زندگی زندگی ایک لڑکے کا من ہے جسے بس اکیلے ہی بیران کے گبند کے پیچھے بنے لان ہے وہ ہے وہ رقص کرتی ہوئی اور بکھرتی ہوئی نیم کے پیڑ کی پتیاں دیکھنی ہیں زندگی ایک بچے کی ضد ہے جسے کوئی دنیا نہیں صرف پھولوں پہ بیٹھی ہوئی تتلیاں دیکھنی ہیں زندگی ایک جوگن کے پیروں کے پڑھنے لگیں پہ نکلی ہوئی تال سے مات تقاضا ہوا ایک مردنگ ہے زندگی زندگی کے نشے ہے وہ ہے وہ ہی ڈوبے ہوئے ایک مصور کی کوچی سے چھٹکا ہوا رنگ ہے زندگی اپنے محبوب کو اپنی بانہوں ہے وہ ہے وہ بے خوف سوتے ہوئے دیکھنا ہے اور اسے چومنے کی خواہش کا دل ہے وہ ہے وہ نہ آنا ہے زندگی اک ندی کے کنارے پہ چپ چاپ بیٹھے ہوئے دن بتانا ہے زندگی زندہ رہنے کا اچھا بہانا ہے زندگی میرے کمرے کے باہر بنی بالکنی ہے وہ ہے وہ بدلتے ہوئے موسموں کا مزہ لے رہی بلیاں ہیں زندگی بار بار آئینہ دیکھ کر خود پہ مرتی ہوئی اپنی تصویریں لیتی ہوئی باولی لڑکیاں ہیں زندگی اپنی مستی ہے وہ ہے وہ ڈوبی ہوئی خارج ہوئی لکڑیاں بیننے دور جاتی ہوئی ایک پہاڑن کے گالوں پہ بکھری ہوئی دھوپ ہے غور سے دیکھنے پر پتا چلتا ہے زندگی ہر جگہ ہر دفع اپنا خود کا
Related Nazm
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا مری زندگی شماکی صورت ہوں خدایا مری دور دنیا کا مری دم سے اندھیرا ہوں جائے ہر جگہ مری چمکنے سے اجالا ہوں جائے ہوں مری دم سے یوںہی مری وطن کی ظفر ج سے طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی ظفر زندگی ہوں مری پروانے کی صورت یا رب علم کی شماسے ہوں مجھ کو محبت یا رب ہوں میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا مری اللہ برائی سے بچانا مجھ کو نیک جو راہ ہوں ا سے رہ پہ چلانا مجھ کو
Allama Iqbal
51 likes
ये दौर-ए-नौ-मुबारक फ़र्ख़न्दा-अख़तरी का जम्हूरियत का आग़ाज़ अंजाम क़ैसरी का क्या जाँ-फ़ज़ा है जल्वा ख़ुर्शीद-ए-ख़ावरी का हर इक शुआ-ए-रक़्साँ मिस्रा है अनवरी का रोज़-ए-सईद आया छब्बीस जनवरी का दौर-ए-जदीद लाया भारत की बरतरी का भारत की बरतरी में किस को कलाम है अब था जो रहीन-ए-पस्ती गर्दूं-मक़ाम है अब जम्हूरियत पे क़ाएम सारा निज़ाम है अब आला है या है अदना बा-एहतिराम है अब रोज़-ए-सईद आया छब्बीस जनवरी का दौर-ए-जदीद लाया भारत की बरतरी का सदियों के बंद टूटे आज़ाद होगए हम क़ैद-ए-गिराँ से छूटे दिल-ए-शाद हो गए हम बे-ख़ौफ़ बे-नियाज़-ए-सय्याद हो गए हम फिर बस गया नशेमन आबाद होगए हम रोज़-ए-सईद आया छब्बीस जनवरी का दौर-ए-जदीद लाया भारत की बरतरी का जो मुज़्तरिब थी दिल में वो आरज़ू बर आई तकमील-ए-आरज़ू ने दिल की ख़लिश मिटाई जिस मुल्क पर ग़ुलामी बन बन के शाम छाई सुब्ह-ए-मसर्रत उस को अल्लाह ने दिखाई रोज़-ए-सईद आया छब्बीस जनवरी का दौर-ए-जदीद लाया भारत की बरतरी का ताबीर-ए-ख़्वाब-ए-'गाँधी' तफ़्सीर-ए-हाल-ए-'नेहरू' 'आज़ाद' की रियाज़त 'सरदार' की तगापू रख़्शाँ है हुर्रियत का ज़ेबा-निगार दिल-जू तस्कीन-ए-क़ल्ब मुस्लिम आराम-ए-जान-ए-हिन्दू रोज़-ए-सईद आया छब्बीस जनवरी का दौर-ए-जदीद लाया भारत की बरतरी का क़ुर्बां हुए जो इस पर रूहें हैं शाद उन की हम जिस से बहरा-वर हैं वो है मुराद उन की है बस-कि सरफ़रोशी शायान-ए-दाद उन की भारत की इस ख़ुशी में शामिल है याद उन की रोज़-ए-सईद आया छब्बीस जनवरी का दौर-ए-जदीद लाया भारत की बरतरी का आज़ाद हो गया जब हिन्दोस्ताँ हमारा है सूद के बराबर हर इक ज़ियाँ हमारा मंज़िल पे आन पहुँचा जब कारवाँ हमारा क्यूँँ हो गुबार-ए-मंज़िल ख़ातिर-निशाँ हमारा रोज़-ए-सईद आया छब्बीस जनवरी का दौर-ए-जदीद लाया भारत की बरतरी का ऐवान-ए-फ़र्रुख़ी की तामीर-ए-नौ मुबारक आईन-ए-ज़िंदगी की तदबीर-ए-नौ मुबारक हर ज़र्रा-ए-वतन को तनवीर-ए-नौ मुबारक भारत के हर बशर को तौक़ीर-ए-नौ मुबारक रोज़-ए-सईद आया छब्बीस जनवरी का दौर-ए-जदीद लाया भारत की बरतरी का भारत का अज़्म है ये तौफ़ीक़ ऐ ख़ुदा दे दुनिया से ईन-ओ-आँ की तफ़रीक़ को मिटा दे अम्न-ओ-अमाँ से रहना हर मुल्क को सिखा दे हर क़ौम शुक्रिये में हर साल ये सदा दे रोज़-ए-सईद आया छब्बीस जनवरी का दौर-ए-जदीद लाया भारत की बरतरी का
Tilok Chand Mahroom
5 likes
مری حیات یہ ہے اور یہ تمہاری قضا زیادہ ک سے سے ک ہوں اور ک سے کو کم بولو جاناں اہل خا لگ رہے اور ہے وہ ہے وہ یتیم ہوا تمہارا درد بڑا ہے یا میرا غم بولو تمہارا دور تھا گھر ہے وہ ہے وہ بہار ہنستی تھی ابھی تو در پہ فقط رنج و غم کی دستک ہے تمہارے ساتھ کا موسم بڑا حسین رہا تمہارے بعد کا موسم بڑا بھيانک ہے ہزاروں قرض تھے مجھ پر تمہاری الفت کے مجھے حقیقت قرض چکانے کا موقع تو دیتے تمہارا خون مری جسم ہے وہ ہے وہ مچلتا رہا ذرا سے قطرے بہانے کا موقع تو دیتے بڑے سکون سے جاناں سو گئے و ہاں جا کر یہ کیسے نیند تمہیں آ گئی نئے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر ایک شب ہے وہ ہے وہ فقط کروٹیں بدلتا ہوں تمہاری قبر کے کنکر ہوں چنو بستر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بوجھ کاندهوں پہ ایسے اٹھا کے چلتا ہوں تمہارا چنو جنازہ اٹھا کے چلتا تھا ی ہاں پہ مری پریشانی صرف مری ہے و ہاں کوئی لگ کوئی کانده تو بدلتا تھا تمہاری شم تمنا ب سے ایک رات بجھی چراغ مری توقع کے روز بجھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سان سے لوں بھی تو کیسے کہ مری سانسوں ہے
Zubair Ali Tabish
19 likes
محبوب کو مشورہ دن مہینے سال گزرے جاناں ابھی بسری نہیں ہوں لوگ پھروں کیوں کہ رہے ہیں جاناں کے اب میری نہیں ہوں لوگ پاگل ہیں بیچارے جانتے یہ کچھ نہیں ہیں کہ چکا ہوں جاناں ہوں میری مانتے یہ کچھ نہیں ہیں جاناں نہ آ کر کہو نا کچھ ابھی بدلا نہیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ فقط ناراض ہوں ہے وہ ہے وہ نے ابھی چھوڑا نہیں ہے جاناں نہیں آئی تو پھروں یہ پرسن کے انبار دیں گے پوچھ کر کے یہ تجھے مجھ سے مجھہی کو مار دیں گے پھروں تمہارے پا سے رونے کا سبب جاناں کو ملےگا سوچنا پھروں کیا کبھی حقیقت پیار اب جاناں کو ملےگا سوچ کر کے پھروں مجھے اک دن بہت پچھتاؤگی جاناں پھروں اکیلے اک قدم چلنے سے بھی گھبراؤگی جاناں کیا پتا گھنگرو کی آواز سے جھنجھلا اٹھو جاناں ہاتھ کے کنگن کی کھنکھن سن کہیں پگلا اٹھو جاناں اس کا کا لیے ہے وہ ہے وہ اک پتنگے پھروں سے تمہیں سمجھا رہا ہوں بات مانو لوٹ آؤ ہے وہ ہے وہ تمہیں بتلا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی بھی کہ رہا ہوں کچھ ابھی بگڑا نہیں ہے پیار سے بڑھکر ہمارے بیچ کا جھگڑا نہیں ہے
Aditya Kaushal
6 likes
More from Vikram Gaur Vairagi
دھرتی جھنڈا آکاش پتا میں مٹی میں جنما کھیلا,پنپا ایک دیودار جس نے کھولی بانہیں اپار بانٹا پرکرتی کا امٹ پیار جس نے مٹی ڈھہتے دیکھی جس نے بادل پھٹتے دیکھے جس نے جنگل کی آگ صحیح جس کی کلماتا ندی رہی جس کی چھایا میں بیٹھے کتنے پتھک کئی سیلانی بھی کچھ چرواہے کچھ لیکھک بھی کچھ دیوانے کچھ دھیانی بھی کچھ پر آتا تھا پریم مجھے کچھ پر ہوتی حیرانی بھی میں نیت سورج کے تاپ کو چھونے آگے بڑھتا میں نیت پریاسوں سے کتنی اونچائی چڑھتا سردی کی دھوپ پڑی جب جب میرے سورنم پتے چمکے مجھ سے مل کر ہی رنگ کھلے ہر آنے والے موسم کے نچلی گھاٹی کے لوگوں تک میرے کچھ گیت پہنچ پاتے پر ہوا قسمیں لے جاتی تھی سب گیت میرے انترتم کے میں مون رہا وسمے سے سنتا رہتا تھا ویاکل سے ہیرنوں کی پکار میں نے قریب سے دیکھا باگھن کا شکار میں مٹی میں جنما کھیلا پنپا ایک دیودار جس نے کھولی بانہیں اپار
Vikram Gaur Vairagi
4 likes
ہے وہ ہے وہ نے دیکھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دیکھا خوش رہنے کی مردہ ہوں سے کے مارے ہوئے کچھ لوگ تھے جو زار کی جھوٹی دنیا ہے وہ ہے وہ سچی محبت ڈھونڈ رہے تھے ان سے کہنا ایسے کسی کا دل بھرتا ہے ذہن پہ کوئی فلٹر کام نہیں کرتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دیکھا ا سے دنیا ہے وہ ہے وہ سارے لوگ بے حد جھوٹے ہیں اور ہے وہ ہے وہ ان سے زیادہ جھوٹا آخر ایک دن سپنا ٹوٹا پھروں تو چنو ایک ایک کر کے سب کچھ چھوٹا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دیکھا آگ نہائی آنکھوں کے پیچھے ایک بے وجہ کا بکھرا دل تھا جو پھروں دھڑکے گا یا نہیں کہنا مشکل تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دیکھا کیسے حسین خوابوں کی عمارت ایک جھٹکے ہے وہ ہے وہ ڈھہ جاتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دیکھا کیسے کسی کی موت بھی ب سے ایک انسٹاگرام سٹوری بنکر رہ جاتی ہے نجم کو سن کر یہ لگ سمجھنا ہے وہ ہے وہ سب پر اپنی کوئی ذاتی رائے بنا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ فنکار ہوں سب کچھ دیکھتا رہتا ہوں اور جو دیکھا ہے جیسا دیکھا حقیقت ہے وہ ہے وہ جاناں کو بتا رہا ہوں
Vikram Gaur Vairagi
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vikram Gaur Vairagi.
Similar Moods
More moods that pair well with Vikram Gaur Vairagi's nazm.







