nazmKuch Alfaaz

مجھ سے پہلے مجھ سے پہلے تجھے ج سے بے وجہ نے چاہا ا سے نے شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہوں ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید اپنے خوابوں کے جزیرے کو سجا رکھا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے مانا کہ حقیقت بیگا لگ پیمان وفا کھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید اب لوٹ کے آئی لگ تری محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور کوئی دکھ لگ رولائے تجھے تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے مانا کہ شب و روز کے آوارگان غم ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمے ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہ چاہے امید کی شمعیں ہوں کہ یادوں کے چراغ مستقل بود بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ پھروں بھی ماضی کا خیال آتا ہے گاہے گاہے مدتیں درد کی لو کم تو نہیں کر سکتیں زخم بھر جائیں م گر داغ تو رہ جاتا ہے دوریوں سے کبھی یادیں تو نہیں مر سکتیں یہ بھی ممکن ہے کہ اک دن حقیقت پشیمان ہوں کر تری پا سے آئی زمانے سے کنارہ کر لے تو کہ معصوم بھی ہے زود فراموش بھی ہے ا سے کی پیمان شکن کو بھی بے شرط کر لے اور ہے وہ ہے وہ ج سے نے تجھے اپنا مسیحا سمجھا ایک ز

Ahmad Faraz10 Likes

Related Nazm

ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں

Gulzar

107 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

ا سے سے محبت جھیلیں کیا ہیں ا سے کی آنکھیں عمدہ کیا ہے ا سے کا چہرہ خوشبو کیا ہے ا سے کی سانسیں خوشیاں کیا ہیں ا سے کا ہونا تو غم کیا ہے ا سے سے جدائی ساون کیا ہے ا سے کا رونا سر گرا کیا ہے ا سے کی اداسی گرمی کیا ہے ا سے کا غصہ اور بہاریں ا سے کا ہنسنا میٹھا کیا ہے ا سے کی باتیں کڑوا کیا ہے مری باتیں کیا پڑھنا ہے ا سے کا لکھا کیا سننا ہے ا سے کی غزلیں لب کی خواہش ا سے کا ماتھا زخم کی خواہش ا سے کا چھونا دنیا کیا ہے اک جنگل ہے اور جاناں کیا ہوں پیڑ سمجھ لو اور حقیقت کیا ہے اک راہی ہے کیا سوچا ہے ا سے سے محبت کیا کرتے ہوں ا سے سے محبت زار پیشہ ا سے سے محبت ا سے کے علاوہ ا سے سے محبت ا سے سے محبت

Varun Anand

475 likes

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں

Tehzeeb Hafi

161 likes

More from Ahmad Faraz

"दोस्ती का हाथ" गुज़र गए कई मौसम कई रुतें बदलीं उदास तुम भी हो यारो उदास हम भी हैं फ़क़त तुम्हीं को नहीं रंज-ए-चाक-दामानी कि सच कहें तो दरीदा-लिबास हम भी हैं तुम्हारे बाम की शमएँ भी ताबनाक नहीं मिरे फ़लक के सितारे भी ज़र्द ज़र्द से हैं तुम्हारे आइना-ख़ाने भी ज़ंग-आलूदा मिरे सुराही ओ साग़र भी गर्द गर्द से हैं न तुम को अपने ख़द-ओ-ख़ाल ही नज़र आएँ न मैं ये देख सकूँ जाम में भरा क्या है बसारतों पे वो जाले पड़े कि दोनों को समझ में कुछ नहीं आता कि माजरा क्या है न सर्व में वो ग़ुरूर-ए-कशीदा-क़ामती है न क़ुमरियों की उदासी में कुछ कमी आई न खिल सके किसी जानिब मोहब्बतों के गुलाब न शाख़-ए-अम्न लिए फ़ाख़्ता कोई आई तुम्हें भी ज़िद है कि मश्क़-ए-सितम रहे जारी हमें भी नाज़ कि जौर-ओ-जफ़ा के आदी हैं तुम्हें भी ज़ोम महा-भारता लड़ी तुम ने हमें भी फ़ख़्र कि हम कर्बला के आदी हैं सितम तो ये है कि दोनों के मर्ग़-ज़ारों से हवा-ए-फ़ित्ना ओ बू-ए-फ़साद आती है अलम तो ये है कि दोनों को वहम है कि बहार अदू के ख़ूँ में नहाने के बा'द आती है तो अब ये हाल हुआ इस दरिंदगी के सबब तुम्हारे पाँव सलामत रहे न हाथ मिरे न जीत जीत तुम्हारी न हार हार मिरी न कोई साथ तुम्हारे न कोई साथ मिरे हमारे शहरों की मजबूर ओ बे-नवा मख़्लूक़ दबी हुई है दुखों के हज़ार ढेरों में अब उन की तीरा-नसीबी चराग़ चाहती है जो लोग निस्फ़ सदी तक रहे अँधेरों में चराग़ जिन से मोहब्बत की रौशनी फैले चराग़ जिन से दिलों के दयार रौशन हों चराग़ जिन से ज़िया अम्न-ओ-आश्ती की मिले चराग़ जिन से दिए बे-शुमार रौशन हूँ तुम्हारे देस में आया हूँ दोस्तो अब के न साज़-ओ-नग़्मा की महफ़िल न शाइ'री के लिए अगर तुम्हारी अना ही का है सवाल तो फिर चलो मैं हाथ बढ़ाता हूँ दोस्ती के लिए

Ahmad Faraz

1 likes

ہچ ہائیکر ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ دو روز کا مہمان تری شہر ہے وہ ہے وہ تھا اب چلا ہوں تو کوئی فیصلہ کر بھی لگ سکا زندگی کی یہ گھڑی ٹوٹتا پل ہوں چنو کہ ٹھہر بھی لگ سکون اور گزر بھی لگ سکون مہرباں ہیں تری آنکھیں م گر اے مون سے جاں ان سے ہر زخم تمنا تو نہیں بھر سکتا ایسی بے نام مسافت ہوں تو منزل کیسی کوئی بستی ہوں بسیرہ ہی نہیں کر سکتا ایک مدت ہوئی لیلا وطن سے بچھڑے اب بھی شیلف ہیں م گر زخم پرانی مری جب سے سرسر مری گلشن ہے وہ ہے وہ چلی ہے تب سے مراسلات کی مانند ٹھکانے مری آج ا سے شہر کل ا سے شہر کا رستہ لینا ہاں یہ کیا چیز غریب الوطن ہوتی ہے یہ سفر اتنا مسلسل ہے کہ تھک ہار کے بھی بیٹھ جاتا ہوں ج ہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے تو بھی ایسا ہی دل آرام شجر ہے ج سے نے مجھ کو ا سے دشت قیامت سے بچائے رکھا ایک آشفتہ سر و آبلہ پا کی خاطر کبھی زلفوں کبھی پلکوں کو بچھائے رکھا دکھ تو ہر سمے تعاقب ہے وہ ہے وہ رہا کرتے ہیں یوں پنا ہوں ہے وہ ہے وہ ک ہاں تک کوئی رہ سکتا ہے کب تلک ریت کی دیوار سنبھالے کوئی حقیقت تھکن ہے کہ میرا جسم بھی ڈھہ سک

Ahmad Faraz

4 likes

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ahmad Faraz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ahmad Faraz's nazm.