں ہی کا پیمانہ غزل خواں اس کا کو جانا ہم نے شاعر اس کا کو گردانہ فقط صورت ہی دیکھی اس کا کے معنی ہم نہیں سمجھے نہ دیکھا رنگ تصویر آئینے کو دل نشیں سمجھے ہمیں زوف بصارت سے کہاں تھی تاب نظارہ سکھائے اس کا کے پردے نے ہمیں آداب نظارہ یہ نغمہ کیا ہے زیر پردہ ہا ساز کم سمجھے رہے سب گوش بر آواز لیکن راز کم سمجھے شکست پیکر محسوس نے توڑا حجاب آخر طلوع صبح محشر بن کے چمکا آفتاب آخر مقید اب نہیں حفیظ اپنے جسم فانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں حقیقت بند حائل آج دریا کی روانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ وجود مرگ کی قائل نہیں تھی زندگی اس کا کی عارف اعلیٰ اللہ اب دیکھے کوئی پا

Hafeez Jalandhari

0 likes

عمارت اور شوکت اور سرمائے کی تصویریں یہ ایوانات سب ہیں حال ہی کی تازہ تع مری ادھر کچھ فاصلے پر چند گھر تھے کاشت کاروں کے ج ہاں اب کار خا لگ بن گئے سرمایہ داروں کے مویشی ہوں گئے نیلام کیوں یہ کوئی کیا جانے کچہری جانے ساہوکار جانے یا خدا جانے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ داروں کو جا کر دیکھ لے جو بھی کوئی چاہے نئے بھٹوں ہے وہ ہے وہ اینٹیں تھاپتے پھرتے ہیں حلواہے ی ہاں اپنے پرانی گاؤں کا اب کیا رہا باقی یہی تکیہ یہی اک ہے وہ ہے وہ یہی اک جھونپڑا باقی عظیم الشان بستی ہے یہ گرماےگی ویرا لگ ی ہاں ہم اجنبی دونوں ہیں ہے وہ ہے وہ اور میرا کاشا لگ

Hafeez Jalandhari

1 likes

آج بادل خوب برسا اور بر سے کر کھل گیا تو گلستاں کی ڈالی ڈالی پتہ پتہ دھل گیا تو دیکھنا کیا دھل گیا تو سارے کا سارا آ سماں اودا اودا نیلا نیلا پیارا پیارا آ سماں ہٹ گیا تو بادل کا پردہ مل گئی کرنوں کو راہ سلطنت پر اپنی پھروں خورشید نے ڈالی نگاہ دھوپ ہے وہ ہے وہ ہے گھا سے پر پانی کے قطروں کی چمک مات ہے ا سے سمے اندھیرا اور ہیرے کی دمک دے رہی ہے لطف کیا سرسبز پیڑوں کی قطار اور خا لگ وحدت پسند شاخوں پہ ہے رنگین پھولوں کی بہار کیا پرندے پھروں رہے ہیں چہچہاتے ہر طرف راگنی برسات کی خوش ہوں کے گاتے ہر طرف دیکھنا حقیقت کیا اچمبھا ہے انتقامن حقیقت دیکھنا آ سماں پر ان درختوں سے پرے حقیقت دیکھنا یہ کوئی جادو ہے یا سچ مچ ہے اک درماندہ کماں واہ وا کیسا بھلا لگتا ہے یہ پیارا سماں ک سے مصور نے بھرے ہیں رنگ ایسے خوشنما ا سے کا ہر اک رنگ ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ چنو خوب گیا تو اک جگہ کیسے اکٹھے کر دیے ہیں سات رنگ شوخ ہیں ساتوں کے ساتوں اک نہیں ہے مات رنگ ہے یہ قدرت کا نظارہ اور کیا کہیے اسے ب سے یہی جی چاہتا ہے دیکھتے رہیے اسے نہنہے نہنہے جم

Hafeez Jalandhari

1 likes

आगे पीछे दाएँ बाएँ काएँ काएँ काएँ काएँ सुब्ह-सवेरे नूर के तड़के मुँह धो-धा कर नन्हे लड़के बैठते हैं जब खाना खाने कव्वे लगते हैं मंडलाने तौबा तौबा ढीट हैं कितने कव्वे हैं या काले फ़ित्ने लाख हँकाओ लाख उड़ाओ मुँह से चीख़ो हाथ हिलाओ घूरो घुड़को या धुतकारो कोई चीज़ उठा कर मारो कव्वे बाज़ नहीं आते हैं जाते हैं फिर आ जाते हैं हर दम है खाने की आदत शोर मचाने की है आदत बच्चों से बिल्कुल नहीं डरता उन की कुछ परवा नहीं करता देखा नन्हा भोला-भाला छीन लिया हाथों से निवाला कोई इशारा हो या आहट ताड़ के उड़ जाता है झट-पट अब करने दो काएँ काएँ हम क्यूँँ अपनी जान खपाएँ

Hafeez Jalandhari

2 likes

فت لگ خفتہ جگائے ا سے گھڑی ک سے کی مجال قید ہیں شہزادیاں کوئی نہیں پرساحال ان غریبوں کی مدد پر کوئی آمادہ نہیں ایک شاعر ہے ی ہاں لیکن حقیقت شہزادہ نہیں آہوؤں کی سرمگیں پلکیں فضا پر حکمران چھائی ہیں عرض و سما پر آہنی سی جالیاں دور سے کوہسار و وا گرا پر یہ ہوتا ہے گماں اونٹ ہیں بیٹھے ہوئے اترا ہوا ہے کارواں یا اثر ہیں آسمان پیر پر برسات کے خیمہ بوسیدہ ہے وہ ہے وہ پیوند ہیں بانات کے اور ا سے خیمے کے اندر زندگی سوئی ہوئی تیرگی سوئی ہوئی تابندگی سوئی ہوئی اے عرو سے بہار ان نیند کے ماتوں کی منزل سے نکل کام ہے در سانحے دام دیدہ و دل سے نکل دیدہ و دل کو بھی غفلت کے متصل سے نکال یہ جو خموشی کی زنجیریں ہیں ان کو توڑ ڈال صبح کرنے کے لیے پھروں ہاو ہوں درکار ہے شکر کر سوتی ہوئی دنیا ہے وہ ہے وہ تو منجملہ و اسباب ماتم ہے

Hafeez Jalandhari

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Hafeez Jalandhari.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Hafeez Jalandhari's nazm.