عمارت اور شوکت اور سرمائے کی تصویریں یہ ایوانات سب ہیں حال ہی کی تازہ تع مری ادھر کچھ فاصلے پر چند گھر تھے کاشت کاروں کے ج ہاں اب کار خا لگ بن گئے سرمایہ داروں کے مویشی ہوں گئے نیلام کیوں یہ کوئی کیا جانے کچہری جانے ساہوکار جانے یا خدا جانے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ داروں کو جا کر دیکھ لے جو بھی کوئی چاہے نئے بھٹوں ہے وہ ہے وہ اینٹیں تھاپتے پھرتے ہیں حلواہے ی ہاں اپنے پرانی گاؤں کا اب کیا رہا باقی یہی تکیہ یہی اک ہے وہ ہے وہ یہی اک جھونپڑا باقی عظیم الشان بستی ہے یہ گرماےگی ویرا لگ ی ہاں ہم اجنبی دونوں ہیں ہے وہ ہے وہ اور میرا کاشا لگ
Related Nazm
تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے
Zubair Ali Tabish
117 likes
بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س
Tahir Faraz
54 likes
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک
Ali Zaryoun
70 likes
محبوبہ کے نام تو اپنی چٹھیوں ہے وہ ہے وہ میر کے اشعار لکھتی ہے محبت کے بنا ہے زندگی بیکار لکھتی ہے تیرے خط تو عبارت ہیں وفاداری کی قسموں سے جنہیں ہے وہ ہے وہ پیسہ ڈرتا ہوں وہی ہر بار لکھتی ہے تو پیروکار لیلیٰ کی ہے شیریں کی پجارن ہے مگر تو جس پہ بیٹھی ہے حقیقت سونے کا سنگھاسن ہے تیری پلکوں کے مسکارے تیرے ہونٹوں کی یہ لالی یہ تیرے ریشمی کپڑے یہ تیرے کان کی بالی گلے کا یہ چمکتا ہار ہاتھوں کے تیرے کنگن یہ سب کے سب ہے میرے دل میرے احساس کے دشمن کہ ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے پیار کی قیمت وفا کا مول کیا کیا ہے اعتبار کی قیمت شکستہ کشتیوں ٹوٹی ہوئی پتوار کی قیمت ہے میری جیت سے بڑھکر تو تیری ہار کی قیمت حقیقت خون کے آنسو تجھے جنگل پرستی جاناں تو اپنے فیصلے پر بعد ہے وہ ہے وہ پچھتائےگی جاناں میرے کندھے پہ چھوٹے بھائیوں کی ذمہ داری ہے میرے ماں باپ بوڑھے ہے بہن بھی تو کنواری ہے برہنہ موسموں کے وار کو تو سہ نہ بدلی حویلی چھوڑ کر تو جھونپڑی ہے وہ ہے وہ رہ نہ بدلی بیگانہ غم تیری میری مفلسی کو
Abrar Kashif
50 likes
More from Hafeez Jalandhari
لحد ہے وہ ہے وہ سو رہی ہے آج بے شک مشت خاک اس کا کی مگر گرم عمل ہے جاگتی ہے جان پاک اس کا کی حقیقت اک فانی بشر تھا ہے وہ ہے وہ یہ ہوا شوق کر نہیں سکتا بشر حفیظ ہوں جائے تو ہرگز مر نہیں سکتا ب زیر سایہ دیوار مسجد ہے جو آسودہ یہ خاکی جسم ہے ستر برس کا راہ پیمودہ یہ خاکی جسم بھی اس کا کا بہت ہی بیش قیمت تھا جسے ہم جلوہ سمجھے تھے حقیقت پردہ بھی غنیمت تھا اسے ہم ناپتے تھے لے کے آنکھوں ہی کا پیمانہ غزل خواں اس کا کو جانا ہم نے شاعر اس کا کو گردانہ فقط صورت ہی دیکھی اس کا کے معنی ہم نہیں سمجھے نہ دیکھا رنگ تصویر آئینے کو دل نشیں سمجھے ہمیں زوف بصارت سے کہاں تھی تاب نظارہ سکھائے اس کا کے پردے نے ہمیں آداب نظارہ یہ نغمہ کیا ہے زیر پردہ ہا ساز کم سمجھے رہے سب گوش بر آواز لیکن راز کم سمجھے شکست پیکر محسوس نے توڑا حجاب آخر طلوع صبح محشر بن کے چمکا آفتاب آخر مقید اب نہیں حفیظ اپنے جسم فانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں حقیقت بند حائل آج دریا کی روانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ وجود مرگ کی قائل نہیں تھی زندگی اس کا کی عارف اعلیٰ اللہ اب دیکھے کوئی پا
Hafeez Jalandhari
0 likes
اے دیکھنے والو ا سے حسن کو دیکھو ا سے راز کو سمجھو یہ نقش خیالی یہ فکرت عالی یہ پیکر تنویر یہ کرشن کی تصویر معنی ہے کہ صورت صنعت ہے کہ فطرت ظاہر ہے کہ مستور نزدیک ہے یا دور یہ نار ہے یا نور دنیا سے نرالا یہ بانسری والا گوکل کا گوالا ہے سحر کہ اعزاز کھلتا ہی نہیں راز کیا شان ہے واللہ کیا آن ہے واللہ حیران ہوں کیا ہے اک شان خدا ہے بت خانے کے اندر خود حسن کا بت گر بت بن گیا تو آ کر حقیقت طرفہ نظارے یاد آ گئے سارے جمنا کے کنارے سبزے کا لہکنا پھولوں کا مہکنا گھنگھور گھٹائیں سرمست ہوائیں معصوم امنگیں الفت کی ترنگیں حقیقت گوپیوں کے ساتھ ہاتھوں ہے وہ ہے وہ دیے ہاتھ رقصاں ہوا بریجناتھ بنسری ہے وہ ہے وہ جو لے ہے نشہ ہے لگ مے ہے کچھ اور ہی اجازت ہے اک روح ہے رقصاں اک کیف ہے لرزاں ایک عقل ہے مے نوش اک ہوش ہے مدہوش اک خندہ ہے سیال اک گریہ ہے خوشحال اک عشق ہے مغرور اک حسن ہے مجبور اک سحر ہے مسحور دربار ہے وہ ہے وہ تنہا لاچار ہے اندھیرا آ شیام ادھر آ<br
Hafeez Jalandhari
0 likes
شراب خا لگ ہے بزم ہستی ہر ایک ہے محو عیش و مستی معال بینی و مے پرستی انتقامن یہ ذلت انتقامن یہ پستی شعار رندا لگ کر پیے جا ا گر کوئی تجھ کو ٹوکنا ہے شراب پینے سے روکتا ہے سمجھ اسے ہوش ہے وہ ہے وہ نہیں ہے خرد کے آغوش ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تو ا سے سے جھگڑا لگ کر پیے جا خیال روز حساب کیسا ثواب کیسا عذاب کیسا مکیں و خوف کے یہ فسانے خدا کی باتیں خدا ہی جانے فضول سوچا لگ کر پیے جا نہیں ج ہاں ہے وہ ہے وہ مدام رہنا تو ک سے لیے تش لگ کام رہنا اٹھا اٹھا ہاں اٹھا سبو کو تمام دنیا کی ہاو ہوں کو غریق پیما لگ کر پیے جا کسی سے تکرار کیا ضرورت فضول اصرار کیا ضرورت کوئی پیے تو اسے پلا دے ا گر لگ مانے تو مسکرا دے ملال اسلا لگ کر پیے جا تجھے سمجھتے ہیں اہل دنیا خراب خستہ ذلیل رسوا نہیں عیاں ان پہ حال تیرا کوئی نہیں ہم خیال تیرا کسی کی پروا لگ کر پیے جا یہ تجھ پر بےگناہی ک سے نے والے تمام ہیں مری دیکھے بھالے نہیں مزاق ان کو مے کشی کا یہ خون پیتے ہیں آدمی کا تو ان کا شکوہ لگ کر پیے جا
Hafeez Jalandhari
0 likes
ایک بے تکی نجم آج بستر ہی ہے وہ ہے وہ ہوں کر دیا ہے آج مری ٹھہرنے اعضا نے اظہار بغاوت برملا میرا جسم نا تواں میرا غلام با وفا واقعی معلوم ہوتا ہے تھکا ہارا ہوا اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک سخت گیر بے چارگی دوش زمانے کا غلام ک سے دودمان مجبور ہوں پیٹ پوجا کے لیے دو قدم بھی اٹھ کے جا سکتا نہیں مری چا کر پاؤں شل ہیں جھک گیا تو ہوں ان کمینوں کی رضا کے سامنے سر اٹھا سکتا نہیں آج بستر ہی ہے وہ ہے وہ ہوں
Hafeez Jalandhari
0 likes
دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری آ ہا جی گل ناری چنری رنگ رنگیلی پیاری چنری ململ کی اک تاری چنری چھوؤں گا چھوؤں گا ساری چنری دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری امی کے کچھ جی ہے وہ ہے وہ آیا گوٹے کا اک تھان منگایا چنری پر سارا چپکایا ہر کونے پر پھول بنایا دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری لچکا ہے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ لچکتا گوٹا ہے کندن سا دمکتا روشنی ہے وہ ہے وہ کیسا ہے چمکتا ہاتھ لگانے سے ہے مسکتا دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری ا سے کو خراب ہونے لگ دوںگی بیٹھوںگی تو سنبھال رکھوںگی گھر ہے وہ ہے وہ جا کر رکھ چھوڑوںگی اور تہوار کے دن اوڑھوںگی دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری
Hafeez Jalandhari
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hafeez Jalandhari.
Similar Moods
More moods that pair well with Hafeez Jalandhari's nazm.







