فت لگ خفتہ جگائے ا سے گھڑی ک سے کی مجال قید ہیں شہزادیاں کوئی نہیں پرساحال ان غریبوں کی مدد پر کوئی آمادہ نہیں ایک شاعر ہے ی ہاں لیکن حقیقت شہزادہ نہیں آہوؤں کی سرمگیں پلکیں فضا پر حکمران چھائی ہیں عرض و سما پر آہنی سی جالیاں دور سے کوہسار و وا گرا پر یہ ہوتا ہے گماں اونٹ ہیں بیٹھے ہوئے اترا ہوا ہے کارواں یا اثر ہیں آسمان پیر پر برسات کے خیمہ بوسیدہ ہے وہ ہے وہ پیوند ہیں بانات کے اور ا سے خیمے کے اندر زندگی سوئی ہوئی تیرگی سوئی ہوئی تابندگی سوئی ہوئی اے عرو سے بہار ان نیند کے ماتوں کی منزل سے نکل کام ہے در سانحے دام دیدہ و دل سے نکل دیدہ و دل کو بھی غفلت کے متصل سے نکال یہ جو خموشی کی زنجیریں ہیں ان کو توڑ ڈال صبح کرنے کے لیے پھروں ہاو ہوں درکار ہے شکر کر سوتی ہوئی دنیا ہے وہ ہے وہ تو منجملہ و اسباب ماتم ہے
Related Nazm
ہیلو سینیشن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے بند کمرے ہے وہ ہے وہ پڑا ہوں اور اک دیوار پر نظریں جمائے مناظر کے عجوبے دیکھتا ہوں اسی دیوار ہے وہ ہے وہ کوئی خلا ہے مجھے جو غار جیسا لگ رہا ہے و ہاں مکڑی نے جال بُن لیا ہے اور اب اپنے ہی جال ہے وہ ہے وہ پھسی ہے وہیں پر ایک مردہ چھپکلی ہے کئی صدیوں سے جو ساکت پڑی ہے اب ا سے پر کائی جمتی جا رہی ہے اور ا سے ہے وہ ہے وہ ایک جنگل دکھ رہا ہے درختوں سے پرندے گر رہے ہیں کلہاڑی شاخ پر لٹکی ہوئی ہے لکڑہارے پہ گیدڑ ہن سے رہے مسلسل تیز بارش ہوں رہی ہے کسی پتے سے گر کر ایک اللہ ری اچانک ایک سمندر بن گیا تو ہے سمندر ناو سے لڑنے لگا ہے مچھیرہ مچھلیوں ہے وہ ہے وہ گھر گیا تو ہے اور اب پتوار سینے سے لگا کر حقیقت نیلے آ سماں کو دیکھتا ہے جو یک دم زرد پڑتا جا رہا ہے حقیقت کیسے ریت بنتا جا رہا ہے مجھے اب صرف صحرا دکھ رہا ہے اور ا سے ہے وہ ہے وہ دھوم کی چادر بچھی ہے م گر حقیقت ایک جگہ سے پھٹ رہی ہے و ہاں پر ایک سایہ ناچتا ہے ج ہاں بھی پیر دھرتا ہے و ہاں پر سنہرے پھول کھلتے جا رہے ہے
Ammar Iqbal
13 likes
اداسی عبارت جو اداسی نے لکھی ہے بدن ا سے کا غزل سا ریشمی ہے کسی کی پا سے آتی آہٹوں سے اداسی اور گہری ہوں چلی ہے چھری اچھل پڑتی ہیں لہریں چاند تک جب سمندر کی اداسی ٹوٹتی ہے اداسی کے پرندوں جاناں ک ہاں ہوں مری تنہائی جاناں کو ڈھونڈتی ہے مری گھر کی گھنی تاری کیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اداسی بالب سی جلتی رہی ہے اداسی اوڑھے حقیقت بوڑھی حویلی لگ جانے ک سے کا رستہ دیکھتی ہے اداسی صبح کا معصوم جھرنا اداسی شام کی بہتی ن گرا ہے
Sandeep Thakur
21 likes
"कब" कब ये पेड़ हरे होंगे फिर से कब ये कलियाँ फूटेंगी और ये फूल हसेंगे कब ये झरने अपनी प्यास भरेंगे कब ये नदियाँ शोर मचाएँगी कब ये आज़ाद किए जाएँगे सब पंछी कब जंगल साँसे लेंगे कब सब जाएँगे अपने घर कब हाथों से ज़ंजीरें खोली जाएँगी कब हम ऐसों को पूछेगा कोई और ये फ़क़ीरों को भी क़िस्से में लाया जाएगा कब इन काँटों की भी क़ीमत होगी और मिट्टी सोने के भाव में आएगी कब लोगों की ग़लती टाली जाएगी कब ये हवाएँ पायल पहने झूमेगी कब अंबर से परियाँ उतरेंगी कब पत्थरों से भी ख़ुशबू आएगी कब हंसों के जोड़ें नदियों पे बैठेंगे बरखा गीत बनाएगी और मोर उठा के पर कत्थक करते देखे जाएँगे नीलकमल पानी से इश्क़ लड़ाएंगे मछलियाँ ख़ुशी के गोते मारेंगी कब कोयल की कूक सुनाई देगी कब भॅंवरे फिर गुन- गुन करते लौटेंगे बागों में और कब ये प्यारी तितलियाँ कलर फेकेंगी फिर सब कुछ डूबा होगा रंगों में कब ये दुनिया रौशन होगी कब ये जुगनू अपने रंग में आएँगे कब ये सब मुमकिन है कब सबके ही सपने पूरे होंगे कब अपने मन के मुताबिक़ होगा सब कुछ कब ये बहारें लोटेंगी कब वो तारीख़ आएगी बस मुझ को ही नहीं सब को इंतिज़ार है तेरे ' बर्थडे ' का
BR SUDHAKAR
16 likes
ہم لڑکے ہیں آج آپ کو سب سچ سچ بتاتے ہیں ہم کہ سے لیے اتنا مسکراتے ہیں ہم کو رونا بھی آئی تو کہاں رو پاتے ہیں کوئی دیکھ نہ لے روتا ہوا یہ سوچ کر ڈر جاتے ہیں درد سہتے ہیں اور اپنے آنسوؤں کو پی جاتے ہیں ہم حقیقت ہیں جنہیں اپنے اشک بہانے سے روکا جاتا ہے جنہیں اپنا درد سنہانے سے روکا جاتا ہے ہم حقیقت ہیں جو خود ہی خود کا مزاق بناتے ہیں اور پھروں ایک دوجے سے سچ چھپاتے ہیں ہم سب کچھ کر سکتے ہیں مگر کبھی کھل کر رو نہیں سکتے ہمارا درد ہمارے سوا ای سے دنیا ہے وہ ہے وہ کہاں کوئی سمجھ پاتا ہے سکھ ہے وہ ہے وہ کھل کے ہنستے ہیں اور دکھ ہے وہ ہے وہ جھوٹ موٹھ کا مسکرانا آتا ہے ہم لڑکے ہیں صاحب ہمیں بچپن سے بس یہی سکھایا گیا تو ہے لڑکے روتے نہیں ہیں یہ بول بول کر پتھر دل بنایا گیا تو ہے اپنے من کی کرنے والا ای سے سماج کی نظر ہے وہ ہے وہ ہر لڑکا برا ہے اپنے آنسوؤں کو پی جاؤ دوستوں ہم لڑکے ہیں ہمیں رونا منا ہے
ABhishek Parashar
11 likes
वे डरते हैं किस चीज़ से डरते हैं वे तमाम धन-दौलत गोला-बारूद पुलिस-फ़ौज के बावजूद ? वे डरते हैं कि एक दिन निहत्थे और ग़रीब लोग उन सेे डरना बंद कर देंगे
Gorakh Pandey
33 likes
More from Hafeez Jalandhari
عمارت اور شوکت اور سرمائے کی تصویریں یہ ایوانات سب ہیں حال ہی کی تازہ تع مری ادھر کچھ فاصلے پر چند گھر تھے کاشت کاروں کے ج ہاں اب کار خا لگ بن گئے سرمایہ داروں کے مویشی ہوں گئے نیلام کیوں یہ کوئی کیا جانے کچہری جانے ساہوکار جانے یا خدا جانے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ داروں کو جا کر دیکھ لے جو بھی کوئی چاہے نئے بھٹوں ہے وہ ہے وہ اینٹیں تھاپتے پھرتے ہیں حلواہے ی ہاں اپنے پرانی گاؤں کا اب کیا رہا باقی یہی تکیہ یہی اک ہے وہ ہے وہ یہی اک جھونپڑا باقی عظیم الشان بستی ہے یہ گرماےگی ویرا لگ ی ہاں ہم اجنبی دونوں ہیں ہے وہ ہے وہ اور میرا کاشا لگ
Hafeez Jalandhari
1 likes
اے دیکھنے والو ا سے حسن کو دیکھو ا سے راز کو سمجھو یہ نقش خیالی یہ فکرت عالی یہ پیکر تنویر یہ کرشن کی تصویر معنی ہے کہ صورت صنعت ہے کہ فطرت ظاہر ہے کہ مستور نزدیک ہے یا دور یہ نار ہے یا نور دنیا سے نرالا یہ بانسری والا گوکل کا گوالا ہے سحر کہ اعزاز کھلتا ہی نہیں راز کیا شان ہے واللہ کیا آن ہے واللہ حیران ہوں کیا ہے اک شان خدا ہے بت خانے کے اندر خود حسن کا بت گر بت بن گیا تو آ کر حقیقت طرفہ نظارے یاد آ گئے سارے جمنا کے کنارے سبزے کا لہکنا پھولوں کا مہکنا گھنگھور گھٹائیں سرمست ہوائیں معصوم امنگیں الفت کی ترنگیں حقیقت گوپیوں کے ساتھ ہاتھوں ہے وہ ہے وہ دیے ہاتھ رقصاں ہوا بریجناتھ بنسری ہے وہ ہے وہ جو لے ہے نشہ ہے لگ مے ہے کچھ اور ہی اجازت ہے اک روح ہے رقصاں اک کیف ہے لرزاں ایک عقل ہے مے نوش اک ہوش ہے مدہوش اک خندہ ہے سیال اک گریہ ہے خوشحال اک عشق ہے مغرور اک حسن ہے مجبور اک سحر ہے مسحور دربار ہے وہ ہے وہ تنہا لاچار ہے اندھیرا آ شیام ادھر آ<br
Hafeez Jalandhari
0 likes
اٹھی ہے مغرب سے گھٹا پینے کا موسم آ گیا تو ہے رقص ہے وہ ہے وہ اک معنی دل چھوؤں گا ادا ناز آفرین ہاں من اندھیرا جا گائے جا دی سے دل برمائے جا تڑپائے جا تڑپائے جا و دشمن دنیا و دیں تیرا تھرکنا خوب ہے تیری ادائیں دل نشیں لیکن ٹھہر تو کون ہے و نیم عریاں نازنین کیا مشرقی عورت ہے تو ہرگز نہیں ہرگز نہیں تیری ہنسی بےباک ہے تیری نظر چالاک ہے اف ک سے دودمان دل سوز ہے تقریر بازاری تری کتنی ہوں سے آموز ہے یہ سادہ پرکاری تری شرم اور عزت والیاں ہوتی ہیں عفت والیاں حقیقت حسن کی شہزادیاں پردے کی ہیں آبادیاں چشم فلک نے آج تک دیکھی نہیں ان کی جھلک سرمایہ شرم و حیا زیور ہے ان کے حسن کا شوہر کے دکھ سہتی ہیں حقیقت منا سے نہیں کہتی ہیں حقیقت کب سامنے آتی ہیں حقیقت غیرت سے کٹ جاتی ہیں حقیقت اعزاز ملت ان سے ہے نام شرافت ان سے ہے ایمان پر قائم ہیں حقیقت پاکیزہ و صائم ہیں حقیقت تجھ ہے وہ ہے وہ نہیں شرم و حیا تجھ ہے وہ ہے وہ نہیں مہر و وفا سچ سچ بتا تو کون ہے و بے حیا تو کون ہے احسا سے عزت کیوں
Hafeez Jalandhari
0 likes
आगे पीछे दाएँ बाएँ काएँ काएँ काएँ काएँ सुब्ह-सवेरे नूर के तड़के मुँह धो-धा कर नन्हे लड़के बैठते हैं जब खाना खाने कव्वे लगते हैं मंडलाने तौबा तौबा ढीट हैं कितने कव्वे हैं या काले फ़ित्ने लाख हँकाओ लाख उड़ाओ मुँह से चीख़ो हाथ हिलाओ घूरो घुड़को या धुतकारो कोई चीज़ उठा कर मारो कव्वे बाज़ नहीं आते हैं जाते हैं फिर आ जाते हैं हर दम है खाने की आदत शोर मचाने की है आदत बच्चों से बिल्कुल नहीं डरता उन की कुछ परवा नहीं करता देखा नन्हा भोला-भाला छीन लिया हाथों से निवाला कोई इशारा हो या आहट ताड़ के उड़ जाता है झट-पट अब करने दो काएँ काएँ हम क्यूँँ अपनी जान खपाएँ
Hafeez Jalandhari
2 likes
لحد ہے وہ ہے وہ سو رہی ہے آج بے شک مشت خاک اس کا کی مگر گرم عمل ہے جاگتی ہے جان پاک اس کا کی حقیقت اک فانی بشر تھا ہے وہ ہے وہ یہ ہوا شوق کر نہیں سکتا بشر حفیظ ہوں جائے تو ہرگز مر نہیں سکتا ب زیر سایہ دیوار مسجد ہے جو آسودہ یہ خاکی جسم ہے ستر برس کا راہ پیمودہ یہ خاکی جسم بھی اس کا کا بہت ہی بیش قیمت تھا جسے ہم جلوہ سمجھے تھے حقیقت پردہ بھی غنیمت تھا اسے ہم ناپتے تھے لے کے آنکھوں ہی کا پیمانہ غزل خواں اس کا کو جانا ہم نے شاعر اس کا کو گردانہ فقط صورت ہی دیکھی اس کا کے معنی ہم نہیں سمجھے نہ دیکھا رنگ تصویر آئینے کو دل نشیں سمجھے ہمیں زوف بصارت سے کہاں تھی تاب نظارہ سکھائے اس کا کے پردے نے ہمیں آداب نظارہ یہ نغمہ کیا ہے زیر پردہ ہا ساز کم سمجھے رہے سب گوش بر آواز لیکن راز کم سمجھے شکست پیکر محسوس نے توڑا حجاب آخر طلوع صبح محشر بن کے چمکا آفتاب آخر مقید اب نہیں حفیظ اپنے جسم فانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں حقیقت بند حائل آج دریا کی روانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ وجود مرگ کی قائل نہیں تھی زندگی اس کا کی عارف اعلیٰ اللہ اب دیکھے کوئی پا
Hafeez Jalandhari
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hafeez Jalandhari.
Similar Moods
More moods that pair well with Hafeez Jalandhari's nazm.







