وجود پیڑ تھوڑے پہلے کاٹے جاتے تھے گھونسلے بھی ٹوٹ گر جاتے تھے اڑکے سارے ہی پنچھی کھو جاتے تھے گاؤں کو پھروں شہر اعلان کرنا تھا گھر بنایا تھا و ہاں انسان نے کچھ جگہ بھی چھوڑتا تھا کھیلنے ا سے جگہ اب بچے ہیں کھیلتے دور سے اک جاں تھی یہ سب دیکھتی آنکھ تھی غمگین ا سے کی دیکھ کر ا سے پہ پڑتی ہے نظر بچے کی اک حقیقت پنچھی شاید انہی ہے وہ ہے وہ سے تھا جو پیڑ ٹوٹے تھے مہینوں پہلے سب گھونسلہ ا سے کا تبھی ٹوٹا تھا یار بچہ اک دن اس کا کو پکڑ لیتا ہے پنجرہ بھی واسطے ا سے کے تھا اب اس کا کا کو ہر دن اچھا خا لگ ملتا تھا خوش تھا یا غم ہے وہ ہے وہ پتا لگنا بھی اب تھوڑا مشکل لگ رہا ہے یار اب بچے کو یہ لگ رہا تھا حقیقت پنچھی کو بڑا خوش رکھ رہا تھا باپ کو بچہ خوش دکھتا تھا آ سے پا سے جب پنچھی کے رہتا تھا گھر بنا پیڑ کا گرنا یہ اب مالک بھی اور پنجرے ہے وہ ہے وہ رہتا پنچھی بھی سب بھولے ب سے غلامی نام کا زار یہی ب سے ذرا سی ہی خوشی پاکر سبھی یہ بھول جاتے تھا کیا اپنا وجود
Related Nazm
राइगानी मैं कमरे में पिछले इकत्तीस दिनों से फ़क़त इस हक़ीक़त का नुक़सान गिनने की कोशिश में उलझा हुआ हूँ कि तू जा चुकी है तुझे राइगानी का रत्ती बराबर अंदाज़ा नहीं है तुझे याद है वो ज़माना जो कैम्पस की पगडंडियों पे टहलते हुए कट गया था तुझे याद है कि जब क़दम चल रहे थे कि एक पैर तेरा था और एक मेरा क़दम वो जो धरती पे आवाज़ देते कि जैसे हो रागा कोई मुतरीबों का क़दम जैसे के सा पा गा मा पा गा सा रे वो तबले की तिरखट पे तक धिन धिनक धिन तिनक धिन धना धिन बहम चल रहे थे, क़दम चल रहे थे क़दम जो मुसलसल अगर चल रहे थे तो कितने गवइयों के घर चल रहे थे मगर जिस घड़ी तू ने उस राह को मेरे तन्हा क़दम के हवाले किया उन सुरों की कहानी वहीं रुक गई कितनी फनकारियाँ कितनी बारीकियाँ कितनी कलियाँ बिलावल गवईयों के होंठों पे आने से पहले फ़ना हो गए कितने नुसरत फ़तह कितने मेहँदी हसन मुन्तज़िर रह गए कि हमारे क़दम फिर से उठने लगें तुझ को मालूम है जिस घड़ी मेरी आवाज़ सुन के तू इक ज़ाविये पे पलट के मुड़ी थी वहाँ से, रिलेटिविटी का जनाज़ा उठा था कि उस ज़ाविये की कशिश में ही यूनान के फ़लसफ़े सब ज़मानों की तरतीब बर्बाद कर के तुझे देखने आ गए थे कि तेरे झुकाव की तमसील पे अपनी सीधी लकीरों को ख़म दे सकें अपनी अकड़ी हुई गर्दनों को लिए अपने वक़्तों में पलटें, जियोमैट्री को जन्म दे सकें अब भी कुछ फलसफ़ी अपने फीके ज़मानों से भागे हुए हैं मेरे रास्तों पे आँखें बिछाए हुए अपनी दानिस्त में यूँँ खड़े हैं कि जैसे वो दानिश का मम्बा यहीं पे कहीं है मगर मुड़ के तकने को तू ही नहीं है तो कैसे फ्लोरेन्स की तंग गलियों से कोई डिवेन्ची उठे कैसे हस्पानिया में पिकासु बने उन की आँखों को तू जो मुयस्सर नहीं है ये सब तेरे मेरे इकट्ठे ना होने की क़ीमत अदा कर रहे हैं कि तेरे ना होने से हर इक ज़मा में हर एक फ़न में हर एक दास्ताँ में कोई एक चेहरा भी ताज़ा नहीं है तुझे राइगानी का रत्ती बराबर अंदाज़ा नहीं है
Sohaib Mugheera Siddiqi
73 likes
جب چھوا ساتھ تلسی چورا آنکھوں ہے وہ ہے وہ سانسوں کو کھینچے جاناں سے جو وعدہ کیا کبھی پڑیا جی کے پیپل نیچے جاناں نے چاہا تھا خوش رہنا خود خوشی صدا مجھ سے سیکھے دنیا بھر کے سینکلپ ستت ملائے گا ہوتے مجھ ہے وہ ہے وہ دیکھے خود سے عہد کیا ہے اب من کو نربندھ کیا ہے اب گت و گت ہر دم ہوں سکنے کا سمپورن پربندھ کیا ہے اب ا سے نئے سال کے پہلے دن جاناں سے باہر سوچا تو ہے من پران سمرنی چھوڑیں گے سنتے تو ہیں ہوتا تو ہے کافی ہے
Kumar Vishwas
13 likes
ہے وہ ہے وہ اور جاناں ہم دونوں مستقبل ہے وہ ہے وہ ایک ہونا چاہتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے خیال سے ڈرتی تھی اور حقیقت دعا مانگتے تھے حقیقت مجھے ہر گھڑی اور موڑ پہ سنبھالتا تھا مگر دونوں ڈرتے تھے کیونکہ دونوں الگ مذہب سے تھے عشق ہے وہ ہے وہ اتنی آزمایا ہے کیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسی سوچ ہے وہ ہے وہ رویا کرتی تھی آنکھ سے آنسو بہتے تھے تکیے کو بھگویا کرتی تھی اور حقیقت بھی اسی سوچ ہے وہ ہے وہ پریشان تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہندو تھی اور حقیقت مسلمان تھا ساتھ ہوکر کبھی الگ ہوں گے یار پھروں ساتھ ہے وہ ہے وہ غلط ہوں گے ڈانٹتی تھی اسے برابر دن اور حقیقت چپ مجھے عجب ہوں گے ا سے کے گھر والے مان جاتے لیکن میرا گھر مجھے مار دیتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر ا سے کی نہیں ہوتی ایک دن حقیقت خود کو ہار دیتا ا سے لیے ہم دونوں ایک اچھی نوکری چاہتے تھے نوکری ہوں گی تو سب مان آئی جائیں گے یہ ہم مانتے تھے لیکن ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پتا نہیں تھا ہمارے ساتھ آگے کیا ہوگا یا پھروں ہم ا سے کے رہیں گے بھی یا حقیقت مجھ سے جدا ہوگا<b
Arohi Tripathi
7 likes
یار یار تھا ہے وہ ہے وہ تمہارا یا قاف یوں کوئی سیڑھی منزل تک پہنچ گئے پیچھے دیکھا تک نہیں جو سیکھ کسی نے نہیں حقیقت سیکھ پیڑوں نے دی چھاؤں لیتے رہے م گر تمہاری آری رکی نہیں بچپن ہے وہ ہے وہ کھیلا کرتے ساتھ ہم سانپ سیڑھی اترا یہ زندگی ہے وہ ہے وہ کب بھنبھک تک لگی نہیں سپنے بھی ساتھ بنے تھے بے حد نومی گرا بھی تھی کئی بادلوں کی سیر پر نکل گئے جاناں پر ہے وہ ہے وہ نہیں ا گر رخصت کی ہوتی خبر ذرا سی بھی تب ماں سے دو روٹی زیادہ بنواتا نہیں ارپت ہے وہ ہے وہ نے گھوم پھروں کر یہی بات ہے معنی کئی ملیںگے ان کے چنو یہ ظالم اکیلے نہیں
Arpit Sharma
13 likes
मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मुझ से पहले कितने शाइ'र आए और आ कर चले गए कुछ आहें भर कर लौट गए, कुछ नग़ में गा कर चले गए वे भी एक पल का क़िस्सा थे, मैं भी एक पल का क़िस्सा हूँ कल तुम से जुदा हो जाऊँगा गो आज तुम्हारा हिस्सा हूँ मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है कल और आएँगे नग़मों की खिलती कलियाँ चुनने वाले मुझ सेे बेहतर कहने वाले, तुम सेे बेहतर सुनने वाले कल कोई मुझ को याद करे, क्यूँ कोई मुझ को याद करे मसरुफ़ ज़माना मेरे लिए, क्यूँ वक़्त अपना बर्बाद करे मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है रिश्तों का रूप बदलता है, बुनियादें ख़त्म नहीं होतीं ख़्वाबों और उमँगों की मियादें ख़त्म नहीं होतीं इक फूल में तेरा रूप बसा, इक फूल में मेरी जवानी है इक चेहरा तेरी निशानी है, इक चेहरा मेरी निशानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है तुझ को मुझ को जीवन अमृत अब इन हाथों से पीना है इन की धड़कन में बसना है, इन की साँसों में जीना है तू अपनी अदाएं बक्ष इन्हें, मैं अपनी वफ़ाएँ देता हूँ जो अपने लिए सोचीं थी कभी, वो सारी दुआएँ देता हूँ मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है
Sahir Ludhianvi
52 likes
More from "Dharam" Barot
چھالے کسی کے دکھتے تو کسی کے سیاہ بخت ہر اک کے ہوتے پاؤں کے چھالے توڑ کے کنگن بات کی تھی وفا کی دکھ رہے تھے مرد کے آنکھ کے چھالے سنکسار کے بوجھ تلے دب جاتی ہوتے ہے ا سے کے بھی روح کے چھالے مرد اور عورت ہے وہ ہے وہ بٹ گیا تو تھا سب کننر تالی بجا کر کے د کھائے خوشی سے اپنے ہی ہاتھ کے چھالے سب کی بات کر اکیلا رہتا ہوں دیکھے کون مری بدن کے چھالے کسی کے دکھتے تو کسی کے چھپتے ہر اک کے ہوتے پاؤں کے چھالے
"Dharam" Barot
1 likes
ا پیش تھے سوچ سے اتاری ہے نظر ماں نے کئی بار لے جاتے ڈاکٹر کے پا سے بابا دعاؤں سنگ چلتی ماں مری اور سہارا کرم کا رکھتے تھے بابا بحث بھی ہوتی تھی دونوں ہے وہ ہے وہ کافی اثر ہم پر نہیں آتا کبھیبھی نبھایا دونوں نے رشتہ ب خوبی ا پیش تھے سوچ سے ماں اور بابا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی دیش ہے وہ ہے وہ کرنا یہی ہے ا پیش ہے سوچ سے ہم سبھی پر رہیں گے ساتھ تو آگے بڑھیں گے
"Dharam" Barot
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on "Dharam" Barot.
Similar Moods
More moods that pair well with "Dharam" Barot's nazm.







