nazmKuch Alfaaz

خواب نگر کا دیوانہ ہوں خواب نگر کا دیوانہ ہوں خواب چرانے آیا ہوں تجھ سے محبت کرتا ہوں ب سے یہ بتلانے آیا ہوں خواب ہے وہ ہے وہ تجھ کو بال بناتے چھت پر دیکھا کرتا ہوں تیری گلی کے بچوں ہے وہ ہے وہ پھروں ہے وہ ہے وہ بھی کھیلا کرتا ہوں چھت پر آنے کی ہے وہ ہے وہ تجھ سے روز گزارش کرتا ہوں حال دل بھی کاغذ پر لکھ لکھ کے پھینکا کرتا ہوں آج بھی تیری گلیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ را سے رچائے گا آیا ہوں خواب نگر کا دیوانہ ہوں خواب چرانے آیا ہوں تجھ سے محبت کرتا ہوں ب سے یہ بتلانے آیا ہوں لٹ ابر پارے ایک طرف تو مجھ کو دیکھا کرتی ہے آنکھ دکھایا کرتی ہے سب گھر ہیں بتایا کرتی ہے جلدی سے پھروں کاغذ تو گھونگھٹ ہے وہ ہے وہ چھپایا کرتی ہے میرے لیے اور نبھائیے ہے وہ ہے وہ تو چانٹ دکھایا کرتی ہے غصہ اچھا لگتا ہے غصہ دلوانے آیا ہوں خواب نگر کا دیوانہ ہوں خواب چرانے آیا ہوں تجھ سے محبت کرتا ہوں ب سے یہ بتلانے آیا ہوں خواب نگر کی راج کماری دل ہے وہ ہے وہ مجھ کو رہنے دے عشق کا دریا دل کے ساتھ نگاہوں سے بھی بہنے دے تیرا دل جو بھی کہتا ہے روک

Related Nazm

ترک عشق سنو پریمکا اوئے انامیکا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہارے لیے نہیں لکھتا لکھتے ہوں گے جو لکھتے ہوں گے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں لکھتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لکھتا ہوں کیونکہ ہے وہ ہے وہ بنا ہوں لکھنے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بکتا ہوں کیونکہ ہے وہ ہے وہ بنا ہوں بکنے کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لکھتا ہوں کیونکہ میرا من کرتا ہے جاناں میری گیت ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو میری غزل ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو جاناں میری کویتا ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو جاناں میری نجم ہے وہ ہے وہ کیسے ہوں جاناں جانو ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیوں جانوں جب ہے وہ ہے وہ تمہیں نہیں لکھتا اور ہے وہ ہے وہ کیوں لکھوں تمہارے لیے کیا کیا ہے جاناں نے ہمارے لیے وہی سمجھداری بھری باتیں جو جاناں ہمیشہ سے کرتی آئی ہوں جب بھی ملتی سمجھداری بھری باتیں کرتی اور ہے وہ ہے وہ پاگلوں کی طرح تمہاری ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ 9 ہی چپ رہتا تھا کیونکہ کبھی تو جواب نہیں ہوتے تھے اور کبھی ہے وہ ہے وہ سنکوچ جاتا مگر جاناں کرتی تھی کیوں ن

Rakesh Mahadiuree

22 likes

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں

Tehzeeb Hafi

161 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

مری حیات یہ ہے اور یہ تمہاری قضا زیادہ ک سے سے ک ہوں اور ک سے کو کم بولو جاناں اہل خا لگ رہے اور ہے وہ ہے وہ یتیم ہوا تمہارا درد بڑا ہے یا میرا غم بولو تمہارا دور تھا گھر ہے وہ ہے وہ بہار ہنستی تھی ابھی تو در پہ فقط رنج و غم کی دستک ہے تمہارے ساتھ کا موسم بڑا حسین رہا تمہارے بعد کا موسم بڑا بھيانک ہے ہزاروں قرض تھے مجھ پر تمہاری الفت کے مجھے حقیقت قرض چکانے کا موقع تو دیتے تمہارا خون مری جسم ہے وہ ہے وہ مچلتا رہا ذرا سے قطرے بہانے کا موقع تو دیتے بڑے سکون سے جاناں سو گئے و ہاں جا کر یہ کیسے نیند تمہیں آ گئی نئے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر ایک شب ہے وہ ہے وہ فقط کروٹیں بدلتا ہوں تمہاری قبر کے کنکر ہوں چنو بستر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بوجھ کاندهوں پہ ایسے اٹھا کے چلتا ہوں تمہارا چنو جنازہ اٹھا کے چلتا تھا ی ہاں پہ مری پریشانی صرف مری ہے و ہاں کوئی لگ کوئی کانده تو بدلتا تھا تمہاری شم تمنا ب سے ایک رات بجھی چراغ مری توقع کے روز بجھتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سان سے لوں بھی تو کیسے کہ مری سانسوں ہے

Zubair Ali Tabish

19 likes

More from Prashant Kumar

م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے تو سب سے جدا ہے تو سب سے حسین ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے زمانے ہے وہ ہے وہ تجھسا لگ کوئی کہی ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے تجھے دیکھ کر ہی نکلتا ہے سورج تجھے دیکھ کر روز ڈھلتا ہے سورج تو اک باوضو اپسرا ہے مری جاں خدا بھی تو تجھ پہ فدا ہے مری جاں تجھی سے محبت کرےگا یقین ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے تجھے کام سب چھوڑ کر دیکھتے ہیں بنا بات کے پھول بھی پھینکتے ہیں کہ ممتاز بھی تری جیسی نہیں ہے ی ہاں ایک تو ہی مہا سندری ہے بے حد خوبصورت ہے زہرہ جبیں ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے

Prashant Kumar

1 likes

تو وہی لڑکی ہے ہے وہ ہے وہ بھی وہی لڑکا ہوں کیا یاد ہے گوری بچپن ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل تو نے رکھا تھا دشت کرب و بلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل تجھ سے ہے وہ ہے وہ نے مانگا تھا پھروں ٹھینگا تو نے دکھایا تھا تو سچ ہے وہ ہے وہ حقیقت ہی لڑکی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ ہے وہ ہے وہ حقیقت ہی لڑکا ہوں تو مجھ سے محبت کرتی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے محبت کرتا ہوں دل دھڑکن ایک منٹ ہے وہ ہے وہ سب آپ سے ہے وہ ہے وہ جتنی بار ملے ہم دونوں بھی اک دوجے سے اک دن ہے وہ ہے وہ اتنی بار ملے جب مجھ سے غلطی ہوتی تھی تو پاگل کہ کے چڑھاتی تھی پیچھے سے دوبارہ آتی تھی تو چھیڑ کے مجھ کو جاتی تھی پر جب لگتی تھی چوٹ مجھے تو دور سے رونے لگتی تھی جل گرا سے بھاگ کے آتی تھی سینے سے مجھ کو لگاتی تھی کہتی تھی سوری کان پکڑ تو دارو دوا سب کرتی تھی تو ساتھ ہے وہ ہے وہ مری کھیلی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ساتھ ہے وہ ہے وہ تری کھیلا ہوں تو لڑکی ہائی فائی ہے اور ہے وہ ہے وہ لڑکا البیلا ہوں تو سچ ہے وہ ہے وہ حقیقت ہی لڑکی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ ہے وہ ہے

Prashant Kumar

2 likes

"हार्ट अटैक तू लावेगी" जो टॉप पहन के आएगी तो क़हर क़सम से ढाएगी यूँँ तंग क़बा में आवेगी फिर बिजली ख़ूब गिराएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी झुक के रूमाल उठाएगी एकाध को तू टपकाएगी जो ऐसे पेट दिखाएगी तो दिल की नींव हिलाएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी यूँँ देखके तू मुस्काएगी तो झगड़ा सब में कराएगी तू हम को भी मरवाएगी तू हम को भी मरवाएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी जो हम सेे हाथ मिलाएगी तो दिल के तार भिड़ाएगी तू तन में आग लगाएगी हम को तू मार गिराएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी

Prashant Kumar

1 likes

"ज़मीं-ए-हिंद" सारे जहाँ से अच्छी बस हिंद की ज़मीं है आबाद करने वाली हर शख़्स को ज़मीं है इस के ही लब पे पहले वहदत का गीत आया इसने ही सब सेे पहले पैग़ाम-ए-हक़ सुनाया सारे जहाँ को इसने इल्म-ओ-हुनर सिखाया कोई भी गीत क़ौमी इसने न गुनगुनाया नंगे उघारे फिरते लोगों की आबरू को मिंदील देने वाली हर एक को ज़मीं है दुश्नाम दे रहा है हर शख़्स इस ज़मीं को तिरपाल जब दिया है इसने ही हर किसी को सारे जहाँ को इसने जीवन नया दिया है सहराओं तक में इसने हर गुल खिला दिया है निखरे हैं इस ज़मीं में रुख़सार हम-नशीं के गजरे में खिलने वाला गुलफ़ाम भी ज़मीं है हिंदू का है न इस पर मुर्ग-ए-हरम का एहसाँ अंधा हुआ पड़ा है क्यूँँ धर्म में फिर इंसाँ शामिल है ख़ून इस में हम सबके तन बदन का सदक़ा उठा रहे हैं सब इस के बाँकपन का सारा जहाँ पला है आँचल में इस ज़मीं के ताक़ों पे धरने वाली हर क़ौम को ज़मीं है ज़िंदा है इस के दम पर सारे जहाँ की रौनक़ सब आज़मा रहे हैं इस के ही दम पे क़िस्मत इसने नहीं सिखाया आपस में बैर करना इसने सिखाया सब को आपस में प्रेम करना हिंदू हों या हों मुस्लिम वंदे हैं सब इसी के आँचल में लेने वाली इक साथ सब ज़मीं है है इस ज़मीं पे सबका हक़ एक ही बराबर कोई नहीं है नीचे कोई नहीं है ऊपर दुख सुख में इस के हरदम सब लोग साथ होंगे मुस्लिम हों सिख हों हिंदू सब साथ साथ होंगे आएगी आँच इस पर हाथों में हाथ होंगे सब छाँव में इसी की पलकर बड़े हुए हैं दाना खिलाने वाली हर शख़्स को ज़मीं है इस पर जब आँच आए सब साथ चल के आना धर्मों को मज़-हबों को रस्ते में छोड़ आना क़ौमी लिबास सारे घूरे पे फेंक आना हाथों में हाथ डाले सब मुस्कुराते आना तुम मुश्किलों में इस को मत छोड़ कर के जाना तरसे हैं इस ज़मीं को मत पूछो कितने काफ़िर इक़बाल से मिली पर तुम को ही ये ज़मीं है इस हिंद की ज़मीं पर जो भी उठाए उँगली उस को अभी उठा ले ख़ालिक़ तू इस जहाँ से इस हिंद की ज़मीं पर जिस का जनम हुआ है आबाद रखना ख़ालिक़ मेरी यही दुआ है

Prashant Kumar

3 likes

"दिल की किताबों में मिरा नाम नहीं है" अब इश्क़ मोहब्बत से कोई काम नहीं है क्यूँँ दिल की किताबों में मिरा नाम नहीं है होंठों पे मिरे प्यार का पैग़ाम नहीं है क्यूँँ दिल की किताबों में मिरा नाम नहीं है ये रोग जवानी में सभी को ही लगा है बिन इश्क़ मोहब्बत के भला किस का हुआ है ऐसा है यहाँ कौन जो बदनाम नहीं है अब इश्क़ मोहब्बत से कोई काम नहीं है क्यूँँ दिल की किताबों में मिरा नाम नहीं है मतलब की मोहब्बत से परेशान रहा हूँ मैं क्यूँँकि यहाँ बनके इक इंसान रहा हूँ कैसा भी कहीं दिल को अब आराम नहीं है अब इश्क़ मोहब्बत से कोई काम नहीं है क्यूँँ दिल की किताबों में मिरा नाम नहीं है लोगों ने मोहब्बत का यहाँ ढोंग रचाया वादे सभी झूटे किए इल्ज़ाम लगाया मुझ सा कोई आशिक़ कहीं बदनाम नहीं है अब इश्क़ मोहब्बत से कोई काम नहीं है क्यूँँ दिल की किताबों में मिरा नाम नहीं है मैं जाऊँ जिधर लोग हँसी मेरी उड़ाते पागल भी बताते हैं मुझे फिर भी सताते मालिक तिरी दुनिया में मिरा काम नहीं है अब इश्क़ मोहब्बत से कोई काम नहीं है क्यूँँ दिल की किताबों में मिरा नाम नहीं है

Prashant Kumar

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Prashant Kumar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Prashant Kumar's nazm.