nazmKuch Alfaaz

ہے وہ ہے وہ نے دیکھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دیکھا خوش رہنے کی مردہ ہوں سے کے مارے ہوئے کچھ لوگ تھے جو زار کی جھوٹی دنیا ہے وہ ہے وہ سچی محبت ڈھونڈ رہے تھے ان سے کہنا ایسے کسی کا دل بھرتا ہے ذہن پہ کوئی فلٹر کام نہیں کرتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دیکھا ا سے دنیا ہے وہ ہے وہ سارے لوگ بے حد جھوٹے ہیں اور ہے وہ ہے وہ ان سے زیادہ جھوٹا آخر ایک دن سپنا ٹوٹا پھروں تو چنو ایک ایک کر کے سب کچھ چھوٹا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دیکھا آگ نہائی آنکھوں کے پیچھے ایک بے وجہ کا بکھرا دل تھا جو پھروں دھڑکے گا یا نہیں کہنا مشکل تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دیکھا کیسے حسین خوابوں کی عمارت ایک جھٹکے ہے وہ ہے وہ ڈھہ جاتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے دیکھا کیسے کسی کی موت بھی ب سے ایک انسٹاگرام سٹوری بنکر رہ جاتی ہے نجم کو سن کر یہ لگ سمجھنا ہے وہ ہے وہ سب پر اپنی کوئی ذاتی رائے بنا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ فنکار ہوں سب کچھ دیکھتا رہتا ہوں اور جو دیکھا ہے جیسا دیکھا حقیقت ہے وہ ہے وہ جاناں کو بتا رہا ہوں

Related Nazm

حقیقت لوگ بے حد خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے کرنے والے کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھروں آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

Faiz Ahmad Faiz

160 likes

ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں

Gulzar

107 likes

بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س

Tahir Faraz

54 likes

دولت نا عطا کرنا مولا شہرت نا عطا کرنا مولا ب سے اتنا عطا کرنا چاہے جنت نا عطا کرنا مولا شمہ وطن کی لو پر جب قربان پتنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں ب سے ایک صدا ہی سنیں صدا برفیلی مست ہواؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے ایک دعا ہی اٹھے صدا جلتے تپتے صحراؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جیتے جی ا سے مان رکھیں مر کر مریادہ یاد رہے ہم رہیں کبھی نا رہیں م گر ا سے کی سج دھج آباد رہے جن من ہے وہ ہے وہ اچھل دیش پریم کا جلدھی ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں گیتا کا گیان سنے نا سنیں ا سے دھرتی کا یشگان سنیں ہم سبد کیرتن سن نا سکیں بھارت ماں کا جےگان سنیں परवरदिगार,मैं تری دوار پر لے پکار یہ آیا ہوں چاہے اذان نا سنیں کان پر جے جے ہندوستان سنیں جن من ہے وہ ہے وہ اچھل دیش پریم کا جلدھی ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں

Kumar Vishwas

66 likes

مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو جب بھی سینے ہے وہ ہے وہ جھولتا لاکٹ الٹا ہوں جائے تو ہے وہ ہے وہ ہاتھوں سے سیدھا کرتا رہوں اس کا کو جب بھی آویزہ الجھ بالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسکرا کے بس اتنا سا کہ دو آہ چبھتا ہے یہ الگ کر دو جب غرارے ہے وہ ہے وہ پاؤں قبلہ حاجات جائے یا دوپٹہ کسی کواڑ سے اٹکے اک نظر دیکھ لو تو کافی ہے پلیز کہ دو تو اچھا ہے لیکن مسکرانے کی شرط پکی ہے مسکراہٹ معاوضہ ہے میرا مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو

Gulzar

68 likes

More from Vikram Gaur Vairagi

زندگی زندگی ایک لڑکے کا من ہے جسے بس اکیلے ہی بیران کے گبند کے پیچھے بنے لان ہے وہ ہے وہ رقص کرتی ہوئی اور بکھرتی ہوئی نیم کے پیڑ کی پتیاں دیکھنی ہیں زندگی ایک بچے کی ضد ہے جسے کوئی دنیا نہیں صرف پھولوں پہ بیٹھی ہوئی تتلیاں دیکھنی ہیں زندگی ایک جوگن کے پیروں کے پڑھنے لگیں پہ نکلی ہوئی تال سے مات تقاضا ہوا ایک مردنگ ہے زندگی زندگی کے نشے ہے وہ ہے وہ ہی ڈوبے ہوئے ایک مصور کی کوچی سے چھٹکا ہوا رنگ ہے زندگی اپنے محبوب کو اپنی بانہوں ہے وہ ہے وہ بے خوف سوتے ہوئے دیکھنا ہے اور اسے چومنے کی خواہش کا دل ہے وہ ہے وہ نہ آنا ہے زندگی اک ندی کے کنارے پہ چپ چاپ بیٹھے ہوئے دن بتانا ہے زندگی زندہ رہنے کا اچھا بہانا ہے زندگی میرے کمرے کے باہر بنی بالکنی ہے وہ ہے وہ بدلتے ہوئے موسموں کا مزہ لے رہی بلیاں ہیں زندگی بار بار آئینہ دیکھ کر خود پہ مرتی ہوئی اپنی تصویریں لیتی ہوئی باولی لڑکیاں ہیں زندگی اپنی مستی ہے وہ ہے وہ ڈوبی ہوئی خارج ہوئی لکڑیاں بیننے دور جاتی ہوئی ایک پہاڑن کے گالوں پہ بکھری ہوئی دھوپ ہے غور سے دیکھنے پر پتا چلتا ہے زندگی ہر جگہ ہر دفع اپنا خود کا

Vikram Gaur Vairagi

5 likes

دھرتی جھنڈا آکاش پتا میں مٹی میں جنما کھیلا,پنپا ایک دیودار جس نے کھولی بانہیں اپار بانٹا پرکرتی کا امٹ پیار جس نے مٹی ڈھہتے دیکھی جس نے بادل پھٹتے دیکھے جس نے جنگل کی آگ صحیح جس کی کلماتا ندی رہی جس کی چھایا میں بیٹھے کتنے پتھک کئی سیلانی بھی کچھ چرواہے کچھ لیکھک بھی کچھ دیوانے کچھ دھیانی بھی کچھ پر آتا تھا پریم مجھے کچھ پر ہوتی حیرانی بھی میں نیت سورج کے تاپ کو چھونے آگے بڑھتا میں نیت پریاسوں سے کتنی اونچائی چڑھتا سردی کی دھوپ پڑی جب جب میرے سورنم پتے چمکے مجھ سے مل کر ہی رنگ کھلے ہر آنے والے موسم کے نچلی گھاٹی کے لوگوں تک میرے کچھ گیت پہنچ پاتے پر ہوا قسمیں لے جاتی تھی سب گیت میرے انترتم کے میں مون رہا وسمے سے سنتا رہتا تھا ویاکل سے ہیرنوں کی پکار میں نے قریب سے دیکھا باگھن کا شکار میں مٹی میں جنما کھیلا پنپا ایک دیودار جس نے کھولی بانہیں اپار

Vikram Gaur Vairagi

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Vikram Gaur Vairagi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Vikram Gaur Vairagi's nazm.