nazmKuch Alfaaz

आगे पीछे दाएँ बाएँ काएँ काएँ काएँ काएँ सुब्ह-सवेरे नूर के तड़के मुँह धो-धा कर नन्हे लड़के बैठते हैं जब खाना खाने कव्वे लगते हैं मंडलाने तौबा तौबा ढीट हैं कितने कव्वे हैं या काले फ़ित्ने लाख हँकाओ लाख उड़ाओ मुँह से चीख़ो हाथ हिलाओ घूरो घुड़को या धुतकारो कोई चीज़ उठा कर मारो कव्वे बाज़ नहीं आते हैं जाते हैं फिर आ जाते हैं हर दम है खाने की आदत शोर मचाने की है आदत बच्चों से बिल्कुल नहीं डरता उन की कुछ परवा नहीं करता देखा नन्हा भोला-भाला छीन लिया हाथों से निवाला कोई इशारा हो या आहट ताड़ के उड़ जाता है झट-पट अब करने दो काएँ काएँ हम क्यूँँ अपनी जान खपाएँ

Related Nazm

پیڑ سترہ اٹھارہ سال کی تھی حقیقت جب حقیقت دنیا چھوڑ گئی تھی آخری سانسیں گنتی لڑکی مجھ سے ہمت بانٹ رہی تھی ہاتھ پکڑ کے ڈانٹ رہی تھی ایسے تھوڑی کرتے ہیں عاشق تھوڑی مرتے ہیں جسم تو ایک کہانی ہے سانسیں آنی جانی ہیں ا سے نے کہا تھا پیارے لڑکے سب سے ملنا ہن سے کے ملنا میری یاد ہے وہ ہے وہ پیڑ لگانا پاگل لڑکے عشق کے حامی میرے پیچھے مر مت جانا عشق کیا تھا عشق نبھانا

Rishabh Sharma

20 likes

کتنا عرصہ لگا نا امی گرا کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئے ایک بفری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئے نا خداوں ہے وہ ہے وہ اب پیچھے کتنے بچے ہیں روشنی اور اندھیرے کی تفریق ہے وہ ہے وہ کتنے لوگوں نے آنکھیں گنوا دیں کتنی صدیاں سفر ہے وہ ہے وہ گزاری م گر آج پھروں ا سے جگہ ہیں ج ہاں سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ماوں نے رخصت کیا تھا اپنے سب سے بڑے خواب کو اپنی آنکھوں کے آگے اجڑتے ہوئے دیکھنے سے برا کچھ نہیں ہے تیری قربت ہے وہ ہے وہ یا تجھ سے دوری پہ جتنی گزاری تیری چوڑیوں کی قسم زندگی دائروں کے سوا کچھ نہیں ہے کہنیوں سے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا منا ڈھانپ کر کھانسنے کو بڑوں نے کہا تھا تو ہم ان پہ ہنستے تھے اور سوچتے تھے کہ ان کو ٹشو پیپروں کی مہک سے الرجی ہے لیکن ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ پتا ہی نہیں تھا کہ ان پہ حقیقت آفات ٹوٹی ہیں جن کا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک ص گرا بعد پھروں سامنا ہے وبا کے دنوں ہے وہ ہے وہ کسے ہوش رہتا ہے ک سے ہاتھ کو کھڑکیاں ہے کسے تھامنا ہے اک ریاضی کے استاد نے اپنے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پرکار لے کر یہ

Tehzeeb Hafi

21 likes

حقیقت حقیقت کتاب حسن حقیقت علم و ادب کی طالبہ حقیقت مہذب حقیقت مؤدب حقیقت مقد سے راہبہ ک سے دودمان پیرایہ پرور اور کتنی پچھلا ک سے دودمان سنجیدہ و خاموش کتنی با وقار گیسو پر خم سواد دوش تک پہنچے ہوئے اور کچھ بکھرے ہوئے الجھ ہوئے سمٹے ہوئے رنگ ہے وہ ہے وہ ا سے کے عذاب خیرگی شامل نہیں کیف احساسات کی افسردگی شامل نہیں حقیقت مری آتے ہی ا سے کی نکتہ پرور خموشی چنو کوئی حور بن جائے یکایک فلسفی مجھ پہ کیا خود اپنی فطرت پر بھی حقیقت کھلتی نہیں ایسی پر اسرار لڑکی ہے وہ ہے وہ نے دیکھی ہی نہیں دختران شہر کی ہوتی ہے جب محفل کہی حقیقت تعارف کے لیے آگے کبھی بڑھتی نہیں

Jaun Elia

12 likes

نگاہ کس کی ایسی حیا بھری نگاہ دیکھوگی عکس میرا ملےگا جس جگہ دیکھوگی جان محبت فضول نہیں بس تھوڑا دل پامال کروں ناگوار گزرے عشق کی پناہ دیکھوگی کس کی ایسی حیا بھری نگاہ دیکھوگی پر مسئلہ کچھ انکار کا ضرور رہا ہوگا جس سے خود بے خبر ہوں حقیقت میرا قصور رہا ہوگا پھروں الزام سارے بےبنیاد سے آئیں گے آگے میرے خلاف نا ایک ملےگا جو گواہ دیکھوگی کس کی ایسی حیا بھری نگاہ دیکھوگی پر تیرا چھوڑ کے جانا محبت کی توہین تھا میرا کیا میرا دل تو ٹوٹنے کا شوقین تھا ابھی ایک دعا قبول ہونی آم بات سمجھتی ہوں پھروں کوئی مندیر اور سالو سال کوئی درگاہ دیکھوگی کس کی ایسی حیا بھری نگاہ دیکھوگی

Rohit tewatia 'Ishq'

10 likes

سن مری اے پیاری رب سن مری اے پیاری رب ساری مشکل کر دے حل تو تو واقف ہے کیسے کٹتا ہے میرا ہر پل فکر فردا یا تنگی مرض تن یا مجبوری مشکل مشکل ہر سو ہے کتنی ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں ا سے کی مانا ان سب کے پیچھے کچھ تو بہتر ہی ہوگا مری بھی خاطر تو نے کچھ ہے بہتر ہی سوچا پر پھروں بھی گھبرائے جی جب سوچوں ہے وہ ہے وہ مستقبل آنکھیں ہوں جاتی ہیں نمہ اندر سے جلتا ہے دل چاروں جانب تاریکی دکھتی ہے مجھ کو جب جب دل تب تب یہ کہتا ہے سن مری اے پیاری رب

Zaan Farzaan

7 likes

More from Hafeez Jalandhari

عمارت اور شوکت اور سرمائے کی تصویریں یہ ایوانات سب ہیں حال ہی کی تازہ تع مری ادھر کچھ فاصلے پر چند گھر تھے کاشت کاروں کے ج ہاں اب کار خا لگ بن گئے سرمایہ داروں کے مویشی ہوں گئے نیلام کیوں یہ کوئی کیا جانے کچہری جانے ساہوکار جانے یا خدا جانے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ داروں کو جا کر دیکھ لے جو بھی کوئی چاہے نئے بھٹوں ہے وہ ہے وہ اینٹیں تھاپتے پھرتے ہیں حلواہے ی ہاں اپنے پرانی گاؤں کا اب کیا رہا باقی یہی تکیہ یہی اک ہے وہ ہے وہ یہی اک جھونپڑا باقی عظیم الشان بستی ہے یہ گرماےگی ویرا لگ ی ہاں ہم اجنبی دونوں ہیں ہے وہ ہے وہ اور میرا کاشا لگ

Hafeez Jalandhari

1 likes

لحد ہے وہ ہے وہ سو رہی ہے آج بے شک مشت خاک اس کا کی مگر گرم عمل ہے جاگتی ہے جان پاک اس کا کی حقیقت اک فانی بشر تھا ہے وہ ہے وہ یہ ہوا شوق کر نہیں سکتا بشر حفیظ ہوں جائے تو ہرگز مر نہیں سکتا ب زیر سایہ دیوار مسجد ہے جو آسودہ یہ خاکی جسم ہے ستر برس کا راہ پیمودہ یہ خاکی جسم بھی اس کا کا بہت ہی بیش قیمت تھا جسے ہم جلوہ سمجھے تھے حقیقت پردہ بھی غنیمت تھا اسے ہم ناپتے تھے لے کے آنکھوں ہی کا پیمانہ غزل خواں اس کا کو جانا ہم نے شاعر اس کا کو گردانہ فقط صورت ہی دیکھی اس کا کے معنی ہم نہیں سمجھے نہ دیکھا رنگ تصویر آئینے کو دل نشیں سمجھے ہمیں زوف بصارت سے کہاں تھی تاب نظارہ سکھائے اس کا کے پردے نے ہمیں آداب نظارہ یہ نغمہ کیا ہے زیر پردہ ہا ساز کم سمجھے رہے سب گوش بر آواز لیکن راز کم سمجھے شکست پیکر محسوس نے توڑا حجاب آخر طلوع صبح محشر بن کے چمکا آفتاب آخر مقید اب نہیں حفیظ اپنے جسم فانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں حقیقت بند حائل آج دریا کی روانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ وجود مرگ کی قائل نہیں تھی زندگی اس کا کی عارف اعلیٰ اللہ اب دیکھے کوئی پا

Hafeez Jalandhari

0 likes

دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری آ ہا جی گل ناری چنری رنگ رنگیلی پیاری چنری ململ کی اک تاری چنری چھوؤں گا چھوؤں گا ساری چنری دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری امی کے کچھ جی ہے وہ ہے وہ آیا گوٹے کا اک تھان منگایا چنری پر سارا چپکایا ہر کونے پر پھول بنایا دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری لچکا ہے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ لچکتا گوٹا ہے کندن سا دمکتا روشنی ہے وہ ہے وہ کیسا ہے چمکتا ہاتھ لگانے سے ہے مسکتا دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری ا سے کو خراب ہونے لگ دوںگی بیٹھوںگی تو سنبھال رکھوںگی گھر ہے وہ ہے وہ جا کر رکھ چھوڑوںگی اور تہوار کے دن اوڑھوںگی دیکھ بوا مری گوٹے کی چنری

Hafeez Jalandhari

0 likes

اٹھی ہے مغرب سے گھٹا پینے کا موسم آ گیا تو ہے رقص ہے وہ ہے وہ اک معنی دل چھوؤں گا ادا ناز آفرین ہاں من اندھیرا جا گائے جا دی سے دل برمائے جا تڑپائے جا تڑپائے جا و دشمن دنیا و دیں تیرا تھرکنا خوب ہے تیری ادائیں دل نشیں لیکن ٹھہر تو کون ہے و نیم عریاں نازنین کیا مشرقی عورت ہے تو ہرگز نہیں ہرگز نہیں تیری ہنسی بےباک ہے تیری نظر چالاک ہے اف ک سے دودمان دل سوز ہے تقریر بازاری تری کتنی ہوں سے آموز ہے یہ سادہ پرکاری تری شرم اور عزت والیاں ہوتی ہیں عفت والیاں حقیقت حسن کی شہزادیاں پردے کی ہیں آبادیاں چشم فلک نے آج تک دیکھی نہیں ان کی جھلک سرمایہ شرم و حیا زیور ہے ان کے حسن کا شوہر کے دکھ سہتی ہیں حقیقت منا سے نہیں کہتی ہیں حقیقت کب سامنے آتی ہیں حقیقت غیرت سے کٹ جاتی ہیں حقیقت اعزاز ملت ان سے ہے نام شرافت ان سے ہے ایمان پر قائم ہیں حقیقت پاکیزہ و صائم ہیں حقیقت تجھ ہے وہ ہے وہ نہیں شرم و حیا تجھ ہے وہ ہے وہ نہیں مہر و وفا سچ سچ بتا تو کون ہے و بے حیا تو کون ہے احسا سے عزت کیوں

Hafeez Jalandhari

0 likes

شراب خا لگ ہے بزم ہستی ہر ایک ہے محو عیش و مستی معال بینی و مے پرستی انتقامن یہ ذلت انتقامن یہ پستی شعار رندا لگ کر پیے جا ا گر کوئی تجھ کو ٹوکنا ہے شراب پینے سے روکتا ہے سمجھ اسے ہوش ہے وہ ہے وہ نہیں ہے خرد کے آغوش ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تو ا سے سے جھگڑا لگ کر پیے جا خیال روز حساب کیسا ثواب کیسا عذاب کیسا مکیں و خوف کے یہ فسانے خدا کی باتیں خدا ہی جانے فضول سوچا لگ کر پیے جا نہیں ج ہاں ہے وہ ہے وہ مدام رہنا تو ک سے لیے تش لگ کام رہنا اٹھا اٹھا ہاں اٹھا سبو کو تمام دنیا کی ہاو ہوں کو غریق پیما لگ کر پیے جا کسی سے تکرار کیا ضرورت فضول اصرار کیا ضرورت کوئی پیے تو اسے پلا دے ا گر لگ مانے تو مسکرا دے ملال اسلا لگ کر پیے جا تجھے سمجھتے ہیں اہل دنیا خراب خستہ ذلیل رسوا نہیں عیاں ان پہ حال تیرا کوئی نہیں ہم خیال تیرا کسی کی پروا لگ کر پیے جا یہ تجھ پر بےگناہی ک سے نے والے تمام ہیں مری دیکھے بھالے نہیں مزاق ان کو مے کشی کا یہ خون پیتے ہیں آدمی کا تو ان کا شکوہ لگ کر پیے جا

Hafeez Jalandhari

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Hafeez Jalandhari.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Hafeez Jalandhari's nazm.