لحد ہے وہ ہے وہ سو رہی ہے آج بے شک مشت خاک اس کا کی مگر گرم عمل ہے جاگتی ہے جان پاک اس کا کی حقیقت اک فانی بشر تھا ہے وہ ہے وہ یہ ہوا شوق کر نہیں سکتا بشر حفیظ ہوں جائے تو ہرگز مر نہیں سکتا ب زیر سایہ دیوار مسجد ہے جو آسودہ یہ خاکی جسم ہے ستر برس کا راہ پیمودہ یہ خاکی جسم بھی اس کا کا بہت ہی بیش قیمت تھا جسے ہم جلوہ سمجھے تھے حقیقت پردہ بھی غنیمت تھا اسے ہم ناپتے تھے لے کے آنکھوں ہی کا پیمانہ غزل خواں اس کا کو جانا ہم نے شاعر اس کا کو گردانہ فقط صورت ہی دیکھی اس کا کے معنی ہم نہیں سمجھے نہ دیکھا رنگ تصویر آئینے کو دل نشیں سمجھے ہمیں زوف بصارت سے کہاں تھی تاب نظارہ سکھائے اس کا کے پردے نے ہمیں آداب نظارہ یہ نغمہ کیا ہے زیر پردہ ہا ساز کم سمجھے رہے سب گوش بر آواز لیکن راز کم سمجھے شکست پیکر محسوس نے توڑا حجاب آخر طلوع صبح محشر بن کے چمکا آفتاب آخر مقید اب نہیں حفیظ اپنے جسم فانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں حقیقت بند حائل آج دریا کی روانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ وجود مرگ کی قائل نہیں تھی زندگی اس کا کی عارف اعلیٰ اللہ اب دیکھے کوئی پا
Related Nazm
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मुझ से पहले कितने शाइ'र आए और आ कर चले गए कुछ आहें भर कर लौट गए, कुछ नग़ में गा कर चले गए वे भी एक पल का क़िस्सा थे, मैं भी एक पल का क़िस्सा हूँ कल तुम से जुदा हो जाऊँगा गो आज तुम्हारा हिस्सा हूँ मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है कल और आएँगे नग़मों की खिलती कलियाँ चुनने वाले मुझ सेे बेहतर कहने वाले, तुम सेे बेहतर सुनने वाले कल कोई मुझ को याद करे, क्यूँ कोई मुझ को याद करे मसरुफ़ ज़माना मेरे लिए, क्यूँ वक़्त अपना बर्बाद करे मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है रिश्तों का रूप बदलता है, बुनियादें ख़त्म नहीं होतीं ख़्वाबों और उमँगों की मियादें ख़त्म नहीं होतीं इक फूल में तेरा रूप बसा, इक फूल में मेरी जवानी है इक चेहरा तेरी निशानी है, इक चेहरा मेरी निशानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है तुझ को मुझ को जीवन अमृत अब इन हाथों से पीना है इन की धड़कन में बसना है, इन की साँसों में जीना है तू अपनी अदाएं बक्ष इन्हें, मैं अपनी वफ़ाएँ देता हूँ जो अपने लिए सोचीं थी कभी, वो सारी दुआएँ देता हूँ मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है
Sahir Ludhianvi
52 likes
مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ
Afkar Alvi
78 likes
مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو جب بھی سینے ہے وہ ہے وہ جھولتا لاکٹ الٹا ہوں جائے تو ہے وہ ہے وہ ہاتھوں سے سیدھا کرتا رہوں اس کا کو جب بھی آویزہ الجھ بالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسکرا کے بس اتنا سا کہ دو آہ چبھتا ہے یہ الگ کر دو جب غرارے ہے وہ ہے وہ پاؤں قبلہ حاجات جائے یا دوپٹہ کسی کواڑ سے اٹکے اک نظر دیکھ لو تو کافی ہے پلیز کہ دو تو اچھا ہے لیکن مسکرانے کی شرط پکی ہے مسکراہٹ معاوضہ ہے میرا مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو
Gulzar
68 likes
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ
Faiz Ahmad Faiz
73 likes
More from Hafeez Jalandhari
عمارت اور شوکت اور سرمائے کی تصویریں یہ ایوانات سب ہیں حال ہی کی تازہ تع مری ادھر کچھ فاصلے پر چند گھر تھے کاشت کاروں کے ج ہاں اب کار خا لگ بن گئے سرمایہ داروں کے مویشی ہوں گئے نیلام کیوں یہ کوئی کیا جانے کچہری جانے ساہوکار جانے یا خدا جانے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ داروں کو جا کر دیکھ لے جو بھی کوئی چاہے نئے بھٹوں ہے وہ ہے وہ اینٹیں تھاپتے پھرتے ہیں حلواہے ی ہاں اپنے پرانی گاؤں کا اب کیا رہا باقی یہی تکیہ یہی اک ہے وہ ہے وہ یہی اک جھونپڑا باقی عظیم الشان بستی ہے یہ گرماےگی ویرا لگ ی ہاں ہم اجنبی دونوں ہیں ہے وہ ہے وہ اور میرا کاشا لگ
Hafeez Jalandhari
1 likes
دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری آ ہا جی گل ناری چنری رنگ رنگیلی پیاری چنری ململ کی اک تاری چنری چھوؤں گا چھوؤں گا ساری چنری دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری امی کے کچھ جی ہے وہ ہے وہ آیا گوٹے کا اک تھان منگایا چنری پر سارا چپکایا ہر کونے پر پھول بنایا دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری لچکا ہے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ لچکتا گوٹا ہے کندن سا دمکتا روشنی ہے وہ ہے وہ کیسا ہے چمکتا ہاتھ لگانے سے ہے مسکتا دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری ا سے کو خراب ہونے لگ دوںگی بیٹھوںگی تو سنبھال رکھوںگی گھر ہے وہ ہے وہ جا کر رکھ چھوڑوںگی اور تہوار کے دن اوڑھوںگی دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری
Hafeez Jalandhari
0 likes
ننھی ہوں جاناں بچی ہوں جاناں سب عقل کی کچی ہوں جاناں آؤ مری باتیں سنو چالیں سنو گھاتیں سنو استاد کی ہر بات کو اپنی گرہ ہے وہ ہے وہ باندھ لو جب جاناں جواں ہوں جاوگی مچھلی کی ماں ہوں جاوگی پھروں یاد آئیںگی تمہیں لہریں دکھائیںگی تمہیں باتیں ہماری مچھل یوں اے پیاری پیاری مچھل یوں روہو کی بیٹی کان دھر سانول کی بچی آ ادھر اور ننھی منی تو بھی سن و تھن متھنی تو بھی سن چوڑے دہانے وال یوں اور دم ہلانے وال یوں جاناں بھی سنو چمکیل یوں اے کالی نیلی پیل یوں جاناں کو ی ہاں پر دیکھ کر ن گرا پہ آ جائے ا گر کوئی شکاری مچھل یوں اے پیاری پیاری مچھل یوں جب حقیقت کنارے بیٹھ کر ڈوری کو پھینکےگا ادھر نہنہے سے کانٹے پر چڑھا ہوگا مزے کا کیچوا لپکوگی جاناں سب بے خبر اک تر نوالا جان کر کانٹا م گر چبھ جائےگا ب سے حلق ہے وہ ہے وہ خوب جائےگا تڑپوگی اور گھبراؤگی لیکن سبھی قبلہ حاجات جاوگی جاناں باری باری مچھل یوں اے پیاری پیاری مچھل یوں جب کیچوا کھا جاؤ جاناں ب سے لوٹ کر آ جاؤ جاناں لیکن ذرا سا چھیڑ دو<br
Hafeez Jalandhari
2 likes
آج بادل خوب برسا اور بر سے کر کھل گیا تو گلستاں کی ڈالی ڈالی پتہ پتہ دھل گیا تو دیکھنا کیا دھل گیا تو سارے کا سارا آ سماں اودا اودا نیلا نیلا پیارا پیارا آ سماں ہٹ گیا تو بادل کا پردہ مل گئی کرنوں کو راہ سلطنت پر اپنی پھروں خورشید نے ڈالی نگاہ دھوپ ہے وہ ہے وہ ہے گھا سے پر پانی کے قطروں کی چمک مات ہے ا سے سمے اندھیرا اور ہیرے کی دمک دے رہی ہے لطف کیا سرسبز پیڑوں کی قطار اور خا لگ وحدت پسند شاخوں پہ ہے رنگین پھولوں کی بہار کیا پرندے پھروں رہے ہیں چہچہاتے ہر طرف راگنی برسات کی خوش ہوں کے گاتے ہر طرف دیکھنا حقیقت کیا اچمبھا ہے انتقامن حقیقت دیکھنا آ سماں پر ان درختوں سے پرے حقیقت دیکھنا یہ کوئی جادو ہے یا سچ مچ ہے اک درماندہ کماں واہ وا کیسا بھلا لگتا ہے یہ پیارا سماں ک سے مصور نے بھرے ہیں رنگ ایسے خوشنما ا سے کا ہر اک رنگ ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ چنو خوب گیا تو اک جگہ کیسے اکٹھے کر دیے ہیں سات رنگ شوخ ہیں ساتوں کے ساتوں اک نہیں ہے مات رنگ ہے یہ قدرت کا نظارہ اور کیا کہیے اسے ب سے یہی جی چاہتا ہے دیکھتے رہیے اسے نہنہے نہنہے جم
Hafeez Jalandhari
1 likes
ماسٹر جی باہر گئے ہیں ماسٹر جی گئے ذرا باہر اب نظر کیا رہے کتابوں پر دل ہی دل ہے وہ ہے وہ ہیں سارے لڑکے شاد گویا قی گرا تھے اب ہوئے آزاد اب کتابیں ک ہاں سبق ک سے کا پڑھنا وڑھنا خیال سے خسکا ایک ہنستا ہے ایک گاتا ہے اور اک چٹکیاں بجاتا ہے ایک بیٹھے ہی بیٹھے سوتا ہے اور اک جھوٹ موٹ روتا ہے مشورے کر رہے ہیں دو باہم آؤ چپکے سے اٹھ کے چل دیں ہم ایک گوشے ہے وہ ہے وہ گولیاں کھیلیں یا گراؤںڈ ہے وہ ہے وہ چل کے ڈنڈ پیلیں کاپی اک جلد جلد بھرتا ہے دوسرا ا سے سے نقل کرتا ہے گھر سے لائے نہیں ہیں کر کے سوال ماسٹر جی سے اب کریںگے چال اک نے باندھا ہے گال پر رومال تاکہ پوچھیں لگ ا سے سے کوئی سوال داڑھ کے درد کا بہانا ہے چھٹی لینی ہے گھر کو جانا ہے ساتھ باتیں بھی ہوتی جاتی ہیں شوخ گھاتیں بھی ہوتی جاتی ہیں ایک کہتا ہے نجم یاد نہیں ماسٹر صاحب آ لگ جائیں کہی یوں ہی ترخاؤںگا سنیں گے جب آتا واتا مجھے نہیں زار معنی مجھ کو سجھاتے جانا جاناں چپکے چپکے بتاتے جانا جاناں اور جوگراف چپ انتقامن چپ کر میم الف سین ما سے ٹے ر
Hafeez Jalandhari
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hafeez Jalandhari.
Similar Moods
More moods that pair well with Hafeez Jalandhari's nazm.







