nazmKuch Alfaaz

مشکل مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک سوال تھا جو تا عمر مجھے مشکل ہے وہ ہے وہ رکھا کیوں حقیقت شخص ہمارا لگ ہوں سکا عمر بھر جسے ہم نے دل ہے وہ ہے وہ رکھا تا عمر اسی سوال نے ہاں مجھے مشکل ہے وہ ہے وہ رکھا ا سے کے دل ہے وہ ہے وہ کوئی راج تھا جو راج ا سے نے دل ہے وہ ہے وہ رکھا بات ہی بات ہے وہ ہے وہ کیا بات آج ہوں گئی جو ا سے نے دل کی بات بھری محفل ہے وہ ہے وہ رکھا تا عمر اسی سوال نے ہاں مجھے مشکل ہے وہ ہے وہ رکھا راہ منزل اسے کہ ہاں گیا تو لمحہ میرا ک ہاں گیا تو جسے چرا کے زمانے سے ہم نے سرخ پھولوں ہے وہ ہے وہ رکھا تا عمر اسی سوال نے ہاں مجھے مشکل ہے وہ ہے وہ رکھا

Related Nazm

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ

Faiz Ahmad Faiz

73 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں

Tehzeeb Hafi

161 likes

مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو جب بھی سینے ہے وہ ہے وہ جھولتا لاکٹ الٹا ہوں جائے تو ہے وہ ہے وہ ہاتھوں سے سیدھا کرتا رہوں اس کا کو جب بھی آویزہ الجھ بالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسکرا کے بس اتنا سا کہ دو آہ چبھتا ہے یہ الگ کر دو جب غرارے ہے وہ ہے وہ پاؤں قبلہ حاجات جائے یا دوپٹہ کسی کواڑ سے اٹکے اک نظر دیکھ لو تو کافی ہے پلیز کہ دو تو اچھا ہے لیکن مسکرانے کی شرط پکی ہے مسکراہٹ معاوضہ ہے میرا مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو

Gulzar

68 likes

More from Vikas Sangam

شکست ج ہاں بل پڑتے ہیں سوچ کے و ہاں سکون کیا لکھیں اپنے شکست عالم کا ہم جنوں کیا لکھے شکست ہی صحیح شکست سے محبت کر لی ہم نے وجے پری نہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وجے سے بغاوت کر لی ہم نے ج ہاں پھوٹتے ہیں انگارے جسموں ہے وہ ہے وہ و ہاں لہو کیا لکھیں اپنے شکست عالم کا ہم جنوں کیا لکھیں

Vikas Sangam

4 likes

چپپیاں تیری خاموشیاں تڑپاتی ہیں مجھے یہ اداسیاں ستاتی ہیں مجھے غم دل کا سہارا نہیں ہے اب تیرا چپ رہنا بے شرط نہیں ہے جب تک تجھے ہے وہ ہے وہ سن سکتا ہوں تری الفاظ ہے وہ ہے وہ چن سکتا ہوں اب سینے سے لگا لے مجھے یہ چپپیاں مار لگ ڈالے مجھے یہ تنہائیاں خلتی ہیں دل ہے وہ ہے وہ بے چینیاں پلتی ہیں کچھ بول

Vikas Sangam

1 likes

"बड़ा उदास हूँ मैं" अब मेरे पास तो आओ, बड़ा उदास हूँ मैं बैठ, कुछ कहो सुनाओ, बड़ा उदास हूँ मैं यूँँ तो संताप से मेरा रिश्ता पुराना है गोया गीत ख़ुशी के गुनगुनाओ, बड़ा उदास हूँ मैं यूँँ तो तन्हा ही अक्सर जीता रहा हूँ मैं अब ना छोड़ के जाओ, बड़ा उदास हूँ मैं

Vikas Sangam

4 likes

ابھی جاؤ ابھی جاؤ کی تنہائی سے رخصت ہوں جاؤں تو آنا دل روئے ہے وہ ہے وہ مسکراؤں تو آنا ابھی کچھ کہنے سننے کی اچھا نہیں ہاں کچھ کہ پاؤں کچھ سن پاؤں تو آنا ابھی جاؤ جاؤ ا سے دودمان کہ تمہیں روکنا چا ہوں تو لگ روک پاؤں جاؤ ا سے دودمان کہ تمہیں مسکراتا دیکھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی مسکراؤں جاؤ ابھی جاؤ ابھی جاؤ کے درد وں کو سینے سے لگانا ہے مجھے ابھی جاؤ کی خود کو کہی چھپانا ہے مجھے ابھی غم ہے کہی سینے ہے وہ ہے وہ جگا ہوا غموں سے ناتا توڑ لوں تو آنا اپنی آنکھیں نچوڑ لوں تو آنا ابھی جاؤ

Vikas Sangam

4 likes

فٹ پاتھ چل سکتا نہیں جسم مچلتا ہے جذبات بیتے دن یہیں بیتے رات ہے گھر میرا یہ فٹ پاتھ سکھ کی گھٹا نہیں چھاتی ہنسی کے بادل نہیں آتے بابا دیکھو نا مری حصے ہے وہ ہے وہ خوشی کے پل نہیں آتے اب ہر پل ان آنکھوں سے ہوتی غموں کی برسات بیتے دن یہیں بیتے رات ہے گھر میرا یہ فٹ پاتھ

Vikas Sangam

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Vikas Sangam.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Vikas Sangam's nazm.